Category: Entertainment

  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی

    فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی

    معروف اداکارفہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی۔ فہد مصطفیٰ نے مریم اورنگزیب کو اس حوالے سے خط ارسال کر دیاہے جس میں کہاہے کہ مالز کی جلد بندش سے فلمی صنعت متاثر ہو رہی ہے،سینما کےاوقات میں توسیع سے ٹکٹ فروخت اور آمدن میں اضافہ ہوگا۔فہدمصطفیٰ نےخط میں سینما انڈسٹری اور فلم ڈسٹری بیوشن کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اوقات کار میں نرمی سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ فہدمصطفیٰ نے مزیدکہاکہ پنجاب حکومت کے فلم انڈسٹری کے لیے اقدامات قابلِ ستائش ہیں،سینما اوقات کار میں معمولی توسیع سے شائقینِ فلم کو سہولت ملے گی،امیدہے کہ حکومت میری درخواست پر مثبت غور کرے گی،اس اقدام سے فلم سازوں، سینما مالکان اور ناظرین کو فائدہ ہوگا۔

  • فلم کی پروموشن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا ایکشن، جھانوی خوفزدہ ہوگئیں؟ ویڈیو وائرل

    فلم کی پروموشن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا ایکشن، جھانوی خوفزدہ ہوگئیں؟ ویڈیو وائرل

    بالی وڈ اداکارہ جھانوی کپور مداح کے قریب آنے پر سکیورٹی اہلکاروں کے فوری ایکشن پرخوفزدہ ہوگئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ جھانوی کپور اپنی نئی آنے والی تیلگو فلم پیڈی کی تشہیر میں مصروف ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وجے واڑہ میں فلم کی ایک پروموشنل تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اداکار رام چرن، ہدایت کار بوچی بابو سانا اور جھانوی کپور نے شرکت کی۔خوشگوار ماحول اس وقت خراب ہوا جب رام چرن کے ایک مداح نے سکیورٹی کو توڑتے ہوئے ان سے ملنے کی کوشش کی، اسی دوران اداکار کے گارڈز آئے اور مداح کو اٹھا کر لے گئے۔رام چرن کے ساتھ جھانوی کپور بھی بیٹھی تھیں جو مداح کے قریب آنے اورسکیورٹی مداخلت پر خوفزدہ ہوگئیں۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • اداکارہ میرب علی کے ہاتھ کی سرجری، مداحوں کو تفصیل بتادی

    اداکارہ میرب علی کے ہاتھ کی سرجری، مداحوں کو تفصیل بتادی

    پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی نوجوان اداکارہ میرب علی کے ہاتھ کی سرجری ہوگئی۔حال ہی میں اداکارہ کے ہاتھ کی سرجری ہوئی جس کے بارے میں میرب علی نے اپنی ویڈیو میں بتایا۔میرب علی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے ہاتھ کی سرجری کے حوالے سے مداحوں کا آگاہ کیا۔اداکارہ نے کہا کہ میرے ایک ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں تکلیف ہوگئی ہے، انگلی کو سیدھا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیورولوجسٹ کو بھی دکھایا جنہوں نے تسلی بخش جواب دیا تاہم مسئلہ حل نہ ہونے پر ہڈی کے ڈاکٹر کو دکھایا گیا جنہوں سے سرجری کرنے کا کہا۔ویڈیو کے آخر میں اداکارہ نے اپنی سرجری کے بعد ریکوری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔

  • 3 ماہ میں 3 بار لٹ گیا۔۔ کراچی میں بڑھتی وارداتیں! دیپک پروانی بھی نہ بچ سکے

    3 ماہ میں 3 بار لٹ گیا۔۔ کراچی میں بڑھتی وارداتیں! دیپک پروانی بھی نہ بچ سکے

    “میں گزشتہ تین ماہ میں کراچی میں تین مرتبہ ڈکیتی کا شکار ہوچکا ہوں۔ میری گاڑی، موٹر سائیکل اور نقدی اسلحے کے زور پر چھین لی گئی۔ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہیں، میرے عملے کے افراد بھی مسلسل جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک ملازم کے گھر میں اسی مہینے دو بار چوری ہوئی جبکہ ایک اور ملازم کے بیٹے کو بھتہ نہ دینے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں جرائم خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور مہنگائی نے حالات مزید خراب کردیے ہیں۔”

    کراچی ایک بار پھر خوف اور بے بسی کی تصویر بنتا جارہا ہے، جہاں اب جرائم صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ معروف شخصیات بھی اس کی لپیٹ میں آرہی ہیں۔ نامور فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کے حالیہ انکشافات نے شہر کے بگڑتے امن و امان پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    مسلسل تین وارداتوں کا شکار ہونے کے بعد ان کا بیان محض ایک ذاتی شکایت نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے قریبی ملازمین تک محفوظ نہیں رہے، گھروں میں چوریاں اور بھتے کے لیے تشدد جیسے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جیسے ہی یہ بیان سامنے آیا، صارفین کی بڑی تعداد نے شدید ردعمل دیا۔ کچھ لوگوں نے کراچی کو خطرناک شہر قرار دیتے ہوئے اپنی تشویش ظاہر کی، جبکہ دیگر نے حکومتی اداروں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

    یہ معاملہ صرف ایک مشہور ڈیزائنر کی کہانی نہیں بلکہ اس شہر کی بدلتی حقیقت کا عکس ہے، جہاں خوف، مہنگائی اور بے یقینی نے لوگوں کی زندگی کو گھیر رکھا ہے۔ ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا اس بگڑتی صورتحال پر قابو پایا جاسکے گا یا کراچی مزید اندھیروں میں ڈوبتا جائے گا؟

  • شرم ہے نہ عقل، حنا پرویز بٹ نے رجب بٹ کو کھری کھری سنادیں

    شرم ہے نہ عقل، حنا پرویز بٹ نے رجب بٹ کو کھری کھری سنادیں

    یہ نہایت افسوسناک طرزِ عمل ہے۔ ان لوگوں میں نہ شرم باقی رہی ہے اور نہ ہی شعور۔ جہاں دل چاہتا ہے کیمرہ نکال کر ریکارڈنگ شروع کر دیتے ہیں، بغیر اس بات کا خیال کیے کہ اردگرد فیملیز بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ مزید افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ لوگ ایسے افراد کو ہیرو سمجھتے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یوٹیوبر رجب بٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن شہرت کی دوڑ میں بعض افراد بنیادی سماجی حدود کو نظر انداز کر رہے ہیں جس سے دوسروں کی نجی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    زیر بحث ویڈیو میں رجب بٹ ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے دوران وی لاگ بنا رہے ہیں تاہم ان کے عقب میں موجود ایک خاندان واضح طور پر بے چینی محسوس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر ایک خاتون کو کیمرے سے بچنے کے لیے اپنا چہرہ چھپاتے اور رخ موڑتے دیکھا گیا جس پر صارفین کی بڑی تعداد نے اسے غیر مناسب اور مداخلت پر مبنی رویہ قرار دیا۔

    یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رجب بٹ پہلے ہی مختلف تنازعات اور قانونی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی بھی مسلسل خبروں میں رہی ہے۔ ان کی شادی ایمان فاطمہ سے 2024 میں ہوئی تھی ۔ دونوں کے ہاں ستمبر 2025 میں بیٹے کیوان سلطان کی پیدائش ہوئی۔

    بعد ازاں مارچ 2026 میں ایک پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران رجب بٹ نے علیحدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طلاق کے کاغذات بھی بھیجے جا چکے ہیں۔ موجودہ تنازع نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر پرائیویسی اور ذمہ دارانہ رویے کے حوالے سے بحث کو تیز کر دیا ہے۔

  • لاہور ایئرپورٹ تنازعہ: عدنان صدیقی کا طنز، اقرار الحسن ایک بار پھر خبروں کی زینت

    لاہور ایئرپورٹ تنازعہ: عدنان صدیقی کا طنز، اقرار الحسن ایک بار پھر خبروں کی زینت

    پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں حالیہ دنوں ایک ویڈیو نے خاصی ہلچل مچارکھی ہے جس کے بعد معروف ٹی وی میزبان اقرار الحسن شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائرل ہوا جس میں انہیں لاہور ایئرپورٹ پر سکیورٹی عملے سے تلخ انداز میں گفتگو کرتے دیکھا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اقرار الحسن بیرونِ ملک سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان واپس پہنچے۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر وہ ایئرپورٹ اسٹاف پر برہمی کا اظہار کرتے نظر آئے جس کے بعد صارفین کی جانب سے ان کے رویے پر سخت ردعمل سامنے آیا اور معاملہ تیزی سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گیا۔

    اسی تنازعے پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں بھی گفتگو ہوئی، جہاں معروف اداکار عدنان صدیقی نے طنزیہ انداز میں اس واقعے کا حوالہ دیا۔

    پروگرام کے میزبان وسیم بادامی کے ایک سوال کے جواب میں عدنان صدیقی نے کہا کہ وہ حال ہی میں “اپنے ایک دوست کو ایئرپورٹ پر دیکھ کر روئے”، جسے ناظرین نے اقرار الحسن کی جانب اشارہ سمجھا۔

    پروگرام کے دوران شریک دیگر مہمان نے اس جملے کی وضاحت کی درخواست کی تاہم وسیم بادامی نے مزید بات آگے بڑھانے سے گریز کیا اور کہا کہ اقرار الحسن ان کے قریبی دوست اور ساتھی ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو زیادہ نہیں چھیڑنا چاہتے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ عوامی شخصیات کے رویے اور ان کے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے لمحات کس طرح ان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں معمولی واقعات بھی بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں اور عوامی ردعمل فوری اور شدید ہوتا ہے۔

  • فنکاروں کی تضحیک ناقابلِ قبول! ریما خان کا میرا اور ریشم کے تنازعات پر دوٹوک مؤقف

    فنکاروں کی تضحیک ناقابلِ قبول! ریما خان کا میرا اور ریشم کے تنازعات پر دوٹوک مؤقف

    پاکستان شوبز کی معروف سابق اداکارہ ریما خان نے حالیہ انٹرویوز میں شوبز شخصیات سے جڑے تنازعات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فنکاروں کے احترام پر زور دیا ہے۔ وہ ان دنوں پاکستان میں موجود ہیں اور مختلف پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں۔

    ریما خان نے ہر لمحہ پرجوش میں گفتگو کرتے ہوئے میزبانوں کے رویے پر تنقید کی، خصوصاً میرا کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے حوالے سے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض میزبان فنکاروں کے ساتھ ایسے سوالات کرتے ہیں جو ان کی تضحیک کے مترادف ہوتے ہیں اور انہیں سنجیدہ موضوعات کے پروگراموں کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں اکثر فنکاروں کے فن کے بجائے ان کی ذاتی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے، جو نہ صرف مہمان کی بے عزتی ہے بلکہ میزبان کی اپنی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کے مطابق مرد و خواتین تمام فنکار عزت کے مستحق ہیں اور ان کے کام پر بات ہونی چاہیے۔

    ریشم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ریشم کے بارے میں ریما خان نے کہا کہ وہ نہایت خوبصورت انداز میں گفتگو کرتی ہیں۔ انہوں نے ریشم کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کی باتوں پر اندھا یقین کرنے کے بجائے خود حالات کا جائزہ لیں اور سنی سنائی باتوں پر توجہ نہ دیں۔

    ریما خان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شوبز شخصیات سے متعلق تنازعات اور انٹرویوز کے انداز پر مسلسل بحث جاری ہے، اور ان کا بیان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فنکاروں کے ساتھ باوقار رویہ اختیار کرنا معاشرتی ذمہ داری ہے۔

  • بشریٰ انصاری کا فردوس جمال کے بیان پر سخت ردعمل، فنکاروں کی تضحیک پر خاموشی توڑ دی

    بشریٰ انصاری کا فردوس جمال کے بیان پر سخت ردعمل، فنکاروں کی تضحیک پر خاموشی توڑ دی

    پاکستان کی سینئر اور نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے حالیہ تنازع پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے اداکار فردوس جمال کے بیانات کو افسوسناک قرار دے دیا۔

    چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شاندار کیریئر رکھنے والی بشریٰ انصاری اپنے دوٹوک مؤقف اور بے باک انداز کے لیے جانی جاتی ہیں اور اس معاملے پر بھی انہوں نے واضح موقف اپنایا۔

    حالیہ دنوں میں فردوس جمال نے ایک گفتگو کے دوران ماضی کے کئی نامور فنکاروں طلعت حسین، خیام سرحدی، شفیع محمد اور راحت کاظمی کے حوالے سے منفی رائے دی۔

    انہوں نے عابد علی پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان کے فن پر سوال اٹھایا جس پر سوشل حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا خصوصاً اس لیے کہ ان میں سے کئی فنکار اب دنیا میں موجود نہیں۔

    اس صورتحال پر بشریٰ انصاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ فردوس جمال کی قدر کرتی ہیں تاہم کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے فنکاروں کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنائے۔ ان کے مطابق شوبز انڈسٹری میں بہت کم فنکار ایسے ہوتے ہیں جنہیں کمزور کہا جا سکے، اس لیے بلاجواز تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منفی بیانات نہ صرف دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں بلکہ خود بولنے والے کی شخصیت اور اس کے قریبی افراد پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے فردوس جمال کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سوچ اور رویے پر نظرثانی کریں۔

    یہ تنازع ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ فنکاروں کے درمیان اختلافِ رائے کو کس حد تک شائستگی اور احترام کے دائرے میں رکھا جانا چاہیے اور ماضی کے نامور فنکاروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت احتیاط کیوں ضروری ہے۔

  • پنجاب میں فلمی صنعت کے فروغ کے لیے بڑا قدم، جدید فلم سٹی کے قیام کا اعلان

    پنجاب میں فلمی صنعت کے فروغ کے لیے بڑا قدم، جدید فلم سٹی کے قیام کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں فلمی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 50 ایکڑ اراضی پر مشتمل جدید فلم سٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ لاہور کے نواز آئی ٹی سٹی میں قائم کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب فلم سٹی ملک کا پہلا مکمل اینڈ ٹو اینڈ میڈیا پروڈکشن ہب ہوگا، جہاں فلم، ٹی وی، اینیمیشن اور ڈیجیٹل میڈیا کی تیاری کے لیے تمام جدید سہولیات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔ اس منصوبے کا مقصد مقامی فلمی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ فلم سٹی کے قیام سے نہ صرف پاکستان کی فلمی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی اور وسائل میسر آئیں گے بلکہ وی ایف ایکس اور پوسٹ پروڈکشن کے لیے بیرون ملک انحصار میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جو ملکی معیشت اور تخلیقی صنعت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • شور کے زمانے میں درد بھری آواز حاوی کون ہیں؟

    شور کے زمانے میں درد بھری آواز حاوی کون ہیں؟

    اوج کے ساتھ چند کامیاب سال گزارنے کے بعد عبدالرحمان نے سولو کرئیر کی جانب قدم اٹھایا اور اس وقت ان کا شمار پاکستان کے نامور ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، جو نوجوان نسل کی نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ انھیں اردو زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    BBC

    روشنیوں سے بھرے سٹیج پر جب وہ مائیک تھامتے ہیں تو سامعین کے لیے وہ ’حاوی‘ ہوتے ہیں۔۔۔ ایک ایسی آواز جو درد، محبت اور خاموش جذبات کو دھن میں ڈھال دیتی ہے مگر سٹیج سے باہر وہ شخص عبدالرحمان ساجد ایک عام نوجوان ہیں، جو اپنی شناخت، اپنے فن اور اپنے راستے کی تلاش میں ہیں۔

    پاکستان میں موسیقی کی دنیا میں حاوی ان فنکاروں میں شامل ہیں جو نہ صرف اپنی آواز بلکہ اپنے احساسات کے ذریعے بھی پہچانے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کرئیر کا آغاز ’اوج بینڈ‘ کے ساتھ کیا تھا، جس نے سنہ 2019 میں ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

    اوج کے ساتھ چند کامیاب سال گزارنے کے بعد عبدالرحمان نے سولو کرئیر کی جانب قدم اٹھایا اور اس وقت ان کا شمار پاکستان کے نامور ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے، جو نوجوان نسل کی نہ صرف نمائندگی کرتے ہیں بلکہ انھیں اردو زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے عبدالرحمان سے حاوی تک کے سفر پر تو بات کی ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنے پہلے سولو البم کی تیاری کے بارے میں بھی بتایا، جو ان کے مطابق اس سال ریلیز ہو جائے گا۔

    ’حاوی‘ کون ہیں؟

    عبدالرحمان نے جب اپنے سولو کرئیر کی طرف قدم رکھا تو ایک فنی نام بھی اپنایا، جو آج ان کی پہچان بن چکا ہے، بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹیج پر نظر آنے والا ’حاوی‘ دراصل ایک کردار ہے، ایک ایسی شناخت جو انھوں نے خود تخلیق کی۔

    ’حاوی ایک کہانی کا مرکزی کردار ہے، جسے میں سٹیج پر پیش کرتا ہوں۔ سٹیج پر میں حاوی ہوں جبکہ عبدالرحمان میری ذاتی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے، اس طرح میں نے اپنی ذاتی اور فنی زندگی میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔‘

    ان کے مطابق یہ دو الگ دنیا ہیں مگر دونوں ایک ہی شخص کے اندر بستی ہیں۔

    ’موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے‘

    حاوی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے موسیقی صرف پیشہ نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے، ان کا موسیقی سے تعلق کسی ایک لمحے میں نہیں جڑا بلکہ یہ آہستہ آہستہ ان کی زندگی کا حصہ بنتا گیا۔

    ’کم عمری میں ہی میرا رجحان موسیقی کی طرف ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ یہی میری شناخت بنتی گئی۔‘

    سکول کے دنوں میں موسیقی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے لے کر ایک بینڈ کا حصہ بننے تک، یہ سفر بظاہر عام لگ سکتا ہے مگر حاوی کے لیے یہ مسلسل تلاش کا عمل تھا، جس کے ذریعے وہ اپنی آواز کو پہچاننے کی کوشش کررہے تھے۔

    موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہر فنکار کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے جب شوق اور پیشے کے درمیان حد مٹنے لگتی ہے، ان کے لیے بھی یہ لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔

    وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے موسیقی کو بطور کرئیر اپنانے کا فیصلہ کیا، تو چیزیں بدلنا شروع ہو گئیں مگر یہ تبدیلی صرف باہر نہیں بلکہ اندر بھی تھی۔

    اوج بینڈ سے راہیں جدا کیوں ہوئیں؟

    حاوی نے نہ صرف پیپسی بیٹل آف دی بینڈز کا ٹائٹل اپنے بینڈ اوج کے ساتھ جیتا بلکہ ان کے کرئیر کو اس مقام تک پہنچانے میں بھی ان کے ساتھیوں کا ہاتھ ہے۔

    ان کے بقول بینڈ کا حصہ ہونا ایک مشترکہ خواب کی طرح ہوتا ہے، جہاں ذمہ داریاں بھی بانٹی جاتی ہیں اور کامیابیاں بھی مگر کبھی کبھار یہی اشتراک اختلافات کو بھی جنم دیتا ہے۔

    انھیں یہ انتہائی قدم کیوں اٹھانا پڑا، اس پر بات کرتے ہوئے حاوی نے بتایا کہ ان کے اور بینڈ کے ممبران کے درمیان یہ طے نہیں ہو پا رہا تھا کہ بینڈ کی نمائندگی کس طرح ہونی چاہیے۔

    اور یہی اختلاف آخرکار انھیں ایک نئے راستے پر لے آیا، جہاں انھیں آزادی بھی حاصل ہے اور وہ اپنی مرضی سے میوزک بنا رہے ہیں۔

    وہ مانتے ہیں کہ سولو کیریئر میں سب سے بڑی طاقت تخلیقی آزادی ہے مگر اس کے ساتھ ہر فیصلے کی ذمہ داری بھی خود اٹھانا پڑتی ہے۔

    ’یہ ایسا سفر ہے جہاں آپ اکیلے ہوتے ہیں مگر مکمل طور پر خود ہوتے ہیں۔‘