Category: تعلیم

  • خیبر پختونخوا کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان

    خیبر پختونخوا کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی جامعات (یونیورسٹیوں) اور کالجوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

    اس سلسلے میں محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز نے تفصیلی اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

    محکمے کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، صوبے کے گرم علاقوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی چھٹیاں 15 جون سے 31 اگست تک ہوں گی۔

    دوسری جانب، سرد علاقوں (ونٹر زون) کے کالجوں اور جامعات میں یہ تعطیلات یکم جولائی سے 31 جولائی تک ہوں گی۔

    انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ان چھٹیوں کا اطلاق صوبے کے تمام سرکاری و نجی کالجوں، یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں پر یکساں ہوگا۔

    تاہم اعلامیے میں طلبا کے تعلیمی حرج کو بچانے کے لیے اہم وضاحت کی گئی ہے کہ یونیورسٹیوں کا چار سالہ بی ایس (BS) پروگرام اپنے مقررہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق بنا کسی تعطل کے جاری رہے گا۔

    اس کے علاوہ، پہلے سے طے شدہ تمام امتحانات اور پریکٹیکلز بھی اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور ان پر چھٹیوں کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

  • گلگت بلتستان الیکشن:سرکاری تعلیمی اداروں میں 2 چھٹیوں کا اعلان

    گلگت بلتستان الیکشن:سرکاری تعلیمی اداروں میں 2 چھٹیوں کا اعلان

    انتخابات کے پیش نظر گلگت بلتستان کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں 2 دن کے لیے تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔

    حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا عرس:کراچی میں 8 جون کو چھٹی کا اعلان

    چیف سیکریٹری جی بی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو سرکاری تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے بیشتر اسکولوں اور کالجوں میں پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے گہما گہمی بھی جاری ہے۔پولنگ اتوار کو ہوگی۔

  • بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کیلئے اہم انتباہ جاری

    بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کیلئے اہم انتباہ جاری

    ایچ ای سی نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لئے ایک اہم عوامی انتباہ جاری کردیا۔

    ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیرونِ ملک کسی بھی جامعہ میں داخلہ لینے سے قبل پروگرام کے منظور شدہ طریقہ تعلیم کی مکمل تصدیق کریں، خواہ وہ آن کیمپس، آن لائن یا بلینڈڈ لرننگ ہو۔

    ایچ ای سی نے ڈگری تصدیق کے لیے آن لائن نظام متعارف کرادیا

    کمیشن نے زور دیا کہ طلبہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ متعلقہ پروگرام کا طریقہ تعلیم متعلقہ ملک کے ریگولیٹر یا ایکریڈیٹر سے منظور شدہ ہو اور اگر پروگرام میں جسمانی حاضری یا رہائش کی شرط موجود ہو تو اسے بھی مکمل کیا جائے۔

    ایڈوائزری کے مطابق ہر غیر ملکی ڈگری کےمساوی کی درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے، اس عمل کے دوران جامعہ کی قانونی حیثیت، پروگرام کی منظوری، تعلیم کے طریقہ کار، دورانیے اور دیگر متعلقہ شرائط کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔

    ایچ ای سی نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک داخلہ لینے سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی اور پروگرام کی منظوری، ایکریڈیٹیشن اور تدریسی طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں تاکہ مستقبل میں ڈگری کی مساوی یا شناخت کے حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    ایچ ای سی کا بلوچستان کے ہونہار طلبا کیلئے اسکالرشپش کا اعلان

    کمیشن کے مطابق غیر ملکی ڈگریوں کے مساوی کے لئے درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ اس کے انفرادی میرٹ اور مقررہ ضوابط کے مطابق کیا جاتا ہے۔

  • سندھ نے اسکالرشپ پر مبنی بلاک چین اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا

    سندھ نے اسکالرشپ پر مبنی بلاک چین اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کر دیا

    سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (شیڈ) نے اپنے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹریٹجک پلاننگ کے تحت صوبے بھر کے یونیورسٹی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پر مبنی بلاک چین اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    ‘سندھ بلاک چین اسکلز ڈویلپمنٹ انیشیٹو’ کے تحت سندھ ایچ ای سی منتخب طلبہ کو 85 فیصد اسکالرشپ فراہم کرے گی، جس کے بعد طلبہ کو مجموعی طور پر 33,300 روپے کے اس پروگرام کے لیے اپنی جیب سے صرف 5,000 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

    پروگرام کے اعلامیے کے مطابق اس تربیتی پروگرام کے لیے سندھ کی چار ممتاز جامعات کو پارٹنر اداروں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے جن میں این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشور و اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی شامل ہیں۔

    اس اقدام کے تحت صوبے بھر سے 160 طلبہ کو منتخب کر کے بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل جدت طرازی میں عملی اور انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی۔

    اس تربیتی نصاب میں بلاک چین کے بنیادی اصول، بلاک چین سیکیورٹی، ڈی سینٹرلائزڈ ایپلی کیشنز، کرپٹو کرنسی، اسمارٹ کانٹریکٹس اور اسمارٹ کانٹریکٹ ڈویلپمنٹ کی عملی تربیت شامل ہے۔

  • علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی:سمسٹر خزاں کے داخلوں کا شیڈول جاری

    علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی:سمسٹر خزاں کے داخلوں کا شیڈول جاری

    میٹرک سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک تمام تعلیمی پروگرامز میں داخلوں کا آغاز یکم جولائی 2026ء سے ملک بھر میں بیک وقت ہوگا۔ داخلوں کی یہ سہولت چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور شمالی علاقہ جات میں بھی دستیاب ہوگی۔

    دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور انٹرنیشنل طلبہ کے لئے بھی مختلف سطح کے تعلیمی پروگرامز آفر کئے جارہے ہیں ۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام پروگرامز کے داخلہ فارم اور پراسپکٹس یکم جولائی سے یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب ہوں گے تاکہ طلبہ گھر بیٹھے آسانی سے اپلائی کر سکیں۔

    طلبہ کی مؤثر رہنمائی اور معاونت کو یقینی بنانے کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے ملک بھر میں قائم یونیورسٹی کے 53 علاقائی دفاتر کے ناظمین کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    اوپن یونیورسٹی،ماسٹر پروگرامز کے امتحانات کی ڈیٹ شیٹ جاری

    ہدایات کے مطابق داخلوں کے آغاز سے قبل تمام علاقائی کیمپسز میں سٹوڈنٹ فیسلیٹیشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے، اِن ڈیسک پر طلبہ کو داخلے کے عمل سے متعلق مکمل راہنمائی فراہم کی جائے گی جبکہ آن لائن اپلائی کرنے میں مدد کے لئے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مفت سہولت بھی دستیاب ہوگی۔

    یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اِس اقدام کا مقصد تعلیم تک رسائی کو مزید آسان بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات کے ساتھ بہتر راہنمائی فراہم کرنا ہے۔

  • سندھ میں طلبا کے لیے مفت اے آئی سمر کیمپ کا اعلان

    سندھ میں طلبا کے لیے مفت اے آئی سمر کیمپ کا اعلان

    گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران طلبہ کے لیے مفت آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سمر کیمپ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

    گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت طلبہ کو بغیر کسی فیس کے عملی بنیادوں پر اے آئی کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ جو بچے موبائل فون استعمال کرنا جانتے ہیں وہ مناسب رہنمائی کے ساتھ آسانی سے اے آئی بھی سیکھ سکتے ہیں۔

    اس موقع پر وزیر مملکت اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی فہد ہارون، دانیال ناگوری اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ابتدائی سطح پر ٹیکنالوجی سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم، تحقیق اور مہارتوں کی ترقی پر ابتدائی عمر سے سرمایہ کاری کرتے ہیں، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر آگے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد صرف ملازمت کے خواہش مند افراد تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان پیدا کرنا ہے جو خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کی سطح پر اے آئی اور جدید مہارتوں کا تعارف طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گا اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔

    پریس بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سمر کیمپ میں شرکت کے خواہشمند طلبہ گورنر سندھ کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔

    یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کے لیے تیار کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اب ارشد کے انصاف کی جنگ بھی ہمیں اکیلا لڑنا پڑرہی ہے سوشل میڈیا پر بہت لوگ آواز اٹھاتے ہیں لیکن آخر میں خاندان کو ہی سب کچھ اکیلے کرنا پڑتا ہے

    اب ارشد کے انصاف کی جنگ بھی ہمیں اکیلا لڑنا پڑرہی ہے سوشل میڈیا پر بہت لوگ آواز اٹھاتے ہیں لیکن آخر میں خاندان کو ہی سب کچھ اکیلے کرنا پڑتا ہے

    ارشد شریف شہید پاکستان کی تحقیقاتی صحافت کا بڑا نام تھے جن کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔ جس طرح سے انکو مئی 2022 میں دھمکیاں آنا شروع ہوئیں اس ہی طرح انکو اکتوبر 2022میں قتل کیا گیا۔ ان کا قتل تو کینیا میں ہوا لیکن اسکی کڑیاں پاکستان اور دئبی سے جاملتی ہیں۔ ارشد شریف ناصرف مایہ ناز صحافی تھے بلکے ایک شاندار انسان تھے۔

    انہوں نے ناصرف کرپشن کا پردہ چاک کیا اس کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ وہ بہت خدا ترس اور عاجزی انکساری والے انسان تھے۔ جتنا کمایا اتنا ہی فلاحی کاموں میں لگا دیا انکو نمودونمائش کا کوئی شوق نہیں تھا بہت سادگی پسند تھے اپنے پیچھے کوئی جہاز فارم ہاوس نہیں چھوڑ کرگئے۔ تاہم ایسے بہت سے کام کرکے گئے جو بطور صدقہ جاریہ تاقیامت انکو ثواب دیں گے اور حق گویائی اور سچائی آگے آنے والی نسلوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔

    ارشد کا قصور کیا تھا صرف سچ بولنا یا کرپشن کو برا سمجھنا۔ اس کو مار کو صحافی برادری کو کیا پیغام دیا گیا ہے کہ چپ رہو اور سچ نا بولو۔ اس کے بہیمانہ قتل کی تصاویر جان کر پھیلائی گئ تاکہ ہم لواحقین زندہ درگور ہوجائیں اور صحافی ڈر کر چپ ہوجائیں۔

    اب ارشد کے انصاف کی جنگ بھی ہمیں اکیلا لڑنا پڑرہی ہے سوشل میڈیا پر بہت لوگ آواز اٹھاتے ہیں لیکن آخر میں خاندان کو ہی سب کچھ اکیلے کرنا پڑتا ہے سو ہم کررہے ہیں کیونکہ ارشد کا چلے جانا ہمارا سب سے بڑا نقصان ہے۔

    ارشد بہت محنتی تھے انکو کام کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ سب کام پر فوکس رہتے جب انکو آف ائیر کروادیا گیا تو وہ اپنے کام کو بہت مس کیا کرتے تھے۔ آخری دم تک پرامید تھے کہ وہ اس ملک میں انقلاب لے آئیں گے اور اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ پر ایسا نہیں ہوا آج بھی اس ملک میں سب ویسا ہے۔ لوگ آٹے کے لئے دھکے کھا رہے ہیں مہنگائی عروج پر ہے اور کرپشن بھی ویسے ہی ہورہی ہے۔

    عوام دھکے کھارہے ہیں اور اشرافیہ یورپ کی سیر کررہے ہیں۔
    ارشد تم کبھی کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں اترے تم تو بہت متوازن صحافت کرتے تھے۔ کبھی کسی کی تذلیل نہیں کی تم صرف حقائق پر بات کرتے تھے۔ کیا اس ملک سے محبت کرنا جرم تھا جو تم پر سولہ ایف آئی آئی آرز ہوگی۔
    تم کتنا رنجیدہ ہوئے تھے اور تم ہر مشکل کا مقابلہ کررہے تھے۔ تمام نے صدر پاکستان عارف علوی کو خط لکھا تم نے چیف جسٹس کو خط لکھا خود کو ملنے والی دھکمیوں کے بارے میں بتایا لیکن کسی نے تمہیں انصاف نہیں دیا تمہیں آف ائیر کردیا گیا کوئی کچھ نہیں بولا۔

    جب لوگوں کو پاکستان میں اغوا کرکے برہنہ کرکے مارپیٹ شروع ہوئی تو تم نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ تمہاری امیگریشن کاونٹر والی تصویر جان بوجھ کر پھیلائی گئ کچھ صحافیوں نے سوشل میڈیا صارف نے وہ تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے تمہارا میرا مذاق اڑایا گیا۔ تمہیں ملنے والی دھکمیوں کا مذاق بنایا گیا۔ تم  پہلے یو اے ای گئے پھر کینیا آئے جہاں ارشد کو بہیمیانہ طور پر قتل کردیا گیا۔

    مجھے پاکستان کی ریاست سے یہ گلہ ہے کرپشن کا پردہ چاک کرنے والوں پر سولہ ایف آئی آرز کردی جاتی ہیں اور کرپشن کرنے والو کو این آر او مل جاتے ہیں۔ ارشد کا کیا جرم تھا یہ ہی کہ وہ بہادر تھے سچ بولتے تھے اورمجھے حکومت کینیا سے بہت گلہ ہے کہ ایک صحافی جو جان بچا کر ان کے ملک میں عارضی پناہ لئے ہوئے تھا اسکو تحفظ نہیں دیا گیا اور اسکو یوں مار دیا گیا۔

    جبکہ وہ غریب الوطن تھا نہتا تھا اور اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے دوسرے ملک میں عارضی پناہ لینے پر مجبور تھا۔  اس نے کبھی اسائلم اور زیزڈنسی کے لئے اپلائی نہیں کیا۔
    ارشد شریف کون تھا ارشد اعلی تعلیم یافتہ صحافی تھا اسکو اردو انگریزی پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ 1973 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔
    تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑھے اور سپورٹس بیت بازی اور تقاریر میں بھی انعامات جیتے۔

    اس کے والد محمد شریف نیوی کے اعلی پایہ کے آفیسر تھے اسکی والدہ رفعت آرا اعلی تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار خاتون جن کی ساری زندگی بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزرگئ۔ انکی مہمان نواز اور سیلقہ سارے خاندان میں مشہور ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا اشرف شریف شہید بھی پاک آرمی میں اس وطن عزیز پر قربان ہوگیا اب بڑا بیٹا بھی سچ کی راہ میں شہید ہوگیا۔

    وہ صبر اور ہمت کی مثال ہیں۔ ارشد شریف اعلی تعلیم کے آئیرلینڈ گئے اور اعلی اعزاز کے ساتھ میڈیا اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔پاکستانی نشریاتی اداروں کے ساتھ غیر ملکی خبررساں رائیڑز میں بھی کام کیا۔
    صحافت کے ساتھ ساتھ وہ فوٹوگرافی میں بھی ماہر تھے  نیچر وائلڈ لائف اور پورٹریٹ انکا خاصہ تھے۔ اس کے ساتھ وہ ایک مودب بیٹے پیار کرنے والے شوہر اور شفیق باپ تھے۔

    گھومنے پھرنے ہائکنگ اور ڈائنگ کے دلدادہ تھے۔ مہمان نواز اتنے تھے کہ آج تک ہمارے گھر سے کوئی کھانا کھائے بنا اور تحفے کے بنا واپس نہیں گیا۔ ارشد شریف بہت ملنسار تھے اور بہت مدد کرتے تھے۔ وہ خطیر رقموں کے ساتھ چیریٹی کیا کرتے تھے۔ کبھی کسی کی مدد سے انکار نہیں کیا۔ لاکھوں لوگوں نے انکے جنازے میں شرکت کی آج بھی انکی قبر پر پھول تازہ ہیں اور انکے مداح روز انکی قبر پر جاتے ہیں۔

    ارشد کے جانے نے مجھے توڑ کر رکھ دیا میں ہر وقت روتی رہتی ہوں میرا کام کرنے کا دل نہیں کرتا میری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی۔ گولیاں لگے جسد خاکی والا منظر میرے سامنے آجاتا ہے۔ وہ اتنا معصوم انسان تھے اتنے خدا ترس اس کے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا۔
     اپنے کرئیر کی شروعات سے ہی وہ پاکستان کے بہت سے سیاسی خاندانوں کی کرپشن کا پردہ چاک کررہے تھے اور وہ دستاویزات کے ساتھ بات کرتے تھے۔

    اس لئے انکے دشمنوں میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہمیں بہت دھمکیاں آنا شروع ہوگئی۔
    وہ نا کسی کے دباو میں آتے تھے نا انکو کوئی ڈرا پاتا تھا اس سال جیسے عمران خان کی حکومت کو گرایا گیا اور حکومت شہباز شریف کو دے گئی وہ بہت رنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان کی طاقت ور حلقوں پر تنیقد شروع کردی  اس کے بعد سے انکے لئے حالات اس ملک میں یکسر بدل گئے ان پر سولہ مقدمات ہوگئے اور یہ ایف آئی آرز ملک بھر میں درج ہوئی۔

    میرے اور انکے لئے یہ حالات بہت تکلیف دہ تھے میں بہت پریشان رہنے لگ گئ میری صحت کورونا بہت گرگئ وہ روز کچری جاتے رات کو انکا ٹی وی شو ہوتا۔ وہ اتنا تھک جاتے لیکن پھر بھی ہمت نہیں ہارتے۔ سب حالات کا مقابلہ کیا انکو غدار اور باغی ثابت کرنے کی کوشش کی گئ۔ وہ کوئی اینٹی پاکستان اور اینٹی فورسز نہیں تھے۔ کسی فرد واحد کی کرپشن پر بات کرنا ایک صحافی کا فرض ہے سوال اٹھانا جرم نہیں ہے۔

    ارشد کو دھمکیاں آنا شروع ہوگئیں ان پر چپ رہے کا دباو بڑھنے لگا انکو کہا گیا اگر چپ نہیں ہوئے تو سر میں گولی ماریں گے۔ ہم سب انکی سلامتی کو لے کرپریشان ہوگئے ۔ وہ جب ملک سے نکلے تو انکے پاس زیادہ ویزہ نہیں تھے وہ دبئ میں ہوٹل کے ایک کمرے میں محصور رہے لیکن وہاں کے حکام نے انکو ملک چھوڑنے کا کہا ابھی انکے ویزہ کی معیاد باقی تھی۔

    وہ کینیا چلے گئے جہاں وہ زیادہ تر اپنے میزبان کی طرف سی دی گئی رہائش گاہ میں چھپے رہے کیونکہ انکی جان کو خطرہ تھا۔ پھر جب انکے تھوڑا خوف کم ہوا تو انہوں نے یوٹیوب اور دیگر تحقیقاتی اسٹوریز پر کام کرنا شروع کیا۔ جب انکو کی یوٹیوب سے پہلی آمدنی آئی تو وہ بہت خوش ہوئے انکا چینل یکدم بہت مشہور ہوگیا وہ جب تھوڑا مطمئن ہونے لگے اور ہمیں کہا کہ دسمبر میں واپس آجاو گا تو ان کو بہمیانہ طریقہ سے قتل کیا انکو سرمیں گولی ماری گئ تاکہ وہ بچ ہی نا سکیں۔

    جو انکو دھمکیاں پاکستان میں دی گئی تھیں انہوں نےکینیا میں حققیت کا روپ دھار لیا۔
    میرے شوہر کینیا میں اپنی جان بچاکرگئے تھے وہ زیادہ تر اپنے میزبان کی طرف سے دی گئ رہائش میں محصور رہے۔ کینیا کی پولیس نے صرف انکو کیوں ٹارگٹ کیا۔ انکے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا وہ نہتے تھے انکو قتل کرنے کے پیچھے انہوں نے کس سے پیسے لئے ان پر سولہ ایف آئی آرز کروائی جس دن ان سوالات کے جوابات مل جائیں گے اس دن قاتل بھی مل جائیں گے۔

  • گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے جنگلات کو غیر قانونی کٹائی، بے قابو شہری پھیلاﺅ، ناقص زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، جنگلاتی آگ، حد سے زیادہ چرائی اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے

    گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے جنگلات کو غیر قانونی کٹائی، بے قابو شہری پھیلاﺅ، ناقص زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، جنگلاتی آگ، حد سے زیادہ چرائی اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے

    ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی چیلنجز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن محض ایک علامتی موقع نہیں بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران پر غور کرنے اور فوری اصلاحات کی ضرورت کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ہے۔ پاکستان کو درپیش متعدد ماحولیاتی مسائل میں جنگلات کی تیزی سے تباہی سب سے سنگین مگر مسلسل نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔جنگلات کی مسلسل کٹائی، کمزور حکمرانی اور پالیسیوں کی ناکامی ملک کی ماحولیاتی بقا، معاشی ترقی اور طویل مدتی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔جنگلات فطرت کا ایک نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھتے ہیں، آبی چکروں کو منظم کرتے ہیں، مٹی کے کٹاﺅ کو روکتے ہیں اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔صحت مند جنگلات دیہی معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں، جنگلی حیات کو مسکن فراہم کرتے ہیں اور ماحولیاتی پائیداری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان فوائد کے باوجود پاکستان ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات کا رقبہ نہایت کم یعنی کل زمین کے 6 فیصد سے بھی کم ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے درکار معیار25فیصد سے بہت کم ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے جنگلات کو غیر قانونی کٹائی، بے قابو شہری پھیلاﺅ، ناقص زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، جنگلاتی آگ، حد سے زیادہ چرائی اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔مختلف حکومتوں نے ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کیا، لیکن عملی اقدامات اکثر ناکافی رہے۔ شجرکاری مہمات کو تو میڈیا پر نمایاں کوریج ملتی ہے، مگر جنگلات کے تحفظ اور پائیدار انتظام پر توجہ کم دی جاتی ہے۔اس غفلت کے نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاﺅس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ملک میں شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، غیر متوقع بارشیں اور شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ آفات مزید شدید اور بار بار وقوع پذیر ہوں گی۔پاکستان میں جنگلات کی تباہی کی بڑی وجوہات میں غیر قانونی لکڑی کی کٹائی شامل ہے۔دور دراز پہاڑی علاقوں میں لکڑی مافیا سرگرم ہے جہاں حکومتی نگرانی کمزور ہے۔ قیمتی درخت غیر قانونی طور پر کاٹے جاتے ہیں اور منظم نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی کارکن اور مقامی لوگ طویل عرصے سے اس غیر قانونی سرگرمی پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔کرپشن اور سیاسی مداخلت نے بھی جنگلات کے تحفظ کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔بعض اوقات لکڑی کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کو بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے احتساب مشکل ہو جاتا ہے۔ جب تک حکومتیں سنجیدہ سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کرتیں، جنگلات کے تحفظ کی کوششیں مو ¿ثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔تیز رفتار آبادی میں اضافہ اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع بھی ماحولیاتی بگاڑ کا ایک اہم سبب ہے۔ شہروں کے پھیلاو ¿ کے ساتھ ساتھ جنگلات اور سبز علاقے رہائشی اسکیموں، تجارتی منصوبوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ختم کیے جا رہے ہیں۔ماحولیاتی اثرات کی جانچ (EIA) اکثر محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی قدرتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔یہ صورتحال خاص طور پر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں تشویشناک ہے، جہاں جنگلات پانی کے بہاﺅکو منظم کرنے، زمین کے کٹاﺅ کو روکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان جنگلات کی تباہی نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان علاقوں میں بسنے والے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب ماحولیاتی بدانتظامی کی واضح مثال ہیں۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی نے ان سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا، لیکن ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر تجاوزات، ناقص نکاسی آب اور غیر پائیدار زمین کے استعمال نے نقصان کو کئی گنا بڑھا دیا۔صحت مند جنگلات بارش کے پانی کو جذب کر کے سیلاب کی شدت کو کم کرتے ہیں، لیکن ان کی تباہی سے پانی تیزی سے بہہ کر تباہی کا باعث بنتا ہے۔پنجاب میں فضائی آلودگی اور سموگ کا بحران بھی ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔ ہر سال سردیوں میں لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے شہر شدید سموگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ یہ سموگ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور سانس کی بیماریوں، دمہ،پھیپھڑوں اور آنکھوں کے امراض میں اضافہ کرتی ہے۔اس بحران کی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانا، تعمیراتی گردوغبار اور شہری سبزہ زاروں کی کمی شامل ہیں۔ جنگلات اور درختوں کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے کیونکہ درخت آلودگی کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بدقسمتی سے حکومتی اقدامات زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ مسئلے کی جڑ کو حل کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں صاف توانائی، مضبوط ٹرانسپورٹ نظام، سخت صنعتی قوانین اور وسیع پیمانے پر شجرکاری شامل ہے۔پاکستان کے ماحولیاتی ادارے بھی شدید مالی اور انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کے پاس محدود بجٹ، پرانا آلات، کم تربیت یافتہ عملہ اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ نتیجتاً ماحولیاتی قوانین کا مو ¿ثر نفاذ ممکن نہیں ہو پاتا۔پالیسیوں میں تسلسل کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہر نئی حکومت پرانی پالیسیوں کو تبدیل کر دیتی ہے، جس سے ماحولیاتی منصوبے ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں اور ان کا موثر نفاذ ممکن نہیں رہتا۔ماحولیاتی تعلیم اور عوامی شعور کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ زیادہ تر عوام جنگلات کی تباہی اور ماحولیاتی نقصان کے طویل المدتی اثرات سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس کے لیے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کی سیاحت کی صنعت بھی ماحولیاتی بگاڑ سے متاثر ہو رہی ہے۔ شمالی علاقوں میں بے قابو سیاحت، غیر قانونی تعمیرات، پلاسٹک آلودگی اور قدرتی مساکن کی تباہی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہی قدرتی خوبصورتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔کمیونٹی کی شمولیت، جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور سخت قانون نافذ کرنے کے ذریعے جنگلات کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر پاکستان کو محض نعروں اور تقریبات سے آگے بڑھ کر ایک جامع قومی ماحولیاتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس میں جنگلات کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہو۔ماحولیات کا تحفظ کوئی لگژری نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ ہر درخت جو کٹتا ہے وہ ملک کی کمزوری میں اضافہ کرتا ہے، اور ہر محفوظ جنگل مستقبل کو مضبوط بناتا ہے۔پاکستان کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ ماحولیاتی تباہی کی طرف سفر جاری رکھے یا اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ آنے والی نسلیں آج کے راہنماﺅں کو ان کے وعدوں سے نہیں بلکہ ان کے محفوظ کردہ جنگلات اور بہتر ماحول سے یاد کریں گی۔عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ کوئی انتخاب نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔

  • ’مجھے بغیر آستین والا لباس پہننے کی وجہ سے وزیر کو ایوارڈ دینے سے روکا گيا‘: انڈین طالبہ کا دعویٰ

    ’مجھے بغیر آستین والا لباس پہننے کی وجہ سے وزیر کو ایوارڈ دینے سے روکا گيا‘: انڈین طالبہ کا دعویٰ

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں یوتھ اور سپورٹس کی وزارت کے ایک پروگرام کے دوران ایک طالبہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔

    19 سالہ سارہ شرما، جو دہلی یونیورسٹی کے دولت رام کالج کی طالبہ ہیں، کا کہنا ہے کہ انھیں ایک تقریب میں مرکزی وزیر منسُکھ مندھاویا کو ایوارڈ دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا تاہم آخری وقت پر انھیں سٹیج پر جانے سے روک دیا گیا۔

    سارہ شرما کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بغیر آستین والا لباس پہن رکھا تھا۔

    یہ تقریب ’ناری شکتی: وکسِت بھارت کی آواز‘ کے عنوان سے 12 اپریل کو دہلی کے شری رام کالج آف کامرس میں منعقد ہوئی تھی، جس کا اہتمام یوتھ اور سپورٹس کی وزارت کے تحت ہوا تھا۔

    سارہ شرما نے اس واقعے کے بعد انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون اہلکار نے انھیں بتایا کہ وہ سٹیج پر نہیں جا سکتیں کیونکہ انھوں نے بغیر آستین والا لباس پہن رکھا ہے۔

    بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے سارہ نے کہا کہ ’مجھے وزیر کو اعزاز دینا تھا۔ جب میں وقفے کے بعد واپس آئی تو ایک خاتون اہلکار نے کہا کہ میں اس لباس میں سٹیج پر نہیں جا سکتی۔‘

    ان کے مطابق اس بات پر انھیں خاصی حیرت ہوئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جس خاتون نے انھیں روکا تھا انھوں نے ایک اور خاتون اہلکار کو بلایا اور کہا کہ دیکھیں، یہ کیسے کرے گی۔ وہاں موجود دیگر خواتین نے بھی کہا کہ میرے لباس میں مسئلہ ہے۔‘

  • پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے پرچے ’لیک‘ ہونے پر تحقیقات کا حکم: ’معاملہ بظاہر چوری کا ہے‘

    پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے پرچے ’لیک‘ ہونے پر تحقیقات کا حکم: ’معاملہ بظاہر چوری کا ہے‘

    پاکستان کی وزارت داخلہ نے کیمبرج کے اے لیول کے امتحانی پرچے مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سیکریٹری داخلہ کی موجودگی میں ایک اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ’برطانوی نائب ہائی کمشنر نے شرکا کو بتایا کہ معاملہ بظاہر لیک کے بجائے چوری کا ہے۔‘

    خیال رہے کہ 13 مئی کو کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 15 مئی کے امتحان کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے نمائندگان نے پاکستانی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر باضابطہ معلومات جلد از جلد شیئر کی جائیں گی۔

    سیکریٹری داخلہ نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور معاملے کے فوری حل کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے این سی سی آئی اے کے سربراہ کو ہدایت کی کہ ’کیمبرج کے ساتھ مل کر مکمل تحقیقات کی جائیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کیمبرج ’امتحانی نظام میں موجود خامیوں اور خلا کو دور کرنے کے لیے اپنی نظامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔‘

    اس سے قبل بدھ کو جاری کردہ پیغام میں کیمبرج نے کہا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709)، جو 12 مئی کو ہمارے انتظامی زونز 3 اور 4 میں لیا گیا، اسے سخت ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبل از وقت شیئر کر دیا گیا تھا۔

    ’ہم ایسے واقعات کی فوری اور تفصیلی تحقیقات کرتے ہیں اور اب ہم یہ جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ یہ پرچہ کس حد تک لیک ہوا اور آئندہ کے اقدامات کیا ہونے چاہییں۔‘