Category: کاروبار و مالیات

  • کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 649 ملین ڈالرز، برآمدات میں اضافہ ناگزیر

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 649 ملین ڈالرز، برآمدات میں اضافہ ناگزیر

    جون 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 649 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جس نے ماہرین،سرمایہ کاروں، بینکاروں اور پالیسی سازوں میں خدشات کو بڑھادیاہے۔

    اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ کسی بھی ملک میں ڈالر کی آمد اور اخراج کا توازن ظاہرکرتاہے،جس میں اشیا وخدمات کی برآمدات و درآمدات، آئی ٹی برآمدات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر شامل ہوتی ہیں۔

    خسارے کی صورت میں اس فرق کو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ، بیرونی قرضوں،گرانٹس اوردیگرمالی ذرائع سے پوراکرنا پڑتاہے۔

    ماہرین کاکہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی 2017-18 اور 2021-22 کے دوران بڑھتے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے کی قدرمیں نمایاں کمی، درآمدی پابندیوں، مہنگائی میں اضافے اور بلند شرح سودجیسے مسائل کا سامنا کرچکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات تقریباً جمودکاشکار رہیں،جبکہ درآمدات میں تقریباً ایک ارب ڈالرکا اضافہ ہوا۔

    توانائی کی عالمی قیمتوں، ایل این جی،کوئلے،کیمیکلز اورفریٹ چارجز میں اضافے نے بھی درآمدی بل کو مزید بڑھادیاہے۔

    دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوااور یہ تقریباً 41 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،جس کے باعث ملکی معیشت کو بڑاسہارا ملا، تاہم ماہرین کے مطابق اگر ترسیلات زر میں یہ اضافہ نہ ہوتا تو بیرونی شعبے پر دباؤکہیں زیادہ شدیدہوسکتا تھا۔

    اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ حالیہ بجٹ میں برآمدکنندگان پر سپر ٹیکس کے خاتمے،خام مال اوردرمیانی درجے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی اورکم از کم ٹیکس کو 1۔25 فیصد تک لانے جیسے اقدامات مثبت ہیں، لیکن پائیدار ترقی کیلیے جامع اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے حکومت پر زوردیاکہ برآمدات میں سالانہ 15 فیصد اضافے کاواضح ہدف مقرر کیا جائے، نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے، زرعی ٹیکنالوجی و پیداوار میں بہتری لائی جائے اور ٹیکنالوجی پر مبنی اعلیٰ معیارکی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیاجائے۔

    ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوارکے 2فیصدسے کم رکھاجائے تو یہ معیشت کیلیے قابلِ برداشت ہوگا، تاہم مستقبل میں سیاسی دباؤ،سرکاری اخراجات میں اضافے اوردرآمدی طلب بڑھنے کی صورت میں خسارہ دوبارہ وسیع ہونے کاخدشہ موجودہے۔

    تجزیہ کاروں نے زوردیاہے کہ حکومت کو ملک کے بڑے برآمدکنندگان کے ساتھ باقاعدہ ماہانہ یا دو ہفتہ وار اجلاس منعقدکرنے چاہییں، تاکہ برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو فوری دورکیاجاسکے۔

  • پاکستانی فری لانسرز نے ایک سال میں 1.76 ارب ڈالر کما کر ایک تاریخ رقم کردی

    پاکستانی فری لانسرز نے ایک سال میں 1.76 ارب ڈالر کما کر ایک تاریخ رقم کردی

    پاکستان فری لانسرز نے کہا ہے ایک مالی سال کے دوران 1.76 ارب ڈالر کما کر تاریخ رقم کرد، پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا ہے کہ فری لانسرز نے حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی محنت لگن اور کاوشوں سے ملک کے لیے قمیتی زرمبادلہ کمایا۔

    انہوں نے اسٹیٹ بینک  کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال 26-2025ء کے دوران فری لانسر نے ملک کے لیے 1.76 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جو مالی سال  2024-25ء میں 984 ملین ڈالر تھا اس طرح صرف ایک سال میں فری لانسرز نے اپنی کاوشوں سے زرمبادلہ آمدن میں 78 فیصد اضافہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ فری لانسرز کے کمائے ہوئے زرمبادلہ نے ملکی میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، فری لانسرز قیمتی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرہے ہیں۔ پاکستان کی فری لانسنگ کمیونٹی اقتصادی ترقی کے ایک اہم محرک بن گئی ہے جس کی برآمدی آمدنی کئی روایتی شعبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 

    پیفلا کے صدر اور سی ای او ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ فری لانسنگ ملک سے بے روزگاری اور غربت کو کم کرنے کے ساتھ قیمتی زرمبادلہ آمدنی کو بڑھانے میں معاون ثابت ہورہی ہے، پاکستانی نوجوانوں کو فری لانسنگ میں اپنا مقام برقرار رکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے نئی ڈیجیٹل مہارتوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن نے ہزاروں مزید نوجوانوں کو مفت ڈیجیٹل اسکلز جیسا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا اینالیٹکس سمیت نئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں اس کی تربیت دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ فری لانسرز کو انفرادی طور پر کام کرنے کے بجائے باہم مل کر اسٹارٹ اپس یا رجسٹرڈ کمپنیاں قائم کرنا ہوگی تاکہ وہ ایک جامع اور ون ونڈو خدمات فراہم کرسکیں، انڈسٹری کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز کام کررہے ہیں اور یہی نوجوان پاکستان کو دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ افرادی قوت بناتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈیویڈنڈ انکم پر 35 فیصد ٹیکس وصولی کےلیے ایف بی آر کا موقف مسترد

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ڈیویڈنڈ انکم پر 35 فیصد ٹیکس وصولی کےلیے ایف بی آر کا موقف مسترد

    ٹیکس تنازع پر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دیتے ہوئے ڈیویڈنڈ انکم پر 35 فیصد ٹیکس وصولی کا مؤقف مسترد کردیا، عدالت نے کمپنیوں کے حق میں اور ایف بی آر کے خلاف فیصلہ برقرار رکھا۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے اور ایف بی آر کی تمام سول پٹیشنز خارج کردی جب کہ ایف بی آر کو اپیل کی اجازت بھی نہ مل سکی۔

    یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا اور اسے جسٹس عقیل احمد عباسی نے تحریر کیا۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ڈیویڈنڈ انکم پر صرف سیکشن 5 لاگو ہوگا، سیکشن 39 نہیں، 10 فیصد ٹیکس ہی قانونی اور حتمی ٹیکس ذمہ داری ہے، ایف بی آر کمپنیوں سے 35 فیصد کارپوریٹ ٹیکس وصول کرنا چاہتا تھا جب کہ کمپنیوں کا مؤقف تھا کہ ڈیویڈنڈ انکم پر صرف 10 فیصد حتمی ٹیکس بنتا ہے۔ 

    سپریم کورٹ نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 5 اور سیکشن 39 کی تشریح پر تنازعہ ہوگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی ٹیکس دہندگان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ایف بی آر نے ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے ایف بی آر کا مؤقف قانونی طور پر ناقابل قبول قرار دے دیا اور کہا کہ  ڈیویڈنڈ ایک الگ ٹیکس بلاک ہے، اسے عام آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    عدالت نے 35 فیصد نارمل کارپوریٹ ٹیکس عائد کرنے کی ایف بی آر کی کوشش مسترد کردیں، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی تمام اپیلیں میرٹ سے عاری قرار دے کر خارج کر دیں اور کہا کہ  ڈیویڈنڈ پر مخصوص ٹیکس نظام ہی نافذ العمل رہے گا۔ 

    واضح رہے کہ سعودی پاک انڈسٹریل اینڈ ایگریکلچرل انویسٹمنٹ کمپنی، فوجی فاؤنڈیشن، فوجی فرٹیلائزر، کیپ گیس اور دیگر کمپنیوں نے ایف بی آر کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

  • آئی ٹی برآمدات ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    آئی ٹی برآمدات ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی صنعت نے مالی سال کے دوران برآمدات میں تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے اور بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اسی شعبے کا تجارتی سرپلس 85 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور آئی ٹی کا شعبہ اس وقت ملک کا تیزترین ترقی کرنے والا برآمدی شعبہ بن چکا ہے۔

    وزارت آئی ٹی نے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران حکومت نے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت فراہم کی اور وزارت نے دنیا بھر میں 20 سے زائد بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کا اہتمام کیا، اسی طرح 250 سے زائد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس کو اپنی مصنوعات اور خدمات عالمی منڈی میں متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ 

    مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم کے غیرملکی دوروں میں بھی آئی ٹی صنعت کے نمائندوں کو ساتھ لے جایا گیا، دوروں سے نئی منڈیوں تک رسائی، سرمایہ کاری کے مواقع اور بین الاقوامی کاروباری روابط کو فروغ ملا۔

    وفاقی وزارت نے بتایا کہ حکومت نے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے متعدد مراعات بھی متعارف کرائیں، فائنل ٹیکس رجیم کے تسلسل، برآمدات پر  0.25 فیصد ٹیکس کی سہولت دی گئی۔

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بتایا کہ حکومتی اقدامات سے صنعت کی مسابقتی صلاحیت اور برآمدی استعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

  • سمندری تجارت میں نئے رجحان کی علامت جہاز “گرانڈے شنگھائی”  کراچی پورٹ پر لنگر انداز،

    سمندری تجارت میں نئے رجحان کی علامت جہاز “گرانڈے شنگھائی”  کراچی پورٹ پر لنگر انداز،

    کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہونے والا رول آن/رول آف (RoRo) جہاز “گرانڈے شنگھائی”  سمندری تجارت میں نئے رجحان کی علامت بن گیا۔

    گرینڈے شنگھائی شمسی توانائی استعمال کرنے والے دنیا کے چند بحری جہازوں میں سے ایک ہے، کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہونے والا پہلا بحری جہاز جو پورٹ پر لنگر انداز رہنے کے دوران فضائی آلودگی خارج نہیں کرے گا۔  

    *ایک ہائبرڈ انرجی ویسل ہے*، جو بندرگاہ پر قیام کے دوران 5 میگا واٹ آور (MWh) لیتھیم آئن بیٹریوں کی بدولت صفر اخراج (Zero Emissions) کے ساتھ آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

     جہاز کے عرشے پر 2,500 مربع میٹر رقبہ پر   سولر پینلز  نصب ہیں، جہاز اعلیٰ کارگو گنجائش کو ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ یکجا کرتا ہے 

    کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کہا کہ  کراچی پورٹ پر لنگر انداز گرینڈے شنگھائی  عالمی بحری نقل و حمل کے  زیادہ ماحول دوست، جدید اور مؤثر مستقبل کی علامت ہے۔

  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ، فضائی سفر مزید مہنگا

    پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ، فضائی سفر مزید مہنگا

    ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے کمرشل طیاروں کے ایندھن ’جیٹ فیول‘ کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ کر دیا ہے جس سے فضائی سفر مزید مہنگا ہو جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جیٹ فیول مہنگا ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 53 روپے 58 پیسے اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کے پیش نظر کیا گیا ہے جس سے ملکی سطح پر ہوائی ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • مہنگائی میں مزید اضافہ، ایک ہفتے میں 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں

    مہنگائی میں مزید اضافہ، ایک ہفتے میں 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں

    رواں مالی سال کے دوسرے ہفتے میں مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے میں 27 اشیائے ضروریہ مہنگی، 4 سستی اور 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

    رپورٹ کے مطابق آلو 0.85 اور چکن 14.66فیصد مہنگا ہوا جبکہ پیاز 1.53 اور ٹماٹر کی قیمت میں 22.79 فیصد اضافہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران انڈوں کی قیمتوں میں2.15 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 12.46فیصد، لہسن کی قیمتوں میں 3.72فیصد، پٹرول کی قیمت میں4.40 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں4.41 فیصد اور چائے کی پتی کی قیمتوں میں1.56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.36 فیصد، کیلوں کی قیمتوں میں0.80 فیصد جبکہ دال مونگ 0.70 اور دال مسور 0.10 فیصد سستی ہوئی۔

    ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں1.40 فیصد بڑھ گئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 11.94 فیصد سے بڑھ کر13.09 فیصد پر پہنچ گئی۔ 

  • وزیراعظم کی تاجروں اور سرمایہ کاروں کیلیے کاروبار میں آسانی کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی تاجروں اور سرمایہ کاروں کیلیے کاروبار میں آسانی کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانی کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ملک میں کاروبار کی آسانی  کےلیے اقدامات پر جائزہ اجلاس وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا، جس میں انہوں نے ہدایت کی کہ تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں تیزی لائی جائے۔ 

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی افادیت اور نفاذ کی جانچ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    شہباز شریف نے ہدایات جاری کیں کہ کاروبار میں آسانی کے لیے پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ مرتب کرکے جلد پیش کی جائے۔  انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے قانون و پالیسی سازی پر وزرات قانون و انصاف، ایس آئی ایف سی، سرمایہ کاری بورڈ، وزارت کامرس، وزارت صنعت اور تمام متعلقہ اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

    اس موقع پر اجلاس کو حکومتی اقدامات کے نفاذ پر جائرے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کے لیے مختلف ضوابط اور کاغذی کارروائیوں و منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل ہو چکا جس میں سے 71 پالیسی اقدامات کا نفاذ ہو چکا جبکہ  272 کے نفاذ پر کام تیزی سے جاری ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ 7 مرحلوں میں مختلف شعبوں میں ان کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت کاروباری برادری کو مختلف ضابطوں و شرائط پر خرچ ہونے والی بچت کی رقم کا تخمینہ 468.7 ارب روپے ہے۔ 

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری و پیچیدہ کاغذی کارروائی اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات میں اضافہ، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کی جانچ میں ان کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے نفاذ اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شعبے کے ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

  • پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان فارما کے شعبے میں 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے

    پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان فارما کے شعبے میں 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے

    پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں میں 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے ہیں، ان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔

    یہ معاہدے پاکستان اور چین کی فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس اسلام آباد میں ہوئے جس میں وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ پاکستان میں چین کے سفیر اور ملکی و چینی  فارما سیوٹیکلز کمپنیوں کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی نجی کمپنیوں کے مابین اشتراک سے پاکستان میں فارما سیوٹیکلز کے شعبوں کو ترقی ملے گی، چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست اور اس کی معاشی و تزویراتی ترقی دنیا کےلئے ایک مثال ہے، چینی شہریوں کی سلامتی کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کانفرنس کے انعقاد اور اس میں چینی و پاکستانی سرمایہ کاروں کی شرکت کا خیرمقدم کیا، انہوں نے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے علاوہ وفاقی وزیر صحت، معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار، پاکستان میں چین کے سفیر اور چین میں پاکستان کے سفیر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدے عملی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرمشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، چین نے تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی حمایت کی ، سی پیک ون کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔

    وزیراعظم نے چین کی غیرمتزلزل حمایت پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ وژنری لیڈر ہیں جنہوں نے چینی معاشرے اور معیشت کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

    انہوں نے چینی ترقی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی ترقی  کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ وزیراعظم نے چینی عوام کی تعلیم ، ریسرچ و ڈویلپمنٹ سمیت ہر شعبے میں بے مثال محنت اور کارکردگی کو بھی سراہا۔ 

    وزیرِاعظم نے کہا کہ فارماسیوٹیکلز کی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے آج بڑا موقع ہے، دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین مینوفیکچرنگ، ویکسین کی تیاری اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک سے فارماسیوٹیکلز کے تمام شعبوں میں ترقی ہوگی۔

    وزیراعظم نے خطے میں حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا بھر کے لیے بڑے مسائل پیدا کردیئے ہیں، پاکستان نے امریکا اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار  ادا کیا جس کے لیے چین سمیت دوست و برادر ممالک نے بھرپور تعاون کیا ، صدر شی جن پنگ نے بہت خلوص سے ان کوششوں کی بھرپورحمایت کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے مابین  طے ہونے ہونے والی’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ میں پاکستان ثالث ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی  انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے  کہا کہ تاریخ میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی رہنمائوں سے رابطے کئے۔ 

    وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیراعظم نے چین سے 300وفود کی فارماسیوٹیکلز کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی  ہمارے لئے سب سے اہم ہے، اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا، چینی  شہری ہمارے مہمان ہیں، ان کی خوشی ہماری خوشی ہے۔

    کانفرنس میں پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل سے متعلقہ شعبوں کے حوالے سے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے ہوئے جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور ہیپاٹائٹس سے بچائو سے متعلق معاہدے شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا۔

  • پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ساوتھ ایئر نے فلائٹ آپریشن کا آغاز کر دیا

    پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ساوتھ ایئر نے فلائٹ آپریشن کا آغاز کر دیا

    پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ساوتھ ایئر نے فلائٹ آپریشن کا آغاز کر دیا۔ کمپنی نے کراچی ایئرپورٹ سے اپنی پروازوں کا آغاز کرتے ہوئے آج کراچی، بہاولپور، تربت، اسلام آباد اور کوئٹہ کے درمیان مجموعی طور پر 8 پروازیں آپریٹ کیں۔

    رپورٹ ککے مطابق ساوتھ ایئر نے طویل عرصے بعد بہاولپور اور تربت کا فضائی رابطہ بحال کر دیا، جبکہ کراچی اور اسلام آباد سے بہاولپور کے لیے بھی پروازیں شروع کر دی گئی ہیں۔ آج کراچی، تربت اور کوئٹہ کے درمیان کمپنی کی 4 پروازیں بھی آپریٹ ہوئیں۔ 

    بہاولپور کا ملک سے فضائی رابطہ تین سال بعد بحال ہوا ہے۔ نئی ایئرلائن کی کراچی سے تربت اور کوئٹہ جانے والی پرواز زیڈ 8-911 روانہ ہوئی، جبکہ پرواز زیڈ 8-912 کوئٹہ سے تربت اور پھر شام کو واپس کراچی آئے گی۔ کراچی سے بہاولپور جانے والی پرواز زیڈ 8-942 بھی صبح 7:40 بجے روانہ ہوئی، جبکہ طیارے نے بہاولپور سے اسلام آباد کی پرواز زیڈ 8-970 بھی آپریٹ کی۔

    ساوتھ ایئر پروازوں کے لیے نئے اے ٹی آر طیارے استعمال کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں ان روٹس پر پی آئی اے کی پروازیں آپریٹ ہوتی تھیں، تاہم پی آئی اے کی کراچی، بہاولپور اور اسلام آباد کے درمیان پروازیں 2023 سے بند ہیں۔