Category: دلچسپ اور عجیب

  • عزیز کی راکھ پانی میں بہانا مہنگا پڑ گیا، سیاح خاتون زیرِ تفتیش

    عزیز کی راکھ پانی میں بہانا مہنگا پڑ گیا، سیاح خاتون زیرِ تفتیش

    اٹلی کے شہر وینس میں ایک فرانسیسی خاتون سیاح اپنے کسی عزیز کی راکھ سینٹ مارک بیسن کے پانیوں میں پھینکنے پر تنقید کی زد میں آگئیں۔

    وائرل ہونے والی حیران کن ویڈیو میں نامعلوم خاتون کو ایک تھیلی خالی کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں بظاہر انسانی راکھ موجود تھی۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب کشتی سان جورجیو میجوری کے قریب سے گزر رہی تھی۔

    ایک دوسرے مسافر نے یہ منظر پبلک ستی واٹر بس میں سفر کے دوران ریکارڈ کیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، جس کے بعد حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ویڈیو میں جس وقت خاتون راکھ پانی میں پھینک رہی ہوتی ہیں اس وقت دیگر مسافروں کو خاتون پر چیختے اور احتجاج کرتے بھی سنا جا سکتا ہے۔

    وینس کے قوانین کے مطابق انسانی راکھ کو صرف مخصوص اور منظور شدہ مقامات پر ہی بکھیرنے کی اجازت ہے، جن میں گارڈنز آف ریمیمبرنس شامل ہیں جو سان مشیل سمیٹری، میسٹر اور مارگرا کے قبرستانوں میں واقع ہیں۔

    سوگوار افراد کو راکھ بحیرۂ ایڈریاٹک میں ساحل سے تقریباً 2000 فٹ دور یا سان میکیلے قبرستان کے پیچھے شمالی لاگون کے مخصوص حصے میں بکھیرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

  • معمر ترین جانور جوناتھن کیلئے ایک اور اعزاز

    معمر ترین جانور جوناتھن کیلئے ایک اور اعزاز

    دنیا کے معمر ترین زندہ خشکی کے جانور جوناتھن کو گینیز ورلڈ ریکارڈز آئیکون کا اعزاز دے دیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جوناتھن کچھوے کی پیدائش 1832 کے قریب ہوئی تھی، جس کے باعث اس کی موجودہ عمر 194 سال بنتی ہے۔

    جوناتھن ایک سیشلز جائنٹ کچھوا ہے جبکہ اس نسل کی اوسط عمر تقریباً 150 سال ہوتی ہے۔ غیر معمولی عمر اور تاریخی اہمیت کے باعث جوناتھن دنیا بھر میں حیرت اور دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

  • دنیا کی سب سے باریک چاکلیٹ

    دنیا کی سب سے باریک چاکلیٹ

    فروری 2024 میں ٹوکیو میں لانچ ہونے والی میٹ بوٹیگا ڈیل چوکولاٹو نے بہت کم وقت میں دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی۔ اس کی وجہ تھی دنیا کی اس کا سب سے باریک چاکلیٹ تیار کرنا۔

    اس شاہکار کا نام ’کورٹیشیا‘ رکھا گیا ہے جس کا اطالوی زبان میں مطلب ’درخت کی چھال‘ ہے۔ یہ منفرد چاکلیٹ صرف 0.03 ملی میٹر موٹی چاکلیٹ کی ایک تہہ پر مشتمل ہے اور ماہرین اسے انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ قرار دیتے ہیں کیونکہ اتنی باریک چاکلیٹ بنانا معمولی بات نہیں۔

    اطالوی روایتی تہہ دار چاکلیٹس سے متاثر ہو کر میٹ نے ڈیڑھ سال کی مسلسل محنت کے بعد مقامی مشینری ماہرین کے تعاون سے ایک خصوصی مشین تیار کی، جس کی مدد سے چاکلیٹ کو انتہائی باریک تہہ میں ڈھالا اور رول کیا جاتا ہے۔ دنیا میں شاید اس جیسی مشینیں موجود ہوں لیکن کورٹیشیا جیسی باریک چاکلیٹ بنانے کی صلاحیت کسی اور کے پاس نہیں۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چاکلیٹ کو اتنا باریک بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

    اس کا جواب میٹ کے بانی میٹیو سِنکلیکا کے وژن میں چھپا ہے۔ ان کا مقصد ایسی چاکلیٹ تخلیق کرنا تھا جو منہ میں جاتے ہی بے مثال انداز میں پگھل جائے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کا بہترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ زبان پر پگھلنے کے قریب ہو اور میٹ نے اسی احساس کو ہر نوالے میں قید کرنے کی کوشش کی۔

    0.03 ملی میٹر موٹی چاکلیٹ کی اس تہہ کو ایک ننھی ٹہنی کی شکل میں لپیٹا جاتا ہے، جس کی سطح درخت کی کھردری چھال جیسی دکھائی دیتی ہے۔

    نتیجتاً ایک ایسا منفرد میٹھا وجود میں آتا ہے جو زبان کو چھوتے ہی تقریباً فوراً پگھل جاتا ہے اور کھانے والے کو ایک بالکل نیا اور یادگار ذائقہ اور احساس فراہم کرتا ہے۔

  • امریکی شہری نے ایک ہی نمبر کے تین ٹکٹوں سے بڑا انعام جیت لیا

    امریکی شہری نے ایک ہی نمبر کے تین ٹکٹوں سے بڑا انعام جیت لیا

    امریکا میں ایک شخص نے اپنی ملازمت کے شناختی نمبر کے ہندسے استعمال کرتے ہوئے ایک ہی قرعہ اندازی میں تین ایک جیسے ٹکٹ خریدے اور ڈیڑھ لاکھ ڈالر جیت لیے۔

    ریاست میری لینڈ کے علاقے لا پلاٹا کے رہائشی اس شخص نے میری لینڈ لاٹری کے حکام کو بتایا کہ اس نے وفاقی حکومت میں اپنی ملازمت کے ایمپلائی آئی ڈی نمبر کو استعمال کرتے ہوئے تین ایک ڈالر والے ٹکٹیں خریدی تھیں۔

    اس کے مطابق 5 جون کی قرعہ اندازی سے پہلے ہی وہ سو گیا تھا۔ اگلی صبح جب اس نے نتائج چیک کیے تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی، کیونکہ اس کے ہر ٹکٹ پر 50 ہزار ڈالر کا انعام نکلا تھا۔ یوں اس کی مجموعی جیت ڈیڑھ لاکھ ڈالر بن گئی۔

    خوش قسمت فاتح نے بتایا کہ اس نے ابھی تک اپنی جیت کی خبر گھر والوں سے خفیہ رکھی ہوئی ہے اور وہ اپنے بچوں کو یہ خوشخبری ایک سرپرائز کے طور پر دینا چاہتا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ جیتی ہوئی رقم کا کچھ حصہ وہ خاندان کے افراد کے ساتھ شیئر کرے گا، کچھ بلوں اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خرچ ہوگا، جبکہ ممکن ہے کہ وہ اس رقم سے کہیں سیر و سیاحت کا بھی منصوبہ بنائے۔

  • ٹی-ریکس کے چمڑے سے بنا بیگ فروخت نہ ہو سکا

    ٹی-ریکس کے چمڑے سے بنا بیگ فروخت نہ ہو سکا

    ایک حیران کن اور انوکھے منصوبے کے تحت لاکھوں برس قبل معدوم ہوجانے والی ڈائنو سار کی نسل ٹی-ریکس کے ڈی این اے سے تیار کیا گیا دنیا کا پہلا ’ٹی-ریکس لیدر‘ ہینڈ بیگ نیلامی نیلامی میں فروخت نہ ہو سکا۔

    ’ڈائنوساروں کے بادشاہ‘ سے منسوب اس بیگ کی قیمت 3 لاکھ 46 ہزار سے 5 لاکھ 76 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 11 سے 18 کروڑ پاکستانی روپے) کے درمیان رکھی گئی تھی۔

    لیکن اس کی بولی بمشکل ہی ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے اوپر جا سکی اور اس وجہ سے یہ بیگ فروخت نہ ہوسکا۔

    یہ منفرد منصوبہ دی آرگینائیڈ کمپنی، لیب-گرون لیدر لمیٹڈ اور وی ایم ایل کے اشتراک سے مکمل کیا گیا جبکہ اس خصوصی چمڑے کی تیاری نیوکیسل کی ایک لیبارٹری میں کی گئی۔

    یہ تحقیق اس سائنسی کام پر مبنی ہے جس میں 1988 میں ریاست مونٹینا میں دریافت ہونے والے ایک ٹی-ریکس فوسل سے کولیجن کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا حاصل کیا گیا تھا۔

    یہ فوسل اُس وقت دریافت ہونے والے ٹی-ریکس کے سب سے مکمل نمونوں میں شمار ہوتا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس میں خون کے پروٹینز بھی محفوظ تھے، اگرچہ اس دعوے پر سائنسی حلقوں میں آج بھی بحث جاری ہے۔

    ماہرین نے اس کولیجن کے ٹکڑے کی مدد سے مصنوعی طور پر اندازہ لگایا کہ مکمل ٹی-ریکس کولیجن کی ساخت کیسی رہی ہوگی اور پھر اس معلومات کو استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری میں تیار کردہ چمڑے کے خلیات میں شامل کیا۔

  • روبِک کیوب کے شوقین نوجوان نے نیا ریکارڈ بنا ڈالا

    روبِک کیوب کے شوقین نوجوان نے نیا ریکارڈ بنا ڈالا

    روبِک کیوب کے شوقین نوجوان نے اپنی زندگی کے پہلے ہی اسکائی ڈائیونگ جمپ میں فضا میں اڑتے ہوئے دو پزل حل کیے اور گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    24 سالہ اِیشان ہدکر نے اوشیئن سائیڈ کے آسمانوں میں پہلی بار اسکائی ڈائیونگ کی تاکہ ایک ہی اسکائی ڈائیو کے دوران سب سے زیادہ گھومنے والے پزل کیوب حل کرنے کا گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر سکیں۔

    تاہم ان کی پہلی کوشش، جو ان کی زندگی کی پہلی اسکائی ڈائیو بھی تھی، کامیاب نہ ہو سکی۔

    اِیشان نے بتایا کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ تجربہ کیسا ہوگا اور انہیں کیا محسوس ہوگا۔ ان کے پہلے ریکارڈ کی کوشش کے دوران ایک کیوب ہوا میں ہی ٹوٹ گیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اس لیے فوراً اگلی فلائٹ میں سوار ہوئے اور چند ہی لمحوں بعد دوبارہ ریکارڈ بنانے کی کوشش کی۔

    دوسری کوشش میں اِیشان نے 13 ہزار فٹ کی بلندی سے زمین کی طرف گرتے ہوئے ہوا میں ہی دو روبِک کیوب کامیابی سے حل کر لیے اور یوں نیا گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

  • خاتون کا بڑھاپے میں ساتھ دینے والی اے آئی گُڑیا

    خاتون کا بڑھاپے میں ساتھ دینے والی اے آئی گُڑیا

    جنوبی کوریا کے ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں تنہا زندگی گزارنے والی 78 سالہ بینگ چُنجا کی سب سے قریبی ساتھی ایک ایسی اے آئی گڑیا ہے جو شکل و صورت میں کسی حقیقی بچے کا گمان دلاتی ہے۔ بینگ کا کہنا ہے کہ وہ انسانوں کے مقابلے میں اس گڑیا کی رفاقت کو زیادہ پسند کرتی ہیں۔

    یہ ذہین گڑیا گھر واپسی پر ان کا پُرتپاک استقبال کرتی ہے، ان کا دل بہلانے کے لیے گانے سناتی ہے، وقت پر کھانے اور ادویات کی یاد دہانی کرواتی ہے اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہے، ’’میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔‘‘

    بینگ کی ایک بیٹی ہے جو الگ رہتی ہے اور ان سے کم ہی رابطے میں رہتی ہے۔ کمر کی سرجری کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھیں اور اکثر درد اور تنہائی میں چھت کو تکتے ہوئے وقت گزارتی تھیں۔

    اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد انہوں نے برسوں ہیئر ڈریسر کے طور پر محنت کی اور اکیلے ہی اپنی بیٹی کی پرورش کی۔ ان کے مطابق عمر کے اس حصے میں سب سے زیادہ تکلیف انسانوں کی دی ہوئی چوٹ دیتی ہے۔

    تاہم، اب ان کی زندگی میں ہیوڈول نامی یہ اے آئی گڑیا ایک نئی امید بن کر آئی ہے۔ بینگ کہتی ہیں کہ جب وہ اس کے ساتھ ہوتی ہیں تو تنہائی، اداسی اور پریشانیاں جیسے کہیں دور چلی جاتی ہیں۔

  • نوجوان نے سوا کلو شہد کھا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    نوجوان نے سوا کلو شہد کھا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    جرمنی کے ایک شہری نے ایک منٹ میں 1273 گرام شہد کھا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔

    آندرے اورٹلوف نامی یہ نوجوان شہری کھانے اور پینے کے غیر معملی چیلنجز کے لیے مشہور ہے اور اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس نے 60 سیکنڈ میں سوا کلو سے زیادہ مقدار میں شہد کھا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    اس کوشش کے نتیجے میں 4000 کلو کیلوریز اور ایک کلو سے زیادہ شوگر پیٹ میں گئی جو کہ روزانہ کی تجویز کردہ کھپت سے 20 گُنا زیادہ ہے۔

  • یوٹیوبر کو زیورات کی نمائش مہنگی پڑ گئی، چوروں نے گھر لوٹ لیا

    یوٹیوبر کو زیورات کی نمائش مہنگی پڑ گئی، چوروں نے گھر لوٹ لیا

    انڈیا میں ایک خاتون یوٹیوبر کو سوشل میڈیا پر سونے کے زیورات دکھانا مہنگا پڑ گیا، کیونکہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے اگلے ہی دن چور ان کے گھر جا پہنچے اور لاکھوں روپے مالیت کے زیورات سمیت دیگر قیمتی اشیا لے اڑے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے علاقے شیوپوری سے تعلق رکھنے والی رچنا گجر، جن کے سوشل میڈیا پر تقریباً ایک لاکھ فالوورز ہیں، عموماً سماجی مسائل پر ویڈیوز بناتی ہیں اور زیادہ تر مواد اپنے گھر میں ہی ریکارڈ کرتی ہیں۔

    چند روز قبل انہوں نے ایک وی لاگ شیئر کیا جس میں گھر کے مختلف حصے دکھانے کے ساتھ ساتھ وہ خود زیورات پہنے ہوئے تھیں جبکہ مزید زیورات سامنے رکھ کر ان کے بارے میں بات بھی کر رہی تھیں۔ ویڈیو کو معمول کے مطابق اچھا رسپانس ملا مگر اس کے بعد ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آ گیا۔

    رپورٹ کے مطابق رات تقریباً دو بجے کچھ نامعلوم افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے، گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کیا اور تلاش کے بعد وہی زیورات لے گئے جو ویڈیو میں دکھائے گئے تھے۔ خاتون کے مطابق چور تقریباً 10 لاکھ روپے مالیت کے زیورات کے علاوہ دیگر قیمتی سامان اور حتیٰ کہ انرجی ڈرنکس کا ایک کارٹن بھی ساتھ لے گئے۔

    رچنا گجر کا کہنا ہے کہ گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے موجود تھے تاہم ملزمان نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور کیمروں کا رخ بھی موڑ دیا، جس کی وجہ سے شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے نوار پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں کچھ افراد کو کیمرے کا رخ تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا گھروں کی قیمتی اشیا کو عوامی پلیٹ فارمز پر دکھانا محفوظ ہے یا نہیں اور صارفین اس حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • سعودی عرب میں 1400 برس قدیم حضرت عمر فاروق ؓ کے نام والا نایاب تاریخی کتبہ دریافت

    سعودی عرب میں 1400 برس قدیم حضرت عمر فاروق ؓ کے نام والا نایاب تاریخی کتبہ دریافت

    سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے علاقے المہد گورنری میں ایک نایاب اور تاریخی سنگی کتبے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ابتدائی اسلامی تاریخ کے حوالے سے نہایت اہم دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

    سعودی حکام کے مطابق دریافت ہونے والے کتبے پر یہ عبارت درج ہے: ’اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں مددگار ہے‘۔

    ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ کتبہ حجازی رسم الخط میں تحریر کیا گیا ہے، جو اسلامی تاریخ کے قدیم ترین عربی رسم الخطوں میں شمار ہوتا ہے۔

    کمیشن کے مطابق یہ دریافت ابتدائی اسلامی دور کے تاریخی شواہد میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے اُس دور کی مذہبی، ثقافتی اور تحریری روایات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    ماہرین آثارِ قدیمہ اور محققین کا کہنا ہے کہ اس نادر کتبے کی دریافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مزید مستند انداز میں دستاویزی شکل دینے میں معاون ثابت ہوگی۔

    سعودی ہیریٹیج کمیشن نے بتایا کہ دریافت شدہ کتبے کا تفصیلی سائنسی اور تاریخی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس کی عمر، پس منظر اور تحریر کے دور کا مزید درست تعین کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق ایسے تاریخی آثار نہ صرف اسلامی تہذیب کے ابتدائی ادوار پر روشنی ڈالتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ اور تحقیق کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔