Skip to main content

Daily News Point

Loading...
تازہ ترین

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو فروخت کا دباؤ غالب رہا، مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع کے خدشات بڑھنے کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1,000 پوائنٹس کی کمی سے دوچار ہوا۔ ایران نے اپنی تنصیبات پر امریکا کے کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈیکس ابتدا میں 173,500 پوائنٹس کی سطح کے قریب رہا اور دورانِ کاروبار 173,736.19 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم دوپہر کے قریب فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث انڈیکس میں تیزی سے کمی ہوئی اور یہ 171,490 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔

بعد ازاں کاروبار کے آخری گھنٹوں میں مارکیٹ نے بحالی کی کوشش کی اور انڈیکس دوبارہ 173,000 پوائنٹس کی جانب بڑھا مگر ابتدائی خسارہ مکمل طور پر پورا نہ کرسکا۔

کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 993.91 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کمی سے 172,642.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج دباؤ رہا، کیونکہ جاری امریکا۔ایران تنازع اور عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق افراطِ زر، بیرونی کھاتے اور پاکستان کے درآمدی بل پر ممکنہ اثرات کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے حالیہ مارکیٹ گینز کے بعد منافع وصولی کو ترجیح دی۔ انڈیکس پر بھاری وزن رکھنے والے شعبوں میں فروخت کا دباؤ نمایاں رہا، جس کے باعث مجموعی مارکیٹ منفی زون میں رہی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق این بی پی، یوبی ایل، لک، اور پی پی ایل انڈیکس میں کمی کے بڑے محرکات میں شامل رہے اور مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو تقریباً 485 پوائنٹس نیچے لائے۔ دوسری جانب ایم سی بی، پی ایس ای ایل اور اے ٹی آر ایل نے کچھ سہارا فراہم کیا اور مجموعی طور پر تقریباً 199 پوائنٹس کا مثبت حصہ ڈالا۔

پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہی جہاں بڑے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کمزوری کے باعث انڈیکس نیچے آگیا۔ سرمایہ کار محتاط رہے جبکہ کمرشل بینکوں، تیل و گیس اور سیمنٹ کے حصص میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔

گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,692.74 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 173,636.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ین کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ایشیائی مارکیٹیں سمت کے تعین میں مشکلات سے دوچار رہیں کیونکہ خطے کے ملے جلے معاشی اعدادوشمار اور خلیج فارس میں ایران کی تازہ دھمکیوں کے باعث تیل کی قیمتوں اور بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ ہوا۔

جاپان کا نکی 225 انڈیکس اتار چڑھاؤ کے بعد 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ بلند ہوا جبکہ ین کی قدر میں 0.6 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ 153.51 کی سطح پر پہنچ گیا جو 18 فروری کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان سے باہر ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد بڑھا جس کی قیادت کوسپی میں 1.2 فیصد اضافے نے کی۔

پیر کو امریکا میں تعطیل کے بعد ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ہوئی۔

ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار دوبارہ شروع ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھ گئیں، برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 0.04 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 97.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ایران کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کا جواب خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بشمول امریکی تیل و گیس تنصیبات، کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد پیر کو برینٹ کی قیمت چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

دوسری جانب پاکستانی روپیہ منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی طور پر مزید مضبوط ہوا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی 0.03 روپے کے اضافے سے 277.37 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی، جبکہ گزشتہ روز یہ 277.40 روپے پر بند ہوئی تھی۔

آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 679.19 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 722.62 ملین حصص ہوگیا۔

کاروباری حصص کی مالیت بھی 23.69 ارب روپے سے بڑھ کر 27.94 ارب روپے ہوگئی۔سنرجیکو پی کے حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہی، جس کے 103.84 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے 103.04 ملین اور پاک ریفائنری کے 41.09 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔

منگل کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 101 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 359 میں کمی جبکہ 36 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

By admin 1