Category: تعلیم

  • رمضان المبارک میں سکولز کے اوقات کیا ہوں گے؟

    رمضان المبارک میں سکولز کے اوقات کیا ہوں گے؟

    مکہ مکرمہ ریجن کے ادارہ تعلیم نے رمضان المبارک کے دوران سکولوں کے اوقات جاری کر دیے۔ صبح، شام اور تعلیم بالغاں کے لیے رمضان اوقات میں کمی بھی کی گئی ہے۔
    اخبار 24 کے مطابق وزارت تعلیم کی جانب سے تمام ریجنز کے ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ریجن میں رمضان المبارک کے دوران مناسب اوقات کا تعین کریں۔
    موصولہ ہدایات پرعمل کرتے ہوئے مکہ ریجن کے ادارہ تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صبح کی شفٹ کا آغاز 9 بجے ہوگا جبکہ دوپہر کی شفٹ ایک بجے اور تیسری شفٹ رات ساڑھے 9 بجے شروع ہوگی۔
    واضح رہے سعودی عرب میں رمضان المبارک کے دوران سکولوں کے علاوہ سرکاری و نجی اداروں میں بھی اوقات کم کردیئے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو رمضان میں عبادت کے لیے  زیادہ سے زیادہ وقت میسر آسکے۔
  • مملکت میں عید تعطیلات کے بعد اتوار سے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے

    مملکت میں عید تعطیلات کے بعد اتوار سے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے

    مملکت بھر کے تمام تعلیمی ادارے اتوار 6 اپریل 2025 سے معمول کے مطابق کھل جائیں گے۔
    سبق اور عاجل نیوز کے مطابق مملکت بھر کے تعلیمی اداروں میں 20 مارچ 2025 سے رمضان کے آخری عشرے اور عید کی مناسبت سے تعطیلات کردی گئی تھیں۔
    ریاض میں محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اتوار 6 اپریل سے تیسرے تعلیمی سیشن کا آغاز ہوگا۔
    محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ ریاض کے سکولوں میں اسمبلی ٹائم 6 بجکر 15 منٹ اور پہلی کلاس ساڑھے 6 بجے شروع ہوجائے گی۔
    دوسری جانب محکمہ تعلیم مکہ مکرمہ اور جدہ کا کہنا ہے کہ سکول اتوار 6 اپریل 2025 سے کھلیں گے۔ پہلی  کلاس 7 بجے شروع ہوگی جبکہ  اسمبلی ٹائم پونے سات بجے ہے۔
    شام کی کلاسز دوپہر ایک بجے  سے شروع ہوں گی جبکہ ان کی اسمبلی کا وقت 12 بجکر 45 منٹ ہے۔
    اسی طرح مملکت کے دیگر شہروں کے حوالے سے بھی محکمہ تعلیم نے اسمبلی اور کلاسز کے وقت کا اعلان کیا ہے۔
  • بجٹ میں رئیل اسٹیٹ، برآمدات و کاروباری شعبوں کیلئے مراعات خوش آئند،حکومت صحت اور سرمایہ کاری پر مزید توجہ دے، صدر فیصل آباد چیمبر

    بجٹ میں رئیل اسٹیٹ، برآمدات و کاروباری شعبوں کیلئے مراعات خوش آئند،حکومت صحت اور سرمایہ کاری پر مزید توجہ دے، صدر فیصل آباد چیمبر

    مکو آ نہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 13 جون2026ء) صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ نے وفاقی بجٹ27-2026میں کاروباری، صنعتی، برآمدی اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کے لیے متعارف کرائی گئی مراعات کو ملکی معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکس نیٹ کی توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے متعدد اقدامات سے کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا، اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور پاکستان عالمی سطح پر ایک مثبت معاشی تشخص کے ساتھ آگے بڑھے گا، تاہم صحت اور بعض دیگر سماجی شعبوں کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی ضرورت ابھی برقرار ہے۔
    صدر چیمبر نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ درجنوں صنعتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہیں۔

    اس لیے جب رئیل اسٹیٹ کا شعبہ متحرک ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کرکے 2.75 فیصد کرنا اور پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد بعض دیگر ٹیکسوں میں کمی حکومت کا ایک مثبت اور دوررس فیصلہ ہے جس سے سرمایہ کاری کا عمل دوبارہ متحرک ہوگا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ایک طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی تھی کہ ایسے ٹیکسوں اور مالی بوجھ میں کمی کی جائے جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ حکومت نے بجٹ میں بعض اہم شعبوں کے لیے ریلیف دے کر اس جانب پیش رفت کی ہے جس پر وزیراعظم، وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی مضبوطی کا انحصار نجی شعبے کی ترقی پر ہے اور جب کاروباری طبقے کو اعتماد اور سہولت میسر آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات روزگار، پیداوار اور قومی آمدن کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
    انہوں نے برآمدی شعبے کے لیے سپر ٹیکس میں 10 فیصد سے 8 فیصد تک کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے اس بوجھ میں نرمی کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بعض ایسے ٹیکسوں میں بھی کمی کی ہے جو برآمدات کے فروغ میں رکاوٹ بن رہے تھے، جس پر وزیراعظم، وزیر خزانہ اور اقتصادی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو سخت مسابقت کا سامنا ہے، اس لیے برآمد کنندگان کے لیے لاگت میں کمی اور مالی سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی اور بعض چھوٹے برآمد کنندگان کو ریلیف دینا اس شعبے کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے جس سے برآمدی سرگرمیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر کرنے والے کاروباری افراد کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر عائد فیس کا خاتمہ بھی ایک مثبت قدم ہے کیونکہ عالمی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں نئی راہیں تلاش کرنے، تجارتی نمائشوں میں شرکت کرنے اور بین الاقوامی خریداروں سے روابط بڑھانے کے لیے مسلسل بیرون ملک سفر کرنا پڑتا ہے، لہذا اس حوالے سے دی گئی سہولتیں کاروباری روابط کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گی۔
    انہوں نے کریڈٹ کارڈز پر عائد ٹیکس میں کمی کو دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید معیشتوں کی بنیاد ڈیجیٹل اور شفاف مالی نظام پر ہوتی ہے۔ ماضی میں بعض اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے لوگ بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے گریز کرنے لگے تھے جس کے نتیجے میں معیشت کی دستاویزیت کا عمل متاثر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنائے گا بلکہ مالی شفافیت کو بھی فروغ دے گا۔
    انہوں نے چھوٹے تاجروں کے لیے متعارف کرائے گئے فکسڈ ٹیکس نظام کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں چھوٹے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے اعتماد سازی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد آبادی اور معاشی حجم کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں کو اعتماد میں لے کر انہیں ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو جائے تو لاکھوں نئے افراد رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکتے ہیں جس سے قومی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کو عوامی ریلیف کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے تناظر میں عوام کو سہولت فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جو ان کی پیداواری لاگت کم کر سکیں۔
    انہوں نے کہا کہ اگر صنعتوں کو مناسب سہولتیں اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا تو وہ بہتر انداز میں روزگار پیدا کرنے اور کارکنوں کو بہتر اجرتیں دینے کے قابل ہوں گی۔ صدر چیمبر نے ملکی دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قومی سلامتی، استحکام اور عالمی سطح پر ملک کے وقار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ محفوظ اور مستحکم پاکستان ہی مضبوط معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور عالمی تنازعات میں مثبت کردار کے باعث دنیا میں ملک کا تشخص بہتر ہوا ہے جس کے معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک تجارتی وفود کے دوروں کے دوران پاکستانی کاروباری برادری کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت ماحول ملا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی وطن میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوبیرون ملک منتقل ہونے والے پاکستانی سرمایہ کو دوبارہ ملک میں لانے کے لیے مزید پرکشش مراعات دینی چاہئیں۔
    انہوں نے صحت کے شعبے کے لیے مختص فنڈز کو ملک کی آبادی اور ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ہسپتالوں، طبی سہولتوں اور صحت عامہ کے منصوبوں پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس لیے بجٹ منظوری سے قبل اس شعبے کے لیے مزید وسائل مختص کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے تعلیم کے شعبے کے لیے مختص وسائل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی تعلیم، ہنر اور انسانی وسائل کی بہتری سے وابستہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی سہولیات کا فرق ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں اور اس مقصد کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت برقرار رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بجٹ کی منظوری سے قبل کاروباری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کا حل قومی اتحاد، پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور تعلیم و صحت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ میں پوشیدہ ہے۔
    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کو مستحکم بنانے، برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو اقتصادی ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی کیونکہ پاکستان کی معاشی خوشحالی اجتماعی کوششوں اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔

  • ملک میں شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی

    ملک میں شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی

    ملک میں شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق مردوں کی شرح خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 54 فیصد ریکارڈ کی گئی ،شہری علاقوں میں شرح خواندگی 74 فیصداور دیہی علاقوں میں 55 فیصد رہی۔

    شہروں میں مردوں کی خواندگی 81 فیصد اور خواتین کی 68 فیصد تک پہنچ گئی،دیہی علاقوں میں مردوں کی شرح خواندگی 67 فیصد جبکہ خواتین کی 44 فیصد ہے۔

    سروے کے مطابق پنجاب 68 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے ،سندھ اور خیبرپختونخوا میں شرح خواندگی 58، 58 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    بلوچستان میں شرح خواندگی تمام صوبوں سے کم 49 فیصد رہی ،شہری پنجاب میں شرحِ خواندگی 78 فیصد تک پہنچ گئی ہے،دیہی سندھ میں شرح خواندگی 39 فیصد رہی۔

  • بجٹ میں تعلیم کیلئے 117 ارب مختص؛ ایچ ای سی کی مشکل برقرار

    بجٹ میں تعلیم کیلئے 117 ارب مختص؛ ایچ ای سی کی مشکل برقرار

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے 117.75 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے 112.68 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 4.5 فیصد زیادہ ہیں۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق اہم تعلیمی شعبوں میں فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سیکنڈری ایجوکیشن کے ترقیاتی حصے کیلئے رقم 14.42 ارب سے بڑھا کر 16.02 ارب روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پری اور پرائمری تعلیم کیلئے 5.22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال 4.83 ارب روپے تھے۔

    اعلیٰ تعلیم کو سب سے زیادہ 84.46 ارب روپے دیے گئے ہیں، جو پچھلے سال 82.01 ارب روپے تھے۔ تاہم کچھ مدات میں معمولی اضافہ یا کمی بھی دیکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے محتاط مالی حکمت عملی اپنائی ہے۔

    دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے مجموعی طور پر 112 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں ترقیاتی بجٹ 39.4 ارب سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ تاہم بار بار مطالبات کے باوجود ریکرنگ گرانٹ 66.4 ارب روپے پر برقرار رکھی گئی ہے۔

    ایچ ای سی نے ریکرنگ گرانٹ کیلئے کم از کم 100 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ بڑھتی ہوئی طلبہ تعداد، مہنگائی اور اخراجات کے باعث جامعات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق 2017-18 سے فنڈز میں اضافہ نہ ہونے سے تعلیمی نظام میں مالی خلا بڑھ رہا ہے۔

    ترقیاتی بجٹ میں سے 46 ارب روپے 131 جاری منصوبوں جبکہ 2.2 ارب روپے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں، جن میں اسکلز، انوویشن اور اسپورٹس پروگرام شامل ہیں۔

    ادھر وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کیلئے 36.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں بڑی رقم دانش اسکولز منصوبوں کیلئے مختص ہے۔ اس کے علاوہ نئے کالجز، اساتذہ کی تربیت، اسکالرشپس اور خصوصی تعلیم کے منصوبوں کیلئے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

    مجموعی طور پر تعلیم کا بجٹ معتدل اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں نئے بڑے منصوبوں کے بجائے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے پر توجہ دی گئی ہے۔

  • کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے

    کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے سے متعلق سرکاری رپورٹوں کا اب ایک معمول کا پیرایہ بن چکا ہے۔ ان رپورٹوں میں حکومت کی اعلیٰ کارکردگی کا ذکر ہوتا ہے۔ گذشتہ حکومتوں کی ناکامیوں کی طرف اشارے کیے جاتے ہیں، یہ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پچھلے برسوں یا مہینوں میں تعلیمی اداروں کی تعداد میں کتنا اضافہ کیا ہے۔ مختلف صوبوں کی صورت حال بھی بالعموم قابلِ ذکر بتائی جارہی ہوتی ہے۔ نئے پروگراموں کی تفصیل بتائی جاتی ہے۔

    دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلیمی شعبے میں کس طرح کے روابط قائم ہورہے ہیں، ہماری جامعات نے باہر کے اداروں کے ساتھ کون کون سے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پردستخط کیے ہیں، اور تعلیم کے شعبے میں کس قدر بدلاؤ آیا ہے۔رپورٹوں کا یہ حصہ بڑا حوصلہ افزامحسوس ہوتا ہے لیکن پھر بعض حقائق یا تو ان رپورٹوں میں جگہ ہی نہیں حاصل کرپاتے یا اگر ان کا ذکر آتا ہے تو بڑے دبے لفظوں میں اور بڑے مخفی انداز میں ،اور یہ ذکر بھی آئندہ کے لیے پُرعزم اعلانات کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

    یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم اب سے تین سال بعد یا پانچ سال بعد اس شعبے کی کمی کو ختم کردیں گے اورہماری ترقی کا اشاریہ ان شعبوں میں بھی بہت آگے بڑھ جائے گا۔یہ الگ بات ہے کہ عموماً جب یہ مدت پوری ہوتی ہے تو چند سال پہلے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوپانے کے لیے کئی عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے آئین نے ریاست کی جو ذمہ داریاں طے کی ہیں، وہ اسی قسم کے غلط بیانیوں اور نت نئے عذر تلاش کرلیے جانے کی بڑی اچھی مثال فراہم کرتی ہیں۔

    آئین کے بنیادی حقوق کے باب میں آرٹیکل نمبر 25-Aیہ قرار دیتا ہے کہ، پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔اس شق کی روشنی میں مرکزی حکومت نے پارلیمان سے اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی اسمبلیوں سے قوانین بھی پاس کروا رکھے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔

    حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ باوجود آئین کی اس پابندی کے، اس وقت ملک میں کوئی دو کروڑباسٹھ لاکھ بچے جو اسکول جانے کی عمر میں ہیں، عملاً اسکول میں نہیں ہیں۔

    یہی نہیں بلکہ صرف اسلام آباد میں ، جو وفاقی دارالحکومت ہے ، اسکولوں میں جانے سے محروم بچوں کی تعدادنواسی ہزار (89000)ہے ۔بعض غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق اصل تعداد سرکاری طور پر تسلیم کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت جب ان اعدادو شمار کو بیان کرتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعدادو شمار خود اس کے لیے بھی انکشاف کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس انکشاف سے وہ خود بھی بہت پریشان ہے اور فوری طور پر اب اس صورت حال کو درست کرنے پر کمر بستہ ہوچکی ہے۔

    مگر زرا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ نظر آتا ہے کہ اس طرح کا انکشاف دو ایک سال پہلے بھی ہوچکا تھا اور ایسے انکشافات برسہا برس سے ہوتے آرہے ہیں اور برسہا برس سے ہی حکومتوں کی پریشانیاں بھی اسی طرح قائم و دائم ہیں، نیزمسائل کو حل کرنے کا عزم بھی ایک عرصے سے اسی طرح ترو تازہ اور توانا چلا آرہا ہے۔

    مثلاً اس مرتبہ اسکولوں سے باہر رہ جانے والے بچوں کی تعداد کا انکشاف خود سرکاری طور پر اور وفاقی وزیر تعلیم کی طرف سے ہوا ہے، جنہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کی سنجیدگی اور اس کو فوری طور پر حل کی طر ف لے جانے کی خاطر ایک مہم کا اعلان بھی کیا ہے جس کا عنوان ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘ رکھا ہے۔ مسئلے کی سنجیدگی اور اپنی غیر معمولی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی ایمرجنسی کا بھی اعلان کیا ہے۔

    تعلیم کے شعبے اور اس میں ہونے والے اقدامات پر نظر رکھنے والے لوگوں کے لیے یہ بات حیرت اور دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایسی ہی تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کی طرف سے پہلے بھی کیا گیا تھا۔یہ 2024ء کی بات ہے ۔اُس وقت وزیراعظم شہباز شریف نے بنفس نفیس تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

    اُس وقت اسکول سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی گئی تھی، بعدازاں مرکزی وزارت تعلیم کی طرف سے صوبائی وزارتوں کو لکھا گیا تھا کہ اس مسئلے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے فوری طور پر مربوط حکمت عملی وضع کی جائے۔

    اس چیز کا تعین کیا جائے کہ بچوں کا تعلیمی اداروں میں داخل نہ ہونا کیا انتظامی فروگزاشت کا نتیجہ ہے یا تعلیمی اداروں کی کمی اس کا سبب ہے یا کیا ایسا ہے کہ غریب طبقے کے لوگ بچوں کو تعلیم، بلکہ مفت تعلیم بھی دلانے پراس لیے آمادہ نہیں ہیں کہ، یہ بچے محنت مزدوری کرکے گھر کا خرچہ پورا کرواتے ہیں؟

    دو سال بعد اب ایک مرتبہ پھر تعلیمی ایمرجنسی کا ذکر ہورہا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ یہ پچھلی ایمرجنسی ہی کا تسلسل ہے یا یہ کہ یہ ازسرِ نو لگائی گئی ہے۔ خواہ یہ پچھلی ایمرجنسی ہی کا تسلسل ہو یا نئی ایمرجنسی ہو ، دونوں صورتوں میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو سال پہلے اسکولوں تک نہ پہنچ پانے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے اب دو کروڑ باسٹھ لاکھ کس طرح ہوگئی ہے ؟کیا اس کا سبب آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہےیا اعدادو شمار جمع کرنے والے اداروں کا طریقہ کار کمزوری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

    ایک غیر معمولی تعداد میں بچوں کا تعلیم سے محروم رہ جانا بہت گہرے غوروخوض کا تقاضہ کرتا ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ حکومتوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ناکامی اور اپنی پالیسیوں کی بے بضاعتی پر غور کریں، خاص طور سے اس بات پر کہ باوجود بلند بانگ وعدوں کے وہ اس صورت حال کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں رہتی آئی ہے ۔

    اس سلسلے میں حکومتی ناکامیوں کے اصل اسباب کا کھوج لگائیں تو پہلی جو بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری ریاست کی ترجیحات کے پورے نقشے میں تعلیم کو کوئی قابل ذکر مقام ہی حاصل نہیں ہے۔

    ریاست نے اپنے لیے جن چیزوں کو زیادہ ضروری سمجھ لیا ہے وہ بجٹ میں ان کے لیے رقم کامختص کرنا ہے۔اس وقت تعلیم کے اوپر جی ڈی پی کا1.7فی صد خرچ کیا جارہا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے ایک عرصے سے یہ رائے دے رکھی ہے کہ تعلیم کے شعبے کو جی ڈی پی کا کم از کم 4 فی صد دیا جانا چاہیے۔

    دوسری اہم بات یہ کہ تعلیم کے شعبے کو جو رقم دی بھی جاتی ہے ، دیکھا یہ جانا چاہیے کہ اس کا کتنا حصہ اخراجاتِ جاریہ کی نذر ہوتا ہے اور کتنی رقم براہ راست تعلیم دینے اور طلبہ کی ذہنی نشونما کے پر خرچ ہوتی ہے۔

    تیسری اہم بات یہ کہ تعلیم کے مختلف مدارج کے درمیان کیا کوئی توازن اور کوئی ترتیب بھی موجود ہے یا نہیں۔ ہمارے یہاں یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کو تعلیمی ترقی تصور کرلیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی ضرورت اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بجا طور پرتعلیمی ترقی کا مظہر ہوتی ہے۔ 

    لیکن سوال یہ ہے کہ ملک میں کتنی یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے ،یہ یونیورسٹیاں واقعی یونیورسٹیوں کے معیار پر پوری اترتی بھی ہیں یا نہیں یا صرف بعض عمارتوں کو یونیورسٹیاں قرار دے کر یا وائس چانسلر مقرر کرکے اور بہت سی صورتوں میں تین چار شعبے قائم کرکے ان کو یونیورسٹی کا نام دے دینا کافی ہے۔

    تعلیم کے شعبے کی ترقی، اس کے مختلف مدارج ، اور شعبہ جات کی ہمہ جہتی، ترقی ہی سے یقینی بنتی ہے۔ محض کسی ایک یا دوسرے درجے یا شعبے کی ترقی اور نشوونما سے پورے نظام تعلیم کی ترقی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔اسکولوں کی تعلیم معیاری ہوگی اور یہاں زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کررہے ہوں گے تو اس سے کالجوں کی تعلیم کا معیار اوپر جائے گا۔

    اسی طرح اچھے کالجوں اور اچھے اساتذہ و طلبہ سے یونیورسٹیوں کی تعلیم معیار کی حامل ہوگی۔ ہمارے یہاں اسکول خاص طور سے سرکاری اسکولوں کی تعلیم انتہائی ناقص ہے اور یہ حاصل بھی صرف ان خوش قسمتوں کو ہوپاتی ہے جو اسکولوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اسکولوں کی مجموعی طور پر بُری صورت حال ،کالجوں میں ان طلبہ کو پہنچاتی ہے جو اپنی پچھلی تعلیم ہی مناسب طور پر حاصل نہیں کر پاتے۔

    کالجوں کا اپنا مجموعی ماحول ،خاص طور سے سرکاری کالجوں کا ماحول اس قدر تعلیم شکن ثابت ہوا ہے کہ اب طلبہ کو امتحان پاس کرنے کے لیے ٹیوشن سینٹروں سے بڑے خرچوں پر اپنی تیاری کرنی پڑتی ہے۔تعلیمی نظام کی اس بنیادی خامی کے پیش نظر اس خواہش کا اظہار کرنا کہ اسکولوں سے باہر بچے کسی طور اسکولوں میں داخل ہوجائیں، فی الواقعی ایک ایسی خواہش ہے جو پوری بھی ہوجائے تو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بچے کوئی قابل ذکر استعداد کے حامل بن سکیں گے، لہٰذا ضروری ہے کہ بنیادی اور مفت تعلیم کے آئینی وعدے کی تکمیل کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے نتیجہ خیز ہونے کو بھی ضروری سمجھا جائے۔

    جہاں تک بنیادی تعلیم کے راستے میں حائل دشواریوں کا تعلق ہے، کئی دشواریاں وہ ہیں جن کا حکومت خود بھی اپنے بیانات میں ذکر کرتی رہتی ہے ۔مثلاً اس بات کا سرکاری طور پر بھی اعتراف کیا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں اسکول اتنے فاصلوں پر ہیں کہ ان تک بچوں کا اور خاص طور سے بچیوں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے، ایسی صورت میں خود والدین بھی بچیوں کی تعلیم سے دوری کو ذہنی طور پر قبول کرلیتے ہیں۔

    حال ہی میں سندھ کی حکومت نے خاص طور سے بچیوں کےاسکولوں سے دوری کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ اعلانات کیے ہیں۔ مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ، اسکولوں کے ثانوی اور اعلی ثانوی سطح پر زیر تعلیم طالبات کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

    اس سلسلے میں اس کا بھی ذکر کیا گیا کہ مختلف رُوٹس کی بنیاد پر کرائے مختص کیے جانے چاہئیں تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طالبات کو تعلیم تک رسائی حاصل ہوسکے اور ان کا تعلیم ترک کردینے یا ڈراپ آئوٹ ہوجانے کا رجحان ختم ہوسکے۔

    اسکولوں سے باہر بچوں کے اعداد و شمار کو اکھٹاکرنے اور مختلف علاقوں میں اس کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے مرکزکی سطح پریہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسے ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے گاجس کی رو سے مختلف شہری اور دیہی یونین کاؤنسلز کا انفردای سروے ہوگا تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ اس یونین کاؤنسل میں کس کس گھر کے بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

    وفاقی حکومت نے ایک ایسی کمیٹی بھی بنائی ہے جس میں تین چار اداروں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز اور منسٹری آف پاورٹی ایلیوی ایشن شامل ہیں۔

    یہ کمیٹی اور بھی دوسرے اداروں سے مدد حاصل کرے گی، تاکہ تیزی کے ساتھ اس پروگرام پر عملدرآمد ہو جس کو حکومت ’کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے‘کا پروگرام قرار دے رہی ہے۔ سرِدست یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کمیٹی کتنی کامیاب رہے گی اوراس وقت زیرِ غور مسئلے کو حل کرنے میں اس کی اور حکومت کے سیاسی عزم اور ارادے (Political Will)کی صورت کیا ہے۔

    بہت ضروری ہے کہ حکومت جن کمزوریوں کا خود اعتراف کررہی ہے ،اور جن ناکامیوں کے بارے میں جائز اور ناجائز تاویلات اس کی طرف سے پیش کی جاتی رہی ہیں، اُن کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے۔ اس سلسلے میں جوابدہی کے احساس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

    ضروری ہے کہ ملک کی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں، ان قانون ساز اداروں کی پارلیمانی کمیٹیاں، خاص طور سے وہ جو تعلیم کے اُمورسے تعلق رکھتی ہیں، اور پھر ان اداروں میں موجود حزبِ اختلاف حکومتی اقدامات پر نظر رکھیں۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری سول سوسائٹی اور زرائع ابلاغ بھی تعلیم کے شعبے میں ہونے والے اقدامات اور ان کی رفتارِ کار پر گہری نظررکھیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ پھر دو سال بعد حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ہورہا ہو اور اُس وقت بھی اسکولوں سے باہر بچوں کی تعدادکروڑوں میں پائی جارہی ہو اور حکومت اُس وقت بھی اس بڑے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کررہی ہو۔

  • کہاں ہیں علم و شعور کی نرسریاں، روشنی کے مینار

    کہاں ہیں علم و شعور کی نرسریاں، روشنی کے مینار

    شہر کراچی کبھی علم، تحقیق اور فکری بالیدگی کا ایک درخشاں مرکز سمجھا جاتا تھا، جو نہ صرف معاشی سرگرمیوں کا محور تھا بلکہ یہاں کے تعلیمی ادارے بھی علمی معیار اور تعلیمی وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ وہ بھی کیا دور تھا جب کراچی کے کالجوں اور جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ ملکی و عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتے اور پاکستان کا نام روشن کرتے تھے۔لیکن آج وہی ادارے اپنی سابقہ علمی عظمت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

    ماضی میں تعلیمی ادارے محض درسگاہیں نہیں بلکہ شخصیت سازی، کردار سازی اور قیادت کی تربیت کے مراکز تھے۔ جس زمانے میں کراچی کے کلکٹر، کیپٹن پریڈی تھے، ان کی کاوشوں سے عام شہریوں کے لیے1854ء میں، سی ایم ایس ہائی اسکول قائم ہوا۔ ابتدا میں اسے ’’فری اسکول‘‘ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کا نام چرچ مشنری سوسائٹی اسکول رکھ دیا گیا۔ 

    یہ ادارہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ یہاں انگریزی تعلیم دی جاتی تھی جو اس دور میں جدید تعلیم کی علامت سمجھی جاتی تھی۔بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اس اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔یہاں فارسی اور سندھی بھی پڑھائی جاتی تھی۔

    اس وقت فارسی پڑھنے کی فیس چار آنے اور سندھی پڑھنے کی ایک آنہ مقرر تھی، تاہم اسی سال یعنی 1854ء میں سندھی زبان کی تعلیم کو مفت قرار دے دیا گیا تھا ۔ آج یہ تاریخی ادارہ، اپنے ماضی کےمعیار کو برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح سندھ مدرسۃ الاسلام کا شماربھی کراچی کے قدیم اور معتبر علمی مراکز میں ہوتا ہے۔

    اس ادارے کی بنیاد یکم ستمبر 1885ء کو معروف ماہر تعلیم اور سماجی رہنما حسن علی آفندی نے رکھی تھی۔ یہ ادارہ نہ صرف کراچی کی علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہے بلکہ اسے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی مادرِ علمی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 

    سندھ مدرسۃ الاسلام سے فیض یاب ہونے والوں میں قائد اعظم محمد علی جناح کے علاوہ سر عبد اللہ ہارون، سر شاہنواز بھٹو، سر غلام حسین ہدایت اللہ خان، ایوب کھوڑو، شیخ عبدالمجید سندھی، علامہ آئی آئی قاضی، محمد ہاشم گزدر، غضنفر علی خان، چودھری خلیق الزماں، ڈاکٹر عمر بن محمد دائود پوتہ، محمد ابراہیم جویو، جسٹس سجاد علی شاہ، قاضی محمد عیسیٰ، رسول بخش پلیجو، اے کے بروہی، علی احمد بروہی، پیر الٰہی بخش، سمیت بے شمار اہلِ علم، شعرا، ادبا، وکلا اور سیاست دان شامل ہیں۔

    یہ ادارہ ایک زمانے میں علم و شعور کی ایسی نرسری اور روشنی کا مینار تھا جس نے اپنے شاگردوں کے ذریعے ملک اور بیرونِ ملک پاکستان کا نام روشن کیا۔ آج اس عظیم درس گاہ سے ویسی قد آور اور ہمہ جہت شخصیات کم ہی عالمی سطح پر اس ادارے کی سابقہ روایات کو دوبارہ اُجاگر کر رہی ہیں۔

    سینٹ پیٹرک اسکول و کالج،ایک مشہور رومن کیتھولک درسگاہ ہے۔ اس تعلیمی ادارے کا قیام 16 جنوری 1861کو ہوا، یہاں سے ملک کی کئی نمایاں شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ ان میں سابق آرمی چیف اور صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، صدر آصف علی زرداری اورمعروف بیوروکریٹ عبدالکریم لودھی شامل ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

     ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کراچی کا شمار شہر کے قدیم تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، آج بھی یہ شہر کے تعلیمی اُفق پر ایک درخشاں نام ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1887ء میں سندھ کے ممتاز ہندو وکیل، مخیر شخصیت اور سماجی رہنما سیٹھ دیارام جیٹھ مل نے رکھی۔ ابتدا میں یہ ادارہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ٹھٹھائی کمپاؤنڈ کے ایک گھر میں قائم کیا گیا تھا۔ 

    طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسی سال 14 نومبر 1887ء کو اس کی موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ کراچی اور سندھ کے ممتاز تعلیمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ اس درسگاہ کے فارغ التحصیل طلبا میں سندھ کے ممتاز رہنما غلام حسین ہدایت اللہ، بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمن، محسنِ پاکستان اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ممتاز نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر بدر الاسلام اور امریکی خلائی ادارے ناسا سے وابستہ سائنسدان شیخ لیاقت حسین جیسے نام نمایاں ہیں۔

    اسی ادارے سے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل آصف نواز جنجوعہ، ایئر مارشل عظیم داؤد پوتہ، سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو، معروف سیاستدان امداد علی بھٹو اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی تعلیم حاصل کی۔

    سماجی خدمت اور طب کے میدان میں بھی اس ادارے کے فارغ التحصیل افراد نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی (سربراہ SIUT) اور طبی تعلیم کے شعبے کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر ایف یو بقائی بھی اسی ادارے کی علمی روایت کی نمائندہ شخصیات ہیں۔

    سیاسی و سماجی میدان میں محمود اے ہارون، مظفر حسین شاہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو، نثار کھوڑو، سابق وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ، تاج حیدر، نثار میمن اور جاوید سلطان جاپان والا جیسے رہنما بھی اسی ادارے سے وابستہ رہے۔

    علم و ادب کی دنیا میں بھی ڈی جے کالج کا کردار نہایت روشن ہے۔ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، نامور محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، سابق پرنسپل ایس ایم سائنس کالج پروفیسر حشمت اللہ لودھی، ممتاز سندھی شاعر شیخ ایاز اور معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر انیتا غلام علی جیسے نام اسی علمی روایت کی تابناک کڑیاں ہیں۔

    کھیل کے میدان میں بھی اس ادارے کے طلبہ نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ قومی ہاکی ٹیم کے نامور کھلاڑی حسن سردار، منور الزماں، شاہد علی خان اور صفدر عباس اسی ادارے کی تعلیمی و تربیتی فضا میں پروان چڑھے۔ یہ تمام شخصیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈی جے کالج صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی درسگاہ ہے جس نے معاشرے کے مختلف شعبوں میں قیادت، علم اور خدمت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔

    1960 کی دہائی میں بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی ذاتی کاوشوں، عزم اور مالی وسائل سے کراچی میں اردو کالج کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد صرف ایک تعلیمی درسگاہ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی فکری تحریک کو جنم دینا تھا جس کے ذریعے اردو زبان میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے جا سکیں۔

    مولوی عبدالحق اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوم کی فکری اور علمی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب طلبہ کو اپنی قومی زبان میں علم حاصل کرنے کا موقع میسر ہو۔اردو کالج کے قیام کے بعد یہ ادارہ جلد ہی کراچی کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں نہ صرف تدریسی معیار کو فروغ دیا گیا بلکہ ادبی و فکری سرگرمیوں کی بھی بھرپور روایت قائم ہوئی۔

    اس ادارے سے فارغ التحصیل بے شمار طلبہ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،تاہم بظاہر تو ادارہ اپنی عمارتوں اور انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے پھیلتا اور ترقی کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر تعلیمی معیار اور علمی شخصیات کے حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں میں کوئی ایسا بڑا نام سامنے نہیں آ سکا جو اس ادارے کی سابقہ علمی روایت کے تسلسل کا بھرپور مظہر ہو۔ اس ادارے کی بنیادی روح اور مقاصد کو دوبارہ زندہ کیا جائے تاکہ یہ درسگاہ ایک بار پھر علم و تحقیق کا فعال مرکز بن سکے۔

    عبداللہ ہارون کالج لیاری بھی کراچی کے اہم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ لیاری کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر میں قائم یہ کالج ایک زمانے میں علمی اور فکری بیداری کا نمایاں مرکز رہا ہے۔ یہاں برصغیر کے عظیم ترقی پسند شاعر اور دانشور فیض احمد فیض نے تدریسی خدمات انجام دی تھیں۔

    عبداللہ ہارون کالج نے صرف رسمی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ میں شعور، فکر اور سماجی آگہی کو بھی فروغ دیا۔ اس ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ ادب، صحافت، سماجی خدمات اور سرکاری و نجی اداروں میں نمایاں عہدوں پر فائز ہوئے۔ یہ کالج لیاری کے نوجوانوں کے لیے علم، آگہی اور سماجی شعور کا ایک مضبوط مرکز ثابت ہوا۔

    این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بھی کراچی کا ایک تاریخی اور ممتاز تعلیمی ادارہ ہے۔سکھر بیراج کی تعمیر کے عظیم منصوبے کے دوران ماہر اور تربیت یافتہ انجینئرز کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1921ء میں پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج کی بنیاد رکھی گئی۔

    اس ادارے کا بنیادی مقصد ایسے قابل اور ہنر مند سول انجینئرز تیار کرنا تھا جو سکھر بیراج جیسے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ 1924ء میں اس ادارے کو معروف سماجی و کاروباری شخصیت نادر شاہ ایڈولجی ڈنشا کے ورثاء کی جانب سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کا خطیر عطیہ موصول ہوا۔ اس مالی معاونت کے اعتراف میں کالج کا نام تبدیل کر کے این ای ڈی گورنمنٹ انجینئرنگ کالج رکھ دیا گیا۔

    قیامِ پاکستان سے قبل1947ء تک، یہ ادارہ برطانوی دورِ حکومت میں کئی برسوں تک بمبئی یونیورسٹی سے منسلک رہا۔ اس وابستگی کے باعث انجینئرنگ تعلیم کو علمی اعتبار اور معیار کے لحاظ سے برصغیر میں ایک ممتاز مقام حاصل رہا۔ اس ادارے نے پاکستان کو بے شمار قابل انجینئر، سائنس دان اور ماہرین فراہم کیے ،نہ صرف یہ بلکہ سیاست، تعلیم، کھیل اور کاروبار سمیت مختلف میدانوں میں قابل اور باصلاحیت افراد پیدا کیے ہیں۔

  • سوال کئی جواب ندارد

    سوال کئی جواب ندارد

    تعلیم گاہیں ہمیشہ سے معاشرے کی تعمیر کا مرکز رہی ہیں۔ یہاں صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور شعور کی آبیاری بھی کی جاتی ہے۔ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا، اس کے سامنے سر جھکانا عزت کی علامت سمجھا گیا۔ لیکن اب اس مقدس رشتے میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

    جب استاد ہی اعتماد توڑنے لگیں، جب رہنما ہی راہزن بن جائیں، تو پھر شاگرد کہاں جائیں؟حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنےکے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، وہ نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ ہمارے پورے تعلیمی نظام خاص طور پر اساتذہ کے کردار پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔

    گریڈز اور نمبروں کے بدلے استحصال کی کہانیاں اب محض افواہیں نہیں رہیں بلکہ تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ کہیں ویڈیو اسکینڈلز ہیں، کہیں کردار کشی کے حربے، اور کہیں خاموشی کی زنجیریں، جو متاثرہ طالبات کو بولنے نہیں دیتیں۔

    ایسی ہی ایک تازہ مثال اپریل کے اوائل میں میرپورخاص کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع محمدی میڈیکل کالج کی ہے، جہاں 21 سالہ طالبہ فہمیدہ لغاری نے خودکشی کر کےزندگی کے بکیھڑوں سے آزاد ہو گئی۔ یہ محض ایک افسوس ناک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

    یہ سانحہ ایک معصوم جان کے ضیاع سے کہیں بڑھ کر، مقدس پیشے پر لگنے والا سنگین الزام، ایک معاشرتی چیخ، اور تعلیمی اداروں میں عدم تحفظ کا کھلا اعتراف ہے۔ وہ ادارے جو علم، شعور اور کردار سازی کے مراکز سمجھے جاتے ہیں، آج طالبات کے لیے خوف، استحصال اور بے بسی کی علامت بنتے جا رہے ہیں، بعض واقعات میں طالبات کے ہی نہیں والدین کے اعتماد کوٹھیس پہنچی۔

    یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جو وقفے وقفے سے سامنے آنے والے واقعات کے ذریعے سچ ثابت ہورہی ہے۔ فہمیدہ لغاری کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، معلومات کے مطابق فہمیدہ ایک استاد اور چند طلبہ کی جانب سے ہراسگی کا شکار تھی، جس کی شکایت اُس نے کالج انتظامیہ سے کئی بار کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی، نہ صرف یہ بلکہ اُستاد کی جانب سے ایک دھمکی آمیز وائس نوٹ بھی آیا، جس کے بعدفہمیدہ نے اپنی زندگی کی ڈور اپنے ہاتھوں کاٹ دی مگراپنے پیچھے کئ سوال چھوڑ گئی۔ 

    ان واقعات کی شدت اورنوعیت کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم کا مقدمہ بنا دیتی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق طالبہ فہمیدہ کو مبینہ طور پر کالج کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ کے ایک گروہ کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔ الزام ہے کہ اسے بلیک میل کیا گیا، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کردار کشی کی گئی، اور جب اس نے شکایت کی کوشش کی تو اسے انصاف کے بجائے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ طالبہ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد بار کالج انتظامیہ کو شکایات کیں، مگر کارروائی کرنے کے بجائے اسے ہی شکایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا، یہاں تک کہ داخلہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین ادارہ جاتی جرم ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست انتظامیہ، خصوصاً پرنسپل پر عائد ہوتی ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد ایک طے شدہ ردعمل دیکھنے میں آتا ہے: تعزیتی بیانات، نوٹس لینے کے اعلانات، انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل، اور پھر وقت کے ساتھ سب کچھ سرد خانے کی نذر ہو جانا۔

    اس کیس میں بھی صوبائی حکام کی جانب سے نوٹس لینے اور تحقیقات کے اعلانات سامنے آئے، مگر جن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، اُن میں سے کچھ قانون کی گرفت میں آئے، تادم تحریر سب ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔ اس صورتحال سے عوام کے ذہنوں میں ایک ہی سوال آتا ہے،کیا یہ واقعہ بھی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟

    یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل 2017 میں اسی کالج سے ایک طالبہ کی لاش ملی تھی ،جس نےہاسٹل کی چھت سے کود کر خود کشی کی تھی ۔گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں ایسے متعدد واقعات منظر عام پر آچکے ہیں، لاہور میں ایک طالبہ کی پراسرار موت، ملتان میں ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ، بہاولپور یونیورسٹی کیس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں پے در پے، طالبات کی خودکشی کے واقعات نے پریشان ہی نہیں کیا، یہ بھی اندازہ ہوا کہ ہمارے تعلیمی ادارے تو اپنے بچوں کو تحفظ دینے میں یک سر ناکام ہیں، خصوصا طالبات، جنہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور ہراساں کرنے والے غیر نہیں اُسی ادارے کے اساتذہ یا طلبا ہوتے ہیں، مگر ان میں سے کتنے مقدمات منطقی انجام تک پہنچے؟ کتنے مجرموں کو سزا ملی؟ اور کتنے اداروں کے سربراہان کو جواب دہ ٹھہرایا گیا؟یہی وہ سوالات ہیں جو ہمارے تعلیمی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں۔

    حال ہی میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سینٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2021ء سے 2025ء کے دوران اسلام آباد میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کے سلسلے میں 222 افراد کو گرفتار کیا گیا، لیکن صرف 12 کو سزا سنائی گئی، جب کہ 163 مقدمات زیر سماعت ہیں، 15 کو بری کر دیا گیا، اور 26 افراد ابھی تک گرفتار ہی نہیں ہوئے۔ گویا 5 سال کے دوران 222 میں سے صرف 12 ورثاء کو انصاف مل سکا جن کے لخت جگروں سے معاشرے نے جینے کا حق چھننے کی کوشش کی۔

    ایک عام انسان، جو بااثر نہیں، غریب ہے، یا وائٹ کالر ہے اس ملک میں وہ کیسے زندہ رہے، وہ بچوں کو تعلیم کیسے دلائے بچہ گلی میں محفوظ نہیں اور بچی درسگاہ میں خوف زدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرائم دیدہ دلیری سے ہو رہے ہیں، مجرموں کو یقین ہے کہ وہ بچ نکلیں گے، یہی یقین جرائم کو تقویت دیتا اور عام انسان کو اداروں اور ریاست پر سے اعتماد ختم کر کے احساس محرومی دلاتا ہے یہ ملک و معاشرے کے لیے خطرے ناک صورت حال ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ہراسانی کے زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

    اس کی بنیادی وجہ خوف ہے، بدنامی کا خوف، مستقبل تباہ ہونے اور انصاف نہ ملنے کا خوف۔ فہمیدہ لغاری کا واقعہ اسی خوف کی انتہا ہے، جہاں ایک طالبہ نے زندگی کے بجائے موت کو آسان راستہ سمجھ لیا۔ اگر اُسے اپنےادارے اور معاشرے پر اعتماد ہوتا تو وہ کبھی انتہائی اقدام نہ اٹھاتی۔

    یہ نظام پر مایوسی کی انتہا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر تعلیمی ادارے میں اساتذہ اور طلبہ کا ایک گروہ کسی طالبہ کو مسلسل ہراساں کر رہا تھا، تو کیا یہ سب کچھ تنہائی میں ہو رہا تھا یا اس کے پیچھے ایک ایسا ماحول تھا جہاں خاموشی کو ہی پالیسی بنا لیا گیا ہےاور جہاں طاقتور افراد کو غیر اعلانیہ تحفظ حاصل ہے۔

    یہ معاملہ کسی ایک ادارے یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب شکایات کو دبایا جائے، متاثرین کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جائےاور طاقتور احتساب سے بالاتر ہو جائیں، تو ایسے واقعات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فہمیدہ لغاری کے مقدمے کو ایک مثال بنایا جائے۔ شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کی جائیں۔ اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داران کو عبرت کا نشان بنایا جائے، تاکہ آئندہ کسی کو اپنے منصب کے ناجائز استعمال کی جرات نہ ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ایسا نظام جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ ہو بلکہ طلبہ اور والدین کا اعتماد حاصل کر سکے۔ شکایات کے اندراج کے لیے محفوظ اور خفیہ طریقہ کار ہواور متاثرہ افراد کو مکمل قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔ طلبہ یونینز کی بحالی بھی اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔

    جہاں طلبہ کو نمائندگی اور آواز ملتی ہے، وہاں ناانصافی کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یونینز پر پابندی نے طلبہ کو بے آواز کر دیا ہے، جس کا فائدہ ایسے عناصر اٹھاتے ہیں جو احتساب سے بچنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمیں بطور معاشرہ اپنی ترجیحات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ ہم نے تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں دینے والی فیکٹریاں بنا دیا ہے، جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

    جب تعلیم کا مقصد صرف معاشی دوڑ بن جائے تو انسانی اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ فہمیدہ لغاری کا مقدمہ ہم سب کے لیے ایک آزمائش ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اسے بھی دیگر واقعات کی طرح وقت کے ساتھ بھلا دیں گے یا ایک کیس بنا کر اپنے نظام کو درست کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں گے۔ اگر اس بار بھی ہم خاموش رہےتو کل کوئی اور فہمیدہ اسی طرح اپنی جان دے دے گی اور ہم چند دن شور مچا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیں گے۔

  • جامعہ کراچی میں مبینہ غیرقانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی تحقیقات، حکام سے جواب طلب

    جامعہ کراچی میں مبینہ غیرقانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی تحقیقات، حکام سے جواب طلب

    سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایس ایچ ای سی) نے کراچی یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز کی تحقیقات کا اعلان کر دیا۔

    ڈان نیوز کے مطابق تحقیقات کے لیے 3 سینئر ترین تعلیمی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے چیئرمین وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن، وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی اور دیگر حکام سے جوابات طلب کر لیے۔

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی ( پی اے سی) نے جامعہ کراچی میں خلاف قانون و خلاف ضابطہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کرانے کے انکشاف پر سیکریٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

    جامعہ کراچی کے ہیلتھ، فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس ڈپارٹمنٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین کے برخلاف ’فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس‘ اور ’فزیکل تھراپی‘ میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کرایا جا رہا ہے۔

    فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس اور فزیکل تھراپی، فزیو تھراپی کے شعبے ہیں، جن میں اعلیٰ ڈگریاں فزیالوجی فیکلٹی کے تحت کرائی جا رہی ہیں۔

    قوانین کے مطابق کسی بھی موضوع پر ایم فل یا پی ایچ ڈی اسی شعبے کے پی ایچ ڈی ماہرین ہی کرا سکتے ہیں، کراچی یونیورسٹی میں’ فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنس’ میں کرائی جانے والی ایم فل اور پی ایچ ڈی کرانے والے پروفیسرز کا تعلق غیر متعلقہ شعبوں سے ہے۔

    پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر باسط انصاری فزیالوجی میں پی ایچ ڈی، جب کہ ان کے ماتحت پروفیسر شاہ علی القدر کیمیکل بائیو کیمسٹری، پروفیسر انیلا ملک امبر سائیکولاجی اور پروفیسر حارث شعیب فارماسيوٹیکل میں پی ایچ ڈی ہیں۔

    دوسری جانب ’فزیکل تھراپی‘ میں کرائی جانے والی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سربراہ ڈاکٹر باسط انصاری اور ان کے دونوں ٹیم ممبرز ڈاکٹر صدف اور ڈاکٹر فیضان مرزا فزیالوجی میں پی ایچ ڈی ہیں۔

  • وفاقی تعلیمی بورڈ کا نیا گریڈنگ سسٹم متعارف، پاسنگ مارکس بڑھاکر 40 فیصد کر دیے

    وفاقی تعلیمی بورڈ کا نیا گریڈنگ سسٹم متعارف، پاسنگ مارکس بڑھاکر 40 فیصد کر دیے

    فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے پاسنگ مارکس کو موجودہ 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا ہے، ساتھ ہی ایک نیا گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیا نظام اگلے سال سے سالانہ امتحانات میں نافذ کیا جائے گا۔

    ایف بی آئی ایس ای کے ایک عہدیدار کے مطابق فی مضمون موجودہ پاسنگ مارکس 33 فیصد ہیں لیکن اگلے سال سے 40 فیصد کو پاسنگ مارکس تصور کیا جائے گا۔

    ایف بی آئی ایس ای نے اپنے پرانے گریڈنگ سسٹم (اے، بی، سی، ڈی، ای) میں بھی تبدیلی کی ہے اور اس کی جگہ نئی کارکردگی کے اشاریے متعارف کرائے ہیں، جن کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے، پرانے نظام میں صرف 5 گریڈ تھے، جب کہ نئے نظام میں دس درجات (گریڈیشنز) شامل کیے گئے ہیں۔

    یہ اقدام گزشتہ ماہ اسلام آباد میں انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق نظرِ ثانی شدہ گریڈنگ سسٹم پہلے سالانہ امتحانات 2026 سے سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ (ایس ایس سی-I ) اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ-I (ایچ ایس ایس سی-I ) کی سطح پر نافذ العمل ہوگا، جب کہ ایس ایس سی-II اور ایچ ایس ایس سی-II کی سطح پر یہ نظام 2027 کے پہلے سالانہ امتحانات سے نافذ العمل ہوگا۔

    نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ وہ طلبہ جو 96 فیصد سے 100 فیصد نمبر حاصل کریں گے، انہیں ++A گریڈ دیا جائے گا، جسے غیر معمولی (Extraordinary) قرار دیا گیا ہے، اسی طرح 91 فیصد سے 95 فیصد تک نمبر لینے والوں کو +A گریڈ اور بہت اعلیٰ کیٹیگری (Exceptional) میں رکھا جائے گا۔

    جو طلبہ 86 فیصد سے 90 فیصد نمبر حاصل کریں گے، انہیں A گریڈ دیا جائے گا، جسے نمایاں (Outstanding) کیٹیگری کہا گیا ہے۔

    اسی طرح 81 فیصد سے 85 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو ++B گریڈ دیا جائے گا، جسے بہترین (Excellent) قرار دیا گیا ہے، جب کہ 76 فیصد سے 80 فیصد تک نمبر لینے والوں کو +B گریڈ (Very Good) اور 71 فیصد سے 75 فیصد والوں کو B گریڈ (Good) دیا جائے گا۔

    61 فیصد سے 70 فیصد والے طلبہ کو +C گریڈ دیا جائے گا، جسے کافی اچھا (Fairly Good) کہا گیا ہے، جب کہ 51 فیصد سے 60 فیصد والے C گریڈ حاصل کریں گے جو اوسط سے بہتر (Above Average) کیٹیگری میں شمار ہوگا۔

    جو طلبہ 40 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان نمبر حاصل کریں گے، انہیں D گریڈ دیا جائے گا، جسے ابھرتا ہوا (Emerging) درجہ دیا گیا ہے۔

    ایف بی آئی ایس ای کے ایک عہدیدار کے مطابق آئی بی سی سی کے اجلاس میں ملک کے تمام تعلیمی بورڈز نے اس نئے گریڈنگ سسٹم اور پاسنگ مارکس فارمولا کو اپنانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا تمام بورڈز اسے عملی طور پر نافذ بھی کریں گے یا نہیں۔