Category: تعلیم

  • یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی پرچم: ’نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا‘

    یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی پرچم: ’نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا‘

    ’اگر ڈرامے میں ابلیس کا کردار ہو تو کیا اسے نبھانے والے فرد کو ابلیس سمجھ کر اس پر چڑھائی کی جائے گی؟ بجائے اس کے کہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا جاتا، الٹا ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔‘

    یہ خیال یونیورسٹی آف چکوال کے ایک پروفیسر کا تھا جو حال ہی میں وہاں ایک کانفرنس کے دوران ہال کے باہر اسرائیلی پرچم کی موجودگی کے معاملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم پر بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔

    سوشل میڈیا پر چند صارفین اس پرچم کو لے کر یہ تاثر پیش کرتے دکھائی دیے کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی اسرائیلی لابی ہے جبکہ تنقید کے بعد اب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    پرچم کا تنازع سامنے کیسے آیا؟

    یہ پرچم یونیورسٹی آف چکوال کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب سے ایران کی امریکہ اور اسرائیل سے حالیہ جنگ کے تناظر میں عالمی سیاست، سلامتی، سفارت کاری اور جدید جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے ’تسلسل سے جاری رہنے والے تنازعات کے دور میں سلامتی کے خطرات و حکمت عملی کے تغیرات‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر لگایا گیا تھا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسی کانفرنس کی مناسبت سے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ نے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا جس کا موضوع ’سٹریٹیجک سٹینڈرڈز‘ تھا اور اس میں شامل طلبا کے گروپس نے پاکستان، انڈیا، چین، روس، جاپان، امریکہ اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی نمائندگی کی اور اس حوالے سے معلوماتی سٹالز بھی لگائے جن میں ہر ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، معاشی صورتحال، عالمی سیاست میں کردار، علاقائی اثر و رسوخ، کلچر، زبان کے بارے میں معلومات کے علاوہ ان کے پرچم بھی پیش کیے گئے۔

    انتظامیہ کے مطابق اسی نمائش میں اسرائیل کی صلاحیتوں کو ایک حریف قوت کے طور پر اُس کی سٹریٹجک طاقت کا جائزہ پیش کیا گیا اور دوسرے ممالک کی طرح اسرائیل سے متعلق تمام معلومات کے ساتھ اسرائیل کا جھنڈا بھی لگایا گیا۔

    خیال رہے کہ یہ تنازع جس تقریب کے حوالے سے ہے اس کا انعقاد 11 اور 12 مئی کو ہوا تھا لیکن ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ’یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیل کا جھنڈا لہرانے‘ کے دعووں نے اسے بحث کا موضوع بنا دیا۔

  • جہاز کا صرف ایک انجن اور ٹوٹی ہوئی کھڑکی: 148 مسافروں کی جان بچانے والی پائلٹ جن کی دھڑکنیں تک تیز نہیں ہوئیں

    جہاز کا صرف ایک انجن اور ٹوٹی ہوئی کھڑکی: 148 مسافروں کی جان بچانے والی پائلٹ جن کی دھڑکنیں تک تیز نہیں ہوئیں

    ٹیمی جو شلٹس کا ہمیشہ سے خواب تھا کہ وہ لڑاکا طیارے اُڑائیں۔

    وہ سنہ 1960 کی دہائی میں امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو میں ہولومین ایئر فورس بیس کے قریب ایک فارم پر پروان چڑھیں، جہاں سے وہ اکثر اپنے خاندان کے گودام کے اوپر سے گرجتے ہوئے جہازوں کو دیکھنا پسند کرتی تھیں۔

    ان کے لیے لڑاکا طیاروں کی یہ آوازیں اور پرواز کسی جادو سے کم نہیں تھی۔

    شلٹس نے فارم پر سخت محنت کی اور صرف نو برس کی عمر میں ٹریکٹر چلانا شروع کر دیا تھا۔ ان کے والدین مرد اور عورت کے کاموں میں فرق نہیں کرتے تھے اور انھوں نے اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسا پیشہ اختیار کرے جو اس کی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔

    اسی لیے شلٹس نے ایک دن اپنی والدہ سے کہا کہ ’میں لڑاکا طیارے اُڑانا چاہتی ہوں۔‘

    اس پر ان کی والدہ نے جواب دیا کہ ’ٹیمی، وہ لوگ بہت ذہین ہوتے ہیں تمہیں بہت محنت کرنی ہوگی۔‘

    یہ پہلا موقع تھا جب شلٹس کو احساس ہوا کہ پائلٹ بننے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔

  • کم نمبروں اور غلط پرچے کی شکایت کے بعد طالب علم پر ’پاکستانی‘ اور ملک دشمن ہونے کا الزام: ’کیا پاکستانی بھی انڈین بورڈ کے امتحانات دیتے ہیں؟‘

    کم نمبروں اور غلط پرچے کی شکایت کے بعد طالب علم پر ’پاکستانی‘ اور ملک دشمن ہونے کا الزام: ’کیا پاکستانی بھی انڈین بورڈ کے امتحانات دیتے ہیں؟‘

    ’ویدانت اپنے فزکس کے نتیجے سے مطمئن نہیں تھا۔ فزکس کے ساتھ ساتھ ہم نے ریاضی، انگریزی اور سوشل سائنس کی بھی دوبارہ جانچ پڑتال کی درخواست دی تھی۔ جب ہم نے سکین شدہ کاپی دیکھی تو پتا چلا کہ فزکس کی جوابی کاپی اس کی اپنی کاپی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔‘

    ویدانت کے بھائی سدھانت شریواستو نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا۔

    یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب نتائج کے اعلان کے بعد ویدانت اپنے فزکس کے نمبروں سے مطمئن نہ تھے اور انھوں نے ری ایویلیوایشن یعنی نظرثانی کے لیے درخواست دی۔ اس عمل کے دوران جب انھوں نے اپنی جوابی کاپی کی سکین شدہ نقل ڈاؤن لوڈ کی تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کاپی ان کی نہیں بلکہ کسی اور طالب علم کی ہے اور اس پر موجود تحریر بھی ان کی لکھائی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    لیکن بجائے اس کے کہ ان کی شکایت کا ازالہ ہوتا انھیں ملک دشمن بنا دیا گیا۔

    سدھانت نے بتایا کہ کہ ’اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ویدانت نے اس معاملے پر سی بی ایس ای کو ای میل کی، سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا اور انسٹاگرام پر ویڈیو بھی شیئر کی۔‘

    سدھانت نے مزید کہا کہ ’ہماری یہ پوسٹ وائرل ہوگئی، لیکن بہت سے لوگوں نے ہمیں شدید ٹرول کیا۔ یہاں تک کہ ہمیں پاکستانی بھی کہا گیا۔ کئی نیوز اینکرز نے بھی بغیر تصدیق کے ہمیں پاکستانی کہنا شروع کر دیا۔‘

    ویدانت نے اپنا مؤقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔ ایک جانب کئی لوگوں نے ان کی حمایت کی، وہیں دوسری جانب انھیں شدید ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    بعض صارفین نے انھیں ’ملک دشمن‘ تک قرار دیا، جبکہ ان کے اکاؤنٹ کی لوکیشن کی بنیاد پر انھیں ’پاکستانی‘ کہہ کر بھی نشانہ بنایا گیا۔

  • سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج: 12792 میں صرف 355 امیدوار کامیاب

    سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج: 12792 میں صرف 355 امیدوار کامیاب

    فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج کا اعلان کردیا ہے جس میں مجموعی طور پر 12 ہزار 792 امیدواروں نے شرکت کی تاہم صرف 355 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب قرار پائے۔

    اعلامیے کے مطابق کامیاب امیدواروں میں سے 170 افراد کی تقرری کی سفارش کی گئی ہے، جن میں 84 مرد اور 86 خواتین شامل ہیں۔ نتائج کے مطابق اسد رفیق نے پہلی، محمد محسن خالد نے دوسری جبکہ طارق حفیظ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ٹاپ 30 پوزیشن ہولڈرز کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس میں ایلوکیشن دی گئی ہے جبکہ ٹاپ 30 میں شامل کسی بھی امیدوار کو فارن سروس میں جگہ نہیں مل سکی۔ ایف پی ایس سی کے مطابق کامیاب امیدواروں کی حتمی تعیناتی میرٹ اور دستیاب اسامیوں کے مطابق کی جائے گی۔

  • سندھ میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب کی اشاعت کا فیصلہ

    سندھ میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب کی اشاعت کا فیصلہ

    سندھ میں تعلیمی نظام کو مزید جامع بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہندو برادری کے طلبہ کے لیے ان کے مذہب سے متعلق درسی کتب شائع کی جائیں گی۔

    یہ فیصلہ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر کیا گیا ہے جس کے تحت سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔

    سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق جماعت 3 سے 5 تک کے ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب تیار اور شائع کی جائیں گی جو آئندہ تعلیمی سال 27-2026 میں تقسیم کی جائیں گی۔

    یہ فیصلہ سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہندو برادری کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت سندھ بھر کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً 129,119 ہندو طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں سب سے زیادہ 26,642 طلبہ ضلع تھرپارکر اور 21,584 طلبہ عمرکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مذہبی رواداری کو فروغ دینا اور تمام طلبہ کو اپنے عقیدے کے مطابق تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے

  • تعلیمی بورڈز میں نتائج کی مبینہ تبدیلی، بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات

    تعلیمی بورڈز میں نتائج کی مبینہ تبدیلی، بڑے پیمانے پر کرپشن کے انکشافات

    میرپور خاص سے کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق کنٹرولر انور علیم نے تعلیمی بورڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مزید انکشافات کیے ہیں۔

    اینٹی کرپشن حکام کے مطابق نوابشاہ تعلیمی بورڈ میں تقریباً 90 ہزار طلبہ کے نتائج میں تبدیلی کی گئی، جبکہ حیدرآباد بورڈ میں بھی نتائج میں بڑے پیمانے پر مبینہ ہیراپھیری سامنے آئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سکھر اور لاڑکانہ تعلیمی بورڈز میں بھاری رقوم کے عوض طلبہ کے نتائج تبدیل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں، جبکہ کراچی تعلیمی بورڈ میں بھی نتائج میں مبینہ ردوبدل کیا گیا۔

    اینٹی کرپشن حکام کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز اور کنٹرولرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ افسران کو 30 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام الزامات کی چھان بین کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • قائداعظم یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز ختم کرنے کا فیصلہ

    قائداعظم یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز ختم کرنے کا فیصلہ

    قائداعظم یونیورسٹی میں آن لائن کلاسز ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کے بعد تدریسی عمل دوبارہ کیمپس میں بحال ہوگا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کل سے تمام کلاسز آن کیمپس ہوں گی اور طلبہ کو یونیورسٹی آ کر ہی اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہوگا۔ نوٹیفکیشن رجسٹرار کی جانب سے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تدریسی سرگرمیاں معمول کے مطابق کیمپس میں بحال کی جا رہی ہیں، تاہم پہلے سے نافذ تمام کفایت شعاری اقدامات بدستور برقرار رہیں گے۔

    یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

  • بغیر اجازت نئی یونیورسٹیوں اور سب کیمپسز کے قیام پر پابندی عائد

    بغیر اجازت نئی یونیورسٹیوں اور سب کیمپسز کے قیام پر پابندی عائد

    ملک بھر میں بغیر اجازت نئی یونیورسٹی یا سب کیمپس کے قیام پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اس حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور سربراہان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اجازت اور مکمل اسکرونٹی کے بغیر کوئی نیا تعلیمی ادارہ یا ذیلی کیمپس قائم نہیں کیا جا سکے گا۔

    ایچ ای سی کے مطابق اب کوئی این او سی یا ایکریڈیٹیشن جاری نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایسی یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کی تصدیق کی جائے گی جو قواعد پر پورا نہیں اترتیں۔

    کمیشن نے تمام جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئی پالیسی پر سختی سے عمل کریں۔ فیصلے کی وجہ غیر معیاری تعلیم، اہل اساتذہ کی کمی، ناکافی سہولیات اور کمزور انفراسٹرکچر کو قرار دیا گیا ہے۔

    خط میں تحصیل کیمپسز میں پی ایچ ڈی اساتذہ اور طلبہ کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے جبکہ اساتذہ کی بھرتیوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور نئے کیمپسز کے لیے زمین کے حصول کے عمل کو فوری روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایچ ای سی نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کیمپسز اور پروگرامز کی منظوری معطل کی جا سکتی ہے۔

  • کراچی: گیارہویں جماعت کے موک امتحانات کا اعلان، شیڈول جاری

    کراچی: گیارہویں جماعت کے موک امتحانات کا اعلان، شیڈول جاری

    کراچی میں گیارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے موک (آزمائشی) امتحانات کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا ہے۔یہ امتحانات چیئرمین فقیر محمد لاکھو کی سرپرستی میں منعقد ہوں گے، جبکہ کنٹرولر امتحانات زرینہ راشد اور محمد عمران چشتی کی جانب سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ امتحانات سپلا اور اے ایس پی ایس سی اے کے اشتراک سے ہوں گے۔

    اعلان کے مطابق فزکس کا پرچہ 21 اپریل جبکہ بوٹنی کا پرچہ 22 اپریل کو لیا جائے گا۔ دونوں پرچے صبح 9 بجے شروع ہوں گے۔

    صرف رجسٹرڈ طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت ہوگی جبکہ تمام امتحانات بورڈ پیٹرن کے مطابق ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹلائزیشن سسٹم بھی موک امتحانات میں شامل کیا گیا ہے۔

    بورڈ کی جانب سے سوالنامے اور جوابی کاپیاں فراہم کی جائیں گی جبکہ امتحانات کی نگرانی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کراچی کرے گا۔

    کراچی میں پانچ امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں فاطمیہ کالج نمائش چورنگی کو ماڈل سینٹر قرار دیا گیا ہے جبکہ دیگر مراکز میں سرسید گرلز کالج، جوہر کالج، کیسپین اور میریٹوریس کالج شامل ہیں۔

    چیئرمین بورڈ 21 اپریل کو فاطمیہ کالج کا دورہ بھی کریں گے جبکہ موک امتحانات کے لیے پروفیسر توصیف شاہ کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

  • ایچ ای سی کا بڑا اقدام: ڈگری اٹیسٹیشن کا مکمل ڈیجیٹل سسٹم متعارف

    ایچ ای سی کا بڑا اقدام: ڈگری اٹیسٹیشن کا مکمل ڈیجیٹل سسٹم متعارف

    اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اسناد کی تصدیق کے عمل میں درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈگری اٹیسٹیشن کا مکمل ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروانے کا اعلان کردیا ہے۔

    ایچ ای سی کے مطابق نئے نظام کے تحت درخواست جمع کروانے سے لے کر ٹریکنگ اور تصدیق تک تمام مراحل آن لائن مکمل کیے جا سکیں گے، جس سے طلبہ کو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    کمیشن نے مزید بتایا کہ اس اقدام سے لاکھوں طلبہ کے لیے ڈگری کی تصدیق کا عمل نہ صرف آسان بلکہ تیز اور شفاف ہو جائے گا۔

    ایچ ای سی کا ڈیجیٹل ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم باضابطہ طور پر 30 جون 2026 سے شروع کیا جائے گا۔