تہران (ویب ڈیسک) تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کا بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس،اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت ’18 اہداف‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیاہے ۔
بی بی سی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر جمعرات کو مزید حملوں کے بعد کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کن اہداف کو نشانہ بنایاگیا، اس سے پہلے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق تہران کے مھر آباد ایئر پورٹ، کرج شہر، ابیق اور قزوین میں دھماکے سنے گئے۔
الجزیرہ اور بی بی سی کے مطابق تازہ حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین میں پانچویں امریکی نیول بیس اور کویت میں امریکی اڈے سمیت ’18 اہداف‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ٹینکروں سمیت جہاز رانی کے لیے بند کردیاگیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔
بعدازاں بی بی سی نے بتایا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر پر امریکی فوج کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق حملے میں امریکی فوج کے جدید لڑاکا طیارے، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی فوج کی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
سینٹکام نے پاسداران انقلاب کے اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس نے ایران میں فوجی ذرائع سے امریکی جنگی جہاز پر حملے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے بارے میں سابقہ رپورٹس کو ’غلط‘ قرار دیا ہے۔