Category: عالمی خبریں

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں بیٹے کی پیدائش، 156 سال بعد منفرد تاریخی اعزاز

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاں بیٹے کی پیدائش، 156 سال بعد منفرد تاریخی اعزاز

    واشنگٹن(20 جولائی 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکنڈ لیڈی اوشا وینس کے ہاں اتوار کی صبح بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطاب قامریکی تاریخ میں 156 سال بعد یہ پہلا منفرد موقع ہے کہ کسی موجودہ نائب صدر اور سیکنڈ لیڈی کے ہاں عہدے پر برقرار رہتے ہوئے بچے کی پیدائش ہوئی ہو۔

    اس سے قبل 1870 میں اس وقت کے نائب صدر شوائلر کولفیکس کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے دورِ اقتدار میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر اس تاریخی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے نومولود بیٹے کا نام ’ایلیک نیل وینس‘ رکھا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اوشا وینس اور بچہ دونوں مکمل طور پر صحت مند ہیں اور بڑے بہن بھائی اپنے ننھے بھائی سے ملنے کے لیے بے حد خوش ہیں۔ بچے کی پیدائش میری لینڈ کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں وائٹ ہاؤس کی طبی ٹیم کی نگرانی میں ہوئی۔

     نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ وہ دفتری امور سے باقاعدہ رخصت لینے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم وہ اپنے روزمرہ کے شیڈول کو اس طرح ترتیب دیں گے کہ اپنے نومولود بیٹے اور خاندان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکیں۔

    واضح رہے کہ امریکی نائب صدر اور ان کی اہلیہ کے پہلے ہی تین بچے ہیں جن میں ایوان، وویک اور میرا بیل شامل ہیں۔

  • عباس عراقچی کا انٹرویو میں سابق سپریم لیڈر کی شہادت والے سیکیورٹی خلا سے متعلق ہولناک انکشاف

    عباس عراقچی کا انٹرویو میں سابق سپریم لیڈر کی شہادت والے سیکیورٹی خلا سے متعلق ہولناک انکشاف

    تہران (20 جولائی 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کی شہادت کی وجہ ’سیکیورٹی بریچ‘ ہے، اور وہ سیکیورٹی خلا اب بھی موجود ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اُس حملے، جس میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، نے اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں میں موجود ایک ایسے سیکیورٹی خلا کو بے نقاب کیا، جو غالباً آج بھی برقرار ہے۔

    عباس عراقچی نے اتوار کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا باعث بننے والی سکیورٹی خامیوں کو اب تک مکمل طور پر دور نہیں کیا جا سکا۔ اس اعتراف سے ایران کے سیکیورٹی اداروں کی اعلیٰ قیادت کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

    انھوں نے قدامت پسند اور حکومت نواز میڈیا شخصیت جواد مقائی کے ساتھ ایک تفصیلی ٹی وی انٹرویو میں کہا ’’چند ہی سیکنڈ میں تہران کے پاستور علاقے میں واقع کمانڈ سینٹر کو تین حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں ایران کے سپریم لیڈر کے دفاتر اور ہیڈکوارٹرز موجود ہیں۔‘‘

    عراقچی نے کہا ’’میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ (امریکا اور اسرائیل) کو ان اجلاسوں کی مکمل معلومات تھیں۔ یہ ممکنہ طور پر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایک سیکیورٹی خلا موجود تھا، اور غالب امکان ہے کہ وہ اب بھی موجود ہے۔‘‘

    انھوں نے کہا کہ مسئلہ صرف دراندازی تک محدود نہیں تھا۔ ’’کبھی کبھی اس میں فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر اثرانداز ہونا بھی شامل ہوتا ہے۔‘‘ تاہم انھوں نے مزید کہا ’’میں اس بارے میں عوامی سطح پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔‘‘ وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ذاتی طور پر ملاقات نہیں کی۔ ان کے بقول ’’صرف چند ہی افراد نے ان سے ملاقات کی ہے۔‘‘

    انھوں نے بتایا کہ حملے کے وقت قریبی مقام پر اعلیٰ فوجی قیادت کے اجلاس اور وزارتِ انٹیلی جنس کا ایک اجلاس بھی جاری تھا۔

    عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارت خارجہ ہی میں موجود رہے۔ انھوں نے کہا ’’40 روزہ جنگ کے دوران میں، میرے نائبین، ساتھیوں اور میں نے وزارت خارجہ کی عمارت نہیں چھوڑی۔ کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں تھی۔‘‘ عراقچی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جنگ شروع ہونے کے 3 روز بعد انھوں نے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، 5 روز بعد علی لاریجانی سے مشاورت کی، جب کہ چھٹے روز ایک محفوظ مقام پر باضابطہ اجلاس منعقد کیا گیا۔

  • اب ایک ہی ویزے پر سال بھر میں جتنی بار چاہیں عمرہ کریں! بڑی خوشخبری آگئی

    اب ایک ہی ویزے پر سال بھر میں جتنی بار چاہیں عمرہ کریں! بڑی خوشخبری آگئی

    ریاض(20 جولائی 2026): سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے زائرین کے لیے ایک سال کی مدت کا ‘ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا’ متعارف کرا دیا۔

    سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی سہولت کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے ‘ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا’ متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے ویزا کے تحت زائرین اب ایک ہی ویزے پر ایک سے زیادہ مرتبہ سعودی عرب آ کر عمرہ کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔

    سعودی وزارت کے مطابق، یہ ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا جاری ہونے کی تاریخ سے لے کر 365 روز کے لیے کارآمد ہوگا، جبکہ زائرین اس ویزے پر مجموعی طور پر 90 روز تک سعودی عرب میں قیام کر سکیں گے۔

    تاہم وزارت نے واضح کیا ہے کہ ہر نئے سفر سے قبل زائرین کو ’نسک‘ پلیٹ فارم کے ذریعے منظور شدہ سروس پیکج کا انتخاب کرنا اور عمرہ پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    وزارتِ حج و عمرہ نے مزید بتایا کہ ہر مرتبہ جب زائر سعودی عرب سے واپس روانہ ہوگا، تو ویزا پر دستیاب بقیہ مدتِ قیام خودکار طریقے سے اپ ڈیٹ ہو جائے گی، جس سے زائرین کے لیے اگلے دورے کی منصوبہ بندی کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔

    تاہم، اس ویزے کے تحت حج سیزن کے دوران سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ یکم ذوالقعدہ سے لے کر 13 ذوالحجہ تک جاری رہنے والے حج سیزن کے دوران اس ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا کو استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

  • جنگ طویل ہونے کا امکان، امریکا کا ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اسرائیل بھیجنے پر غور

    جنگ طویل ہونے کا امکان، امریکا کا ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اسرائیل بھیجنے پر غور

    رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کو امریکا ایران پر مزید حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے آپشنز کا جائزہ لیا ہے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات پر مزید حملے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ 

    ساتھ ہی یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاکہ اگر فوجی کارروائیاں وسیع ہوں تو فضائی آپریشنز کی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔

    تاہم ابھی امریکا کی جانب سے نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر مبنی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ مختلف عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔

    اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے، ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی اور عالمی تیل کی منڈی پر اضافی دباؤ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ 

  • امریکی حملوں میں مزید 3 افراد شہید، ایران کی کویت اور اردن میں جوابی کارروائی

    امریکی حملوں میں مزید 3 افراد شہید، ایران کی کویت اور اردن میں جوابی کارروائی

    ایران کے صوبہ ہرمزگان میں امریکی فضائی حملوں میں مزید 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ ایران نے امریکی اور اتحادی اہداف کے خلاف متعدد جوابی کارروائیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل بھی ہرمزگان میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 8 شہری شہید ہوئے تھے جن میں 4 خواتین، 2 معذور بھائیوں سمیت 4 مرد شامل تھے۔ 

    دوسری جانب کویتی فوج نے کہا ہے کہ گزشتہ صبح اس نے اپنی فضائی حدود میں دشمن کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔ فوج کے مطابق ایرانی حملوں میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈرون حملوں میں چند فوجی زخمی ہوئے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ روسی میڈیا کے مطابق حملے سے قبل امریکی اہلکاروں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا اور جانی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

    ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بوشہر کے فضائی علاقے میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔ 

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے خلاف ضابطہ گزرنے کی کوشش کرنے والے 4 ٹینکر جہازوں کو میزائل اور ڈرون کے مشترکہ آپریشن کے ذریعے روک دیا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو تیل بردار جہاز بارودی راستے سے گزرنے کے دوران دھماکوں سے تباہ ہو گئے۔

  • ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے روس متحرک ہو گیا

    ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے روس متحرک ہو گیا

    بغداد (18 جولائی 2026): ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے روس متحرک ہو گیا ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران اور عرب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔

    روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کے روز عراق اور عرب لیگ کی شمولیت سے خطے میں مذاکرات کی ایک نئی سفارتی پہل کی تجدید کا اعلان کیا، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا ’’روس نے عراق اور عرب لیگ کی شرکت کے ساتھ خطے میں مذاکرات کی اپنی پہل کی تجدید کر دی ہے۔‘‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’’روس نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی حمایت کی تھی، تاہم اس سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ لاوروف نے زور دیتے ہوئے کہا دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی اور میزائل حملے کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جن کی قیمت خلیجی ممالک بھی ادا کر رہے ہیں۔

    ایران نے اقوام متحدہ کو پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، رہائشی علاقوں پر امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں
    انھوں نے نشان دہی کی کہ خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی معیشت اور سلامتی کے لیے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ لاوروف نے مزید کہا ’’روس، اردن، عراق اور عرب لیگ کی شمولیت سے خطے میں مذاکرات کا عمل شروع کروانا چاہ رہا ہے، جسے چین، مصر اور پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔‘‘

    سرگئی لاوروف نے کہا کہ بات چیت کے عمل میں پاکستان، چین اور مصرکا تعاون شامل ہوگا، جب کہ ایران عرب ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایران نے بھی چین، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کی تصدیق کی ہے۔

    انوں نے کہا روس پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور ایران کے خلاف ایک وسیع محاذ قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

  • ہرمز کے بعد باب المندب بند ہونے سے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ، عالمی ماہرین نے خبردار کردیا

    ہرمز کے بعد باب المندب بند ہونے سے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات ، عالمی ماہرین نے خبردار کردیا

    تہران: عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہوا تو دنیا کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش سے عالمی تجارت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے باب المندب بند کیے جانے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

    ایرانی حکام کے مطابق باب المندب کی بندش یا نہ بندش کا فیصلہ حوثی خود کریں گے اور اس حوالے سے ایران نے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

    تاہم ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر شہری آبادی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا اسی انداز میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی متاثر ہوتی ہے تو عالمی تجارتی راستے شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے، جس سے تیل اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونے کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدہ صورتحال میں خطے کے اندر ایران اور اس کے غیر ریاستی اتحادیوں کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

  • ’’دھماکا خیز مواد تھانے نہ لائیں‘‘ کینیڈین پولیس کی عوام سے حیران کن اپیل

    ’’دھماکا خیز مواد تھانے نہ لائیں‘‘ کینیڈین پولیس کی عوام سے حیران کن اپیل

    اونٹاریو (17 جولائی 2026): کینیڈین پولیس نے شہریوں سے حیران کن اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی دھماکا خیز مواد تھانے نہ لائے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اونٹاریو پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں کہیں بھی اور کسی بھی قسم کا دھماکا خیز مواد یا پرانا فوجی اسلحہ ملے تو اسے خود اٹھا کر پولیس اسٹیشن نہ لائیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت اس وقت جاری کی گئیں، جب ایک شہری نے دوسری جنگِ عظیم کا ایک بغیر پھٹا دستی بم اوٹاوا میں اونٹاریو پروونشل پولیس کے ڈٹیچمنٹ میں جمع کرایا۔

    اس کے بعد حکام میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق تشویش پھیل گئی اور او پی پی کے مشرقی ریجن کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کرنا پڑا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس طرح کی اشیا کو خود منتقل کرنا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے لانے والے شخص سمیت آس پاس موجود افراد کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

    پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کہیں دھماکا خیز مواد یا مشتبہ فوجی سامان ملے تو اسے ہاتھ لگانے کے بجائے وہیں چھوڑ دیں اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

    پولیس بم ڈسپوزل اسکواڈ کو موقع پر بھیجے گی جو محفوظ طریقے سے اس مواد کو ناکارہ بنائے گی یا تلف کر دے گی۔

  • برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان: اینڈی برنہم کیئراسٹارمر کی جگہ نئے وزیراعظم ہوں گے

    برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان: اینڈی برنہم کیئراسٹارمر کی جگہ نئے وزیراعظم ہوں گے

    لندن(17 جولائی 2026): برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اینڈی برنہم بلامقابلہ پارٹی کے نئے لیڈر منتخب ہو گئے ہیں اور وہ کیئراسٹارمر کی جگہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر اس بات کا باقاعدہ اعلان کیا کہ اینڈی برنہم بلامقابلہ پارٹی کے نئے لیڈر منتخب ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے اینڈی برنہم واحد اہل نامزد امیدوار کے طور پر سامنے آئے، جنہیں 379 نامزدگیاں ملیں اور مطلوبہ حد پوری کرنے کے بعد وہ اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر پائے۔ انہیں الحاق شدہ تجارتی یونینز اور سماجی تنظیموں کی جانب سے تمام 11 ٹریڈ یونینز سمیت مجموعی طور پر 23 نامزدگیاں حاصل ہوئیں۔

    اپنے انتخاب کے بعد پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے اسے ایک انتہائی یادگار لمحہ قرار دیا اور شاندار تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبر ارکانِ پارلیمنٹ نے فراموش کردہ علاقوں کے عوام کی پکار سن لی ہے، جو دراصل اسی پرانی لیبر پارٹی کی واپسی کا مطالبہ ہے جسے وہ جانتے تھے۔

    انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ان پسماندہ علاقوں کی تقدیر بدلیں گے جو طویل عرصے سے سیاست میں امید کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کو شاندار کامیابی دلانے پر سابق سربراہ کیئراسٹارمر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ اسٹارمر کی قیادت میں پارٹی بدترین شکست سے نکل کر سب سے بڑی تاریخی فتح تک پہنچی، انہوں نے عالمی سطح پر برطانیہ کا وقار بحال کیا اور این ایچ ایس میں مریضوں کے انتظار کا وقت کم کرنا ان کا بڑا کارنامہ ہے۔

    ہلزبرو قانون کی حتمی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 سال قبل انہوں نے کیئراسٹارمر کے ساتھ مل کر اس کا دوسرا ڈرافٹ تیار کیا تھا اور پارلیمنٹ سے اس بل کی منظوری ایک یادگار لمحہ ہے۔

    انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر 2009 میں لیورپول کے اینفیلڈ اسٹیڈیم سے شروع ہوا، جہاں انہیں احساس ہوا کہ موجودہ نظام محنت کشوں کے لیے کام نہیں کر رہا اور سیاسی طاقت کا استعمال صرف مفاد پرست طبقے کے لیے کیا گیا جس سے لیبر پارٹی کو بنانے والے خطے پسماندگی کا شکار رہے۔

    نومنتخب لیبر لیڈر نے اعتراف کیا کہ سیاستدانوں کی موجودہ نسل مخصوص سیاسی کلچر اور معاشی ماڈل کو چیلنج کرنے میں ناکام رہی جو عام آدمی کے لیے بہتر ثابت نہیں ہو سکا۔

    انہوں نے پارٹی کو آگے لے جانے کے لیے 5 اہم اقدامات کا خاکہ پیش کرنے کا اعلان کیا، جس میں پہلا قدم پارٹی کے اندر ’ون لیبر ٹیم‘ کا کلچر پیدا کرنا اور تمام مکاتبِ فکر کا احترام کرتے ہوئے اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک اپنی سینئر کابینہ کے نام طے نہیں کیے، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اس میں پارٹی کے تمام دھڑوں کی بھرپور نمائندگی ہوگی۔

    اینڈی برنہم کا کہنا تھا کہ ان کا دوسرا بڑا مقصد ملک میں ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھنا ہے کیونکہ برطانیہ کے عوام موجودہ سیاسی نظام سے شدید بیزار اور لاتعلق ہو چکے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سوشل کیئر جیسے نظرانداز کیے گئے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ممکن ہوا دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے، لیکن پارٹی کا رخ خالصتاً لیبر کے اصولوں اور نظریات پر مبنی ہوگا۔

    تاریخی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے 1980 کی دہائی میں کئی غلط فیصلے کیے، جن کے تحت سیاسی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کیا گیا اور ہاؤسنگ، پانی، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی شعبوں کا کنٹرول نجی شعبے کو دے دیا گیا، جس کے نتیجے میں ملکی دولت مخصوص لوگوں تک محدود ہو گئی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ایک خطے کے نہیں بلکہ شمال، جنوب، مشرق، مغرب سمیت اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ یعنی پورے ملک کے لیڈر بنیں گے۔

    انہوں نے عزم کیا کہ وہ اختیارات کو ویسٹ منسٹر اور وائٹ ہال سے نکال کر ان علاقوں میں منتقل کریں گے جہاں عوام رہتے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو ترقی کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر نہ جانا پڑے۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ کاروبار دوست پالیسیوں کے حامی ہیں اور صنعتی بحالی و تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اختیارات کا بھرپور استعمال کریں گے۔ ان کا اصل منصوبہ ملک میں امید کو واپس لانا ہے اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اتر کر دکھائیں گے۔

  • کوئٹہ : شعبان سے اغوا کیے گئے 4 افراد کی لاشیں برآمد ، اے ایس ایف انسپکٹر اور پولیس کانسٹیبل بھی شامل

    کوئٹہ : شعبان سے اغوا کیے گئے 4 افراد کی لاشیں برآمد ، اے ایس ایف انسپکٹر اور پولیس کانسٹیبل بھی شامل

    کوئٹہ: شعبان سے اغوا کیے گئے 4 افراد کی لاشیں برآمد کرلی گئیں ، جس میں اے ایس ایف انسپکٹر اور پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے شعبان سے اغوا کیے گئے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ جاں بحق افراد کو گزشتہ دنوں نامعلوم دہشت گردوں نے مختلف مقامات سے اغوا کیا تھا، مرنے والوں میں ایئرپورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے انسپکٹر زبیر احمد، سابق کارپورل خلیل الرحمان، ایک نجی اسپتال کے سکیورٹی ملازم محمد صادق اور پولیس کانسٹیبل فریداللہ شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ انسپکٹر زبیر احمد اور ان کے دوست خلیل الرحمان کو 21 جون کو اغوا کیا گیا تھا، جبکہ پولیس کانسٹیبل فریداللہ، جو ضلع زیارت کا رہائشی تھا، 25 جون کو ڈیوٹی پر جاتے ہوئے لاپتا ہوا تھا۔

    پولیس کے مطابق چاروں افراد کی لاشیں شعبان کے علاقے میں واقع ایک ریسٹ ہاؤس سے برآمد کی گئیں، جنہیں ضروری کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔