اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس 1 لاکھ 84 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند

Written by

in

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو بھی خریداری کا بھرپور رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند ہوا۔

مارکیٹ کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا اور انڈیکس مختصر وقت کے لیے گزشتہ اختتامی سطح ایک لاکھ 80 ہزار 301.70 پوائنٹس سے نیچے آ گیا، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث مارکیٹ نے جلد ہی سنبھل کر تیزی اختیار کر لی۔

دوپہر تک محدود اتار چڑھاؤ کے بعد آخری ایک گھنٹے میں خریداری میں نمایاں تیزی آئی، جس سے انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا اور کاروبار کے اختتام تک اپنی یومیہ بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3 ہزار 748.40 پوائنٹس، یا 2.08 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 84 ہزار 50.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد حوصلہ افزا معاشی اشاریوں کی بدولت مضبوط رہا۔ جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح مئی کے 11.66 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 11.07 فیصد پر آ گئی، جس سے آئندہ مہینوں میں مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کی توقعات کو تقویت ملی۔

ادارے کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھایا، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل تقریباً 68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے پاکستان کے درآمدی بل اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی توقعات پیدا ہوئیں۔ مارکیٹ میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری اور مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث بینچ مارک انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز پیش رفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار یو بی ایل، میزان بینک، ایچ بی ایل، ایم سی بی بینک اور بینک الفلاح کے حصص نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2 ہزار 429 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

دوسری جانب، پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں سالانہ بنیاد پر ملک میں امہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادھر کے ایس ای 100 انڈیکس مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 44 فیصد بڑھ گیا، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور حصص بازار میں مسلسل تیزی رہی۔

مالی سال کے آخری کاروباری روز انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار 301 پوائنٹس پر بند ہوا، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر ایک لاکھ 25 ہزار 627 پوائنٹس کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ تھا۔

بین الاقوامی سطح پر ایشیائی شیئر مارکیٹوں نے بدھ کو نئے سہ ماہی کا آغاز محتاط انداز میں کیا۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نئی رکاوٹوں کا پیدا ہونا ہے جبکہ دوسری جانب سرمایہ کار جاپانی ین کی 40 سالہ کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

تہران نے منگل کو کہا کہ وہ خطے میں آنے والے امریکی ایلچیوں سے ملاقات نہیں کرے گا کیونکہ دونوں فریقین اس فریم ورک پر اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ہے۔

امریکی ٹریژری یلڈز میں راتوں رات اضافے کے بعد بانڈ مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ جمعرات کو آنے والے اہم روزگار کے اعدادوشمار سے قبل فیوچرز مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اس لیے سب کی نظریں فیڈ چیئر کیون وارش پر ہوں گی جو آج سیشن کے دوران یورپی سینٹرل بینک کی کانفرنس سے خطاب کریں گے تاکہ مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کے حوالے سے کوئی رہنمائی مل سکے۔

تاجروں کے لیے بدقسمتی یہ ہے کہ وارش طویل عرصے سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل کی پالیسی کے بارے میں پیشگی رہنمائی فراہم کرنے کے مخالف رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کے ارادوں کو خفیہ ہی رکھیں۔

فیوچرز مارکیٹ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والی فیڈ کی اگلی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کا امکان 33 فیصد ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کے امکانات کا تخمینہ تقریباً 70 فیصد لگایا گیا ہے۔

دریں اثنا ایکویٹی سرمایہ کار اس امید پر ہیں کہ آنے والا کارپوریٹ آمدنی کا سیزن اتنا شاندار ہوگا کہ وہ شرح سود کے خطرے کو بے اثر کردے گا جس کے باعث وہ بدستور ٹیکنالوجی کے پسندیدہ اسٹاکس میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جاپان کے نکی انڈیکس میں مزید 1.0 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ 37 فیصد تک بڑھ چکا تھا۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک اہم سروے کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی کے رجحان نے بڑے مینوفیکچررز کے اعتماد کو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ نئے آرڈرز میں اضافے کے باعث مینوفیکچرنگ کے شعبے نے 2014 کے بعد سے اپنی بہترین سہ ماہی ریکارڈ کی ہے۔

جنوبی کوریا کے مرکزی انڈیکس میں 1.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جو کہ دوسری سہ ماہی میں سیمی کنڈکٹرز کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی مانگ کی بدولت 68 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس مستحکم رہا۔

تمام حصص پر مشتمل انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 94 کروڑ 14 لاکھ 80 ہزار حصص تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 70 کروڑ 36 لاکھ 90 ہزار حصص تھا۔

کاروباری مالیت بھی بڑھ کر 57.09 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 38.81 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 8 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہوا، جبکہ بینک آف پنجاب کے 7 کروڑ 71 لاکھ 10 ہزار اور پی ٹی سی ایل کے 2 کروڑ 87 لاکھ 50 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔

بدھ کو مجموعی طور پر 490 کمپنیوں کے حصص میں لین دین ہوا، جن میں سے 297 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 171 میں کمی جبکہ 22 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *