Category: قومی

  • پاکستان میں الیکٹرک گاڑی کے خواہشمند افراد کیلئے شاندار اعلان

    پاکستان میں الیکٹرک گاڑی کے خواہشمند افراد کیلئے شاندار اعلان

    اسلام آباد: حکومت نے 2030 تک ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز (EVs) کی تعداد 22 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا اعلان کر دیا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو دی گئی بریفنگ کے مطابق دو اور تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے 9 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔ جبکہ الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے والے شہریوں کو فی موٹر سائیکل 80 ہزار روپے تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک پاکستان میں مقامی سطح پر 12 ہزار 800 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں اور ایک لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں تیار کی جا چکی ہیں۔ جو اس شعبے میں تیزی سے ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ کی بچت، فضائی آلودگی میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    سبسڈی اسکیم سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے الیکٹرک سواری کا حصول بھی آسان ہو گا۔

  • پاک افغان کشیدگی پر امریکا نے دہشت گرد حملوں کیخلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کردی

    پاک افغان کشیدگی پر امریکا نے دہشت گرد حملوں کیخلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کردی

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر امریکا نے دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کردی۔

     امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، امریکا دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے۔

  • شہید سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین سے قبل ایران میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    شہید سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین سے قبل ایران میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کئی روزہ آخری رسومات سے قبل ملک بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تقریبات پرامن طریقے سے منعقد ہو سکیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکومتی، مذہبی اور سیاسی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج کی زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں اور حساس مقامات پر اپنی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

    بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا کے مطابق ایران کی فضائی دفاعی فورس بھی مسلسل ملک کی فضائی حدود کی نگرانی کر رہی ہے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر فوری ردعمل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

  • سالانہ ترقیاتی منصوبہ 27-2026

    سالانہ ترقیاتی منصوبہ 27-2026

    وفاقی حکومت کے پلاننگ کمیشن کی جانب سے سالانہ منصوبہ 27-2026 جاری کر دیا گیا ہے، جسے ”اڑان پاکستان ” کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں مجموعی ملکی معیشت کے اہم اشاریوں کے لیے 27-2026 کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

    معاشی اہداف میں عام طور پر سب سے زیادہ توجہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر دی جاتی ہے۔ سالانہ منصوبے 26-2025 میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اصل شرحِ نمو 3.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

    البتہ سب سے زیادہ حیران کن بات 26-2025 کے دوران سالانہ منصوبے کے اہداف اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اندازوں کے درمیان شعبہ جاتی شرحِ نمو کا بڑا فرق ہے جیسا کہ نیچے دیے گئے جدول میں دکھایا گیا ہے :

    یہ واقعی ایک حیرت انگیز اتفاق ہے کہ شعبہ جاتی شرحِ نمو میں اتنے بڑے تضادات کے باوجود مجموعی جی ڈی پی کی شرحِ نمو دونوں جگہ بالکل ایک جیسی یعنی 3.7 فیصد ہی نکلی ہے۔ انتظامی طور پر پی بی ایس وزارتِ منصوبہ بندی و ترقیات کا ہی ایک ذیلی ادارہ ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں کے درمیان ہم آہنگی کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔

    مالی سال 26-2025 کے دوران شعبہ جاتی کارکردگی کے اثرات آئندہ کی شعبہ جاتی شرحِ نمو اور مجموعی جی ڈی پی کے تخمینوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے سالانہ منصوبے کے پیش کردہ تخمینہ جات درج ذیل ہیں:

    سالانہ منصوبے میں مالی سال 27-2026 کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 4.0 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو 26-2025 کی 3.7 فیصد شرحِ نمو سے معمولی سی پیش رفت ہے۔ اس میں زراعت کے شعبے کی ترقی میں 1.5 فیصد سے 3.6 فیصد تک کی بڑی چھلانگ تجویز کی گئی ہے لیکن کپاس کی کاشت کے بحران اور کاشتکاروں کو گندم کی منافع بخش قیمت نہ ملنے کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس ہدف کا حصول ناممکن نظر آتا ہے۔

    دوسری جانب صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 26-2025 کے 5.6 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 27-2026 میں 4.5 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ یہ گراوٹ ممکنہ طور پر 26-2025 کے دوران درآمدات میں بڑے اضافے کے باعث آٹوموٹو (گاڑیوں کی) انڈسٹری میں آنے والے 60 فیصد اچھال کے بعد کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔

    سالانہ منصوبے کے مطابق خدمات (سروسز) کے شعبے کی شرحِ نمو 3.1 فیصد سے بڑھ کر 4.1 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔ خدمات کے شعبے میں 26-2025 کے دوران پبلک ایڈمنسٹریشن اور ڈیفنس، تعلیم، صحت اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز کے ذیلی شعبوں میں تیز رفتار ترقی دیکھی گئی۔ تاہم روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے مثالی صورتحال یہ ہوتی کہ ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ اور ٹرانسپورٹ جیسے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے شعبے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتے۔

    مجموعی طور پر 27-2026 کے لیے جی ڈی پی کی ترقی کا 4 فیصد ہدف ممکنہ طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے، بالخصوص اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال معمول پر آ جائے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بلا روک ٹوک شروع ہو جائے۔ مزید برآں ایران سے کم قیمت پر تیل اور گیس کی درآمدات کی بحالی بھی ملکی معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گی۔

    آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 26-2025 میں یہ 14.4 فیصد تھا۔ آخری بار سرمایہ کاری کی یہ سطح 22-2021 میں دیکھی گئی تھی۔ 27-2026 میں سرمایہ کاری کی اس بلند سطح کو حاصل کرنے کے لیے شرحِ سود میں نمایاں کمی لانا ہو گی۔

    اس کے علاوہ ملک میں سرمایہ کاری کی شعبہ جاتی تقسیم کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ طویل عرصے سے نجی اور سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) سے نکل کر رئیل اسٹیٹ کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ مالی سال 16-2015 میں مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ تھی، لیکن ایک دہائی بعد 26-2025 میں یہ رئیل اسٹیٹ میں ہونے والی سرمایہ کاری سے 44 فیصد کم ہو چکی ہے۔ وفاقی بجٹ 27-2026 میں غلط طور پر رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی مراعات کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

    مالی سال 27-2026 کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے جولائی سے فروری 26-2025 تک مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد کی نچلی سطح پر مستحکم تھی، لیکن اس کے بعد سے مئی 2026 تک یہ اوسطاً 10 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مہنگائی کی شرح پر سب سے بڑا اثر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے بھاری اضافے کے باعث پڑا۔ تاہم حالیہ دنوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے قیمتوں کی سطح اور مہنگائی کی شرح کو نیچے لانے میں مدد ملنی چاہیے۔

    اگر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم ہو جاتا ہے تو افراطِ زر کا متوقع ہدف (جو 8.5 فیصد تجویز کیا گیا ہے) حقیقت میں اس سے کچھ کم بھی رہ سکتا ہے۔ یہ صورتحال اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے لیے 27-2026 میں شرحِ سود میں کچھ کمی لانے کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

    بیلنس آف پمنٹس میں کرنٹ اکاؤنٹ کے تخمینے مشروط ہیں، بالخصوص برآمدات کی کارکردگی پر۔ مالی سال 26-2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، تاہم اب سالانہ منصوبہ 27-2026 میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ برآمدات میں تقریباً 9 فیصد کی بلند شرحِ نمو دیکھی جائے گی۔تاہم یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک برآمد کنندگان کو مارکیٹ پر مبنی شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کی پالیسی کے ذریعے سہولت نہ دی جائے۔ مئی 2026 تک رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) کی سطح 106.15 ہے، جو روپے کی قدر میں نمایاں حد تک زائد اوور ویلیوایشن کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو 27-2026 میں اس اہم مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔

    مزید برآں کئی فیکٹریوں کی بندش کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت میں کچھ کمی کی اطلاعات بھی ہیں۔ بجٹ 27-2026 میں برآمداتی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مضبوط مالیاتی (فیسکل) مراعات دی جانی چاہیے تھیں۔

    مالی سال 26-2025 میں درآمدات پہلے ہی 8 فیصد کی شرح سے بڑھ چکی ہیں۔ سالانہ منصوبے میں 27-2026 کے دوران درآمدات میں 5.6 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا انحصار ظاہر ہے تیل کی قیمتوں پر ہو گا۔

    دوسری جانب ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینسز) میں 27-2026 کے دوران صرف 2.9 فیصد کی معمولی شرحِ نمو متوقع ہے، جو کہ ایک حقیقت پسندانہ تخمینہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔

    مالی سال 27-2026 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 3.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ 26-2025 میں یہ صرف 1.1 ارب ڈالر تھا۔ اس ہدف کا دارومدار بھی مکمل طور پر آئندہ سال کی برآمدی کارکردگی پر ہو گا۔

    مجموعی طور پر اگر ملکی معیشت میں استحکام کے ساتھ ساتھ معمولی ترقی بھی لانی ہے تو سالانہ منصوبہ 27-2026 کے اہداف کو حاصل کرنا ہو گا۔ تاہم جی ڈی پی کی ترقی کا 4 فیصد ہدف حاصل ہونے کے باوجود معیشت میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا خدشہ رہے گا۔ ’اڑان‘ منصوبے کے پرجوش اہداف کو آنے والے برسوں میں حاصل کرنا ناگزیر ہو گا۔

  • دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول

    دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔

    اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، سب نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، دنیا کو احساس ہوچکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں ہے، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا، اکیسویں صدی پانی کی بندش،آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانےکے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے۔

    ان کا کہنا تھا بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنےآبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، اگر پاکستان کے پانی کو روکناجنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا، دریائے سندھ کا بطور ہتھیار استعمال کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہرفورم پر دیناہوگا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو روکنا ہے، بھارت کو یہ تاثر نہیں ملناچاہیےکہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھاتا رہے اور پاکستان صرف احتجاج تک محدود رہے گا، مؤثر دفاع اسی وقت ممکن ہے جب مخالف فریق یہ جان لےکہ سرخ لکیرعبورکرنے کی اسےکیا قیمت ادا کرنا پڑے گی، یہ کسی گھبراہٹ یا مہم جوئی کی دعوت نہیں، یہ وقت ہمیں سنجیدگی، واضح حکمتِ عملی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حقوق کے دفاع کا مطالبہ کرتا ہے۔

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق  پاکستان اور بھارت نے قونصلر رسائی سے متعلق دوطرفہ معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا سفارتی ذرائع سے تبادلہ کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 21 مئی 2008 کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔

    پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے 250 بھارتی قیدیوں کی فہرست کی، جن میں 52 شہری قیدی اور 198 ماہی گیر شامل ہیں۔

    دوسری جانب بھارت نے پاکستان کو 439 پاکستانی یا مبینہ پاکستانی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 386 شہری قیدی اور 53 ماہی گیر شامل ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سزا مکمل کرنے والے 97 پاکستانی قیدیوں (64 شہری قیدی اور 33 ماہی گیر) کو فوری طور پر رہا کرکے وطن واپس بھیجے، جن کی پاکستانی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    پاکستان نے بھارت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جیلوں میں موجود تمام پاکستانی اور مبینہ پاکستانی قیدیوں کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنائے، جبکہ مبینہ پاکستانی قیدیوں کو جلد از جلد قونصلر رسائی فراہم کی جائے تاکہ ان کی شہریت کی تصدیق کا عمل مکمل ہو سکے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان تمام پاکستانی قیدیوں کی جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • PACRA نے بینک آف پنجاب کی ریٹنگ بڑھا کر AAA کر دی

    PACRA نے بینک آف پنجاب کی ریٹنگ بڑھا کر AAA کر دی

    پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (PACRA) نے بینک آف پنجاب کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ AA+ سے بڑھا کر AAA کر دی ہے جبکہ قلیل مدتی ریٹنگ A1+ برقرار رکھی گئی ہےاور بینک کا آؤٹ لک مستحکم قرار دیا گیاہے ۔

    اس کامیابی کے ساتھ بینک آف پنجاب پاکستان کا پہلا اور واحد صوبائی بینک بن گیاہے، جس نے ملک کی سب سے اعلیٰ کریڈٹ ریٹنگ حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی بینک میں جمع شدہ رقوم میں مسلسل اضافے ، منافع میں نمایاں بہتری اور موثر رسک مینجمنٹ کی بدولت ممکن ہوئی ہے ۔

    اعدادو شمار بھی اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں۔ سال 2025 میں بینک آف پنجاب کے ڈپازٹس 2 کھرب روپے (2 ٹریلین روپے) سے تجاوز کر گئے، جبکہ کریڈٹ لاس الاؤنس سے پہلے آپریٹنگ منافع تقریباً دو گنا ہو کر 40.7 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 98.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کم لاگت پر زیادہ ڈپازٹس حاصل کرنا، فنڈز کی لاگت میں کمی ، بنیادی آمدنی میں اضافہ، اخراجات پر موثر کنٹرول اور محتاط رسک مینجمنٹ رہی۔

    بینک آف پنجاب کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ظفر مسعود نے کہا کہ ’’AAA صرف ایک ریٹنگ نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیشہ وارانہ مہارت، نظم وضبط اور مضبوط بینکاری سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے ایک ایسا مضبوط تجارتی ادارہ بنایا ہے جو اپنے شیئر ہولڈرز کیلئے پائیدار قدر پیدا کرتا ہے جبکہ مالی شمولیت، ذمہ دار بینکاری اور پنجاب و پاکستان کی ترقی کے اپنے عزم پر بھی قائم ہے۔‘‘

    بینک آف پنجاب پاکستان کا نمایاں ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے والا بینک ہے اور ایس ایم ایز، زراعت، خواتین کی مالی خودمختاری اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کیلئے مالی معاونت میں بھی صفِ اول میں شامل ہے، حکومتِ پنجاب کے اہم پروگرامز جیسے آسان کاروبار، کسان کارڈ، لائیوسٹاک کارڈ اور اپنی چھت اپنا گھر کے ذریعے بینک نے صوبےبھر میں کاروباری افراد، کسانوں ، خواتین اور پہلی مرتبہ قرض لینے والوں کو باضابطہ مالی سہولیات تک رسائی فراہم کی ۔بینک اپنی اکثریتی سرپرست حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتاہے جس کے اعتماد، تعاون او ر رہنمائی نے بینک کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا اور صوبے کی ترقی اور مالی شمولیت کے سفر میں اس کے کردار کو مستحکم کیا ۔

    جناب ظفر مسعود نے مزید کہا کہ ’’ یہ کامیابی ہمارے لوگوں کی کامیابی ہے، ہم حکومت پنجاب، اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز، صارفین، ریگولیٹرز، شیئر ہولڈرز اور بالخصوص محترمہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے شکرگزار ہیں، جنہوں ے بینک آف پنجاب اور اس کی باصلاحیت ٹیم پر اعتماد کیا، ہمارے ملازمین کی پیشہ وارنہ مہارت، محنت اور لگن نے اس کامیابی کو ممکن بنایا اور ہم اسی جذبے کے ساتھ آگے بھی عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے بہترین نتائج دیتے رہیں گے‘‘۔

    بینک آف پنجاب ذمہ دارانہ ترقی، مضبوط مالی بنیاد، صافین پرمرکوز ڈیجیٹل جدت، مالی شمولیت اور تمام شراکت داروں کیلئے دیر پا قدر پیدا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتاہے۔ بینک آف پنجاب پاکستان میں ایس ایم ای فنانسنگ، زرعی قرضوں، کم لاگت ہاؤسنگ ، خواتین کاروباری افراد کی مالی معاونت، کریڈٹ کارڈز کے اجرا اور ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے کے شعبوں میں نمایاں اور سرفہرست ہے ۔

  • جون 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ

    جون 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ

    جون 2026 کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح سالانہ 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ادارہ شماریات کے مطابق مئی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 11.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ جون 2025 میں یہ شرح 3.2 فیصد تھی۔

    ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو جون 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح میں ماہانہ 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 0.5 فیصد بڑھی تھی۔ اسی طرح جون 2025 میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 7.05 فیصد رہی جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ایک نوٹ میں کہا کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں ہونے والا اضافہ ہے۔

    شہری علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 11.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 11.8 فیصد اور جون 2025 میں 3.0 فیصد تھی۔

    ماہانہ بنیاد پر شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 0.5 فیصد کم ہوئی جبکہ مئی 2026 میں اس میں 0.7 فیصد اضافہ اور جون 2025 میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    دیہی علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 11.5 فیصد اور جون 2025 میں 3.6 فیصد تھی۔

    ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی جبکہ مئی 2026 میں اس میں 0.3 فیصد اضافہ اور جون 2025 میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

    وزارت خزانہ نے اپنی تازہ ترین ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ میں نوٹ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں کے باعث جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں حالیہ کمی نے عالمی مارکیٹ کے رجحانات کو بہتر بنایا ہے۔

    نتیجتاً عالمی خام تیل کی قیمتیں اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہیں جس سے توقع کی جارہی ہے کہ درآمدی مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی اور مقامی سطح پر ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 11 سے 12 فیصد کی حدود میں رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے تیل کے درآمدی بل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جس سے بیرونی کھاتے کو تقویت ملے گی۔

    گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جون میں افراطِ زر کی شرح اگلے چند مہینوں تک دوہرے ہندسوں میں رہے گی، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔

  • پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پانی روکنا ‘وجودی حملے’ کے مترادف ہے: بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پانی روکنا ‘وجودی حملے’ کے مترادف ہے: بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو ایک ‘وجودی حملہ’ قرار دیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی معیشت، زندگی اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جائز، قانونی، سیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں لڑیں گے اور اپنے حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

    ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان آبی جارحیت اور بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کے بہاؤ میں خلل ڈالنے کے حوالے سے شدید تحفظات کا شکار ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت، آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت، آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق

    دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں آئندہ دور جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں جن میں مختلف امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معاملات پر پیش رفت ہوئی، جو لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کا تسلسل ہے۔

    بیان کے مطابق دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ زیرِ غور معاملات پر مزید پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے بعد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔

    ترجمان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سفارتی رابطوں اور مسلسل بات چیت کے ذریعے اہم معاملات کے حل کی جانب پیش رفت جاری رہے گی۔

    مذاکرات میں اس وقت شامل ہوں گے جب امریکا معاہدے میں طے شدہ شرائط پوری کرے گا، ایران

    اس سے قبل ایران نے واضح کیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہونگے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقرقالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان ایران، امریکا،لبنان میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔

    باقرقالیباف نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔

    ایران سے تکنیکی مذاکرات جاری ، کامیاب ہوں یا ناکام ، ہماری پوزیشن مضبوط ہے ، جے ڈی وینس

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، دونوں صورتوں میں امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔

    فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر بات چیت ناکام بھی ہو جائے تو بھی ایران کے مقابلے میں امریکا کی پوزیشن زیادہ مضبوط رہے گی۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنایا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا فوجی ردعمل دے گا۔