Category: قومی

  • پاکستان اور امریکا کے تجارتی مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، دفتر خارجہ

    پاکستان اور امریکا کے تجارتی مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا نے مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

    پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات 9 اور 10 جولائی کو واشنگٹن ڈی سی میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت جواد پال نے کی، جنہوں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس دوران ہونے والی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔

    مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، جہاں دونوں فریقین نے باہمی اختلافات دور کرنے پر کام کیا اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی جانب پیش رفت کی۔

    دریں اثنا، آئی این پی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں علاقائی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

    محسن نقوی اس سے قبل نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے پانچویں سربراہانِ پولیس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے عالمی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سرحد پار جرائم سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیا۔

    ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ میں کمی لانے کی سفارتی کوششوں کے دوران اسلام آباد علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ سفارتی رابطے غیر یقینی صورتحال کے باوجود جاری ہیں۔ واشنگٹن مذاکرات کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم فوجی تیاری بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ حکام نے ایرانی اہداف پر تازہ امریکی حملوں کی اطلاعات کو غلط قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔

    نیویارک کے دورے کے دوران محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے سائبر جرائم، آن لائن فراڈ اور دیگر سرحد پار سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    دونوں وزرائے داخلہ نے پولیس تربیتی پروگراموں اور وسیع تر دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی، جس کے دوران بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  • خواتین کا معاشی اور سیاسی بااختیار ہونا پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، اعظم نذیر تارڑ

    خواتین کا معاشی اور سیاسی بااختیار ہونا پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی پر فخر ہے ۔

    او آئی سی خواتین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ  او آئی سی وزارتی کانفرنس کے شرکا کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، او آئی سی کی چیئرمین شپ اتفاق رائے اور تعاون کے جذبے سے نبھائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی ،مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے ،لاکھوں خواتین اوربچیاں آج بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کا معاشی اور سیاسی بااختیار ہونا پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے ، مسلم خواتین نے علم، قیادت، کاروبار اورعوامی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام نے 1400 سال قبل خواتین کو عزت، حقوق اور قانونی شناخت عطا کی، ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قومی صنفی پالیسی 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکج پر عمل جاری ہے ، او آئی سی ایکشن پلان اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اہم پلیٹ فارم ہیں، پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے ۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کا معیار خواتین کیلئے پیدا ہونیوالے عملی مواقع ہوں گے، پاکستان میں خواتین کیلئے محفوظ اور مساوی مواقع حکومتی ترجیح ہے۔

    گزشتہ روز او آئی سی کی خواتین کانفرنس سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران اعظم نذیر تارڑ نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا تھا۔

    دو روزہ کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ممتاز خواتین، حکومتی نمائندے، او آئی سی کے مبصرین اور تنظیم کے عہدے دار شامل ہیں۔

  • ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید ، 2 زخمی

    ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید ، 2 زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ ٹانک کے علاقے فقیرنی میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی فرید اور کانسٹیبل اختر زمان شہید ہو گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے جبکہ بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کرسرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک جنڈولہ روڈ پر پولیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    گورنر نے شہید پولیس اہلکاروں کو ملک کا فخر قرار دیتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    گورنر نے واقعے میں زخمی اہلکاروں کو ہر ممکن طبی امداد یقینی بنانے کی ہدایات کے ساتھ انکی جلد مکمل صحت یابی کی دعا کی۔

    واضح رہے کہ ٹانک میں تین ہفتے قبل بھی لقمان شہید پولیس چوکی پر دستی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

  • گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کی جائے، خیبرپختونخوا کا پنجاب حکومت سے مطالبہ

    گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کی جائے، خیبرپختونخوا کا پنجاب حکومت سے مطالبہ

    پشاور، وزیر طلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کی صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور عوام کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کوسالانہ تقریباً 54 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ صوبے میں 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوتی ہے۔

    شفیع جان کے مطابق اس وقت سرکاری گوداموں میں ایک لاکھ 53 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے جبکہ نجی شعبے کے پاس بھی ایک لاکھ 16 ہزارمیٹرک ٹن سے زائد گندم کے ذخائرموجود ہیں، جس کے باعث صوبے میں گندم کی دستیابی تسلی بخش ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے مقامی کاشتکاروں سے بھی گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے اس پالیسی کے تحت 40 کلو گرام گندم 3 ہزار500 روپے کے نرخ پر خریدی جائے گی، تاکہ کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل سکے اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہو۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق گندم کی آزادانہ نقل و حمل ممکن ہو سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بین الصوبائی تعاون سے نہ صرف غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملک بھر میں گندم کی منڈی کو بھی مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت اس مطالبے پر مثبت فیصلہ کرے گی۔

    دوسری جانب معاون خصوصی خوراک خیبرپختونخوا اسرار صافی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گندم کی پیداوار کم ہوتی ہے، 38لاکھ میٹرک ٹن گندم ہم پنجاب سے درآمد کرتے ہیں، پنجاب کے پاس 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم اضافی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب میں فی میٹرک ٹن گندم 7 ہزار تھی اب 10 ہزار روپے ہے، ہمیں گندم نہیں دی جارہی اس لیے خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت زیادہ ہے، اب تک پاسکو سے ایک لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکے ہیں۔

  • مشرق وسطیٰ کا نیا عالمی منظرنامہ

    مشرق وسطیٰ کا نیا عالمی منظرنامہ

    بعض اوقات تاریخ اپنے سب سے نازک موڑ پر جنگ اور امن کے درمیان ایسی باریک لکیر کھینچ دیتی ہے جسے صرف ہتھیار نہیں بلکہ تدبر، سفارت اور سیاسی بصیرت ہی عبور کر سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اس وقت اسی کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ہر نیا بیان، ہر سفارتی رابطہ، ہر عسکری تیاری اور ہر بحری نقل و حرکت عالمی سیاست کے توازن پر براہِ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔

    چند ہفتے قبل تک جو امید پیدا ہوئی تھی کہ واشنگٹن اور تہران ایک نئے مفاہمتی مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، اب اس پر دوبارہ غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اوردیگرشہداء کے قتل کا انتقام لینے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے اور اسے ضرور پورا کیا جانا چاہیے، دوسری طرف صدرٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تو امریکا ایران کو تباہ و برباد کر دے گا‘ ایک ہزار میزائل مکمل تیار ہیں اورتہران کی جانب نشانہ باندھے ہوئے ہیں،اس کشیدہ منظرنامے کی سب سے نمایاں علامت آبنائے ہرمز کی غیر معمولی صورتحال ہے، جو صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے آج کا بحران کسی ایک خطے یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکا تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 

     سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض دونوں اس بحران کو محض ایک عسکری تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے توانائی، عالمی تجارت، بحری سلامتی اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں ایران سے مذاکرات، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ اگرچہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم عالمی اقتصادی مفادات نے تمام متعلقہ طاقتوں کو سفارتی رابطے برقرار رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی جنگ کا سب سے پہلا اور شدید اثر تیل کی عالمی منڈی، بحری تجارت اور مالیاتی استحکام پر پڑتا ہے۔

     اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مسقط میں عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات نے ایک مرتبہ پھر عمان کے اس تاریخی کردار کو اجاگر کیا ہے جو کئی دہائیوں سے خطے میں خاموش مگر موثر سفارت کاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دو الگ الگ کنٹرول شدہ بحری راستوں کی تجویز اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی تنازعات کے باوجود عالمی تجارت کو مکمل طور پر یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے۔ ماضی میں بھی مسقط نے متعدد علاقائی تنازعات میں رابطے کا پل بننے کی کوشش کی ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہی کردار دوبارہ نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

    دوسری طرف ایران کے اعلیٰ حکام کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ تہران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ اگر سفارتی معاہدوں کی پاسداری یکطرفہ طور پر متاثر ہوتی ہے تو اعتماد کی فضا بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات اسی صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب تمام فریق اپنے وعدوں اور ذمے داریوں کی پاسداری کریں۔

    دوسری جانب واشنگٹن نے بھی اپنے سلامتی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کے بارے میں واضح یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے، یوں دونوں ممالک کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اختلافات صرف عسکری نہیں بلکہ اعتماد کے بحران سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ الفاظ کبھی کبھی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سخت بیانات، دھمکی آمیز لہجہ اور جوابی اعلانات سفارتی فاصلوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی بڑی تعداد اس وقت کشیدگی میں اضافے کے بجائے مذاکرات کے تسلسل پر زور دے رہی ہے، کیونکہ ایک غلط اندازہ یا محدود عسکری کارروائی بھی وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر یاد دلایا ہے کہ عالمی معیشت چند انتہائی حساس بحری راستوں پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اگر اس راستے میں چند دن کی رکاوٹ بھی پیدا ہو جائے تو صرف تیل ہی نہیں بلکہ ایل این جی، پیٹروکیمیکل مصنوعات، خام مال، خوراک اور صنعتی سپلائی چین بھی متاثر ہوتی ہے۔

    حالیہ اطلاعات کے مطابق کئی روز تک بحری آمدورفت معمول سے کہیں کم رہی، درجنوں جہاز سیکیورٹی کلیئرنس کے منتظر رہے اور صرف محدود تعداد میں جہاز گزر سکے۔ اس سے انشورنس اخراجات میں اضافہ، کرایوں میں غیر معمولی تبدیلی اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی۔عالمی تجارت کا بنیادی اصول پیش گوئی اور تسلسل ہے۔ سرمایہ کار، تاجر اور صنعت کار اسی وقت اعتماد کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں جب انھیں یقین ہو کہ رسد کا نظام بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ لیکن جب کسی اہم بحری راستے پر غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، پھر پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور آخرکار اس کا بوجھ عام صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو صرف علاقائی تنازع سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ پوری عالمی اقتصادی ساخت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

    اسی تناظر میں عراق سے شام کی بندرگاہ بانیاس تک قدیم تیل پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کی اطلاعات بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں، اگر ایسے متبادل راستے عملی صورت اختیار کرتے ہیں تو مستقبل میں عالمی توانائی کی ترسیل کسی ایک بحری گزرگاہ پر مکمل انحصار سے کسی حد تک نکل سکتی ہے۔ تاہم یہ منصوبے نہ صرف بھاری سرمایہ کاری بلکہ سیاسی استحکام، علاقائی تعاون اور طویل المدت سلامتی کے متقاضی ہیں۔ اس لیے انھیں فوری حل کے بجائے مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

     اس پورے منظرنامے میں پاکستان اور سعودی عرب کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان رابطہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی میں مزید اضافے کو خطے کے مفاد میں نہیں سمجھتے۔ پاکستان مسلسل اس موقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ اختلافات کا پائیدار حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ یہی اصول بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح سے بھی ہم آہنگ ہے۔ 

     اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق اشتعال انگیز بیانات کے بجائے اعتماد سازی کے عملی اقدامات کریں، بحری راستوں کی آزادی کو بین الاقوامی ذمے داری سمجھیں، سفارتی رابطوں کو منقطع نہ ہونے دیں اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کریں جو کسی محدود تنازع کو وسیع علاقائی بحران میں تبدیل کر سکتے ہوں۔ آبنائے ہرمز صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی مشترکہ امانت ہے، اور اس کا تحفظ کسی ایک ریاست نہیں بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمے داری ہے، اگر یہی حقیقت پالیسی سازی کا محور بن جائے تو آج کی کشیدگی کل کے استحکام میں بدل سکتی ہے، لیکن اگر سیاسی ضد، عسکری برتری کے مظاہرے اور باہمی عدم اعتماد ہی غالب رہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے اقتصادی اور سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

     پاکستان کے لیے اس بحران کی اہمیت صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ توانائی کی درآمدات پر انحصار رکھنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر، مہنگائی اور صنعتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کی یہ خواہش محض اصولی نہیں بلکہ قومی مفاد سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو، بحری تجارت معمول پر آئے اور توانائی کی عالمی منڈیاں استحکام حاصل کریں۔

     تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والے بحران اکثر اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر پوری دنیا کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال بھی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اکیسویں صدی میں سلامتی، معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں، اگر طاقت کا توازن مذاکرات کے بغیر قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے نتائج دیرپا استحکام کے بجائے مسلسل بے یقینی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

  • پاک فوج، ایف سی اورپولیس کا آپریشن شعبان جاری، مزید 5 خارجی دہشت گرد ہلاک

    پاک فوج، ایف سی اورپولیس کا آپریشن شعبان جاری، مزید 5 خارجی دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن ”شعبان“ بھرپور انداز میں جاری ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ زمینی اور فضائی کارروائیوں میں مزید پانچ خارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں، جبکہ فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ زمینی اور فضائی کارروائیوں میں مزید 5 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جس کے بعد صرف آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 76 ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک مجموعی طور پر 114 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔** سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے زمینی اور فضائی دونوں محاذوں پر مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

  • پنجاب حکومت کی نئی انٹرن شپ کا اعلان، گریجویٹس کے لیے 60 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، آن لائن اپلائی کریں

    پنجاب حکومت کی نئی انٹرن شپ کا اعلان، گریجویٹس کے لیے 60 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ، آن لائن اپلائی کریں

    لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ اعلیٰ پنجاب کلائمیٹ لیڈرشپ انٹرن شپ پروگرام کے دوسرے فیز کا آغاز کر دیا گیا ، جس میں نواجوانوں کو ماہانہ 60 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔

    نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی نیوز‘‘ کے مطابق حکومتِ پنجاب نے “سی ایم پنجاب کلائمیٹ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ انٹرن شپ پروگرام” (فیز II، بیچ II) کے لیے آن لائن درخواستوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    محکمہ تحفظِ ماحول و ماحولیاتی تبدیلی پنجاب کے زیرِ اہتمام شروع کیے جانے والے اس تین ماہ کے پروگرام کے لیے منتخب انٹرنز کو 60,000 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

    اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو ‘کلائمیٹ وارئیرز’ کے طور پر تربیت دینا ہے تاکہ وہ ماحولیاتی گورننس اور پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    اس انٹرن شپ پروگرام میں 50 فیصد نشستیں طالبات کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، جو ماحولیاتی قیادت میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔

    انٹرن شپ کے دوران منتخب امیدواروں کو ڈسٹرکٹ وائز فیلڈ لرننگ، لرننگ مینجمنٹ سسٹم تک رسائی، ای پی اے کے فیلڈ دفاتر کا دورہ، کیپسٹن پروجیکٹس، یو این ایف سی سی س سے متعلقہ سرٹیفیکیشن اور ماہرین کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔

  • پاکستان اور ترکیہ کا دو طرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، امن، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ

    پاکستان اور ترکیہ کا دو طرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، امن، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ

    پاکستان اور ترکیہ نے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے امن، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا۔

    ترک صدر رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا استنبول آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد امور پر اتفاق رائے پایا گیا۔

    صدر ایردوان نے کہا کہ عالمی امن کے فروغ کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک اہم پیش رفت ہے اور ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے متعلقہ وزارتیں قریبی تعاون جاری رکھیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ ترک حکومت اپنی کاروباری برادری کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مستحکم ہو۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی پرتپاک میزبانی اور شاندار استقبال پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ دلوں کے رشتے ہیں، جن کی بنیاد مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی اقدار اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً علی برادران، نے ترک عوام کی بھرپور حمایت کی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ہمیشہ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ چاہے جنگ ہو، زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت، ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران مظفرگڑھ سمیت مختلف متاثرہ علاقوں میں ترکیہ کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترک عوام کی محبت اور تعاون پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے زلزلہ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور سماجی و معاشی ترقی میں ترکیہ کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ “دو دل، ایک جان” ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا جلال الدین رومی اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی تعلیمات دونوں اقوام کے لیے مشترکہ فکری سرمایہ ہیں، جو بھائی چارے، محبت اور انسانیت کا درس دیتی ہیں۔

    وزیراعظم نے صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکیہ کی صنعتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ترقیاتی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکیہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، بنیادی ڈھانچے، خصوصی اقتصادی زونز اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے، جبکہ علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔

  • تارکینِ وطن کا معیشت میں عمدہ کردار اور مسائل

    تارکینِ وطن کا معیشت میں عمدہ کردار اور مسائل

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے ترسیلاتِ زر کو پاکستانی معیشت کا اہم ممکنہ ستون قرار دیتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کی رغبت بڑھانے کے لیے اقدامات کی سفارش کر دی ہے۔ بیرون ممالک موجود پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان میں بھجوائی جانے والی رقوم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10 فیصد کے برابر ہیں اور یہ پاکستان کے زرِ مبادلہ میں اضافے کا مستقل ذریعہ ہیں۔ جہاں یہ ترسیلات زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا باعث ہیں وہیں ان سے پاکستان کا تجارتی خسارہ کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران بڑے بڑے ممالک کی معیشتیں ڈوب گئیں۔ پاکستان میں کورونا کے دوران ترسیلات اور برآمدات میں کمی کا امکان تھا۔ کورونا نے برآمدات پر تو اثر ڈالا لیکن ترسیلات کم ہونے کی بجائے بڑھ گئیں۔ تارکینِ وطن کی پاکستان میں ترسیلات کو ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ حکومتوں کی طرف سے ان پاکستانیوں کو کبھی ماتھے کا جھومر قرار دیا جاتا ہے تو کبھی پاکستان کا فخر کہا جاتا ہے مگر جب ان کے مسائل کی بات آتی ہے تو ان کے حل کی طرف حکمران طبقہ توجہ نہیں دیتا۔ ملک کے اندر تارکینِ وطن کے ساتھ طرح طرح فراڈ ہوتے ہیں۔ ان کی جائیدادوں پر قبضے کر لیے جاتے ہیں۔ کئی تو جان جانے کے خطرے کے باعث پاکستان کا رخ ہی نہیں کرتے۔ جو پاکستان آتے ہیں وہ عدالتی جھمیلوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ تارکینِ وطن کو جن مسائل کا عام طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سے ایک بیرونِ ملک امیگریشن کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کا حصول ہے۔اس مسئلے کو حل کرنا چنداں مشکل نہیں ہے مگر اس طرف بھی حکومت کی توجہ نہیں جاتی۔ یورپ میں شہریت یا مستقل سٹیٹس کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم بیرونِ ملک پاکستان کے سفارت خانوں میں اور ملک کے اندر صوبائی سطح پر موجود ہے۔ سفارت خانوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو ان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس امیگریشن کی کیٹیگری موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے تارکینِ وطن کو پاکستان میں اپنے کسی عزیز کے ذریعے سرٹیفکیٹ بنوانا پڑتا ہے جس کے لیے متعلقہ عملے کی طرف سے مختلف طرح کے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں۔ سفارت خانوں میں موجود سسٹم میں امیگریشن کی کیٹیگری شامل کرنا کیوں مشکل ہے ؟ اس کے لیے اقوام متحدہ سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔حکومت کی تھوڑی سی توجہ سے تارکینِ وطن کے ایسے مسائل آسانی اور خوش اسلوبی سے حل ہوسکتے ہیں۔

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی عقیدت احترام سے منائی گئی

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی عقیدت احترام سے منائی گئی

    اسلام آ باد ( نیو ز ر پو رٹر) کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی عقیدت احترام سے منائی گئی ​،وزیر اعظم شہباز شریف نے کارگل معرکہ (1999) کے ہیرو، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر کے 27 ویں یومِ شہادت پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانی اور بے مثال شجاعت کو سراہا۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی انتہائی ناموافق حالات میں غیر معمولی بہادری اور لازوال قربانی، پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جو مادرِ وطن سے وفاداری اور شجاعت کی اعلیٰ ترین روایات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔