جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ایک متنازع خطاب مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جس پر اہم حکومتی اور سیاسی رہنما کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
مولانا نے ہفتے کے روز قصور میں ایک کانفرنس سے کی گئی تقریر میں عکسری حلقوں پر سیاست میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے شہدائے وطن کی قربانیوں کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جس پر سیساسی حلقوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔
حکومتی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا پہلا تیر وزیردفاع خواجہ آصف نے چلایا۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ “فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔”
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جے یو آئی چیف کے بیان کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”
ایکس پر کی گئی ایک تفصیل پوسٹ میں انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانی کا احترام کرنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔
اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔
تنقید کرنے والوں میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
مولانا کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔
“اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر وطن کے محافظوں کی عزت، ان کی قربانیوں اور شہداء کے مقدس خون کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری، استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مولانا مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔
عبدالعلیم خان نے ایکس پر پیغام لکھا قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ایسا طرزِ عمل جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے، قابلِ مذمت ہے جبکہ عون چوہدری نے ویڈیو بیان میں مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ نے فوجی جوانوں کی شہادتوں کو تنخواہ سے جوڑ دیا، ہم آپ کو ڈبل پیسے دیتے ہیں آپ اور آپ کے بچے اس ملک کے لیے شہید ہوں۔”
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ مولانا نے افواج اور شہدا کیخلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے اور ان کے بیان سے ہرپاکستانی کادل دکھا ہے۔