لاہور وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو پنجاب کی وزیر اعلیٰ سے معافی کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنے صوبے کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔پختونوں کی توہین اس وقت ہوتی ہے جب انہیں صحت کی سہولیات نہیں ملتیں، ان کے بچوں کو اسکول میسر نہیں ہوتے، ہونہار اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ نہیں ملتے اور سڑکیں نہیں بنتیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگ دریاؤں کو عبور کرنے کے لیے ڈولیوں کا سفر کرتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی پولیس دہشتگردی کے خلاف لڑرہی ہے اور انسداد دہشتگردی کے ادارے کو مناسب سہولیات اور توجہ نہیں مل رہی۔خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور بالخصوص وزیر اعلیٰ مریم نواز پنجاب صوبائیت پر یقین نہیں رکھتیں اور خیبر پختونخوا میں بھی امن اور سکون چاہتی ہیں۔پنجاب میں جس طرح دہشت گردوں کے خفیہ نیٹ ورک ختم کیے گئے، اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور خفیہ مراکز کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب بچوں کو لیپ ٹاپ دینے اور اسکالرشپس کے معاملے میں اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ارب روپے کی رقم دے کر انہیں آلات سے لیس کرنے میں مدد کی گئی۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ خیبر پختونخوا میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہاں کی حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ بات کی ہے کہ تمام صوبوں کو بھی پنجاب کی طرح اپنے اداروں کو منظم کرنا چاہیے تاکہ بیرونی طور پر سرپرستی حاصل کرنے والے فتنے کسی بھی صوبے میں داخل ہو کر امن و امان خراب نہ کر سکیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، وہ دیگر صوبوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار باتوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے کئی مرتبہ کرچکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ملک انتشار کی سیاست کا متعحمل نہیں ہوسکتا، معرکہ حق میں پاکستان کو عظیم کامیابی ملی، ہماری بہادر افواج نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ ہے۔