پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے پرچے ’لیک‘ ہونے پر تحقیقات کا حکم: ’معاملہ بظاہر چوری کا ہے‘

Written by

in

پاکستان کی وزارت داخلہ نے کیمبرج کے اے لیول کے امتحانی پرچے مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سیکریٹری داخلہ کی موجودگی میں ایک اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ’برطانوی نائب ہائی کمشنر نے شرکا کو بتایا کہ معاملہ بظاہر لیک کے بجائے چوری کا ہے۔‘

خیال رہے کہ 13 مئی کو کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 15 مئی کے امتحان کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے نمائندگان نے پاکستانی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر باضابطہ معلومات جلد از جلد شیئر کی جائیں گی۔

سیکریٹری داخلہ نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور معاملے کے فوری حل کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے این سی سی آئی اے کے سربراہ کو ہدایت کی کہ ’کیمبرج کے ساتھ مل کر مکمل تحقیقات کی جائیں۔‘

اعلامیے کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کیمبرج ’امتحانی نظام میں موجود خامیوں اور خلا کو دور کرنے کے لیے اپنی نظامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔‘

اس سے قبل بدھ کو جاری کردہ پیغام میں کیمبرج نے کہا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709)، جو 12 مئی کو ہمارے انتظامی زونز 3 اور 4 میں لیا گیا، اسے سخت ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبل از وقت شیئر کر دیا گیا تھا۔

’ہم ایسے واقعات کی فوری اور تفصیلی تحقیقات کرتے ہیں اور اب ہم یہ جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ یہ پرچہ کس حد تک لیک ہوا اور آئندہ کے اقدامات کیا ہونے چاہییں۔‘

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *