Category: قومی

  • کاہنہ کا المناک سانحہ قوم کو سوگوار کر گیا ،تعلیمی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے: چیئرمین سینیٹ

    کاہنہ کا المناک سانحہ قوم کو سوگوار کر گیا ،تعلیمی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے: چیئرمین سینیٹ

    اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کاہنہ ٹیوشن سینٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کاہنہ کا یہ المناک سانحہ پوری قوم کو سوگوار کر گیا ہے اور قوم متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جاں بحق بچوں کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔انہوں نے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے نیک خواہشا ت کا اظہار کیا۔

    چیئرمین سینیٹ نے اس افسوسناک واقعے کے تناظر میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ادارے تعلیمی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور مستقبل میں ایسے المناک حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اس معاملے میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔

  • وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    سلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے  ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا ۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نائب صدر سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کی تائید کی ہے۔

     انہوں نے ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا’’ ایکس ‘‘اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اسے پاکستانی مؤقف کی حمایت قرار دیا۔

    گرشتہ روز نائب صدر سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن بیجنگ ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے اس حصے میں کسی کو بھی پاکستان کے بنیادی مفادات بالخصوص اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چین کے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے،اس نشست کے تناظر میں دریائے سندھ کے آزادانہ بہاؤ پر پاکستانی عوام کے حق کو بھی مسلم سمجھا جانا چاہیے۔

  • ایس ای سی پی نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا

    ایس ای سی پی نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا

    اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا۔

     ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی فنانشل مارکیٹس کو عالمی پائیدار مالیاتی نظام سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی فنانشل مارکیٹ کے لئے تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی پائیدار سرمایہ کاری کے راستے کھلیں گےاور امید ہے کہ اس سے ملک کے طویل مدتی اقتصادی استحکام اور پائیداری کے اہداف کو مدد ملے گی۔ پاکستان کے لئے ای ایس جی کی اہمیت فوری بھی ہے اور سٹریٹجک بھی۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ماحولیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ’’ اے پی پی ‘‘ کے مطابق پائیدار سرمایہ کاری دنیا بھر میں جدید دور کی کیپٹل مارکیٹ انویسٹمنٹ کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکی ہے جہاں پائیدار سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے تحت زیرِ انتظام اثاثے 16 ٹریلین امریکی ڈالر زکی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ میوچل فنڈز کے سرمایہ کار اب تیزی سے ایسے مواقع تلاش کر رہے ہیں جو مالیاتی منافع کے ساتھ ساتھ ای ایس جی کے اصولوں پر بھی پورے اترتے ہوں۔ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک کے تحت، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیاں ای ایس جی پر مرکوز ایسے میوچل فنڈز قائم کر سکتی ہیں جو بنیادی طور پر ان کاروباروں اور فنانشل اِنسٹرومنٹس میں سرمایہ کاری کریں گے جو مضبوط ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے طریقوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایکویٹی پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سسٹین ایبلٹی انڈیکس اور ایس ای سی پی کی ای ایس جی ڈِسکلوژَر گائیڈ لائنز کے مطابق ہوں گی۔

    دوسری طرف، ڈیٹ پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز پاکستان کی گرین ٹیکسونومی اور سسٹین ایبل فنانس فریم ورک کے مطابق گرین، سوشل اور پائیداری سے منسلک ڈیٹ آلات میں سرمایہ کاری کریں گے۔ یہ فریم ورک پاکستانی کمپنیوں کو اپنی ای ایس جی کارکردگی کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتا ہے، جس سے ای ایس جی میوچل فنڈز میں ان کی شمولیت کی اہلیت بڑھے گی اور پائیدار سرمایہ کاری کے سرمائے تک ان کی رسائی بہتر ہوگی۔ ایسا کرنے سے، یہ بیک وقت ذمہ دارانہ کارپوریٹ طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دیتا ہے، اور نجی سرمائے کو ماحولیاتی طور پر پائیدار اور سماجی طور پر ذمہ دارانہ اقتصادی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔

  • حکومت نے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا، نوٹیفکیشن جاری

    حکومت نے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا، نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ سے نمٹنے اور ان میں استحکام لانے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فنڈ کے لیے ایک خصوصی سرکاری اکاؤنٹ مختص کر دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں اور چاروں صوبوں کے اکاؤنٹنٹ جنرلز کو بھی مراسلے ارسال کر دیے گئے ہیں، صوبائی حکومتوں کو فنڈ کی وصولی سے متعلق تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فنڈ میں جمع ہونے والی تمام رقوم وفاقی حکومت کے پبلک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائیں گی، اس مقصد کے لیے خصوصی اکاؤنٹ ہیڈ اور آبجیکٹ کوڈ بھی مختص کر دیا گیا ہے تاکہ مالیاتی لین دین کو باقاعدہ طریقے سے انجام دیا جا سکے۔

    حکومت کے مطابق فنڈ کے قواعد و ضوابط وزارتِ خزانہ، پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا مشترکہ طور پر تیار کریں گے جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے قانونی اور مالیاتی طریقہ کار بھی الگ سے منظور کیا جائے گا۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ کا قیام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے اور صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اضافے سے تحفظ فراہم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو

    سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر بھارت کے ساتھ پائیدار امن ممکن نہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پانی محض جغرافیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے جب کہ دنیا اب یہ تسلیم کر چکی ہے کہ آبی وسائل عالمی سیاست، سلامتی اور استحکام کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے، اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی بقا، معیشت اور غذائی تحفظ کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان نے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کیا، تاہم بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت اور قومی معیشت کا بنیادی ذریعہ ہے، جبکہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پانی کے معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کروڑوں پاکستانیوں کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری قوم متحد ہے اور پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی ہے۔

  • پانی کوتنازع نہیں،تعاون کاذریعہ بنایا جانا چاہیے،حنا ربانی کھر

    پانی کوتنازع نہیں،تعاون کاذریعہ بنایا جانا چاہیے،حنا ربانی کھر

    سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ بھارت عالمی نظام میں بڑاکرداراورسلامتی کونسل کی مستقل نشست چاہتاہے،عالمی قوانین کا دعویدار بھارت آج خود قانون شکنی کررہا ہے۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ملک پوری تہذیب مٹانےکےعزائم کااظہارنہیں کرسکتا،سندھ طاس معاہدےمیں تبدیلی دونوں ممالک کی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا،عالمی معاہدوں سےیکطرفہ دستبرداری ممکن نہیں،بھارت کوخلاف ورزی کی اجازت ملی توخطرناک مثال قائم ہوگی۔

    یہ صرف پاکستان نہیں، پورے عالمی نظام کا مسئلہ ہے،پاکستان نےہمیشہ بھارت سےتعلقات بہتربنانےکی کوشش کی،مگربھارت کارویہ رکاوٹ بنا۔

    مستقل ثالثی عدالت کےمطابق بھارت معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا،بھارتی رویے کانوٹس نہ لیاگیاتو دوسرے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔

    پانی کوتنازع نہیں، تعاون کاذریعہ بنایا جانا چاہیے۔

  • اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا ورلڈ کلاس وائلڈ لائف سفاری پارک بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا ورلڈ کلاس وائلڈ لائف سفاری پارک بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا جدید اور عالمی معیار کا وائلڈ لائف سفاری پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ترجمان کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مطابق یہ منصوبہ بارہ کہو کے علاقے میں 350 ایکڑ پر محیط زمین پر قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد ملک میں ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینا اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ اس میگا پراجیکٹ کو جدید طرز پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جہاں شہریوں اور سیاحوں کو جنگلی حیات کو قدرتی ماحول میں دیکھنے کا منفرد تجربہ فراہم کیا جائے گا۔

    سی ڈی اے کے مطابق سفاری پارک نہ صرف تفریح کا نیا مرکز ہوگا بلکہ یہ منصوبہ ماحولیات کے تحفظ اور فیملی انٹرٹینمنٹ کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کام جلد شروع کیا جائے گا اور اسے عالمی معیار کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ اسلام آباد کو ایک نئی سیاحتی شناخت دی جا سکے۔

  • ایران نے دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا

    ایران نے دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا

    دوحہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون2026ء) ایران نے دوحہ میں امریکہ سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا ۔ تصیلات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے دوحہ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اعلان کیے جانے کےبعد ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکام کے دورہِ قطر کا دوحہ کا دورہ کرنے والے ایرانی وفد سے کوئی تعلق نہیں، آنے والے دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

    ایرانی تکنیکی وفد اس ہفتے مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر بات چیت کے لیے قطر کا دورہ کرے گا۔ ایران کی موجودہ ترجیح مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کی پیروی کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے کوئی مذاکرات شروع نہیں ہوئے،اس کیلئے پہلے مفاہمتی یادداشت کے کچھ نکات پر عمل درآمد ضروری ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر جاری بات چیت کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ ان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے ساتھ ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ جبکہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات منگل کو دوحا میں ہوں گے۔

    امریکی صدر کے اعلان کے فوری بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ جبکہ اب ایرانی ترجمان وزارت خارجہ نے بھی دوحہ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔

  • آئین کی اصل روح کے مطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں، وزیراعظم

    آئین کی اصل روح کے مطابق اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جون 2026ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ’عالمی یومِ پارلیمان‘ کے موقع پر قوم اور عالمی برادری کے نام اپنے خصوصی پیغام میں جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور فیصلہ سازی میں عوام کی بامعنی شمولیت کے لیے پاکستان کے پختہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئینِ پاکستان ملک میں جمہوری نظام اور اقدار کی سب سے بڑی ضمانت ہے، آئین کی اصل روح یہی ہے کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور پارلیمان میں بیٹھے منتخب نمائندے اس اختیار کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کرتے ہیں، پارلیمان وہ اعلیٰ آئینی فورم ہے جہاں قومی مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور عوام کی امنگوں کے مطابق قوانین وضع کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت نے تمام طبقات کو شامل کرنے میں نمایاں پیشرفت کی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خواتین، اقلیتوں، چھوٹے صوبوں اور دیگر محروم طبقات کی آواز کو مؤثر بنایا گیا ہے، خواتین اور غیر مسلم شہریوں کے لیے مخصوص نشستیں ہمارے آئینی عزم کا ثبوت ہیں، سینیٹ تمام وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دے کر پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کا بنیادی تقاضا شفافیت اور معلومات تک عوامی رسائی ہے، پاکستان کی پارلیمان نے قانون سازی، پارلیمانی مباحث، کمیٹی رپورٹس اور دیگر اہم دستاویزات کو ڈیجیٹل اور پبلک کر کے عوامی دسترس میں لانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، پاکستان کی پارلیمان بین الاقوامی پارلیمانی سفارت کاری میں بھی انتہائی فعال ہے، بین الپارلیمانی یونین اور پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے ذریعے پاکستان عالمی امن، مکالمے، پائیدار ترقی، انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

  • پی سی بی اجلاس، قومی اور ڈومیسٹک کرکٹرز کیلیے مالی مراعات میں بڑا اضافہ

    پی سی بی اجلاس، قومی اور ڈومیسٹک کرکٹرز کیلیے مالی مراعات میں بڑا اضافہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی اور ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے مالی مراعات میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چئیرمین محسن نقوی کی زیر صدارت لاہور میں پی سی بی بورڈ آف گورنرز کا  84واں اجلاس ہوا۔

    اجلاس میں نئے مالی سال 27-2026 کے سرپلس بجٹ اور پی ایس ایل 12 کے بجٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

    پی ایس ایل کو انتظامی و مالیاتی طور پر خودمختار بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔

    ڈومیسٹک کرکٹ کے بجٹ میں ایک ارب روپے کے اضافے کی منظوری سے بجٹ 3 ارب روپے سے بڑھا کر 4 ارب روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    اجلاس میں نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے فارمیٹ و ادائیگی کے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے میچ فیس میں اضافے کی منظوری دے دی گئی۔

    قائد اعظم ٹرافی کے پلیئرز کے لیے میچ فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

    ریزرو پلئیرز کی میچ فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    ویمنز ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کے انعقاد اور اس ضمن میں فنڈز مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں ریجنل گراؤنڈ اسٹاف کی کم از کم تنخواہ 42 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 12 مزید گراؤنڈز کو آپریشنل  کرنے اور ہیومن ریسورس کے لیے فنڈز مخصوص کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

    نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم کراچی اور دیگر انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

    ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں بائیو میکینس مشین لگانے کے لیے فنڈز مختص کرنے کی منظوری کے ساتھ بی او جی کے گزشتہ میٹنگ کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔

    اجلاس میں چیف فنانشل آفیسر پی سی بی جاوید مرتضیٰ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے خدوخال اور اعداد و شمار کے بارے میں بریفنگ دی۔

    بی او جی کے ممبران انوار غنی، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، اسماعیل قریشی، سجاد کھوکھر، تنویر احمد، عدنان ملک، ظہیر عباس، ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن میر حسن نقوی اور دیگر حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔

    چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر اور تمام ڈائریکٹرز نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔