Category: بین الاقوامی

  • برطانیہ میں ’نائٹ کلب کے باہر خاتون پر حملے‘ کی افواہ جو پُرتشدد مظاہروں میں بدل گئی

    برطانیہ میں ’نائٹ کلب کے باہر خاتون پر حملے‘ کی افواہ جو پُرتشدد مظاہروں میں بدل گئی

    اس کی شروعات تب ہوئی جب مبینہ گینگ ریپ کے ایک کیس پر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے مشتبہ افراد کے بارے میں سرے پولیس سے جواب مانگا۔ کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اس میں پناہ گزین افراد یا تارکینِ وطن ملوث تھے۔

    سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات کے باعث ایپسم میں مظاہرے شروع ہو گئے

    برطانیہ کی کاؤنٹی سرے میں ایپسم ایک پُرسکون علاقہ ہے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے یہ پُرتشدد بدامنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    اس کی شروعات تب ہوئی جب مبینہ گینگ ریپ کے ایک کیس پر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے مشتبہ افراد کے بارے میں سرے پولیس سے جواب مانگا۔

    کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اس میں پناہ گزین افراد یا تارکینِ وطن ملوث تھے۔

     

    اس دوران توڑ پھوڑ اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حتی کہ مظاہرین غلطی سے ایک مقامی ہوٹل میں بھی گھس گئے جہاں ان کے خیال میں تارکین وطن مقیم تھے۔

    لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گینگ ریپ کبھی ہوا ہی نہیں۔

    ’جامع تحقیقات‘ کے بعد سرے پولیس کا ماننا ہے کہ ریپ رپورٹ کرنے والی خاتون کو رات باہر گزارنے کے بعد ’حادثاتی طور پر سر پر چوٹ‘ لگی تھی اور انھوں نے ایک ’کنفیوژن پر مبنی رپورٹ‘ درج کروائی تھی۔

    خاتون نے افسران کو یہ معلومات شیئر کرنے کی اجازت دی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جنسی جرائم کی ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔

    یہ کیسے ہوا اور کیا ایسا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے؟ تمام شواہد پہلے گمراہ کن آن لائن انفارمیشن اور پھر حقیقی دنیا میں پھیلنے والی افراتفری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

    معلومات کا خلا

    سرے پولیس نے 12 اپریل کو عوام سے گواہوں کی اپیل جاری کی جس میں کہا گیا کہ لندن کے جنوب مغرب میں واقع تاریخی مارکیٹ ٹاؤن میں ایک گرجا گھر کے باہر گذشتہ روز ایک مبینہ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ نائٹ کلب سے واپسی پر ایک خاتون پر حملہ ہوا ہے، جن کی عمر 20 کے پیٹے میں ہے۔

    گذشتہ سال نیشنل پولیس چیفس کونسل (این پی سی سی) کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ ترغیب دی گئی کہ وہ ہائی پروفائل مقدمات میں مشتبہ افراد کی نسلی شناخت اور قومیت ظاہر کرنے پر غور کریں، تاکہ گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔

    سرے پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جاری کی گئی اپیل میں مبینہ مشکوک افراد کے حوالے سے معلومات میں کمی تھی ’کیونکہ (ان کے پاس موجود) تفصیلات مبہم اور محدود تھیں۔‘

    بظاہر پولیس کے پاس این پی سی سی کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تفصیلات کافی نہیں تھیں۔

    لیکن جب سے یہ ہدایات جاری کی گئیں، کچھ لوگوں کو یہ توقع ہو گئی ہے کہ ایسی تفصیلات فوراً جاری کی جائیں گی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کیا ہوتا ہے؟

    ایپسم واقعے کے بارے میں گمراہ کن معلومات آن لائن گردش کرنے لگیں، جہاں سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس نے یہ غلط دعویٰ کیا کہ مشتبہ افراد پناہ گزین یا تارکین وطن تھے۔ دیگر افراد نے اپنے علاقے میں اس نوعیت کے سنگین جرم کی اطلاعات پر پریشانی کا اظہار کیا اور مبینہ متاثرہ خاتون کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔

    لیکن ان تبصروں کو ایکس پر بااثر اکاؤنٹس کی پوسٹس نے پسِ منظر میں دھکیل دیا، وہ اکاؤنٹس جو پلیٹ فارم کے ایلگوردم میں اپنی پوسٹس کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے بلیو ٹِکس کے لیے رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ان پوسٹس میں پولیس پر پردہ پوشی کے الزامات عائد کیے گئے اور یہ عندیہ دیا گیا کہ ان کے پاس مشتبہ افراد کی شناخت سے متعلق معلومات موجود ہیں۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی نفسیات کے پروفیسر سینڈر وین ڈر لنڈن ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے ’سٹاکاسٹک دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے بنیادی طور پر یہ مراد ہے کہ نظریاتی بنیادوں پر آن لائن پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے نتیجے میں آف لائن نقصان اور تشدد کا امکان کتنا بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر امیگریشن مخالف غلط معلومات کے تشدد میں بدلنے کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔‘


    آن لائن غم و غصہ اور احتجاجی مظاہرے

    پولیس کی اپیل کے بعد آنے والے ہفتے میں ایک احتجاج ہوا، جس میں کچھ مقامی افراد شریک ہوئے اور سوالات کیے کہ آخر ہوا کیا تھا؟ احتجاج میں شامل کچھ دیگر افراد ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ ایپسم سے باہر سے آئے ہوں۔ لوگوں نے مشتبہ افراد کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ایکس کے ایک مقبول اکاؤنٹ ’Inevitable West‘، جس کی میں پہلے بھی تحقیقات کر چکی ہوں اور جو بظاہر برطانیہ سے باہر سے چلایا جا رہا ہے، نے احتجاج کی ویڈیوز شیئر کیں اور دعویٰ کیا کہ ’پورا برطانیہ ان محبِ وطن افراد کے ساتھ ہے۔‘

    اس پوسٹ نے پانچ لاکھ سے زیادہ صارفین تک رسائی حاصل کی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض ایلگوردم میں غصہ بھڑکانے والی پوسٹس کو کس طرح فوقیت دی جاتی ہے۔

    عینی شاہدین کے حوالے سے ابتدائی اپیل کے چند دن بعد سرے پولیس نے کہا کہ اسے اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ جرم ’جس طرح رپورٹ کیا گیا تھا‘ ویسے ہی پیش آیا ہو اور اس نے واضح طور پر کہا کہ اس میں پناہ گزین افراد یا تارکینِ وطن کے ملوث ہونے کا ’کوئی ثبوت‘ موجود نہیں۔

    تاہم اس کے باوجود بھی آن لائن غصہ کم نہ ہو سکا۔

    مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں

    ایک مقامی فیس بک گروپ اس طرح کے مواد کی بھرمار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس کے منتظمین کو یہ وارننگ جاری کرنا پڑی کہ یہ فورم ’کبھی بھی نفرت، دشمنی اور نہایت ناخوشگوار رویوں کو جگہ دینے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔‘

    تقریباً پانچ لاکھ مرتبہ دیکھی جانے والی ایک اور وائرل پوسٹ میں کسی بھی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا گیا کہ الزامات عائد کرنے والی جوان خاتون کے والدین کو خاموش کروایا جا رہا ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ انھیں ’میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں‘ اور ’ایسا کرنے کی صورت میں انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔‘

    اس پوسٹ میں پوچھا گیا: ’کیا یہ ملک ختم ہو چکا ہے؟‘

    اس ہفتے ایک بار پھر وہاں بدامنی میں اضافہ ہوا، جب مظاہرین کا ایک گروہ دوسری مرتبہ ایپسم پہنچا۔ ویڈیوز میں چند افراد کو ’انھیں باہر نکالو‘ کے نعرے لگاتے اور ایک مقامی ہوٹل میں داخل ہوتے دکھایا گیا، حالانکہ وہاں تارکینِ وطن مقیم نہیں تھے۔

    پولیس کی آمد کے بعد ایسی پوسٹس سامنے آئیں، جن میں یہ عندیہ دیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔

    سرے اور لندن بھر سے تعلق رکھنے والے 15 سے 23 سال کی عمر کے پانچ افراد کو پولیس افسران پر ’اشیا پھینکے جانے‘ کے بعد امنِ عامہ کی خلاف ورزی اور مجرمانہ نقصان کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    اس کے باوجود بھی احتجاجی مظاہروں کی ویڈیو وائرل ہوئیں، سوالات نے جنم لیا کہ کونسی ویڈیوز اصلی ہیں اور کن ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر بنایا گیا ہے۔

    کیس سے متعلق حقائق کی عدم موجودگی میں لوگوں نے جذباتی قیاس آرائیاں اور غلط معلومات شیئر کیں، جو امیگریشن سے متعلق خدشات کو ہوا دیتی تھیں اور سرے پولیس کے مطابق اس سے کمیونٹی میں ’تشویش‘ پیدا ہوئی ہے۔

    آن لائن بحث و مباحثہ اس وقت ہی تھما جب پولیس نے آخرکار بتایا کہ ’کوئی جنسی جرم پیش نہیں آیا‘ اور تحقیقات بند کر دی گئی ہیں۔

    ایلگوردم کی طاقت

    پولیس اینڈ کرائم کمشنر لیزا ٹاؤن سینڈ کا کہنا تھا کہ ‘تحقیقات کے اتنے نازک مرحلے پر، تمام چھان بین مکمل ہونے سے پہلے اس پر لمحہ بہ لمحہ تبصرہ کرنا مناسب نہ ہوتا۔’

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کے سامنے پولیس کی جانب سے کیا معلومات دی جاتی ہیں، اس حوالے سے ’بلاشبہ ہمیشہ سیکھنے کے لیے اسباق موجود ہوتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس صورتحال سے بعض افراد نے فائدہ اٹھایا جنھوں نے ہماری کمیونٹیز میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق مقامی باشندوں کے جائز خدشات کو استعمال کرتے ہوئے ایک کہیں زیادہ بدنیتی پر مبنی بیانیے کو آگے بڑھایا۔‘

    ’کچھ حد تک صبر اور ضبط کا مظاہرہ کرنے اور پولیس کو حقائق معلوم کرنے کے لیے اپنا کام کرنے دینے کے بجائے، ہم نے سوشل میڈیا پر تبصرہ نگاروں، سیاست دانوں اور ’ماہرین‘ کی ایک قطار دیکھی جو ایک ایسے مقدمے پر اپنے اپنے نظریات پیش کر رہے تھے جس کے بارے میں ان کے پاس محدود معلومات تھیں۔

    ’سچ پوچھیے تو ان میں سے بہت سے لوگ اس سے بہتر کام کر سکتے تھے۔‘

    ایپسم میں پیش آنے والے واقعات کا تسلسل سوشل میڈیا ایلگوردم کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

    جب ایلگوردم غصہ بھڑکانے والے مواد کو زیادہ دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے اور اسے بار بار دیگر صارفین کی فیڈز میں فروغ دیا جاتا ہے تو اس کا حقیقی دنیا میں یہ اثر پڑ سکتا ہے کہ لوگوں کے عقائد مسخ ہو جاتے ہیں۔

    ایکس کی جانب سے اس تحریر کے بارے میں بی بی سی کی درخواست پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    اس حوالے سے 2024 میں ساؤتھ پورٹ میں پُرتشدد بدامنی کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے، جب بیبی کنگ، ایلسی ڈاٹ سٹینکومب اور ایلس دا سلوا آگئیار کو ایک ڈانس کلاس کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔

    بعض افراد نے اس ہولناک حملے کے مرتکب کے بارے میں دستیاب محدود معلومات کو بنیاد بنا کر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ حملہ آور ایک مسلمان پناہ گزین تھا جس سے مزید غصہ اور اشتعال پھیلا۔

    ایپسم میں ایک ایسے جرم پر پیدا ہونے والے ہنگامے کے بعد جو ہوا ہی نہیں تھا، یہ بات سامنے آتی ہے کہ نہ تو پولیس اور نہ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے، جب کہ تصدیق شدہ معلومات ناکافی ہوں مگر عوام میں سنگین جرائم کی فوری تفصیلات جاننے کی شدید خواہش موجود ہو۔

  • دولہا کا گلاس توڑنا! یہودی شادی کی رسم میں چھپا گہرا تاریخی اور جذباتی پیغام

    دولہا کا گلاس توڑنا! یہودی شادی کی رسم میں چھپا گہرا تاریخی اور جذباتی پیغام

    دنیا بھر میں شادی بیاہ کی رسومات اپنی الگ شناخت اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں، تاہم یہودی برادری کی ایک خاص روایت نے ہمیشہ لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے جس میں دولہا شادی کی تقریب کے اختتام پر شراب سے بھرا شیشے کا گلاس اپنے پاؤں تلے روند کر توڑ دیتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ عمل دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پس منظر میں گہری تاریخی اور مذہبی معنویت پوشیدہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ روایت قدیم شہر یروشلم کی تباہی کی یاد سے جڑی ہوئی ہے۔ اس عمل کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ خوشی کے سب سے بڑے موقع پر بھی اپنی تاریخ کے دکھ اور قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یوں یہ رسم خوشی اور غم کے امتزاج کی ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔

    شادی کی تقریب میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب دولہا اپنی دلہن کو ایک گلاس میں مشروب پیش کرتا ہے اور بعد ازاں اسی گلاس کو توڑ دیتا ہے۔ اس لمحے کو مہمان جوش و خروش سے مناتے ہیں اور یہ عمل تقریب کا ایک یادگار حصہ بن جاتا ہے۔

    کچھ ماہرین اس روایت کو زندگی کی ناپائیداری اور رشتوں کی نزاکت کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق گلاس کا ٹوٹنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ذمہ داری، برداشت اور احتیاط ضروری ہے۔

    مزید برآں یہودی مذہب میں شادی اور طلاق سے متعلق مخصوص اصول موجود ہیں جن کی وجہ سے خاندانی نظام کو مضبوط تصور کیا جاتا ہے اور ازدواجی تعلقات میں استحکام دیکھا جاتا ہے۔

    یہ منفرد روایت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ دنیا کی مختلف ثقافتوں میں شادی محض ایک سماجی تقریب نہیں بلکہ تاریخ، عقیدے اور جذبات کا ایک گہرا امتزاج ہوتی ہے جس میں ہر رسم اپنے اندر ایک خاص پیغام سموئے ہوئے ہوتی ہے۔

  • واشنگٹن میں سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ محفوظ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن میں سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ محفوظ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول سمیت تمام اعلیٰ حکام محفوظ رہے۔

    واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں جاری تقریب کے دوران اس وقت افراتفری پھیل گئی جب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی اور چار سے چھ گولیاں چلائیں۔ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ اور کابینہ ارکان، بشمول جے ڈی وینس اور پیٹ ہیگستھ کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کیا اور عمارت کو خالی کرالیا۔

    ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ پر وزیراعظم کا اظہار تشویش

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے مطابق گرفتار کیا گیا 31 سالہ مشتبہ حملہ آور ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی ہے جو ممکنہ طور پر اسی ہوٹل میں مقیم تھا۔ ملزم کے قبضے سے شاٹ گن، پستول اور چاقو برآمد ہوئے ہیں۔ کارروائی کے دوران سیکرٹ سروس کا ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا اور اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں سے اسے پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملزم پر فیڈرل اہلکار پر حملے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    ٹرمپ پر حملے کی کوشش کرنے والا کون؟ پوری تفصیل سامنے آگئی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے بیان میں سیکرٹ سروس کی پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ حملہ آور تقریباً 15 گز کے فاصلے پر تھا، لیکن سیکیورٹی اداروں نے اسے فوری قابو کر کے بڑے جانی نقصان سے بچا لیا۔ انہوں نے اس حملے کا کسی بھی بین الاقوامی تنازع یا ایران کی موجودہ صورتحال سے تعلق ہونے کی تردید کی ہے۔

    حکام نے ملزم کے محرکات جاننے کے لیے کیلیفورنیا میں اس کی رہائش گاہ کی تلاشی شروع کردی ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ’کوئی بندوق بردار شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا‘: وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے دوران بی بی سی نمائندے نے کیا محسوس کیا؟

    ’کوئی بندوق بردار شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا‘: وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ کے دوران بی بی سی نمائندے نے کیا محسوس کیا؟

    جو پانچ یا دس منٹ ہم نے میز کے نیچے گزارے، اس دوران ہم سب اس انتظار میں تھے کہ کہیں کوئی مسلح شخص بھی بھاگتا ہوا کمرے میں داخل نہ ہو گیا ہو اور کہیں اس عشائیے میں موجود ڈھائی ہزار افراد پر فائرنگ شروع کرنے والا نہ ہو۔

    میں نے اپنی چھری اور کانٹا میز پر رکھا اور واشنگٹن ہلٹن کے بال روم کے دروازے کی سمت سے آنے والی گونج دار آواز سننے سے تقریباً قاصر ہی رہا تھا۔

    میں ایک لمحے کے لیے چونک گیا اور مجھے یوں لگا جیسے میں نے اس آواز کو دوبارہ سُنا ہو۔

    چند ہی لمحوں میں، میں نے سوچا کہ یہ وہی دھیمی مگر بھاریآواز ہے جو نیم خودکار ہتھیاروں سے آتی ہے۔

     

    چونکہ میں نابینا ہوں اس لیے میں آوازوں پر توجہ دیتا ہوں اور میں نے شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی۔

    پھر میں نے محسوس کیا کہ میرے ساتھی ڈینیئل، جن سے میں ابھی بات کر رہا تھا، کا سر میرے پاس سے تیزی سے گزرا اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فرش پر لیٹ رہے تھے۔

    میں نے بھی ان کی پیروی کی۔

    میں گھٹنوں کے بل میز کے نیچے بیٹھا تھا اور مجھے تقریباً پورا یقین ہو چلا تھا کہ یہ ایک اور ہفتے کی رات، ایک اور صدارتی تقریب ہے اور میں ایک بار پھر فائرنگ کے بیچ میں ہوں۔

    میں جولائی 2024 میں پینسلوینیا کے شہر بٹلر میں موجود تھا، جب صدر ٹرمپ چند انچ کے فاصلے سے اپنی جان گنوانے سے بال بال بچے تھے۔ اس کے بعد کے لمحات چیخ و پکار اور بھگدڑ سے بھرپور تھے۔

    اس بار معاملہ مختلف تھا اور ہم چند ہی سیکنڈز میں میز کے نیچے بیٹھے تھے۔

    ایک اور ساتھی نے مجھے بتایا کہ جب فائرنگ کی آوازیں آئیں تو اس نے دیکھا کہ باہر راہداری سے درجنوں لوگ بھاگتے ہوئے بال روم میں داخل ہو رہے تھے۔

    جو پانچ یا دس منٹ ہم نے میز کے نیچے گزارے، اس دوران ہم سب اس انتظار میں تھے کہ کہیں کوئی مسلح شخص بھی بھاگتا ہوا کمرے میں داخل نہ ہو گیا ہو اور کہیں اس عشائیے میں موجود ڈھائی ہزار افراد پر فائرنگ شروع کرنے والا نہ ہو۔

    ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ اس نے ہمارے پیچھے سٹیج پر سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کو دیکھا، جو صدر ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو تیزی سے وہاں سے نکال کر لے جا رہے تھے۔

    دیگر اہلکار اپنے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹیں پہنے کھڑے تھے، ان کی بندوقیں مجمعے کی طرف تنی ہوئی تھیں اور وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ کہیں وہاں کوئی اور خطرہ تو موجود نہیں۔

    عشائیے کی ابتدا سے سے ذرا پہلے میں نے بال روم کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں سیکریٹری صحت آر ایف کے جونیئر سے پوچھا کہ کیا وہ اس تقریب کے شروع ہونے کے منتظر ہیں، تو انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں بھوک لگی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تقریب شروع ہو جائے۔ وہ مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر پیچھے کی جانب ایک میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔

    ہم سے کوئی 30 میٹر پیچھے مرکزی دروازوں کی سمت ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل بھی سب کی طرح فرش پر بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی گرل فرینڈ کے لیے ایک ڈھال بنے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک سیکریٹ سروس اہلکار ان کی مدد کے لیے بال روم کے پار دوڑتا ہوا آیا۔

    فوراً ہی میرے ذہن میں یہ سوالات آئے کہ یہاں کیا، کیوں اور کیسے ہوا؟ ایک بار پھر کوئی بندوق بردار شخص صدر کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا؟

    Reuters

    ہلٹن کے اردگرد تمام سڑکیں کئی گھنٹوں سے بند تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں گھیر رکھا تھا لیکن تقریب کے مقام پر حفاظتی انتظامات خاص طور پر سخت نہیں تھے۔

    باہر دروازے پر کھڑے شخص نے محض سرسری طور پر کوئی چھ فٹ کے فاصلے سے میرے ٹکٹ پر نظر ڈالی تھی۔

    ہم ایک لفٹ کے ذریعے نیچے بال روم میں گئے اور ایک اہلکار نے میرے جسم پر سکیورٹی سکینر پھیرا مگر میری جیکٹ کی اندرونی جیب میں موجود سامان کی وجہ سے آنے والی بیپ کی آوازوں میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ انھوں نے مجھ سے یہ بھی نہیں کہا کہ میں اپنا سامان نکال کر دکھاؤں۔

    مختصراً سکیورٹی کا انتظام بالکل ایک عام وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر جیسا محسوس ہو رہا تھا، ایسا ڈنر جس میں موجودہ صدر شریک نہ ہو۔

    فائرنگ کے بعد جب ہمیں بال روم میں روک کر رکھا گیا تو ہم بے چینی سے فون سگنل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کچھ کام کر سکیں اور مزید معلومات حاصل ہو سکیں۔

    میں نے کوشش کی کہ ابھی جو کچھ ہوا تھا، اس کے پیمانے اور سنگینی کے بارے میں زیادہ نہ سوچوں۔

    تاہم اس کے باوجود بھی اس بارے میں سوچ کر کہ یہاں کیا ہو سکتا تھا مجھے اپنی آنکھوں میں چبھن محسوس ہو رہی تھی اور یہ کہ اس ملک میں آپ کو کتنے ایسے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے اور اگر کبھی قسمت ساتھ چھوڑ جائے تو کیا ہو گا۔

  • برج خلیفہ 2028 میں دنیا کی بلند عمارت نہیں رہے گی، جدہ ٹاور کی تعمیر تیزی سے جاری

    برج خلیفہ 2028 میں دنیا کی بلند عمارت نہیں رہے گی، جدہ ٹاور کی تعمیر تیزی سے جاری

    دنیا کی پہلی ایک کلومیٹر بلند عمارت، جدہ ٹاور کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل طے کرلیا گیا ہے اور اب تک اس کی 100 منزلیں مکمل ہوچکی ہیں۔

    سعودی عرب میں زیرِ تعمیر اس فلک بوس عمارت کا کام کئی سال کے تعطل کے بعد 2025 میں دوبارہ شروع کیا گیا تھا، جس کی تازہ ترین تصاویر حال ہی میں جاری کی گئی ہیں۔

    جدہ ٹاور کی مجموعی بلندی 3280 فٹ (ایک کلومیٹر سے زائد) ہوگی، جو اسے دبئی کے برج الخلیفہ سے بھی بلند بنا دے گی۔ اس منصوبے کو ڈیزائن کرنے والی کمپنی کے مطابق، عمارت کی تعمیر اگست 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اب تک مجموعی کام کا 50 فیصد سے زائد حصہ مکمل کیا جاچکا ہے۔

    یہ عمارت ہوٹل، رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر اور دنیا کے بلند ترین آبزرویشن ڈیک پر مشتمل ہوگی۔ اس عظیم الشان ڈھانچے کے لیے ایک جدید لفٹ سسٹم تیار کیا گیا ہے جس میں 59 لفٹیں اور 12 برقی سیڑھیاں نصب کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ 2013 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ مالیاتی مسائل اور وبا کے باعث 2018 سے رکا ہوا تھا، تاہم اب اس پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی کل لاگت کا تخمینہ 1.2 سے 2.7 ارب ڈالرز کے درمیان لگایا گیا ہے۔

  • ایرانی عسکری قیادت کا ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عزم

    ایرانی عسکری قیادت کا ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا عزم

    ایران کی عسکری قیادت نے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران ہر محاذ پر کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دشمن کی زمینی، فضائی یا دیگر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے کے زمینی حقائق کو تسلیم کرے اور نیتن یاہو کے اثر و رسوخ میں آ کر فیصلے نہ کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا جواب توقعات سے زیادہ سخت ہوگا۔

    ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول ایران کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت انٹیلی جنس نے ایک مبینہ اسرائیلی جاسوس اور 15 کرائے کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر ایران کے شہر کرمان شاہ میں ایئر ڈیفنس سسٹم کی آوازیں سنی گئی ہیں، تاہم ان کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکیں۔