Category: دلچسپ اور عجیب

  • مٹن کی جگہ چکن رکھنے پر شادی کی تقریب میں گھونسے چل گئے، 12 زخمی

    مٹن کی جگہ چکن رکھنے پر شادی کی تقریب میں گھونسے چل گئے، 12 زخمی

    مٹن کے بجائے چکن پیش کیے جانے پر شادی کی تقریب میدانِ جنگ بن گئی، جھگڑے میں 12 افراد زخمی ہو گئے۔

    بھارت کی ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں ایک شادی کی تقریب اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گئی جب مہمانوں کو مٹن کے بجائے چکن پیش کیا گیا جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔

    پولیس کے مطابق شادی کی تقریب میں کھانے کے مینیو پر اختلاف اس وقت شروع ہوا جب کچھ مہمانوں کو معلوم ہوا کہ مرکزی ڈش تبدیل کر دی گئی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مہمانوں نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میزبانوں سے بحث شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے کھانے کے مقام پر جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ 

    واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی تو کرسیاں الٹی پڑی تھیں اور متعدد مہمان موقع سے جا چکے تھے جبکہ کئی افراد کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔ حکام کے مطابق جھگڑے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مینو کیوں تبدیل کیا گیا یا اس معاملے میں کسی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا یا نہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں شادیوں کے دوران کھانے سے متعلق تنازعات غیر معمولی نہیں جہاں بڑی تقریبات میں مہمانوں کی توقعات عموماً بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ مٹن کو ایسی تقریبات میں ایک خاص اور مہنگی ڈش سمجھا جاتا ہے جبکہ چکن کو نسبتاً سستا متبادل تصور کیا جاتا ہے۔

  • ڈزنی لینڈ نے 70 برس میں ایک ارب مہمانوں کا سنگِ میل عبور کر لیا

    ڈزنی لینڈ نے 70 برس میں ایک ارب مہمانوں کا سنگِ میل عبور کر لیا

    امریکا کی مشہور تفریح گاہ ڈزنی لینڈ نے اپنے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ایک اربویں مہمان کا خیرمقدم کیا۔

    ڈزنی پارکس بلاگ کے مطابق یہ اعزاز امریکا کی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے 8 سالہ آندریس روبلز اور ان کے والدین الیخاندرا اور ہوزے روبلز کو ملا، جو ڈزنی لینڈ کی سیر کے لیے آئے تھے۔

    ڈزنی لینڈ (جو 1955 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر ایناہائم میں قائم کیا گیا تھا) دنیا کے معروف ترین تھیم پارکس میں شمار ہوتا ہے اور اسے جدید تھیم پارک انڈسٹری کی بنیاد رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    اس موقع پر روبلز خاندان نے ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی (جہاں ایک یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی گئی) جس پر ڈزنی لینڈ کے مہمانوں کی مجموعی تعداد ایک ارب درج کی گئی۔

    تقریب میں مکی ماؤس، منی ماؤس، ڈونلڈ ڈک اور ڈیزی ڈک سمیت ڈزنی کے معروف کردار بھی شریک ہوئے اور روبلز خاندان کے ساتھ اس تاریخی لمحے کا جشن منایا۔

    ڈزنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اپنی 71 ویں سالگرہ سے چند روز قبل ایک ارب مہمانوں کا سنگِ میل عبور کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ والٹ ڈزنی کا خواب آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

  • مصر میں بازنطینی دور کا قدیم شہر اور نایاب مقبرے دریافت

    مصر میں بازنطینی دور کا قدیم شہر اور نایاب مقبرے دریافت

    مصر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دو اہم تاریخی دریافتوں کا اعلان کیا ہے، جن میں مغربی صحرا کے الداخلہ اویسس میں بازنطینی دور کا ایک محفوظ رہائشی شہر اور اسکندریہ کے قریب قدیم مقبروں کا مجموعہ شامل ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں قدیم مصر میں روزمرہ زندگی، شہری منصوبہ بندی اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کریں گی جبکہ مصر کے سیاحتی شعبے کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

    الداخلة اویسس میں دریافت ہونے والا شہر چوتھی صدی عیسوی کا ہے، جب مصر بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے یہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کی گئی سڑکیں، عوامی چوک، اور اہم عمارتوں کے آثار دریافت کیے ہیں۔

    دریافت شدہ عمارتوں میں چوتھی صدی کے وسط کی ایک قدیم باسیلیکا چرچ، شہر کے دفاع کے لیے تعمیر کیے گئے دو واچ ٹاورز، مضبوط فصیلوں والے قلعہ نما ڈھانچے اور متعدد رہائشی مکانات شامل ہیں۔

    ماہرین نے ایک ایسے گھر کے آثار بھی دریافت کیے ہیں جو ٹیسوس نامی چرچ کے ایک ڈیکن سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ باسیلیکا چرچ کی تعمیر سے قبل اس مکان کو عبادت گاہ (ہاؤس چرچ) کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ الداخلہ اویسس اس وقت یونیسکو کی عارضی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے، جو مستقبل میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

  • ایمریٹس ایئرلائن کے مسافر سالانہ ساڑھے سات لاکھ کلو چاکلیٹ کھا جاتے ہیں!

    ایمریٹس ایئرلائن کے مسافر سالانہ ساڑھے سات لاکھ کلو چاکلیٹ کھا جاتے ہیں!

    ایمریٹس ایئرلائن کے مسافروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران 6 کروڑ 40 لاکھ سے زائد پریمیم چاکلیٹس سے لطف اٹھایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 لاکھ زیادہ ہیں۔

    ایئرلائن کے مطابق مسافروں کے لیے سالانہ تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ چاکلیٹ ڈیزرٹس بھی تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں اکانومی، پریمیم اکانومی، بزنس اور فرسٹ کلاس کے مسافروں کو پیش کیا جاتا ہے۔

    ایمریٹس کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال دنیا بھر میں اپنی پروازوں کے لیے معروف سپلائرز سے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار کلو گرام پریمیم چاکلیٹس طیاروں میں لوڈ کرتی ہے جبکہ مختلف چاکلیٹ ڈیزرٹس کی تیاری کے لیے مزید 2 لاکھ 60 ہزار کلوگرام چاکلیٹ استعمال کی جاتی ہے۔

    ایئرلائن کے مطابق چاکلیٹ کی مجموعی کھپت میں سال بہ سال تقریباً پانچ فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ مسافروں میں بالخصوص کوکو پر مشتمل ڈارک چاکلیٹ کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ذائقوں کے حوالے سے سالٹڈ کیریمل اب بھی مسافروں کی پسندیدہ چوائس ہے۔ تاہم، مختلف خطوں کے مطابق چاکلیٹ کے امتزاج بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ جانے والی پروازوں میں پستہ چاکلیٹ کے ساتھ مقبول انتخاب ہے، جبکہ ایشیائی روٹس پر یوزو، ماچا اور اشنکٹبندیی پھلوں کے ساتھ چاکلیٹ پیش کی جاتی ہے۔

    اسی طرح بحیرہ روم کے روٹس پر بیریز اور اسٹون فروٹس کے ساتھ تیار کردہ چاکلیٹ ڈیزرٹس مسافروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

  • کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار

    کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار

    سنگاپور کے سائنس دانوں نے ایک منفرد ڈائیونگ سوٹ تیار کیا ہے جس کی مدد سے مڈغاسکر ہسنگ کاکروچ تین گھنٹے تک پانی کے اندر سانس لے کر حرکت کر سکتا ہے۔

    نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل اینڈ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر ہیروتاکا ساتو اور ان کی ٹیم اس سے قبل ایسے کاکروچ تیار کر چکی ہے جنہیں ان کے حسی اعضا پر الیکٹروڈز نصب کرکے دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے تاکہ انہیں آفات سے متاثرہ علاقوں میں زندہ افراد کی تلاش جیسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    تاہم، ان کاکروچز کی سب سے بڑی کمزوری پانی تھی کیونکہ وہ زیرِ آب زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے محققین نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ایک خصوصی ڈائیونگ سوٹ تیار کیا۔

    یہ ریزن سے بنا سوٹ عام آکسیجن سلنڈر کے بجائے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کے کیمیائی امتزاج سے آکسیجن پیدا کرتا ہے جو کاکروچ کے سانس لینے کے سوراخوں (اسپائریکلز) تک پہنچائی جاتی ہے۔

    محققین کی ٹیم کے مطابق اس سوٹ نے تجربات میں مؤثر کارکردگی دکھائی اور کاکروچ کو تین گھنٹے تک پانی میں متحرک رکھا۔ دورانِ آزمائش کاکروچ نے پانی کے اندر تقریباً 78.4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کی، جو خشکی پر اس کی اوسط رفتار سے صرف 10 ملی میٹر فی سیکنڈ کم ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو سیلاب یا دیگر آفات سے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے بایو ہائبرڈ روبوٹس کی صلاحیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • برطانیہ: 10 افراد کے سنڈی کے لباس میں دوڑ کر ریکارڈ بنانے کی کوشش

    برطانیہ: 10 افراد کے سنڈی کے لباس میں دوڑ کر ریکارڈ بنانے کی کوشش

    برطانیہ کے ایک رننگ کلب کے 10 اراکین نے منفرد انداز اپناتے ہوئے ایک ہی سنڈی کے لباس میں ہاف میراتھن دوڑ مکمل کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کی کوشش کی ہے۔

    ٹٹبری رننگ کلب کے اراکین نے ڈربی میں منعقد ہونے والی راماتھون ہاف میراتھن میں تقریباً 60 فٹ لمبا سنڈی نما لباس پہن کر حصہ لیا۔ یہ لباس بچوں کی کھیلنے والی سرنگوں کے مختلف حصوں کو جوڑ کر تیار کیا گیا تھا۔

    کلب کے رکن کریگ روبسن کے مطابق ٹیم کو مقابلے سے قبل ایک ساتھ پریکٹس کرنے کا موقع نہیں ملا، جس کی وجہ سے اس چیلنج کو مکمل کرنا آسان نہیں تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بڑا انتظامی چیلنج تھا۔ تاہم، ٹیم نے عزم اور باہمی تعاون کے ذریعے دوڑ کامیابی سے مکمل کر لی۔

    ٹیم نے نصف میراتھن 2 گھنٹے، 8 منٹ اور 51 سیکنڈ میں مکمل کی جس کے بعد انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں 10 افراد کے مشترکہ لباس میں تیز ترین ہاف میراتھن مکمل کرنے کے ریکارڈ کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔

    اس وقت گنیز ورلڈ ریکارڈز میں اس نوعیت کا کوئی باضابطہ زمرہ موجود نہیں ہے۔

  • 150 سال پرانا گھر جس کی تزئین و آرائش کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت

    150 سال پرانا گھر جس کی تزئین و آرائش کے دوران ہزاروں انسانی باقیات دریافت

    برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں واقع تقریباً 150 برس پرانے ایک گھر کی مرمت کے دوران ہونے والی حیران کن دریافت نے ایک تاریک باب سے پردہ اٹھا دیا۔

    بظاہر معمولی دکھنے والے اس گھر کے فرش کے نیچے انسانی ہڈیاں ملنے کے بعد ماہرین آثارِ قدیمہ نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ مکان دراصل ایک قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا جو غلامی کے دور میں افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی تدفین کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ 

    یہ دریافت 1996 میں اس وقت ہوئی جب گھر کی مالکہ مرسڈیز بپٹسٹا گومز پریرا نے معمول کی تزئین و آرائش کے لیے فرش تڑوایا۔ مزدوروں کو اینٹوں کے نیچے انسانی ہڈیاں، دانت اور دیگر باقیات ملیں۔ بعد میں ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ مقام 18ویں اور 19ویں صدی میں استعمال ہونے والے تاریخی قبرستان کا حصہ تھا۔

    مورخین کے مطابق 1769 سے 1830 کے درمیان اس قبرستان میں تقریباً 20 ہزار سے 40 ہزار افریقی نژاد غلام دفن کیے گئے تھے۔ یہ وہ افراد تھے جو بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے دوران یا برازیل پہنچنے کے فوراً بعد بیماری، بھوک یا بدترین حالات کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔ لاشوں کو اکثر اجتماعی قبروں میں دفن یا جلا دیا جاتا تھا۔

    گھر کی مالکہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گھر کے فرش کا کوئی بھی حصہ توڑیں گے تو نیچے ہڈیاں مل جاتی ہیں۔ خاتون کے مطابق ابتدا میں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا گھر ایک تاریخی اجتماعی قبرستان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ 

    بعد ازاں اس مقام پر پروتوس نووس انسٹی ٹیوٹ نامی میوزیم قائم کیا گیا جہاں آثارِ قدیمہ کی باقیات محفوظ کی گئی ہیں۔

  • ممبئی کے ساحل پر 26 فٹ لمبا ہمپ بیک وہیل کا بچہ ہلاک، ریسکیو ٹیموں کی کوششیں ناکام

    ممبئی کے ساحل پر 26 فٹ لمبا ہمپ بیک وہیل کا بچہ ہلاک، ریسکیو ٹیموں کی کوششیں ناکام

    ممبئی: بھارت کے شہر ممبئی کے ساحلی علاقے باندرہ میں ایک 26 فٹ لمبا ہمپ بیک وہیل کا بچہ ساحل پر پھنس جانے کے بعد ہلاک ہو گیا۔ حکام اور جنگلی حیات کے ماہرین نے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہیل کو زندہ نہ بچایا جا سکا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے باندرہ کی ساحلی پٹی پر پیش آیا، جہاں مقامی افراد نے ایک بڑی وہیل کے بچے کو ساحل پر پھنسا ہوا دیکھا اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔

    اطلاع ملنے پر محکمہ جنگلات، شہری انتظامیہ، سمندری حیات کے ماہرین اور ویٹرنری ڈاکٹرز پر مشتمل ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ امدادی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور وہیل کو دوبارہ گہرے پانی میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے تمام ممکنہ اقدامات کیے، لیکن وہیل کی حالت انتہائی نازک ہونے کے باعث اسے بچانا ممکن نہ ہو سکا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔

    بعد ازاں بھارتی وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقررہ ضابطوں کے مطابق وہیل کی باقیات کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد سمندری جانور کو باقاعدہ طور پر دفن کر دیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق وہیل کے ساحل پر پھنس جانے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سمندری لہروں کا رخ تبدیل ہونا، بیماری، زخمی ہونا، آلودگی یا نیویگیشن میں خرابی شامل ہیں۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہیل کے ساحل پر آنے اور ہلاکت کی اصل وجہ کیا تھی۔

    جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری ماحول میں تبدیلی، آلودگی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے مختلف ساحلی علاقوں میں وہیل اور دیگر بڑے سمندری جانوروں کے ساحل پر پھنسنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  • انڈونیشیا؛ بار بار چوری سے تنگ مالک مکان نے ملزمان کو پکڑ کر ٹیپ میں لپیٹ دیا

    انڈونیشیا؛ بار بار چوری سے تنگ مالک مکان نے ملزمان کو پکڑ کر ٹیپ میں لپیٹ دیا

    بار بار کی چوری چکاری سے تنگ آکر ایک انڈونیشی گھر کے مالک نے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر جال بچھا کر چوروں کو پکڑ لیا اور اُن کے گرد ٹیپ باندھ کو انہیں کارٹونی کرداروں کا بھیس دے دیا۔

    سوشل میڈیا پر گردش کررہی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ گھر کے مالک نے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر چار مشتبہ دراندازوں کو کامیابی سے گھات لگا کر پکڑا اور ان کو سر سے پاؤں تک ڈکٹ ٹیپ میں لپیٹ لیا۔

    اگرچہ اس اقدام نے قانون ہاتھ میں لینے پر آن لائن بحث کو جنم دیا تاہم یہ انڈونیشیا میں جرائم پر ریاست کی لاپروائی کیوجہ سے معاشرے کی مایوسی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    بعدازاں باندھے ہوئے مشتبہ افراد کی فوٹیج ریکارڈ کی گئی اور اُسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا گیا۔ کچھ انٹرنیٹ صارفین نے کارروائی کرنے پر کمیونٹی کی تعریف کی جب کہ دوسروں نے استدلال کیا کہ عوامی طور پر مشتبہ افراد کا مذاق اڑانا اور باندھنا حد سے تجاوز کرنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے نمٹنا چاہیے۔

  • امریکا: 1500 فُٹ لمبے ٹاور پر چڑھ کر بلب تبدیل کرنا ہے، پیسے کتنے ملیں گے؟

    امریکا: 1500 فُٹ لمبے ٹاور پر چڑھ کر بلب تبدیل کرنا ہے، پیسے کتنے ملیں گے؟

    امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں 457 میٹر (1500 فٹ) اونچے کمیونکیشن ٹاور پر صرف بلب تبدیل کرنے کیلئے بار بار چڑھنا بظاہر ایک خطرناک کام لگتا ہے لیکن کچھ لوگ پیسوں کیلئے یہ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی  ہے جس میں ایک شخص کو ٹاور پر چڑھتے دکھایا گیا۔ لیکن لوگوں کی توجہ ویڈیو کے کیپشن کے اُس حصے پر گئی جہاں لکھا تھا کہ ایک دفعہ ٹاور پر چڑھنے اور کام مکمل کرنے کے 20 ہزار ڈالر ملتے ہیں۔ مطلب اگر آپ ٹاور پر دو بار چڑھتے ہیں تو 40 ہزار ڈالر تو آپ کے یونہی بن گئے۔

    اگرچہ 20,000 ڈالر فی چڑھائی کا دعویٰ سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔

    ٹاور پر چڑھنے والے ٹیکنیشیئن صرف بلب تبدیل نہیں کرتے بلکہ اینٹینا، وائرنگ، سگنل آلات، حفاظتی معائنہ اور دیگر تکنیکی کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اس ٹاور کا مقصد طیاروں کو فضائی سطح سے متعلق وارننگ جاری کرنا ہوتا ہے۔

    امریکا میں ایسے ٹاور ٹیکنیشنز کی عام تنخواہ عموماً 24 سے 30 ڈالر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور سالانہ تقریباً 65,000 ڈالر کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ تاہم انتہائی بلند اور خطرناک ٹاورز پر خصوصی کام کے لیے اضافی معاوضہ مل سکتا ہے۔