Category: قومی

  • پی ٹی آئی نےملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نےملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان کردیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس فیصلے کا اعلان پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اجلاس کا ایک مخصوص ایجنڈا تھا، تاہم اس دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست وہ دن ہے جب 2023 میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت کی جانب سے تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مسلسل قید کی مذمت کی ہے۔

    بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پارٹی نے مختلف مقدمات میں عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے، تاہم اب تک اپیلوں پر فیصلے سامنے نہیں آئے۔

    انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور اپوزیشن اتحاد مشترکہ طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ان کے مطابق 5 اگست کو ہونے والا احتجاج ماضی کے احتجاجی مظاہروں سے مختلف نوعیت کا ہوگا، تاہم اس کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

    پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاجی ریلیوں کا مقصد اپنے سیاسی مؤقف کو عوام کے سامنے رکھنا اور بانی پارٹی کی رہائی کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ تاہم احتجاج کی نوعیت، مقامات اور شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات پارٹی کی جانب سے بعد میں جاری کی جائیں گی۔

  • کنٹونمنٹ بورڈز بلدیاتی انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کی وزیراعظم سے ذاتی مداخلت کی اپیل

    کنٹونمنٹ بورڈز بلدیاتی انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کی وزیراعظم سے ذاتی مداخلت کی اپیل

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔

    خط کے متن کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈز کی آئینی مدت 11 اپریل 2026 کو ختم ہو چکی ہے جب کہ آئین اور قانون کے تحت مدت ختم ہونے کے 120 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات کا خواہاں ہے، تاہم انتخابات کے انعقاد کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے درکار قانونی اور انتظامی تقاضے ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے۔

    خط میں وزیراعظم سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت دیں تاکہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق مقررہ مدت میں کرائے جا سکیں۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام 42 کنٹونمنٹ بورڈز کی حلقہ بندیاں 20 اپریل 2026 کو مکمل کر لی گئی تھیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کے اجرا کے لیے درکار رسمی تحریری درخواست تاحال موصول نہیں ہوئی۔ کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت وفاقی حکومت کی تحریری درخواست کے بغیر انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا جا سکتا۔

    خط میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن وزارتِ دفاع کو اس حوالے سے متعدد یاد دہانیاں بھیج چکا ہے جب کہ وزارتِ دفاع متعلقہ سمری وزیراعظم آفس کو ارسال کر چکی ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی تحریری درخواست موصول ہوتے ہی کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔

  • خاتون کولیگ کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ، سرکاری افسر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ

    خاتون کولیگ کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ، سرکاری افسر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ

    وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے خاتون کولیگ کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ دینے، بار بار خواجہ سرا برادری سے تشبیہ دینے اور سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز مہم چلانے کے الزام میں ایک سرکاری افسر پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

    وفاقی محتسب کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محض کسی کے نسلی یا لسانی حوالہ جات کا استعمال ہر صورت ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا، تاہم اگرصنفی بنیادوں پرکسی کی تذلیل، تضحیک یا کردارکشی کے لیے زبان کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو یہ واضح طور پر ہراسیت اورامتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

    فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ ملزم نے اپنی خاتون کولیگ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی، جس کے دوران متعدد توہین آمیز پیغامات آن لائن شائع کیے گئے۔

    اس نے بار بار تضحیک آمیزاصطلاحات استعمال کیں، ایک جعلی کتاب کا عنوان گھڑا، اس کے فرضی مصنف اور اشاعتی تفصیلات بھی خود تیار کیں تاکہ شکایت کنندہ کو مذاق اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکے۔

    وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی ذاتی زندگی، خصوصاً اولاد نہ ہونے کے معاملے کو بار بار نشانہ بنایا اور اسے خواجہ سرا برادری سے تشبیہ دے کر تضحیک آمیز زبان استعمال کی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ یہ رویہ شعوری طور پر صنفی بنیادوں پر امتیازی اور تحقیر آمیز تھا، جس کا مقصد خاتون کولیگ کی عزت نفس کو مجروح کرنا اور اسے پیشہ ورانہ ماحول میں بدنام کرنا تھا۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواجہ سرا شناخت سے منسوب اصطلاحات کو بطور گالی یا تضحیک استعمال کرنا صرف غیر شائستہ زبان نہیں بلکہ یہ معاشرے کے ایک کمزوراورمحروم طبقے کے خلاف نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو فروغ دیتا ہے۔ اس طرح کا رویہ نہ صرف متعلقہ فرد بلکہ خواجہ سرا برادری کے وقار اور سماجی احترام کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کے پیشہ ورانہ ماحول میں ایسے امتیازی، توہین آمیز اور ہراسیت پر مبنی طرزِ عمل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف ملازمت کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ کام کی جگہ پرمحفوظ، باوقار اور مساوی ماحول کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔

    وفاقی محتسب نے متعلقہ سرکاری افسر پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ فیصلہ سرکاری اداروں میں ہراسیت، صنفی امتیاز اور تضحیک آمیز رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔

  • خیبرپختونخوا میں فرسٹ کلاس معیار کا ایک بھی کرکٹ اسٹیڈیم نہیں، فیصل کریم کنڈی

    خیبرپختونخوا میں فرسٹ کلاس معیار کا ایک بھی کرکٹ اسٹیڈیم نہیں، فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے معیار کا ایک بھی اسٹیڈیم موجود نہیں، جبکہ کھیلوں کے میدانوں اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باعث نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے نہیں بڑھ پا رہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے نصف سے زائد کھلاڑیوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، تاہم صوبے میں معیاری کرکٹ انفراسٹرکچر اورجدید تربیتی سہولیات کا فقدان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک جانے والے کئی باصلاحیت کھلاڑی ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلوں سے باہر ہو جاتے ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان کھلاڑی بہتر سہولیات، جدید کوچنگ اور عالمی معیار کی تربیت کے مستحق ہیں۔

    کھیلوں کے میدان آباد ہونے سے نہ صرف نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے گا بلکہ منفی رجحانات کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے قومی کھیل ہاکی کی بحالی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس کھیل کی ترقی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ پاکستان دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی شناخت حاصل کر سکے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا چیمپئن لیگ کے انعقاد کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، جبکہ لیگ کی افتتاحی تقریب 18 جولائی کو منعقد ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس ایونٹ سے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ملے گا اور صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

  • اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ: نجکاری کمیشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں معاہدہ

    اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ: نجکاری کمیشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں معاہدہ

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے میں نجکاری کمیشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کو معاہدے کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ معاہدے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی نمائندہ ایما فین اور نجکاری کمیشن کے نمائندے شاہد دایو نے دستخط کیے۔

    دستخطی تقریب میں وزیر اعظم کے مشیر اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی، سیکرٹری نجکاری کمیشن، سیکرٹری نجکاری ڈویژن اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

    معاہدے کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک منصوبے کے لیے تکنیکی، مالی، قانونی اور تجارتی مشاورتی خدمات فراہم کرے گا تاکہ آؤٹ سورسنگ کا عمل شفاف، مسابقتی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی معیار کے ایئرپورٹ آپریٹرز اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آپریشنل استعداد اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان کا بیان شہداء کی توہین قرار، سیاسی قیادت نے معافی کا مطالبہ کر دیا

    مولانا فضل الرحمان کا بیان شہداء کی توہین قرار، سیاسی قیادت نے معافی کا مطالبہ کر دیا

    جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ایک متنازع خطاب مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جس پر اہم حکومتی اور سیاسی رہنما کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔

    مولانا نے ہفتے کے روز قصور میں ایک کانفرنس سے کی گئی تقریر میں عکسری حلقوں پر سیاست میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے شہدائے وطن کی قربانیوں کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جس پر سیساسی حلقوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔

    حکومتی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا پہلا تیر وزیردفاع خواجہ آصف نے چلایا۔ ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ “فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔”

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جے یو آئی چیف کے بیان کو اخلاق کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ “شہادت کا مقام کسی دنیاوی معاوضے سے کہیں بلند ہے۔ تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔”

    ایکس پر کی گئی ایک تفصیل پوسٹ میں انہوں نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانی کا احترام کرنا اور انہیں ہر قسم کی سیاست سے بالاتر رکھنا ہماری قومی، سیاسی،اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن شہداء کے مقام و مرتبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو ان کے اہلِ خانہ، ان کے ساتھیوں اور پوری قوم کے دلوں کو دکھ پہنچائیں۔

    اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا پر کسی بھی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں ہو سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہداء کے عظیم ورثا جو اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے ان کی شہادت کی دعائیں کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کو سلام ہے۔ ایسے دلیر اور بہادر سپوت قوم کا سرمایہ ہیں۔

    تنقید کرنے والوں میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی شامل تھے جنہوں نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ ہم جوانوں اور افسروں کی لازوال قربانیوں کے باعث سکون کی نیند سوتے ہیں جو ہر محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

    مولانا کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی تاریخ کسی سیاسی بیان، طنز یا تمسخر سے نہ مٹ سکتی ہے اور نہ ہی ان عظیم قربانیوں کی قدر کم کی جا سکتی ہے۔

    “اختلافِ رائے ہر ایک کا حق ہے، مگر وطن کے محافظوں کی عزت، ان کی قربانیوں اور شہداء کے مقدس خون کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”

    اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری، استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی مولانا مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔

    عبدالعلیم خان نے ایکس پر پیغام لکھا قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ایسا طرزِ عمل جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے، قابلِ مذمت ہے جبکہ عون چوہدری نے ویڈیو بیان میں مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ نے فوجی جوانوں کی شہادتوں کو تنخواہ سے جوڑ دیا، ہم آپ کو ڈبل پیسے دیتے ہیں آپ اور آپ کے بچے اس ملک کے لیے شہید ہوں۔”

    فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ مولانا نے افواج اور شہدا کیخلاف نامناسب الفاظ استعمال کیے اور ان کے بیان سے ہرپاکستانی کادل دکھا ہے۔

  • راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولا کوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملے کے نتیجے میں رینجرز اہلکار شہید ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق مذموم ایجنڈے میں ناکامی کے بعد آج صبح کالعدم ایکشن کمیٹی کےمسلح جتھوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ کے قریب شہری آبادی پرفائرنک کی۔

    کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت خود کو قانون کے حوالے کرے، آزاد کشمیر حکومت

    بزدلانہ کارروائی کے بعد امن وامان کی بحالی کیلئے پیش قدمی کرنے والی پولیس اور معاونت کیلئےپہنچنے والی رینجرزپرمسلح جتھوں نے جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کی۔جس کے نتیجے میں رینجرز اہلکار جام شہادت نوش کرگیا۔

    ماہرین کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاجدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشتگردی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور تحفظ ناگزیر ہے،ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مسلح جتھوں کے خلاف فوری، سخت اور بلا امتیاز قانونی کاروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا

    دوسری جانب آزاد جموں و کشمیرکے امن و امان کو تباہ کرنے اور افراتفری پھیلانے والےعناصر کیخلاف قانونی گھیرا تنگ کردیا گیا ہے ، آزاد کشمیرحکومت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے قانون شکنی کرنے والے انتشاری عناصرکیخلاف زیروٹالرنس کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق انتشاری کمیٹی کے سابقہ مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا گیا، میرپور پولیس نے دوبارہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور اہلکاروں پر حملوں سے متعلق مقدمات کو دوبارہ فعال کیاگیا ہے۔

    میر پور آزاد جموں و کشمیر پولیس کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ ہونے کے بعد نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے9 جون کے احتجاج کا مقصد آزاد کشمیر میں انتخابات کو روکنا تھا،رانا ثناء اللہ

    تھانہ ڈڈیال 2024 میں اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں پرحملے کے مقدمے کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے،مقدمات میں نامزد متعدد افراد کو گرفتار کر کے تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔سرغنہ مہران کے قریبی ساتھی ظہیر سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا،مزید گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، اشتعال انگیزی اور امن و امان تباہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے،تمام شرپسندعناصر کیخلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رہنی چاہیے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

  • پاکستان کی سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

    پاکستان کی سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس نوعیت کی قابلِ مذمت کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس نازک وقت میں برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب کے ابہا ائیر پورٹ پر حوثی باغیوں نے میزائل حملے کیے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے فائر کئے گئے بیلسٹک میزائل تباہ کردیے تھے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں یمن میں سعودی اتحادی فورس کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے تاہم ملکی فضائی دفاع نظام نے میزائل فضا میں تباہ کردیے۔

    راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    واضح رہے کہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا ائیرپورٹ پر فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تھا اس کارروائی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    اس طرح گزشتہ رات کو حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملہ کیا گیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔

    دوسری جانب سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد امریکی نیوز ویب سائیٹ ‘ایکسیوس’ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو یمن میں “ایران نوازحوثی باغیوں” کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس یا سعودی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی صورتحال پرہنگامی اجلاس کے دوران بھی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

  • اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف

    ایرانی اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

    تہران میں حماس رہنما اور شوری کونسل کے چیئرمین محمد درویش سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ سفارتکاری سے میدان جنگ بندی میں ہونے والی کامیابیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ملک کو سفارتکاری کے ساتھ دفاع کیلئے بھی ہر دم تیاررہنا ہوگا۔

    قبل ازیں مشیر ایرانی سپریم لیڈر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔ ایک بیان میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔

    مشیر ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق ایران ناقابلِ شکست ہے جبکہ صہیونی ریاست زوال کی طرف جارہی ہے۔ بولے ہماری تہذیب اور ہمارے عوام ناقابلِ تسخیر ہیں۔ محسن رضائی ایرانی قوم کو بھی خبردار کیا کہ ہمیں صرف اندرونی معاملات کے حوالے سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں ایرانی آرمی چیف نے کہا کہ شہید رہبر اعلیٰ کو شہید کرنے والوں کا گریبان نہیں چھوڑیں گے، ایرانی صدرنے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا۔

    سربراہ قدوس فورس اسماعیل قانی نے کہا کہ شہیر رہبراعلیٰ نے پوری زندگی عوام کیلئے جدوجہد کی، ایرانی نائب صدر کا کہنا تھا کہ شہید سپریم لیڈر کے احکامات پر عمل کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

  • واشنگٹن: وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی ایف بی آئی ڈائریکٹر سے ملاقات

    واشنگٹن: وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی ایف بی آئی ڈائریکٹر سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں امریکی ایف بی آئی ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر ایف بی آئی کاش پٹیل سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں ملک کے اندر اور باہر سائبر تحقیقات کے لیے وسائل کی فراہمی اور خصوصی تربیت پر بھی گفتگو ہوئی۔

    اس موقع پر امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستانی وزیرِ داخلہ کی میزبانی کرنا باعث اعزاز ہے۔

    کاش پٹیل نے کہا کہ ایف بی آئی خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے محسن نقوی کے تعاون کو بےحد سراہتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری شراکت داری نہایت اہم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ بھی ہم مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔