Category: تعلیم

  • بدلتی پاکستانی جاب مارکیٹ میں والدین کے پسندیدہ کیریئرز کونسے ہیں؟َ

    بدلتی پاکستانی جاب مارکیٹ میں والدین کے پسندیدہ کیریئرز کونسے ہیں؟َ

    پاکستان میں پیشے کے انتخاب کے حوالے سے خاندان کی رائے اور اثر و رسوخ کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔

    دہائیوں سے کچھ مخصوص پیشے کامیابی، معاشی استحکام اور سماجی وقار کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث والدین اکثر نہ صرف اپنے بچوں کو انہی شعبوں میں بھیجنے پر بضد ہوتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کیلئے شریکِ حیات کا انتخاب کرتے وقت بھی انہی مخصوس شعبوں سے منسلک افراد کو ترجیح دیتے ہیں۔

    اگرچہ وقت کے ساتھ جاب مارکیٹ میں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں، تاہم والدین کی اکثریت کے پسندیدہ روایتی کیریئرز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

    ڈاکٹر آج بھی پسندیدہ پیشہ

    والدین عموماً اپنے بچوں کے لیے ایسے شعبوں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں معاشی تحفظ، معاشرتی عزت اور طویل مدتی ترقی کے مواقع موجود ہوں۔ اسی سوچ کے باعث طب، انجینئرنگ اور سول سروسز جیسے شعبے آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے کیریئرز میں شامل ہیں۔

    طب کے شعبے میں ڈاکٹر بننا پاکستانی والدین کی اولین ترجیحات میں شمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو معاشرے میں نہ صرف عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ یہ پیشہ بہتر آمدنی اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ اس شعبے کی تعلیم طویل اور مشکل ہے، لیکن والدین کے مطابق اس کے فوائد اسے قابلِ ترجیح بناتے ہیں۔

    اسی طرح انجینئرنگ کو بھی ایک مضبوط اور مستحکم کیریئر سمجھا جاتا ہے۔ سول، مکینیکل، الیکٹریکل اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے شعبے جدید ترقی اور انفراسٹرکچر کی ضرورت کے باعث مسلسل مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    سول سروسز اور سرکاری ملازمت

    سول سروسز کو بھی پاکستانی والدین کی پسندیدہ کیریئرز میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ سرکاری ملازمتیں نہ صرف استحکام فراہم کرتی ہیں بلکہ سماجی حیثیت اور اختیار کے باعث بھی پرکشش سمجھی جاتی ہیں۔

    چارٹرڈ اکاؤنٹنسی، وکالت، یونیورسٹی پروفیسر، مسلح افواج میں افسر، بینکنگ اور آئی ٹی جیسے شعبے بھی ان پسندیدہ کیریئرز میں شامل ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مقبول ہوئے ہیں۔ خاص طور پر آئی ٹی کے شعبے میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا اینالیسس جیسے پیشے عالمی طلب کے باعث تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔

    گزشتہ چند برسوں میں کاروباری شعبہ اور انٹرپرینیورشپ بھی والدین کی سوچ میں جگہ بنانے لگا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل معیشت اور اسٹارٹ اپ کلچر نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

    2026 میں یہ رجحان بتدریج تبدیل ہو رہا ہے، جہاں روایتی کیریئرز کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل پیشوں کو بھی قبولیت مل رہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق والدین اور بچوں کے درمیان بہتر رابطہ اور رہنمائی ہی ایک متوازن اور کامیاب کیریئر کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

  • پاکستانی طلبہ کیلئے سعودی عرب کی 25 یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کا اعلان

    پاکستانی طلبہ کیلئے سعودی عرب کی 25 یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کا اعلان

    سعودی عرب نے ایک بار پھر 25 یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے پاکستانی طلبا و طالبات کو 600 اسکالر شپس دینے کا اعلان کردیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق سعودی عرب کی 25 یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے پاکستانی طلبہ کو وظائف ڈپلومہ، ڈگری، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کیلئے دیئے جائیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں قانونی طور پر مقیم پاکستانی طالب علم اور پاکستان میں مقیم طلبا و طالبات دونوں ان اسکالر شپس کیلئے اہل ہوں گے، 75 فیصد اسکالر شپس پاکستان سے طالب علموں جبکہ 25 فیصد سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ہوں گے۔

    سعودی اسکالر شپ حاصل کرنے کے خواشمند طلباء متعلقہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ یا آن لائن پورٹل پر براہ راست اپلائی کرسکتے ہیں، تاہم ہر یونیورسٹی کا داخلے کا اپنا معیار و ٹائم فریم ہے، اس لئے طلبا و طالبات کو اپنے متعلقہ مضمون اور کلاس میں داخلے کے حوالے سے سعودی یونیورسٹی سے مدد لینا ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی شہزادی نورہ بن عبدالرحمان یونیورسٹی برائے طالبات ریاض اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے علاوہ تمام یونیورسٹیاں صرف 25 فیصد بین الاقوامی طلباء کو داخلہ دینے کی پابند ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی یونیورسٹیاں پاکستانی طالبعلموں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کو سعودی وزارت تعلیم کو بھیجیں گی جو اسکالر شپس دینے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔

    درخواست گزار طلبہ اپنی درخواست کی کاپی پاکستانی سفارتخانے کے آفیشل ای میل پر بھی بھیجیں گے تاکہ سعودی وزارت تعلیم کے ساتھ ان درخواستوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جاسکے۔

    اسکالر شپ کیلئے درخواست گزار کا تعلق پاکستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہونا لازمی ہے، 75 فیصد اسکالر شپس پاکستان سے طالب علموں جبکہ 25 فیصد سعودی عرب میں مقیم پاکستانی طلبہ کو دی جائیں گی، اسکالر شپ کیلئے مرد و خواتین دونوں درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔

    ڈگری پروگرام کیلئے درخواست دینے والوں کی عمریں 17 سے 25 سال کے دوران، ماسٹرز کیلئے 30 سال جبکہ پی ایچ ڈی کیلئے 35 سال سے کم ہونی چاہئیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستانی طلبہ کی عمر کا حساب داخلہ کی حتمی تاریخ سے لگایا جائے گا، یہ ضروری ہے کہ سعودی اسکالرشپ حاصل کرنیوالا طالب علم اس وقت کوئی اور اسکالر شپ حاصل نہ کررہا ہو۔

    اسکالر شپ کا اہل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ طالبعلم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، اسے کسی بھی وجہ سے کبھی بھی یونیورسٹی سے بے دخل نہ کیا گیا ہو۔

    اسکالر شپ حاصل کرنیوالے طلباء کو دوران تعلیم سعودی عرب میں مفت رہائش اور شادی شدہ طلباء کو ابتدائی 3 ماہ فرنشنگ الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا، سعودی عرب آمد اور واپسی کیلئے مفت ایئر ٹکٹ جبکہ شادی شدہ طلبہ کو اہلخانہ کیلئے مفت طبی علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    اسکالرشپ حاصل کرنیوالے طلباء کو یونیورسٹی کیمپسز میں رعایتی نرخوں پر کھانا، کھیلوں اور تفریح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ زیر کفالت افراد کیلئے سفری اخراجات میں معاونت بھی کی جائے گی۔

    سعودی حکومت اسکالر شپس حاصل کرنیوالے سائنس کے طلبا و طالبات کو ماہانہ 900 جبکہ آرٹس کے شعبے میں 850 سعودی ریال ادا کرے گی۔

    پاکستانی طلبا و طالبات اسکالر شپ حاصل کرنے کیلئے درج ذیل لنک پر جاکر اپنی پسند کی یونیورسٹی کے پورٹل پر براہ راست درخواست دے سکتے ہیں۔

    سعودی عرب نے گزشتہ سال 2022ء میں بھی پاکستان کے 600 طلبا و طالبات کے علاوہ دنیا بھر سے ساڑھے 5 ہزار سے زائد طلبا و طالبات کو اپنی جامعات میں داخلے اور وظائف دیئے تھے۔

  • پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت برطانیہ میں تعلیم حاصل نہیں کر رہی

    پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت برطانیہ میں تعلیم حاصل نہیں کر رہی

    برطانوی حکومت کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی اکثریت نہ تو ملازمت پر ہے اور نہ ہی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں پاکستانی نژاد نوجوانوں میں سے اوسطاً 11.5 فیصد کام اور تعلیم سے محروم تھے۔

    رپورٹ کے مطابق 12 فیصد بنگلہ دیشی، 11.7 فیصد برطانوی گورے، 11.5 فیصد برطانوی سیاہ فام اور 11.3 فیصد اسی عمر کے دیگر ایشیائی نوجوانوں نے ملازمت نہیں کی اور وہ تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کر رہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق صرف 16 سے 24 سال کی عمر کے ہندوستانی اور چینی لوگوں میں ملازمت کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے امکانات برطانیہ میں رہنے والی دیگر قومیتوں کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تھے۔

    تقریباً 7.3 فیصد ہندوستانی اور 4.5 فیصد چینی نوجوان نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کام کر رہے ہیں۔

  • لاہور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا

    لاہور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا

    لاہور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا۔

    کامیابی کا تناسب اٹھاون فیصد رہا۔لاہور بورڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزارامیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی، جس  میں سےایک لاکھ 9 ہزار کامیاب رہے۔

    لاہور بورڈ کے مطابق لڑکوں کی کامیابی کا تناسب 48 فیصد،لڑکیوں کا 66 فیصدرہا ،10 فیصد امیدواروں نےاے پلس، 16 فیصد نے اے، 24 فیصد نے بی گریڈ حاصل کیا
    انٹرمیڈیٹ امتحانات میں 41 فیصد طلبا پاس ہی نہ ہوسکے، 

    لاہور بورڈ کے مطابق پری میڈیکل میں 78 فیصد، پری انجینرنگ میں73 فیصد طلبا پاس ہوئے، آرٹس میں 43 فیصد طلبا پاس ہوئے۔

    اس کے علاوہ ملتان کے تعلیمی بورڈ نےانٹرمیڈیٹ پارٹ 2 کے نتائج کا اعلان کردیا۔جہاں 44 ہزار541 طلباء نے کامیابی حاصل کی۔ تعلیمی بورڈ کے مطابق امتحانات میں کامیابی کا تناسب 59.69 فیصدرہا۔

    دوسری جانب فیصل آباد نے انٹرمیڈیٹ سال اول کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ امتحانات میں کل 99ہزار874 امیدواران نے حصہ لیا ۔

     کنٹرولر بورڈ کے مطابق 99ہزار874  امیدوارں میں سے  34 ہزار37 امیدوار فیل ہوگئے ۔ انٹرمیڈیٹ سال اول امتحانات کا نتیجہ 65.92 فیصد رہا۔

    گوجرانوالہ میں ایک لاکھ 39 ہزار 311 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی جن میں 78 ہزار 167  کامیاب ہوئے ۔ کنٹرولر امتحانات کے مطابق 61 ہزار 144 امیدوار ناکام قرار پائے ۔ کامیابی کا تناسب 56.11 فیصد رہا۔

  • تعلیمی بجٹ کا استعمال ایک بڑا مسئلہ

    تعلیمی بجٹ کا استعمال ایک بڑا مسئلہ

    اسلام آباد: اگرچہ عوام کے مسلسل مطالبے پر صوبوں نے اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، تاہم اس فنڈز کا درست استعمال بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ مالی سال 2014-13ء میں مختص کیے گئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ باقی بچ گیا تھا۔

    یہ بات منگل کو انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنس (آئی-ایس اے پی ایس) کی جانب سے الف اعلان کے تعاون سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بیان کی گئی، اس رپورٹ کا عنوان تھا ’’پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری‘‘۔

    اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2013-14ء کے دوران سندھ نان سیلری بجٹ کا صرف 47 فیصد اور ترقیاتی بجٹ کا 37 فیصد حصہ ہی خرچ کرسکا ہے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا نے نان سیلری بجٹ کا صرف 59 فیصد حصہ اور ترقیاتی بجٹ کا صرف 50 فیصد خرچ کیا ہے۔ بلوچستان نان سیلری بجٹ کا 27 فیصد اور ترقیاتی بجٹ کا 48 فیصد خرچ نہیں کرسکا ہے۔

    تاہم پنجاب بجٹ کے استعمال کے لحاظ سے سرِفہرست ہے، اس لیے کہ اس نے اپنے نان سیلری بجٹ کا 83 فیصد اور ترقیاتی بجٹ کا 89 فیصد خرچ کردیا ہے۔

    اس رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ اس رپورٹ نے حکومت کو تعلیمی اعدادوشمار پر ایک واضح تصویر پیش کی ہے، اور شہادتوں کی بنیاد پر حاصل ہونے والے نتائج ایک مناسب نظام کی تیاری میں مدد کرسکتے ہیں۔

    انہوں نے اس تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ ملک میں 35 فیصد پرائمری اسکول ٹوائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

    تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پرائمری اسکولوں میں داخلے کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد میں بھی پچھلے چند سالوں میں کمی آئی ہے۔

    آئی-ایس اے پی ایس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سلمان ہمایوں نے کہا کہ ایک جانب تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ایک اچھی خبر تھی، لیکن اس کو تعلیمی نظام کی کارکردگی سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ تعلیمی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں کی نذر ہوجاتا ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کا ایک اہم حصہ خرچ نہیں ہوپاتا۔

    انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنس کے ایک ریسرچ فیلو احمد علی کا کہنا تھا کہ وسائل کے مختص کیے جانے کے باوجود تعلیمی معیار پست ہورہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے تینوں صوبوں نے مفت لازمی تعلیم کے لیے قانون سازی کی تھی۔

    تاہم پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد اب تک آئین کے آرٹیکل 25-اے پر مناسب عملدرآمد میں ناکام رہے ہیں، جس میں پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا تو اب تک اس سلسلے میں قانون سازی کو منظور کرنے میں ہی ناکام رہا ہے۔

    سندھ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین خورشید احمد جونیجو کا کہنا ہے کہ اس نظام میں ساختیاتی مسائل موجود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں تقریباً بیس ہزار اسکول ٹوائلٹ سے محروم ہیں، جبکہ 23 ہزار اسکولوں میں بجلی اور پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کے تعلیمی مشیر نصراللہ خان زائری نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اسکول سے باہر بچوں کے داخلے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت نئے قوانین پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

    پنجاب میں قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین قمر الاسلام راجہ نے وڈیو لنگ کے ذریعے بات کرتے ہوئے صوبے میں درپیش تعلیمی چیلنجز کے سلسلے میں حساس مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔

  • جامعہ کراچی میں مبینہ غیرقانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی تحقیقات، حکام سے جواب طلب

    جامعہ کراچی میں مبینہ غیرقانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی تحقیقات، حکام سے جواب طلب

    سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایس ایچ ای سی) نے کراچی یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔

    ڈان نیوز کے مطابق تحقیقات کے لیے 3 سینئر ترین تعلیمی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے چیئرمین وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی اور دیگر حکام سے جوابات طلب کر لیے۔

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی ( پی اے سی) نے جامعہ کراچی میں خلاف قانون و خلاف ضابطہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کرانے کے انکشاف پر سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

    جامعہ کراچی کے ہیلتھ، فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس ڈپارٹمنٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین کے برخلاف ’فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس‘ اور ’فزیکل تھراپی‘ میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کرایا جا رہا ہے۔

    فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس اور فزیکل تھراپی، فزیو تھراپی کے شعبے ہیں، جن میں اعلیٰ ڈگریاں فزیالوجی فیکلٹی کے تحت کرائی جا رہی ہیں۔

    قوانین کے مطابق کسی بھی موضوع پر ایم فل یا پی ایچ ڈی اسی شعبے کے پی ایچ ڈی ماہرین ہی کرا سکتے ہیں، کراچی یونیورسٹی میں’ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس’ میں کرائی جانے والی ایم فل اور پی ایچ ڈی کرانے والے پروفیسرز کا تعلق غیر متعلقہ شعبوں سے ہے۔

    پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر باسط انصاری فزیالوجی میں پی ایچ ڈی، جب کہ ان کے ماتحت پروفیسر شاہ علی القدر کیمیکل بائیو کیمسٹری، پروفیسر انیلا ملک امبر سائیکولاجی اور پروفیسر حارث شعیب فارماسيوٹیکل میں پی ایچ ڈی ہیں۔

    دوسری جانب ’فزیکل تھراپی‘ میں کرائی جانے والی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سربراہ ڈاکٹر باسط انصاری اور ان کے دونوں ٹیم ممبرز ڈاکٹر صدف اور ڈاکٹر فیضان مرزا فزیالوجی میں پی ایچ ڈی ہیں۔

  • وفاقی تعلیمی بورڈ کا نیا گریڈنگ سسٹم متعارف، پاسنگ مارکس بڑھاکر 40 فیصد کر دیے

    وفاقی تعلیمی بورڈ کا نیا گریڈنگ سسٹم متعارف، پاسنگ مارکس بڑھاکر 40 فیصد کر دیے

    فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے پاسنگ مارکس کو موجودہ 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا ہے، ساتھ ہی ایک نیا گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیا نظام اگلے سال سے سالانہ امتحانات میں نافذ کیا جائے گا۔

    ایف بی آئی ایس ای کے ایک عہدیدار کے مطابق فی مضمون موجودہ پاسنگ مارکس 33 فیصد ہیں لیکن اگلے سال سے 40 فیصد کو پاسنگ مارکس تصور کیا جائے گا۔

    ایف بی آئی ایس ای نے اپنے پرانے گریڈنگ سسٹم (اے، بی، سی، ڈی، ای) میں بھی تبدیلی کی ہے اور اس کی جگہ نئی کارکردگی کے اشاریے متعارف کرائے ہیں، جن کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے، پرانے نظام میں صرف 5 گریڈ تھے، جب کہ نئے نظام میں دس درجات (گریڈیشنز) شامل کیے گئے ہیں۔

    یہ اقدام گزشتہ ماہ اسلام آباد میں انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق نظرِ ثانی شدہ گریڈنگ سسٹم پہلے سالانہ امتحانات 2026 سے سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ (ایس ایس سی-I ) اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ-I (ایچ ایس ایس سی-I ) کی سطح پر نافذ العمل ہوگا، جب کہ ایس ایس سی-II اور ایچ ایس ایس سی-II کی سطح پر یہ نظام 2027 کے پہلے سالانہ امتحانات سے نافذ العمل ہوگا۔

    نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وہ طلبہ جو 96 فیصد سے 100 فیصد نمبر حاصل کریں گے، انہیں ++A گریڈ دیا جائے گا، جسے غیر معمولی (Extraordinary) قرار دیا گیا ہے، اسی طرح 91 فیصد سے 95 فیصد تک نمبر لینے والوں کو +A گریڈ اور بہت اعلیٰ کیٹیگری (Exceptional) میں رکھا جائے گا۔

    جو طلبہ 86 فیصد سے 90 فیصد نمبر حاصل کریں گے، انہیں A گریڈ دیا جائے گا، جسے نمایاں (Outstanding) کیٹیگری کہا گیا ہے۔

    اسی طرح 81 فیصد سے 85 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو ++B گریڈ دیا جائے گا، جسے بہترین (Excellent) قرار دیا گیا ہے، جب کہ 76 فیصد سے 80 فیصد تک نمبر لینے والوں کو +B گریڈ (Very Good) اور 71 فیصد سے 75 فیصد والوں کو B گریڈ (Good) دیا جائے گا۔

    61 فیصد سے 70 فیصد والے طلبہ کو +C گریڈ دیا جائے گا، جسے کافی اچھا (Fairly Good) کہا گیا ہے، جب کہ 51 فیصد سے 60 فیصد والے C گریڈ حاصل کریں گے جو اوسط سے بہتر (Above Average) کیٹیگری میں شمار ہوگا۔

    جو طلبہ 40 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان نمبر حاصل کریں گے، انہیں D گریڈ دیا جائے گا، جسے ابھرتا ہوا (Emerging) درجہ دیا گیا ہے۔

    ایف بی آئی ایس ای کے ایک عہدیدار کے مطابق آئی بی سی سی کے اجلاس میں ملک کے تمام تعلیمی بورڈز نے اس نئے گریڈنگ سسٹم اور پاسنگ مارکس فارمولا کو اپنانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا تمام بورڈز اسے عملی طور پر نافذ بھی کریں گے یا نہیں۔

  • دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    اعلیٰ تعلیم کے لیے شعبے کا انتخاب کرتے وقت طلبا کے ذہن میں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟ یہ وہ پروگرامز ہوتے ہیں جن میں سخت محنت، پیچیدہ مضامین اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔

    یہ معاملہ صرف مشکل ہونے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذہانت، مستقل مزاجی اور طویل عرصے تک مسلسل محنت کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔ ان ڈگریوں کو سمجھنا طلبا کو ذہنی اور تعلیمی طور پر بہتر تیاری میں مدد دیتا ہے۔

    انجینئرنگ

    انجینئرنگ کو دنیا کی مشکل ترین ڈگریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں اعلیٰ درجے کی ریاضی، فزکس اور تکنیکی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

    طلبا کو نہ صرف تھیوی سمجھنا ہوتی ہے بلکہ اسے عملی طور پر بھی استعمال کرنا پڑتا ہے، جیسے پراجیکٹس اور ڈیزائننگ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ انتہائی دباؤ والا سمجھا جاتا ہے۔

    میڈیسن

    میڈیسن بھی مشکل ترین ڈگریوں میں شامل ہے۔ اس میں انسانی جسم، بیماریوں اور علاج کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات یاد رکھنی پڑتی ہیں۔

    ڈاکٹر بننے کا سفر طویل اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مریضوں کی جان کی ذمہ داری بھی طلبا پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

    قانون

    لا کی تعلیم میں سخت مطالعہ، کیس اسٹڈیز اور پیچیدہ قوانین شامل ہوتے ہیں۔ طلبا کو نہ صرف قوانین اور ان کا اطلاق سمجھنا ہوتا ہے بلکہ ان کا تجزیہ بھی کرنا پڑتا ہے اور اطلاق

    یہ شعبہ مضبوط یادداشت، تنقیدی سوچ اور بہترین دلائل دینے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔

    آرکیٹیکچر

    آرکیٹیکچر تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی علم کا امتزاج ہے۔ طلبا کو ڈیزائن، انجینئرنگ اور سافٹ ویئر سب کچھ سیکھنا ہوتا ہے۔

  • پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگراموں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری کر دیا۔

    پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 16 اگست 2026 کو صبح 10 بجے ملک بھر میں منعقد ہو گا۔

    پنجاب میں ٹیسٹ کے انعقاد کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کو دی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ ، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سعودی عرب کے شہر ریاض کے امیدواروں کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد امتحان کا انعقاد کرے گی۔

    پبلک نوٹس کے مطابق امیدواروں کی آن لائن رجسٹریشن 22 جون 2026 سے شروع ہو گی ، معمول کی فیس کے ساتھ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 8 جولائی 2026 مقرر کی گئی ہے۔ تاخیر سے رجسٹریشن 13 جولائی 2026 تک کرائی جا سکے گی۔

    پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں قائم ٹیسٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن فیس 9 ہزار روپے جبکہ لیٹ رجسٹریشن فیس 13 ہزار روپے ہو گی۔ بین الاقوامی ٹیسٹ سینٹر کے لیے رجسٹریشن فیس 45 ہزار روپے اور لیٹ رجسٹریشن فیس 55 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ، تمام فیسیں ناقابل واپسی اور ناقابل منتقلی ہوں گی۔

  • پاکستان کی 18 یونیورسٹیز دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل

    پاکستان کی 18 یونیورسٹیز دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل

    اسلام آباد: ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 18 یونیورسٹیز دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    ہائیر ایجوکیشن کے عالمی ادارے کیو ایس کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پاکستان کی 18 جامعات نے جگہ بنا لی۔ جس میں قائد اعظم یونیورسٹی کو ملک کی بہترین یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی عالمی درجہ بندی میں مشترکہ طور پر 381 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) 384 ویں اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنس (پی آئی ای اے ایس) 560ویں نمبر پر موجود ہے۔

    درجہ بندی میں دیگر نمایاں پاکستانی جامعات میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس، پنجاب یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد بھی شامل ہیں۔

    کیو ایس رینکنگ میں جامعات کی کارکردگی کا جائزہ تعلیمی معیار، ریسرچ امپیکٹ، فیکلٹی اسٹوڈنٹ ریشو، عالمی شہرت، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی تعاون جیسے اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی میں موجودگی ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی عکاسی کرتی ہے، تاہم تحقیق، بین الاقوامی تعاون اور تدریسی معیار میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔