Category: خبریں

  • سفارتی کشیدگی عروج پر، چین نے جاپان کیلئے 46 فضائی روٹس منسوخ کر دیے

    سفارتی کشیدگی عروج پر، چین نے جاپان کیلئے 46 فضائی روٹس منسوخ کر دیے

    جاپان اور چین کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے جاری سفارتی کشیدگی اب کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں چین نے جاپان کے لیے 46 فضائی روٹس آئندہ 2 ہفتوں کے لیے منسوخ کر دیے ہیں۔ 

    اس اچانک فیصلے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتے تناؤ کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، جس سے جاپان کو سفارتی ہی نہیں بلکہ شدید سیاحتی اور معاشی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ منسوخیاں چین کے مختلف شہروں سے جاپان کے بڑے ایئر پورٹس کے لیے چلنے والی پروازوں پر لاگو کی گئی ہیں۔

    چین کئی برسوں سے جاپان کا سب سے بڑا سیاحتی منبع رہا ہے اور ہر سال لاکھوں چینی سیاح جاپان آتے رہے ہیں، انہی سیاحوں پر جاپان کی ہوٹل انڈسٹری، ریٹیل مارکیٹ، ٹرانسپورٹ اور ڈیوٹی فری کاروبار بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق پروازوں کی یہ منسوخی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خطے میں سیاسی بیانات، سیکیورٹی خدشات اور سفارتی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

    اگرچہ چینی حکام نے باضابطہ طور پر کسی ایک وجہ کا اعلان نہیں کیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔

    اس فیصلے کے فوری اثرات جاپان کی سیاحت پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں، ٹریول ایجنسیوں کو بکنگ کی منسوخی، ریفنڈز اور شیڈول میں بڑی تبدیلیوں کا سامنا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں جاپانی معیشت پر اس کے اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتِ حال طویل ہو گئی تو جاپان کے لیے ناصرف سیاحتی شعبہ بلکہ علاقائی سفارتی توازن بھی ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ چین اور جاپان کے تعلقات پورے ایشیائی خطے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

  • ملک بھر میں شدید بارشیں،4 مزدور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں جاں بحق

    ملک بھر میں شدید بارشیں،4 مزدور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں جاں بحق

    ملک کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 4 مزدور جاں بحق اور متعدد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    خیبر کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں میں گاڑیاں بہہ گئیں، تاہم خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق بعض افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    دریائے چناب میں حافظ آباد کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دوسری جانب لیہ میں دریائے سندھ کے کٹاؤ کے باعث فصلوں، مکانات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

    خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات، دکانوں، سڑکوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ وادی نیلم اور مانسہرہ کے بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے۔

    حکام نے حساس علاقوں میں شہریوں اور سیاحوں کو دریاؤں اور ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    گلگت بلتستان کے علاقے نگر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 4 مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مزدور شامل ہیں۔

    ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور انتظامیہ نے مزید ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

  • کام بند کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت کا چینی تعاون سے چلنے والے تانبے اور سونے کے منصوبے کو مزید سیکیورٹی دینے کا عزم

    کام بند کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت کا چینی تعاون سے چلنے والے تانبے اور سونے کے منصوبے کو مزید سیکیورٹی دینے کا عزم

    ایک سینئر وزیر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پاکستان نے چین کے زیرِ نگرانی چلنے والے تانبے اور سونے کے اپنے سب سے بڑے فعال منصوبے کے لیے اضافی سیکیورٹی فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    یہ اقدام آپریٹر کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اسے ایک ماہ کے اندر پیداوار روکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔صوبہ بلوچستان میں سیندک منصوبے کے پیچھے کام کرنے والے مشترکہ مائننگ وینچر سیندک میٹلز لمیٹڈ کی جانب سے دی گئی یہ وارننگ پاکستان کے معدنیات سے مالا مال جنوب مغربی خطے میں چینی سرمایہ کاری کو درپیش بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردانہ حملوں میں شدت آئی ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ چینی منصوبے کی تمام تنصیبات، عملے، لاجسٹک اور نقل و حمل (ٹرانسپورٹیشن) کے لیے سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کو مزید سخت کریں۔

    طلال چوہدری نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ کو جولائی کے اوائل میں مائن آپریٹر کے خدشات موصول ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی کمپنیوں کے منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ منصوبے کی جگہ پر بھیجے جانے والے لاجسٹک اور کارگو کے سامان کو اضافی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل صوبہ بلوچستان میں چین کے تعاون سے چلنے والے متعدد بڑے منصوبے موجود ہیں، جن میں گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ بھی شامل ہے۔اس سے قبل بدھ کو فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ سیندک کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی وزارتِ توانائی کو متنبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کی وجہ سے سپلائی کے راستے متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث ایک ماہ کے اندر آپریشنز کا جاری رہنا ناممکن ہو سکتا ہے۔سیندک مائن کو چین کی سرکاری کمپنی میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا (ایم سی سی ) ایک معاہدے کے تحت چلاتی ہے، جس کی مدت میں 2022 میں توسیع کی گئی تھی اور اس منصوبے کی زیادہ تر پیداوار چین کو برآمد کی جاتی ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس مخصوص صورتحال سے لاعلم ہیں ،تاہم انہوں نے اسلام آباد کے ساتھ بیجنگ کے قریبی تعلقات کا اعادہ کیا۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان سچے دوست اور ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔بلوچستان میں پھیلی بدامنی نے سیندک سے محض 50 کلومیٹر (31 میل) دور واقع بیرک گولڈ کے 9 ارب ڈالر مالیت کے ریکوڈک سونے اور تانبے کے منصوبے کے مستقبل کو بھی دھندلا دیا ہے۔

    واضح رہے کہ 9 جولائی کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ بلوچستان میں چار روز کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جس کے بعد زیارت، خاران اور دالبندین میں سیکیورٹی آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں 5 جولائی سے اب تک 42 عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

  • پاکستان اور کویت کے درمیان وسیع تر دفاعی معاہدے پر مذاکرات

    پاکستان اور کویت کے درمیان وسیع تر دفاعی معاہدے پر مذاکرات

    ذرائع کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے بدلے کویت کے ساتھ وسیع تر دفاعی معاہدے کے لیے ابتدائی مراحل میں ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں یہ خدشات موجود ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ سال کا مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو امریکہ ایران تنازع میں گھسیٹ سکتا ہے۔ پیر کو حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد پاکستان نے ایران کو واضح کیا تھا کہ وہ مملکت پر حملے کو خود پر حملہ تصور کرے گا۔ اب کویت کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے مستقبل میں امریکہ ایران ثالثی میں پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھیں گے۔

    کویت کا پاکستان کے ساتھ 2023 سے محدود تربیتی معاہدہ ہے، مگر اب وہ سعودی طرز پر ہزاروں پاکستانی فوجیوں، لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی تعیناتی چاہتا ہے۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جنگی دستوں کی تعیناتی پر غور نہیں کیا جا رہا۔ خلیجی ممالک اب امریکہ پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک محفوظ متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ پاکستان ایک بڑی مسلم فوج رکھتا ہے اور اس کے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب بھی ایک علیحدہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر رہے ہیں، جبکہ بحرین اور اردن نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔پاکستان ان دفاعی سودوں کو اپنی معاشی اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ کویت کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے تحت پاکستان ایندھن کے ذخائر (بانڈڈ فیول اسٹوریج) بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، جو ڈیزل کی سپلائی کے موجودہ سرکاری معاہدے کو وسعت دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کشیدگی کم ہوتے ہی مذاکرات تیز ہوں گے، مگر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے محقق محمد فیصل نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی بساط سے بڑھ کر وعدے کرنے کے خطرات سے باخبر رہنا ہوگا۔

  • ایف آئی اے نے 12 نوجوانوں کے ایران میں لاپتا ہونے کی تحقیقات شروع کردیں

    ایف آئی اے نے 12 نوجوانوں کے ایران میں لاپتا ہونے کی تحقیقات شروع کردیں

    لاہور: ایف آئی اے نے 12 نوجوانوں کے ایران میں لاپتا ہونے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل لاہور نے مقدمہ درج کرکے خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کی جارہی ہیں۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ بیرون ملک متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا جائے گا، نوجوانوں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ لاپتہ 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے جلو موڑ کے قریب پسین گاؤں سے ہے اور ان میں تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی شامل ہیں۔

    یہ پڑھیں: ڈنکی لگانے کے لیے 12 پاکستانی نوجوانوں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی

    لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ عامر نامی ایجنٹ لاکھوں روپے لے کر نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ انہوں نے ایران پہنچ کر آخری بار رابطہ کیا تھا، جس کے بعد سے نوجوانوں کا اپنے خاندانوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

    اہلخانہ نے بتایا تھا کہ لاپتہ نوجوان وقاص کے نمبر سے اب رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایجنٹ نے 3 نوجوانوں کی انتہائی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی خاندان کو بھیجی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے نوجوانوں کو گلے میں لوہے کی زنجیریں ڈال کر باندھ رکھا ہے اور وہ رو رو کر اپنے گھر والوں سے فوری رقم بھیجنے کی استدعا کر رہے ہیں۔

  • بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار

    بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار

    بنوں (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور پاک فوج نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک مبینہ دہشت گرد کو ہلاک جبکہ آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ کارروائی بنوں کے علاقے گاؤں گریڈہ شاہ جہاں میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں کیپٹن (ر) محمد فرقان بلال کی نگرانی میں کی گئی، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس، ایلیٹ فورس، سی ٹی ڈی اور پاک فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

    حکام کے مطابق آپریشن سے قبل علاقے کی مکمل نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کے دوران پاک فوج نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے اہم مقامات پر بلاکنگ پوزیشنز قائم کیں تاکہ ممکنہ فرار کے راستوں کو بند کیا جا سکے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوا، جس کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے مبینہ دہشت گرد کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، متعدد میگزین اور ایک بینڈولیئر برآمد کیا گیا۔

    بیان کے مطابق آپریشن کے دوران مزید آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جنہیں ابتدائی تفتیش اور مزید تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی اور ڈسٹرکٹ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران مطلوب مبینہ دہشت گرد کمانڈر زرگل عرف انکل کے گھر سے دو ہونڈا سی ڈی 125 موٹر سائیکلیں اور ایک رکشہ بھی برآمد کیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے مشترکہ تکنیکی تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے ممکنہ روابط، سہولت کاری اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    بنوں پولیس نے کہا ہے کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع، خصوصاً بنوں، شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

  • وانا: پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بڑے خودکش دھماکے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، 1 دہشت گرد ہلاک

    وانا: پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بڑے خودکش دھماکے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، 1 دہشت گرد ہلاک

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک مشتبہ خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق خودکش دھماکے کا یہ مبینہ منصوبہ جنوبی وزیرستان ضلع میں بنایا گیا تھا۔

    ہفتے کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے اس سازش کوناکام بنا دیا۔ جس کےنتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

    تفصیلات میں بتایا گیا ہے خودکش حملے کو جنوبی وزیرستان کے قصبے وانا میں ناکام بنایا گیا۔ یہ قصبہ افغان سرحد کے متصل ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخوا حالیہ کئی برسوں سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ اس سلسلے میں ٹی ٹی پی کو سہولت و سرپرستی کرنے کا الزام پاکستان کی طرف سے طالبان حکومت پر لگایا جاتا ہے۔

    خودکش حملے اس علاقے میں مسلسل دہشت گردی کا ذریعہ رہے ہیں۔ اسی ہفتے ایک خودکش حملہ بنوں میں پولیس سٹیشن پر کیا گیا ہے۔ جس میں 5 اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

    تاہم اب وانا میں خودکش حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اس دھماکے کے لیے ایک بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرایا جانا تھا ۔ یہ بات پی ٹی وی نے ہفتے کے روز سیکیورٹی ذرائع سے رپورٹ کی ہے۔ یوں بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ سویلین آبادی کو ہدف بنائے جانے کی سازش تیار کی گئی تھی مگر انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر سیکیورٹی حکام نے کارروائی کر دی۔ کسی سیکیورٹی اہلکار کے زخمی ہونے کا رپورٹ میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں شدید خلل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 2.75 ڈالرز یعنی 3.12 فیصد اضافے کے ساتھ 90.85 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی۔اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 2.56 ڈالرز یعنی 3.10 فیصد بڑھ کر 85.05 ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث سپلائی کے خدشات، بحری انشورنس اخراجات اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتِ حال مزید بڑھ سکتی ہے۔

  • ایرانی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کا امکان

    ایرانی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کا امکان

    ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ آئندہ 36 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے دورے کا امکان ہے اور اس دوران حکام سےملاقاتوں میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت اور مؤثر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات متوقع ہیں۔ 

    ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، خصوصاً پاک۔ایران سرحد کے انتظام، سرحدی سلامتی، غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام اور دوطرفہ تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  پر پیش رفت اور اس پر مؤثر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا دونوں فریق سرحدی تعاون، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر بھی مشاورت کریں گے۔

    خیال رہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں متوقع ہے جب پاکستان اور ایران مشترکہ سرحد کے مؤثر انتظام سرحدی سیکیورٹی کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ 

    ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک داخلی سلامتی اور علاقائی استحکام سے متعلق تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔

  • پاکستان کی نئی حکومت کو معیشت، سکیورٹی اور سیاسی چیلینجز کا سامنا ہو گا: ماہرین

    پاکستان کی نئی حکومت کو معیشت، سکیورٹی اور سیاسی چیلینجز کا سامنا ہو گا: ماہرین

    پاکستان میں عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے لیے سیاسی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ممکنہ مخلوط حکومت کو معیشت، سکیورٹی اور سیاسی معاملات کے علاوہ پی آئی اے کی نجکاری اور ایف بی آر اصلاحات کئی کے چیلینجز کا سامنا ہو گا۔

    حالیہ انتخابات کے بعد اگرچہ کوئی ایک جماعت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اکیلے حکومت بنا سکے لیکن حکومت میں آنے کی خواہش ہر جماعت کی ہے تاہم یہ حکومت معاشی سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز سے بھرپور ہو گی جس کی ذمہ داری نئی حکومت کے کندھوں پر ہو گی۔

    کامیاب ہونے والے امیدواروں میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انتخابات سے اگلے روز اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ہمارا فرض ہے کہ اس ملک کو بھنور سے نکالنے کی تدبیر کریں۔

    ’سب کو دعوت دیتے ہیں کہ اس زخمی پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ ملک میں استحکام کے لیے کم از کم دس سال چاہئیں، پاکستان اس وقت کسی لڑائی کا متحمل نہیں ہوسکتا سب کومل کر بیٹھنا ہوگا، معاملات طے کرنے ہوں گے۔‘

    جبکہ گذشتہ ماہ انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ’پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے، حکومت میں آئے عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔‘

    انہوں نے کہا تھا کہ ’میں ملک میں بھوک مٹاؤ پروگرام لانا چاہتا ہوں، غریب بچوں کے لیے مفت معیاری تعلیم چاہتا ہوں۔‘

    انتخابات کے بعد نئی حکومت کتنے دن میں بنے گی؟

    اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 91 شق دو میں درج ہے کہ انتخابات کے دن کے 21ویں روز بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوگا، یا صدر پاکستان اس سے پہلے بھی اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔

    آٹھ فروری انتخابات کے بعد 21 روز 29 فروری کو پورے ہوں گے اس لیے ممکنہ طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری بروز جمعرات ہو سکتا ہے۔

    شق تین کے مطابق اسمبلی کے پہلے روز سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

    شق چار کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب الیکٹورل کالج سے ہوگا یعنی اراکان پارلیمنٹ اپنے ووٹوں سے وزیراعظم پاکستان کا چناؤ کریں گے۔

    انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کو نومنتخب حکومت کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے مختلف شعبہ زندگی کے تجزیہ کاروں سے بات چیت کی ہے۔