Category: تازہ ترین

  • ملازمین کی تنخواہ، پنشن سمیت دیگر الاؤنسز میں اضافے سے متعلق وزارت خزانہ کی تجاویز سامنے آگئیں

    ملازمین کی تنخواہ، پنشن سمیت دیگر الاؤنسز میں اضافے سے متعلق وزارت خزانہ کی تجاویز سامنے آگئیں

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ وزارت خزانہ نے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی سفارش بھی کی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کنوینس الاؤنس اور میڈیکل الاؤنس میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ ملازمین کو ملنے والے ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

    ذرائع  کے مطابق سرکاری ملازمین  کی تنخواہوں میں دو فیز میں اضافہ ہوگا، گریڈ ایک کے ملازمین میں زیادہ اضافہ ہوگا۔

    ذرائع نے کہا کہ کریڈ سترہ سے بائیس تک کے ملازمین میں کم اضافہ ہوگا۔

  • آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ متوقع

    آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ متوقع

    وفاقی حکومت کی جانب سے ائندہ مالی سال 2026-27کیلئے 17.5 ٹریلین روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ٹیکس کی شرح میں کمی مد میں50 ارب روپے تک کا ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس ریلیف دینے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آج وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیر صدارت ہونیو الے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائے گی۔

    وفاقی کابینہ کی منظوری کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اگلے مالی سال کا وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی،بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رہنے کا امکان ہے۔

    بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے بڑی گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ جبکہ مقامی سطح پر تیار الیکٹرک وہیکلز سستی ہونے کی امید ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر معمول کے ٹیکس برقرار رہیں گے۔

    مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے موٹرز، بیٹریز اور دیگر پرزوں پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    سیلز ٹیکس بھی ایک فیصد رکھنے کی سفارش ہے جبکہ فیڈرل ایکسائز،کیپٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس کی مکمل چھوٹ کی تجویز کی گئی ہے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔

    قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دفاعی شعبے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر۔ صنعتیں 4 فیصد کی شرح سے ترقی کریں گی جبکہ بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد جبکہ خدمات کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخیمنہ ہے۔حکومت روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

    خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ ،صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اورزرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتوں کا ہدف رکھا گیا ہے قومی اقتصادی کونسل آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم معاشی اہداف کی منظوری بھی دے چکی ہے۔

    این ای سی کی طرف سے 3 ہزار 669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان بھی منظور کیا جاچکا ہے وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے۔

    چاروں صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 2218 ارب روپے رکھے گئے ہیں وفاق اور صوبے مل کر ترقیاتی بجٹ میں ایک ہزار 46 ارب روپے کی بچت کریں گے۔

    پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب، سندھ میں 110 ارب اور خیبرپختونخوا کے فنڈز میں 109 ارب روپے کمی کی گئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔

    وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے،انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے ذرائع کے مطابق ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    زیادہ آمدن والوں کیلییبھی ٹیکس شرح میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں،مجوزہ منصوبے کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپیتک آمدن پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز ہے، جس کے بعد اس سلیب میں ٹیکس شرح 25 فیصد اسیکم ہوکر 20 فیصد تک آسکتی ہے، اس سلیب سے قریباً 4 لاکھ ملازمین مستفید ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کا کہنا ہے کہ ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کا امکان ہے۔

    سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے،جبکہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم ہو سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جبکہ آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کئے جانے کا بھی امکان ہے ساتھ ہی بچوں کے فارمولا دودھ، گھی ،ککنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کئے جانے کا بھی امکان ہے جس کے تحت ان اشیاء کی پیکنگ پر پرچون قیمت کی پرنٹنگ لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے کی بھی تجویز ہے آئندہ مالی سال2026-27 کے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ کے ذریعئے ایک ہزار ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کئے جانے کا امکان ہے جبکہ بجٹ ناپتھا پٹرولیم مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز ہے جبکہ ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم کرکے اسٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس نظام اور ڈیجیٹل انضمام، پیداوار کی نگرانی اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لئے سخت سزائیں متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولادودھ، کیچپ،ویجیٹبل گھی ،کوکنگ آئل ،چائے کی پتی ،چینی،خشک دودھ اور خود سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پرسیلز ٹیکس وصولی کیلئے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کیلئے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے جب کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001 کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع، تہران اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع، تہران اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات

    امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے اور تہران سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

    ایرانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت جنوبی شہر بندرعباس میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

    ایرانی شہر سیریک اور میناب میں دھماکوں کی آواز یں سنی گئی ہیں جبکہ ایران میڈیا کے مطابق فی الحال نوعیت معلوم نہیں ہوئی، ایرانی خبر ایجنسی کے کہنا ہے کہ مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

    امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے مسلسل اور اشتعال انگیز اقدامات کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز بھی ایران کو نشانہ بنایا گیا اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

  • اہلِ پنجاب کے لیے کئی دن بعد اچھی خبر آ گئی، شہری خوش

    اہلِ پنجاب کے لیے کئی دن بعد اچھی خبر آ گئی، شہری خوش

    پنجاب میں رہنے والوں کے لیے کئی دن کے بعد اچھی خبر آ گئی، جس سے شہریوں کا موڈ خوشگوار ہوگیا۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں گرمی کی شدت بدستور قائم ہے، تاہم گرد آلود ہوائیں چلنے کے ساتھ ساتھ بارش ہونے کی اطلاع بھی محکمہ موسمیات کی جانب سے دی دی گئی ہے۔

    آج صبح ہی سے سورج غصے میں نظر آیا، جس کی وجہ سے  درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔  بعد ازاں گردآلود ہوائیں چلنے سے کم سے کم درجہ حرارت میں قدر کمی آ گئی  اور 31 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو کر 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ۔ واضح رہے کہ لاہور میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے ۔

    دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے صوبے بھر میں  آندھی، بارشوں اور ژالہ باری کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے ، جس کے مطابق آج سے 13 جون تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔

    ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، بھکر، لیہ، فیصل آباد، جھنگ، اوکاڑہ،  گجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیر آباد میں بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح سرگودھا، میانوالی، شیخوپورہ، خوشاب، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان، کوٹ ادو اور منڈی بہاالدین میں بھی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔  لاہور، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، جھنگ اور گردونواح میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے پیش نظر صوبے بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔  انہوں نے کہاکہ شہری آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات پر رہیں۔آسمانی بجلی کی گرج چمک کے دوران کھلے مقامات کی جانب ہرگز نہ جائیں۔

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گردوغبار اور تیز آندھی کے پیش نظر محفوظ مقامات پر رہیں۔کسان اپنے تمام تر پیشگی اقدامات موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔ سیاح شمالی علاقہ جات کے سفر میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

  • بجٹ؛ تنخواہ دار طبقے کیلیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافے کا امکان

    بجٹ؛ تنخواہ دار طبقے کیلیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافے کا امکان

    نئے مالی سال کے بجٹ میں  تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

    اسی طرح برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

    ٹیکس حکام کے مطابق حکومت بجٹ تقریر کے دوران برآمدی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں منتقل کیا گیا تھاجس کے نتیجے میں ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا جس میں ایک فیصد کم از کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے.

    صنعتی و برآمدی حلقوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور خسارے کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مناسب ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔

    علاوہ ازیں نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والوں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔ 

  • 5 کروڑ جمع کرانے کیلیے آئے شہری سے بینک ملازمین رقم لوٹ کر فرار

    5 کروڑ جمع کرانے کیلیے آئے شہری سے بینک ملازمین رقم لوٹ کر فرار

    بینک میں 5 کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے آئے شہری سے بینک کے ملازمین ہی رقم لوٹ کر فرار ہو گئے۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  صوبائی دارالحکومت لاہور کے مصروف تجارتی علاقے رنگ محل میں نجی بینک کے 2 ملازمین نے کروڑوں روپے کی خطیر رقم ہتھیالی۔

    پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک شہری اپنی 5 کروڑ روپے کی نقدی بینک میں جمع کروانے کے لیے پہنچا۔

    بینک کاؤنٹر پر موجود ملازمین نے شہری سے یہ رقم وصول کی اور اسے جمع کروانے کا یقین دلایا، تاہم رقم ملتے ہی دونوں ملازمین اسے لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔  پولیس نے گرفتار ملزم سے 3 کروڑ روپے بھی برآمد کر لیے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال مفرور دوسرے ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں، جب کہ تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہے۔

  • جھانوی کپور کے بولڈ کردار پر تنقید، جگاپتی بابو کی حمایت

    جھانوی کپور کے بولڈ کردار پر تنقید، جگاپتی بابو کی حمایت

    بلاک بسٹر فلم ’’پیڈی‘‘ کے ایک بولڈ کردار پر سوشل میڈیا میں جاری شدید بحث اور تنقید کے دوران فلم کے سینئر اداکار جگاپتی بابو اپنی ساتھی اداکارہ جھانوی کپور کے حق میں سامنے آگئے ہیں۔

    جگاپتی بابو نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ فلم یا کردار پر تنقید ضرور کریں، لیکن کسی اداکار کو ذاتی طور پر نشانہ نہ بنایا جائے۔

    فلم ’’پیڈی‘‘ میں جھانوی کپور کے کردار ’’اچیاما‘‘ کے بعض مناظر پر ناظرین کی جانب سے سخت اعتراضات سامنے آئے تھے، جس کے بعد صورتحال اس قدر سنگین ہوئی کہ فلم کے ہدایتکار بوچی بابو کو نہ صرف عوامی سطح پر معذرت کرنا پڑی بلکہ متنازع مناظر کو فلم سے حذف بھی کر دیا گیا۔

    اس پورے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے 64 سالہ تجربہ کار اداکار جگاپتی بابو نے جھانوی کپور کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک آرٹسٹ کے طور پر وہ صرف ہدایتکار کے وژن کے مطابق کام کرتا ہے، اس لیے کسی اداکار کو تنقید یا ٹرولنگ کا نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق یہ جھانوی کپور کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ وہی پیش کیا گیا جو ہدایتکار کی ہدایت تھی۔

    انہوں نے کہا، ’’براہِ کرم اس لڑکی کو نشانہ نہ بنایا جائے، یہ سراسر ناانصافی ہے۔ تخلیقی فیصلوں کی ذمے داری پوری ٹیم کی ہوتی ہے، کسی ایک اداکار کو اس کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔‘‘

  • مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے انیشی ایٹو ’شی تھریڈز‘کے لیے 310 ملین روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔

    یہ منصوبہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا ایک منفرد پروگرام ہے۔

    شی تھریڈز پروگرام کے تحت صوبہ بھر کے دیہات سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال عمر کی مڈل پاس خواتین حصہ لے سکتی ہیں۔ پروگرام میں شامل خواتین کو تربیت کے دوران ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا۔

    اس منصوبے کے تحت دیہی خواتین کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر کے 10 مختلف تربیتی کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں یہ ٹیکسٹائل ٹریننگ کورسز کامیابی سے جاری ہیں۔

    گزشتہ 2 برسوں کے دوران ڈھائی ہزار خواتین ان تربیتی کورسز کو مکمل کر چکی ہیں، جن میں سے 773 خواتین کو تربیت مکمل کرتے ہی ملازمت بھی مل گئی۔

    حکام کے مطابق اس وقت شی تھریڈز پروگرام کے تحت 1150 خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ جاری ہے جبکہ آئندہ سال مزید 1350 خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

    پروگرام میں انڈسٹریل اسٹیچنگ مشین آپریٹر، فیبرک کوالٹی انسپکٹر اور فیبرک کٹنگ ایکسپرٹ کے کورسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپیریل پلاننگ اینڈ مرچنڈائزنگ، اپیریل سپروائزر، پیٹرن میکنگ اینڈ کٹنگ، پیٹرن ڈرافٹنگ اینڈ گریڈنگ، کوالٹی کنٹرول، گارمنٹ فنشنگ، پیکر اور گارمنٹ ویکسنگ کے تربیتی کورسز بھی خواتین کے لیے دستیاب ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہر خاتون کو مالی طور پر خودمختار اور بااختیار بنانا حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند عورت ایک قابل قدر قومی اثاثہ ثابت ہوگی ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہنرمند خواتین کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

  • شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    پاکستانی شہریوں کے  لیے خوشی کی خبر ہے کہ حکومت نے ایک بڑی سہولت گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    حکومتِ پاکستان نے عوام کی سہولت اور دیرینہ مطالبے پر پاسپورٹ کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کی نئی ڈیجیٹل سروس شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اس اقدام کا مقصد شہریوں کو طویل قطاروں اور دفاتر کے چکروں سے نجات دلانا ہے تاکہ پاسپورٹ کا حصول آسان ہو سکے۔

    اجلاس کے دوران ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے قیام کے لیے تمام تر ضروری ضابطہ کار اور نئی ایس او پیز (SOPs) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کے مکمل نفاذ کے بعد پاسپورٹ بنوانے کا عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ شفافیت بھی یقینی بنے گی۔

  • پیٹرول، موبائل، خریداری، تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ  ڈالا جا رہا ہے؟

    پیٹرول، موبائل، خریداری، تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ  ڈالا جا رہا ہے؟

    نئے وفاقی بجٹ سے قبل ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس آخر کون دیتا ہے اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے طاقتور طبقات پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔

    ملک بھر میں لاکھوں تنخواہ دار ملازمین اپنی ماہانہ آمدن سے براہِ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روزمرہ زندگی میں بھی مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پیٹرول خریدنے سے لے کر موبائل فون استعمال کرنے اور اشیائے خورونوش کی خریداری تک، تقریباً ہر مرحلے پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

    اسلام آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریس سے وابستہ خاتون کا کہنا ہے کہ ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس کٹنے کے بعد بھی وہ پیٹرول، موبائل اور دیگر ضروری اشیا پر الگ سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، جس سے محدود آمدن مزید سکڑ جاتی ہے۔

    اسی طرح آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد بھی پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کو اپنی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں۔

    حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ تیار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام اور مالی خسارے میں کمی کے اہداف کے باعث عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اضافی محصولات کا بوجھ ایک بار پھر انہی طبقات پر نہ ڈال دیا جائے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم آمدن اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کئی معاملات میں یکساں شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری اور کم آمدن والے طبقے کو پہنچتا ہے۔

    مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد رقم حاصل کی۔ چند برس قبل یہ آمدن اس کے مقابلے میں بہت کم تھی، تاہم لیوی کی شرح میں مسلسل اضافے کے باعث وصولیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    ناقدین کے مطابق اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے۔

    معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ مساوی طور پر تقسیم نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ دستاویزی ہونے کی وجہ سے آسان ہدف بن جاتا ہے جبکہ بااثر اور بڑے آمدنی والے بعض شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔

    ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی اس شعبے کی جانب سے دیے گئے ٹیکس کی مقدار کئی بڑے کاروباری شعبوں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے زیادہ رہی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا زرعی شعبہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع ہے۔

    اگرچہ ملک کی بڑی آبادی اور معیشت کا قابلِ ذکر حصہ زراعت سے وابستہ ہے، تاہم اس شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن انتہائی محدود بتائی جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق بڑے زمینداروں اور بعض دیگر بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر محصولات کے نظام میں توازن پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

    اسی طرح ہول سیل اور ریٹیل کاروبار کے بڑے حصے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ حکومت متعدد بار تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

    ماہرین کے مطابق ملک میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں بڑی رقوم موجود ہیں لیکن ان کی آمدن ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی اور آسان ٹیکس پالیسی اختیار کی جائے تو حکومت نئے ٹیکس لگائے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

    دریں اثنا کاروباری اور صنعتی حلقے بھی موجودہ ٹیکس ڈھانچے پر تحفظات رکھتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکس شرح، توانائی کی بڑھتی لاگت اور دیگر مالی بوجھ کے باعث سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ معیشت کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے، نہ کہ بار بار انہی لوگوں پر بوجھ بڑھایا جائے جو پہلے سے نظام میں موجود ہیں۔

    بجٹ سے قبل عام شہریوں، تنخواہ دار ملازمین اور کاروباری حلقوں کی ایک ہی بڑی توقع ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور ایسے شعبوں کو بھی دائرۂ کار میں لائے جو برسوں سے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔