Category: تعلیم

  • خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ

    خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ

    خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ کر دیا ہے، جس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق جماعت اول سے بارہویں تک کے طلبہ کے لیے موسم گرما اور سرما میں یکساں تعلیمی شیڈول مقرر کیا گیا ہے تاکہ تدریسی نظام میں یکسانیت اور بہتری لائی جا سکے۔

    محکمہ تعلیم نے اسکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اساتذہ کی ذمہ داریاں مقررہ ورک لوڈ کے مطابق تقسیم کریں اور تدریسی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں۔

    اعلامیے میں آٹھویں پیریڈ کو ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے مختص کرتے ہوئے طلبہ سوسائٹیز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ہر ہائر سیکنڈری اسکول میں ادبی، سائنسی، فنون لطیفہ، سیرت النبی ﷺ اور کمیونٹی سروس سوسائٹیز قائم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

    محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے لیے حاضری رجسٹر اور سرگرمی لاگ بُک برقرار رکھنا بھی لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ضلعی تعلیمی افسران کو نئے ٹائم ٹیبل پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق نئے نظام کا مقصد تدریسی معیار کو بہتر بنانا، طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانا اور سکولوں میں تعلیمی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

  • دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    اعلیٰ تعلیم کے لیے شعبے کا انتخاب کرتے وقت طلبا کے ذہن میں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟ یہ وہ پروگرامز ہوتے ہیں جن میں سخت محنت، پیچیدہ مضامین اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔

    یہ معاملہ صرف مشکل ہونے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذہانت، مستقل مزاجی اور طویل عرصے تک مسلسل محنت کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔ ان ڈگریوں کو سمجھنا طلبا کو ذہنی اور تعلیمی طور پر بہتر تیاری میں مدد دیتا ہے۔

    انجینئرنگ

    انجینئرنگ کو دنیا کی مشکل ترین ڈگریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں اعلیٰ درجے کی ریاضی، فزکس اور تکنیکی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

    طلبا کو نہ صرف تھیوی سمجھنا ہوتی ہے بلکہ اسے عملی طور پر بھی استعمال کرنا پڑتا ہے، جیسے پراجیکٹس اور ڈیزائننگ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ انتہائی دباؤ والا سمجھا جاتا ہے۔

    میڈیسن

    میڈیسن بھی مشکل ترین ڈگریوں میں شامل ہے۔ اس میں انسانی جسم، بیماریوں اور علاج کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات یاد رکھنی پڑتی ہیں۔

    ڈاکٹر بننے کا سفر طویل اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مریضوں کی جان کی ذمہ داری بھی طلبا پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

    قانون

    لا کی تعلیم میں سخت مطالعہ، کیس اسٹڈیز اور پیچیدہ قوانین شامل ہوتے ہیں۔ طلبا کو نہ صرف قوانین اور ان کا اطلاق سمجھنا ہوتا ہے بلکہ ان کا تجزیہ بھی کرنا پڑتا ہے اور اطلاق

    یہ شعبہ مضبوط یادداشت، تنقیدی سوچ اور بہترین دلائل دینے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔

    آرکیٹیکچر

    آرکیٹیکچر تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی علم کا امتزاج ہے۔ طلبا کو ڈیزائن، انجینئرنگ اور سافٹ ویئر سب کچھ سیکھنا ہوتا ہے۔

    طویل گھنٹوں تک پروجیکٹس پر کام اور مسلسل تخلیقی کارکردگی اس ڈگری کو مشکل بناتی ہے۔

    فزکس اور ریاضی

    ریاضی اور فزکس میں پیچیدہ نظریات، فارمولے اور گہری سمجھ درکار ہوتی ہے۔

    ان شعبوں میں معمولی غلطی بھی پورا نتیجہ بدل سکتی ہے، اس لیے اعلیٰ سطح کی منطقی سوچ ضروری ہوتی ہے۔

    فارمیسی اور ایوی ایشن

    فارمیسی میں کیمسٹری، ادویات اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق درست معلومات ضروری ہوتی ہیں۔ چھوٹی سی غلطی بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔

    ایوی ایشن میں جہاز اڑانے کے لیے ایروڈائنامکس، نیویگیشن اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے، جو اسے نہایت مشکل بناتی ہے۔

    یہ ڈگریاں مشکل کیوں ہیں؟

    ان تمام پروگرامز کی مشکل کی بنیادی وجہ تین چیزیں ہیں: تھیوی اور پریکٹیکل کا امتزاج، وقت کی بڑی سرمایہ کاری، اور مسلسل محنت، ذمہ داری اور شدید دباؤ۔

    طلبا کو نہ صرف پڑھنا ہوتا ہے بلکہ عملی کارکردگی بھی دکھانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ذہنی مضبوطی اور مستقل مزاجی ان ڈگریوں کے حصول کیلئے ضروری ہیں۔

    یہ ڈگریاں ذہانت، محنت اور صبر کا سخت امتحان لیتی ہیں۔ اگر کوئی طالب علم ان شعبوں میں جانا چاہتا ہے تو اسے پہلے سے ذہنی طور پر مشکل حالات اور سخت محنت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

  • پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول جاری کر دیا

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگراموں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری کر دیا۔

    پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 16 اگست 2026 کو صبح 10 بجے ملک بھر میں منعقد ہو گا۔

    پنجاب میں ٹیسٹ کے انعقاد کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کو دی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ ، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور سعودی عرب کے شہر ریاض کے امیدواروں کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد امتحان کا انعقاد کرے گی۔

    پبلک نوٹس کے مطابق امیدواروں کی آن لائن رجسٹریشن 22 جون 2026 سے شروع ہو گی ، معمول کی فیس کے ساتھ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 8 جولائی 2026 مقرر کی گئی ہے۔ تاخیر سے رجسٹریشن 13 جولائی 2026 تک کرائی جا سکے گی۔

    پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں قائم ٹیسٹ سینٹرز کے لیے رجسٹریشن فیس 9 ہزار روپے جبکہ لیٹ رجسٹریشن فیس 13 ہزار روپے ہو گی۔ بین الاقوامی ٹیسٹ سینٹر کے لیے رجسٹریشن فیس 45 ہزار روپے اور لیٹ رجسٹریشن فیس 55 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ، تمام فیسیں ناقابل واپسی اور ناقابل منتقلی ہوں گی۔

  • وفاقی اردو یونیورسٹی کی نظامتِ اعلی تعلیم و تحقیق کا 77واں اجلاس منعقد

    وفاقی اردو یونیورسٹی کی نظامتِ اعلی تعلیم و تحقیق کا 77واں اجلاس منعقد

    کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 جون2026ء) وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کی نظامتِ اعلی تعلیم و تحقیق کا 77واں اجلاس شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی زیرِ صدارت گلشنِ اقبال کیمپس کراچی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر محمد زاہد (رئیس کلیہ سائنس)، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور صدیقی (رئیس کلیہ نظمیاتِ کاروبار، تجارت و معاشیات)، پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ویرسیانی ڈائریکٹر RMC، ڈاکٹر صائمہ فراز، ڈاکٹر لبنی بشیر، ڈاکٹر شاہد اقبال اور ڈاکٹر کمال حیدر نے شرکت کی۔
    جبکہ ڈاکٹر سید شبر رضاڈائریکٹر QEC اور ڈاکٹر حنا مدثر ڈائریکٹر ORIC نے بحیثیت مبصر اجلاس میں شرکت کی۔ ڈاکٹر محمد طارق محمود اسلام آباد کیمپس اور ڈاکٹر راحت اللہ نے آن لائن شرکت کی۔

    رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید عنایت علی شاہ نے اجلاس کے سیکریٹری کے فرائض انجام دیے۔اجلاس میں محمد فیضان احمد ولد محمد اشرف اور سید صہیب بن ظفر ولد سید ظفر امام کو ریاضیاتی علوم میں پی ایچ ڈی کی اسناد تفویض کی گئیں۔

    اسی طرح رضیہ بنت نورالدین کیمیا، سمعیہ خاتون بنت شفیع الزماں نباتیات، حمنی خان بنت محمد اسماعیل اور اریبہ ندا بنت ندیم حیاتی کیمیا، میاں ظفر اقبال ولد میاں محمود شفیع خرد حیاتیات، حمیرا ناز بنت ایس کے بلیغ الدین اور عمارہ بنت محمد ارشد فارماسیوٹکس، یاسمین سلطان بنت سلطان محمد اردو، جبکہ ذاکر حسین ولد محمد خان اور جنید افضل ولد قاری امیر افضل خان اسلامیات، اسلام آباد کیمپس کو ایم فل کی اسناد تفویض کی گئیں۔
    شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے اس موقع پر کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعلی تعلیم اور تحقیق کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل محققین اپنے علمی اور تحقیقی سفر کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن ساہیوال نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا دورہ کیا

    ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن ساہیوال نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا دورہ کیا

    چیچہ وطنی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 جون2026ء) ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ساہیوال کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بورڈ غلام حسین بھٹی اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رانا نوید عظمت بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران انہوں نے بورڈ کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور طلبہ و طالبات کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    انہوں نے سروس ڈیلیوری کے معیار، عوامی سہولت مراکز اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی مشاہدہ کیا۔ ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ طلبہ و طالبات کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور انہیں بروقت اور مثر سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے بار بار دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور ان کے جائز مسائل فوری طور پر نمٹائے جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی اداروں میں عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ طلبہ اور والدین کو زیادہ سے زیادہ سہولت میسر آ سکے۔\378

  • دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟

    اعلیٰ تعلیم کے لیے شعبے کا انتخاب کرتے وقت طلبا کے ذہن میں ایک عام سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی مشکل ترین ڈگریاں کون سی ہیں؟ یہ وہ پروگرامز ہوتے ہیں جن میں سخت محنت، پیچیدہ مضامین اور اعلیٰ معیار کی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔

    یہ معاملہ صرف مشکل ہونے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذہانت، مستقل مزاجی اور طویل عرصے تک مسلسل محنت کی صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے۔ ان ڈگریوں کو سمجھنا طلبا کو ذہنی اور تعلیمی طور پر بہتر تیاری میں مدد دیتا ہے۔

    انجینئرنگ

    انجینئرنگ کو دنیا کی مشکل ترین ڈگریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں اعلیٰ درجے کی ریاضی، فزکس اور تکنیکی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

    طلبا کو نہ صرف تھیوی سمجھنا ہوتی ہے بلکہ اسے عملی طور پر بھی استعمال کرنا پڑتا ہے، جیسے پراجیکٹس اور ڈیزائننگ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ انتہائی دباؤ والا سمجھا جاتا ہے۔

    میڈیسن

    میڈیسن بھی مشکل ترین ڈگریوں میں شامل ہے۔ اس میں انسانی جسم، بیماریوں اور علاج کے حوالے سے بہت زیادہ معلومات یاد رکھنی پڑتی ہیں۔

    ڈاکٹر بننے کا سفر طویل اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مریضوں کی جان کی ذمہ داری بھی طلبا پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

    قانون

    لا کی تعلیم میں سخت مطالعہ، کیس اسٹڈیز اور پیچیدہ قوانین شامل ہوتے ہیں۔ طلبا کو نہ صرف قوانین اور ان کا اطلاق سمجھنا ہوتا ہے بلکہ ان کا تجزیہ بھی کرنا پڑتا ہے اور اطلاق

    یہ شعبہ مضبوط یادداشت، تنقیدی سوچ اور بہترین دلائل دینے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔

    آرکیٹیکچر

    آرکیٹیکچر تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی علم کا امتزاج ہے۔ طلبا کو ڈیزائن، انجینئرنگ اور سافٹ ویئر سب کچھ سیکھنا ہوتا ہے۔

    طویل گھنٹوں تک پروجیکٹس پر کام اور مسلسل تخلیقی کارکردگی اس ڈگری کو مشکل بناتی ہے۔

    فزکس اور ریاضی

    ریاضی اور فزکس میں پیچیدہ نظریات، فارمولے اور گہری سمجھ درکار ہوتی ہے۔

    ان شعبوں میں معمولی غلطی بھی پورا نتیجہ بدل سکتی ہے، اس لیے اعلیٰ سطح کی منطقی سوچ ضروری ہوتی ہے۔

    فارمیسی اور ایوی ایشن

    فارمیسی میں کیمسٹری، ادویات اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق درست معلومات ضروری ہوتی ہیں۔ چھوٹی سی غلطی بھی خطرناک ہو سکتی ہے۔

    ایوی ایشن میں جہاز اڑانے کے لیے ایروڈائنامکس، نیویگیشن اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے، جو اسے نہایت مشکل بناتی ہے۔

    یہ ڈگریاں مشکل کیوں ہیں؟

    ان تمام پروگرامز کی مشکل کی بنیادی وجہ تین چیزیں ہیں: تھیوی اور پریکٹیکل کا امتزاج، وقت کی بڑی سرمایہ کاری، اور مسلسل محنت، ذمہ داری اور شدید دباؤ۔

    طلبا کو نہ صرف پڑھنا ہوتا ہے بلکہ عملی کارکردگی بھی دکھانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ذہنی مضبوطی اور مستقل مزاجی ان ڈگریوں کے حصول کیلئے ضروری ہیں۔

    یہ ڈگریاں ذہانت، محنت اور صبر کا سخت امتحان لیتی ہیں۔ اگر کوئی طالب علم ان شعبوں میں جانا چاہتا ہے تو اسے پہلے سے ذہنی طور پر مشکل حالات اور سخت محنت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

  • پنجاب بجٹ میں صحت، تعلیم، اور اسپورٹس کے کونسے بڑے منصوبے تجویز کیے گئے؟

    پنجاب بجٹ میں صحت، تعلیم، اور اسپورٹس کے کونسے بڑے منصوبے تجویز کیے گئے؟

    پنجاب کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ کی دستاویزات کے ذریعے تعلیم، صحت اور کھیلوں کے شعبوں کے لیے تاریخی فنڈز اور انقلابی منصوبوں کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کا مجموعی بجٹ 5850 ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    لیپ ٹاپ پروگرام کیلئے 66 ارب 40 کروڑ روپے مختص

    اس بجٹ میں نوجوانوں اور طلبا کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 66 ارب 40 کروڑ روپے اور چیف منسٹر ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے لیے 33 ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی مریم نواز اکیڈمک لیڈرشپ سینٹر لاہور کے لیے 4 ارب روپے، طلبہ کو سائیکلیں دینے کے لیے 1 ارب روپے اور طالبات کو ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے 1 کروڑ روپے ملیں گے۔

    سرکاری اسکولوں میں اسٹیم لیبز کے لیے 7 ارب 40 کروڑ روپے

    اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری اسکولوں میں اسٹیم لیبز کے لیے 7 ارب 40 کروڑ روپے، چیف منسٹر پنجاب اسکولز میل پروگرام کے لیے 7 ارب روپے اور پینے کے صاف پانی کے لیے فلٹریشن پلانٹس لگانے کی منظوری دی گئی ہے۔

    لاہور میں اسکول بیسڈ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع کرنے اور مری بوائے اسکاؤٹس سمر ٹریننگ سینٹر کے لیے 17 کروڑ 55 لاکھ روپے جاری کرنے کی تجاویز بھی دستاویز کا حصہ ہیں۔

    اعلیٰ تعلیم اور جامعات کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی بجٹ میں بڑے اقدامات شامل ہیں جس کے تحت پنجاب کے کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے دوسرے مرحلے کے لیے 4 ارب روپے اور جی سی یونیورسٹی لاہور کی بحالی و تزئین و آرائش کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کے لیے 1 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد، یونیورسٹی آف چکوال سٹی کی کیمپس عمارت کے لیے 154 کروڑ 88 لاکھ روپے، یونیورسٹی آف گجرانوالہ کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے اور یونیورسٹی آف حافظ آباد کے لیے 26 کروڑ 72 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

    تمام ڈویژنز میں آٹزم اسکول کے ذیلی کیمپس

    اسپیشل ایجوکیشن کے شعبے میں مریم نواز آٹزم اسکول کے ذیلی کیمپس پنجاب کے تمام ڈویژنز میں بنانے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ خصوصی بچوں کے لیے بھی چیف منسٹر میل پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ مری میں خصوصی بچوں کے مڈل اسکول کی عمارت کے لیے 28 کروڑ 50 لاکھ روپے، لاہور میں نابینا بچوں کے اساتذہ کے ٹریننگ کالج پر 44 کروڑ روپے جبکہ کوٹ ادو، وزیرآباد اور راولپنڈی میں اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز اور کالج کی عمارتوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

    شرح خواندگی بڑھانے کے لیے 3 ارب 58 کروڑ روپے

    بجٹ دستاویز کے مطابق پنجاب میں پڑھائی کا معیار اور شرح خواندگی بڑھانے کے لیے 3 ارب 58 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے کے 15 اضلاع میں نئے نان فارمل اسکولوں کے لیے 1 ارب 1 کروڑ روپے، جنوبی پنجاب کے نان فارمل منصوبے کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے اور سینٹرل پنجاب نان فارمل پروجیکٹ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ ناخواندہ افراد کے لیے چیف منسٹرز اسپیشل ایڈلٹ لٹریسی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

    کھیل اور تفریح کیلئے بھی بھاری فنڈز تجویز

    کھیل اور نوجوانوں کی تفریح کے لیے لاہور میں انٹرنیشنل معیار کی مریم نواز اسپورٹس سٹی بنانے کے فنڈز رکھے گئے ہیں اور صوبہ بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کھیلتا پنجاب کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔

    نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں انٹرنیشنل اسکواش اور انڈور اسپورٹس کی سہولت قائم کی جائے گی جبکہ صوبے کے پی ایچ اے پارکس میں اوپن ائیر جیمز اور بچوں کے پلے ایریاز بنانے کا امکان ہے۔ نوجوانوں کے لیے چیف منسٹرز یوتھ انگیجمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا اور مری کے علاقے بھوربن اور کوٹ ادو میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

    صحت: نئے میڈیکل انسٹی ٹیوٹس کی قیام کی تجویز 

    صحت کے شعبے میں مریم نواز حکومت نے بڑے میڈیکل انسٹی ٹیوٹس کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت لاہور میں نواز شریف کینسر انسٹی ٹیوٹ کے لیے 26 ارب 22 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔

    گجرانوالہ میں مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے 6 ارب روپے، مریم نواز ہیلتھ کلینکس کی بحالی اور قیام کے لیے 15 ارب 45 کروڑ روپے جبکہ لاہور کے اربن مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے لیے 5 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ میانوالی میں مریم نواز شریف میڈیکل کالج کے لیے 1 ارب روپے، راولپنڈی میں چلڈرن اسپتال کے قیام کے لیے 4 ارب 9 کروڑ روپے، بہاولپور میں بچوں کے جدید اسپتال کے لیے 1 ارب روپے سے زائد اور ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کے لیے 11 ارب 11 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سیکنڈری اسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے 53 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    راولپنڈی اور ملتان میں نرسنگ ایجوکیشن کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے اور مینوفیکچرنگ و صحت کے دیگر امور سمیت ڈائیلاسز اور ٹرانسپلانٹ پروگرامز کے لیے وزیر اعلیٰ کے خصوصی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔

  • صرف دو طالبعلم رہ گئے، برطانیہ کے سب سے چھوٹے پرائمری اسکول پر تالے لگ گئے

    صرف دو طالبعلم رہ گئے، برطانیہ کے سب سے چھوٹے پرائمری اسکول پر تالے لگ گئے

    برطانیہ کے سب سے چھوٹے پرائمری اسکول کو بالآخر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جہاں طالبعلموں کی تعداد کم ہو کر صرف دو رہ گئی تھی، حکام کے مطابق مسلسل کم ہوتی داخلہ شرح اور بڑھتے اخراجات کے باعث اسکول کو چلانا ممکن نہیں رہا تھا۔

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نارتھ ویلز کے علاقے گوائنیڈ میں واقع گاؤں گیرگ کے پرائمری اسکول میں کبھی 17 طالبعلم زیر تعلیم تھے۔

    تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران طالبعلموں کی تعداد میں 90 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی اور اب صرف دو بچے باقی رہ گئے ہیں، جو گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکول چھوڑنے والے ہیں۔

    کونسل حکام نے بتایا کہ اسکول کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ ادارے کو مزید چلانا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔

    رپورٹ کے مطابق اس اسکول میں فی طالبعلم سالانہ اخراجات 21 ہزار 471 پاؤنڈ تک پہنچ گئے تھے، جبکہ ملک بھر میں فی طالبعلم اوسط خرچ تقریباً 5 ہزار 998 پاؤنڈ ہے۔

    نارتھ ویلز کی مقامی کونسل سینگور گوائنیڈ کی کابینہ نے متفقہ طور پر 31 اگست سے اسکول بند کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

    کابینہ رکن ڈیوی جونز نے فیصلے کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک مقامی کمیونٹی کی خدمت کرنے والے اس ادارے کی بندش افسوسناک ہے۔

    انہوں نے اسکول کے عملے، گورنرز، والدین اور مقامی آبادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے حالات اور مسلسل کم ہوتی طلبہ تعداد کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہو چکا تھا۔

  • خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ

    خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ

    خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں میں نیا معیاری ٹائم ٹیبل نافذ کر دیا ہے، جس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق جماعت اول سے بارہویں تک کے طلبہ کے لیے موسم گرما اور سرما میں یکساں تعلیمی شیڈول مقرر کیا گیا ہے تاکہ تدریسی نظام میں یکسانیت اور بہتری لائی جا سکے۔

    محکمہ تعلیم نے اسکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اساتذہ کی ذمہ داریاں مقررہ ورک لوڈ کے مطابق تقسیم کریں اور تدریسی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں۔

    اعلامیے میں آٹھویں پیریڈ کو ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے مختص کرتے ہوئے طلبہ سوسائٹیز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ہر ہائر سیکنڈری اسکول میں ادبی، سائنسی، فنون لطیفہ، سیرت النبی ﷺ اور کمیونٹی سروس سوسائٹیز قائم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

    محکمہ تعلیم نے اساتذہ کے لیے حاضری رجسٹر اور سرگرمی لاگ بُک برقرار رکھنا بھی لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ضلعی تعلیمی افسران کو نئے ٹائم ٹیبل پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق نئے نظام کا مقصد تدریسی معیار کو بہتر بنانا، طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانا اور سکولوں میں تعلیمی نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

  • طائف سکولوں کے چوکیداروں کو عمرہ کرانے کا اہتمام

    طائف سکولوں کے چوکیداروں کو عمرہ کرانے کا اہتمام

    طائف محکمہ تعلیم نے شہر کے ایک سو سکولوں کے چوکیداروں کو فیملی سمیت عمرہ کرانے کا اہتمام کرایا ہے۔
    سبق ویب سائٹ کے مطابق ان چوکیداروں کا انتخاب ہوا ہے جو ریٹائر منٹ کے قریب ہیں یا وہ جنہوں نے پہلے عمرہ نہیں کیا۔
    محکمہ تعلیم نے سکولوں کے چوکیداروں کی خدمت کے اعتراف میں عمرہ کرانے کے تمام انتظامات، مکہ مکرمہ میں رہائش اور کھانے پینے  کے علاوہ طبی ٹیم کی پیشگی تیاری کر رکھی تھی۔
    محکمہ تعلیم کی طرف سے اس اقدام کو سراہا گیا اور خواہش کا اظہار کیا گیا کہ سکولوں اور طلبہ کی خدمت پر مامور دیگر ملازمین کو بھی اس طرح کا موقع فراہم کیا جائے۔