اداکار ہ نمرہ شاہد نے گلوکار فلک شبیر کے حالیہ بیان پرردعمل دیتے ہوئےکہا ہےکہ فلک شبیر اور ان کی اہلیہ سارہ خان بیرون ملک میں رہ رہے ہیں تو پھر وہ کون سا معاشرہ مانگ رہے ہیں؟چند روز قبل فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کی تھی کہ عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننے والوں کے خلاف قانون بنایا جائے جس پر شوبز شخصیات کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ایک انٹرویو میں نمرہ شاہد نے کہا کہ فلک شبیر اور ان کی اہلیہ سارہ خان بیرون ملک میں رہ رہے ہیں تو پھر وہ کون سا معاشرہ مانگ رہے ہیں؟ وہاں زیادہ مختصر کپڑے پہنے جاتے ہیں۔انہوں نے کہ بچے وہی کلچر سیکھتے ہیں جو والدین نے بچوں کو دینا ہے، جب بچے ملک سے باہر رہ رہے ہیں تو پاکستان کتنا ہی اچھا بن جائے آپ نے کیا کرنا ہے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہیں نا کہیں وہ غلط کہہ رہے ہیں، کہیں وہ صحیح بھی ہیں، بات کرنے کا طریقہ غلط ہے، ان کی بات ٹھیک ہے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلام کے دائرے میں رہ کر کام کریں تو بہتر ہے۔نمرہ شاہد نے مزید کہا کہ فلک شبیر ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ان کی بیوی اتنی اچھی ہیں، سارہ نے ڈراموں میں دلکش کردار اور فیشن بھی بہت اچھے طریقے سے کیا ہے، میں یہ کہتی ہوں فلک کو اس چیز کی ٹینشن نہیں لینی چاہیے۔
Category: Entertainment
-

ثمر جعفری نے عمرے کی سعادت حاصل کر لی، مداحوں کی مبارکباد
فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ثمر جعفری نے حرم شریف سے چند تصاویر پوسٹ کیں، جن میں انہیں روحانی سفر کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔
اداکار نے تصاویر کے ساتھ مختصر مگر پُرمعنی کیپشن ’’الحمدللہ‘‘ تحریر کیا، جس کے بعد مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
ثمر جعفری کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ کو ہزاروں صارفین دیکھ چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر انہیں عمرے کی ادائیگی پر نیک تمناؤں اور دعاؤں سے نوازا جا رہا ہے، شوبز شخصیات نے بھی اس روحانی سفر پر خوشی کا اظہار کیا۔
اداکارہ کنزا ہاشمی نے خصوصی طور پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
-

لائسنس معطلی کی درخواست : مومنہ اور ثاقب کے وکلاء پنجاب بار کونسل طلب
چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار عباس چڈھر نے دونوں وکلاء کو کل ساڑھے 10 بجے پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔
پنجاب بار کونسل نے کہا کہ رمشا اقبال اور میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کرنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔
رمشا اقبال نے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست دے رکھی ہے، جبکہ مقامی وکیل آصف ولی نے رمشا اقبال کا لائسنس معطل کرنے کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔
پنجاب بار کونسل نے مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال اور ثاقب چڈھر کے وکیل میاں علی اشفاق کو کل طلب کر لیا ہے۔
-

دماغی امراض سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے، ماہرہ خان
لندن میں برٹش ایشین ٹرسٹ کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ خان نے یہ بات کہی، انہوں نے کہا مینٹل ہیلتھ پر بات کرتے ہوئے لوگ اب بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض بھی دیگر بیماریوں کی طرح ہیں، برطانیہ کے شاہ چارلس کی ٹرسٹ سرگرمیوں میں شرکت اہم ہے۔
ماہرہ خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشرے میں ہراسانی اور تشدد کے واقعات قابلِ مذمت ہیں، مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا اور ذمے داروں کو مثال بنانا ضروری ہے۔
-

امتیاز علی کا اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہونے کا انکشاف
اپنی آنے والی رومانوی ڈرامہ فلم ’’واپس آؤں گا‘‘ کی تشہیر کے دوران بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 55 سالہ امتیاز علی نے بتایا کہ یہ واقعہ ان کے طالب علمی کے دنوں میں پیش آیا جب وہ ہندو کالج میں زیر تعلیم تھے اور طلبا سیاست کی کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے مطابق دو طلبا تنظیموں این ایس یو آئی اور اے بی وی پی کے درمیان کشمکش کے دوران وہ ایک سیاسی تنازع کا نشانہ بنے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں ایسا گانا چاہتا تھا جو میری شخصیت کے ہر پہلو کی عکاسی کرتا ہو، جیسے کہ میرا مراکش سے تعلق ہے، میں کینیڈا میں پیدا ہوا، وہیں پرورش پائی اور کام کے سلسلے میں بھارت میں رہنے کی وجہ سے بھارتی کمیونٹی کا بھی میری زندگی پر گہرا اثر ہے۔
امتیاز علی نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک پوسٹر سے شروع ہوا تھا جو ہاسٹل کی دیوار پر لگایا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف یہ درخواست کی تھی کہ پوسٹر کو سامنے کی دیوار کے بجائے سائیڈ والی دیوار پر لگا دیا جائے، مگر مخالف گروہ نے اسے نظر انداز کر دیا، جس پر انہوں نے خود پوسٹر اتار کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
فلمساز کے مطابق اس کے کچھ دن بعد انہیں اغوا کرکے ایک ویران سرکاری کوارٹر میں لے جایا گیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی، بعد ازاں جب گروہ کے رہنما کو حقیقت معلوم ہوئی کہ انہوں نے پوسٹر پھاڑا نہیں بلکہ صرف اس کی جگہ تبدیل کی تھی تو انہیں رہا کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ایک خوفناک صورتحال بھی ہو سکتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہی واقعہ ان کے لیے مثبت یادوں میں بدل گیا اور اسی وجہ سے ان کے کئی نئے دوست بھی بنے۔ امتیاز علی نے اعتراف کیا کہ عمر کے اس مرحلے پر آ کر وہ سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات نوجوانی میں انسان ضدی رویے کا مظاہرہ کر جاتا ہے۔
-

پنجاب حکومت کا لاہور میں جدید فلم اینڈ میوزک سکول قائم کرنے کا فیصلہ
فلم، موسیقی، تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹس کی باقاعدہ تعلیم کے لیے تیار کیے گئے اس منصوبے کے تحت جولائی 2026 سے جون 2029 تک اسکول کی تعمیر مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
منصوبے کے مطابق ایک لاکھ 44 ہزار 875 مربع فٹ رقبے پر مشتمل جدید عمارت تعمیر کی جائے گی، جس میں کلاس رومز، اسٹوڈیوز، تھیٹر اور دیگر تعلیمی سہولیات قائم کی جائیں گی۔
طلبہ کی عملی تربیت کے لیے ساؤنڈ پروف کلاس رومز، ریہرسل ہال، ریکارڈنگ اسٹوڈیوز اور جدید ڈیجیٹل آڈیو ویژول لیبارٹریاں بھی بنائی جائیں گی، اس کے علاوہ ادارے میں لائبریری، ریسرچ سینٹر، کیفے ٹیریا اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
حکومت کا مقصد لاہور کو علاقائی سطح پر ایک اہم ثقافتی مرکز بنانا اور ثقافتی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے سے فنکاروں، اساتذہ، ٹیکنیشنز اور پروڈکشن اسٹاف کے لیے نئی پیشہ ورانہ مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
-

فلم پی کے میں 5 سیکنڈز کے کردار نے اصلی بھکاری کی زندگی بدل دی
“میں دہلی کی سڑکوں پر خود کو نابینا ظاہر کرکے بھیک مانگا کرتا تھا۔ ایک دن کچھ لوگ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا تم اداکاری کرسکتے ہو؟ میں نے ہنس کر جواب دیا کہ۔ مجھے ایک نمبر اور چند روپے دیے گئے اور اگلے دن بلایا گیا۔ وہاں میرے جیسے کئی لوگ موجود تھے لیکن قسمت نے میرا ساتھ دیا اور میرا انتخاب ہوگیا۔ جب مجھے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ آج لوگ مجھے پہچانتے ہیں، میرا اپنا کاروبار ہے اور میں مستقبل میں مزید فلموں میں کام کرنے کی امید رکھتا ہوں۔”
کبھی سڑک کنارے کشکول ہاتھ میں لیے لوگوں سے مدد مانگنے والا منوج رائے شاید خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی زندگی کا سب سے اہم موڑ صرف چند سیکنڈ کی اداکاری بن جائے گا۔ بالی وڈ کی کامیاب فلم “پی کے” میں اس کا کردار انتہائی مختصر تھا، لیکن اس مختصر موجودگی نے اسے ایسی پہچان دی جس نے غربت اور بے بسی سے نکلنے کا راستہ کھول دیا۔
آسام کے ضلع سونیت پور سے تعلق رکھنے والے منوج رائے کا بچپن شدید مالی مشکلات میں گزرا۔ کم عمری میں والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا جبکہ والد بیماری کے باعث کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ حالات نے اسے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور روزگار کی تلاش اسے دہلی لے آئی، جہاں اس نے زندگی گزارنے کے لیے بھیک مانگنا شروع کر دی۔
قسمت نے اس وقت کروٹ لی جب فلم “پی کے” کے لیے حقیقی بھکاریوں کی تلاش جاری تھی۔ متعدد امیدواروں میں سے منوج کا انتخاب کیا گیا۔ فلم میں اس کا منظر مختصر ضرور تھا، مگر اس کے عوض ملنے والی رقم اور اس تجربے نے اس کی سوچ بدل دی۔ فلم مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس لوٹا تو لوگوں نے اسے ایک نئی نظر سے دیکھا۔
منوج نے فیصلہ کیا کہ اب وہ دوبارہ سڑک پر نہیں بیٹھے گا۔ اس نے ملنے والی رقم اور مقامی حمایت کے ساتھ ایک چھوٹی کریانہ دکان قائم کی، جو وقت کے ساتھ اس کا مستقل ذریعہ معاش بن گئی۔ آج وہ اسی کاروبار کے ذریعے زندگی گزار رہا ہے اور اپنی پرانی زندگی کو ایک مشکل مگر اہم سبق کے طور پر یاد کرتا ہے۔
منوج کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام، فلمی ستاروں کے ساتھ وقت گزارنا اور شوٹنگ کا تجربہ اس کے لیے کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھیں، لیکن فلم نے اسے نہ صرف مالی سہارا دیا بلکہ خود اعتمادی بھی عطا کی۔
آج منوج رائے اپنی زندگی کے نئے باب میں داخل ہوچکا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہے اور آسامی و بنگالی فلموں میں کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس کی کہانی اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات زندگی بدلنے کے لیے ایک چھوٹا سا موقع ہی کافی ہوتا ہے۔
-

حج کے دوران ہتھیلیوں سے مسلسل خوشبو آتی رہی، جویریہ سعود نے روح پرور واقعہ سنا دیا
“سن 2022 میں جب میں حج کی سعادت حاصل کرنے گئی تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میری ہتھیلیوں سے عطر کی خوشبو آ رہی ہے، حالانکہ میں نے کوئی عطر استعمال نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے ساتھ موجود ایک خاتون حاجی سے پوچھا کہ کہیں یہ میرے حج پر اثر انداز تو نہیں ہوگا؟ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ہاتھ دھو لوں۔ میں نے کئی بار ہاتھ دھوئے لیکن خوشبو ختم نہیں ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر یہ مہک میری ہتھیلیوں میں تین دن تک برقرار رہی۔ میں نے اس بارے میں زیادہ لوگوں کو نہیں بتایا، لیکن میرے گروپ کے کچھ افراد کو اس کا علم ہو گیا تھا۔”
پاکستانی اداکارہ اور میزبان جویریہ سعود نے حال ہی میں اپنے حج کے سفر سے جڑی ایک یادگار اور روحانی کیفیت کا ذکر کیا جس نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔ جویریہ اور ان کے شوہر سعود قاسمی شوبز کی اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی نجی زندگی کے کئی اہم لمحات اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔
ایک پروگرام کے دوران جویریہ سعود نے بتایا کہ حج کے ایام میں انہیں اپنی ہتھیلیوں سے مسلسل خوشبو محسوس ہوتی رہی، حالانکہ انہوں نے کوئی عطر یا خوشبو استعمال نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق ہاتھ دھونے کے باوجود خوشبو برقرار رہی اور کئی دن تک ان کے ساتھ رہی۔
پروگرام میں موجود عالمِ دین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور نعمت قرار دیا۔ جویریہ سعود کا کہنا تھا کہ اس وقت انہوں نے اس تجربے کو زیادہ لوگوں کے سامنے بیان نہیں کیا، تاہم ان کے ساتھ موجود چند افراد اس غیر معمولی واقعے سے آگاہ ہو گئے تھے۔
جویریہ سعود کی جانب سے بیان کیا گیا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں بہت سے صارفین اسے ایک روحانی تجربہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض لوگ اسے حج کے دوران محسوس ہونے والی خاص کیفیت سے تعبیر کر رہے ہیں۔
-

میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
گلوکارہ طاہرہ سید نے اپنے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر تردیدی بیان جاری کر دیا۔گلوکارہ کاکہناتھا کہ میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہوں ۔ تفصیلات کے مطابق گلوکارہ طاہرہ سید کے انتقال کے حوالے سے خبر جھوٹی اور افواہ ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی تھی۔ طاہرہ سید کاکہنا ہے کہ وہ امریکا میں بالکل خیریت سے ہیں اور صحت مند ہیں۔ انہوں نے خود ویڈیو بیان میں ان افواہوں کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “میری صحت کے بارے میں افواہ پھیلائی گئی ہے، میں بالکل صحت مند ہوں”۔ یادرہے کہ طاہرہ سید (ولادت 1958ء لاہور) پاکستان کی مشہور غزل اور لوک گلوکارہ ہیں، جن کی آواز آج بھی مقبول ہے،وہ ملکہ پکھراج کی بیٹی ہیں۔
-

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا ‘جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں’۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا ‘اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں’۔انہوں نے کہا ‘اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے’۔شہزاد نواز نے کہا ‘بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے’۔
