Category: قومی

  • بینک بغیر مصدقہ قانونی وجہ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کرسکتے :اسلام آباد ہائیکورٹ

    بینک بغیر مصدقہ قانونی وجہ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کرسکتے :اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکوں کو  بغیر مصدقہ قانونی وجہ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق  اسلام آباد ہائیکورٹ میں  این سی سی آئی اے انکوائری کے دوران بینک کی جانب سے شہری کا اکاؤنٹ ازخود بلاک کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس کا جسٹس ارباب محمد طاہر نے 6  صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    تحریری فیصلے کے مطابق بغیروجہ اپنی مرضی سے بینک اکاؤنٹ بلاک کرنے کی غلطی تسلیم کرنے پر نجی بینک پر 3 لاکھ روپے ہرجانہ بھی عائد کیا گیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بینک بغیرمصدقہ قانونی وجہ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کرسکتے، نجی بینک صارف کی قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے 3 لاکھ روپے کے اخراجات ادا کرے۔

     عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں بغیر وجہ اکاؤنٹ بلاک کرکے شہریوں کو متاثر کرنے سے روکنے کے اقدامات کرے، اسٹیٹ بینک موجودہ معاملے کو دیکھے اور تمام بینکوں کو گائید لائن جاری کرنے پر غور کرے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ احتیاطی تدابیر کی گائیڈ لائن میں واضح کیاجائے کہ قانونی جواز کے بغیربینک اکاؤنٹ کے استعمال سے روکا نہیں جا سکے گا۔

  •  نشے میں دھت کار ڈرائیور نے سکول سے گھر جاتے بچوں کو کچل ڈالا، 3ہلاک ، 1شدید زخمی

     نشے میں دھت کار ڈرائیور نے سکول سے گھر جاتے بچوں کو کچل ڈالا، 3ہلاک ، 1شدید زخمی

    تامل ناڈو ( مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت میں نشے میں دھت ڈرائیور نے سکول سے گھر جاتے ہوئے 3 بچوں کو کچل دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست تامل ناڈو کے گاؤں کاراکوٹائی میں پیش آیا جہاں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کے قریب 4 طالب علم سکول سے اپنے گھر کی طرف جارہے تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔

    ’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق ریسکیو حکام نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں3 بچے ہلاک ہوئے اور ایک بچہ بری طرح زخمی ہوا جسے علاج کیلئے فوری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ مرنے والے تینوں بچوں کی عمریں 12 سال تھی۔واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرتے ہوئے ڈرائیور کیخلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔

    پولیس کے مطابق ڈرائیور کی شناخت لوگناتھن کے نام سے ہوئی ہے جوگاڑی چلاتے ہوئے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت تھا۔

    ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈرائیور تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا جس سے وہ گاڑی کا کنٹرول کھو بیٹھا اور بچوں سے جاٹکرایا، واقعے کے بعد پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔

  • بجٹ 2026-27: کس بڑے منصوبے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

    بجٹ 2026-27: کس بڑے منصوبے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

    وفاقی حکومت کی جانب سے آج سہ پہر تین بجے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ اور سالانہ پلان کی تفصیلات بجٹ دستاویز کے ذریعے سامنے آ گئی ہیں جن میں آئندہ مالی سال کے بڑے اور ترجیحی منصوبوں سمیت معاشی اہداف کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

    نئے مالی سال کے لیے حکومت نے مجموعی ملکی ترقی یعنی جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    آج سہ پہر تین بجے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے بارے میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بجٹ کو محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

    اگلے مالی سال کے ترجیحی منصوبے

    بجٹ دستاویز میں ملک کے بڑے ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے بھاری فنڈز مختص کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں جس کے تحت این 25 کوئٹہ کے لیے 100 ارب روپے، سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، ایم ایل ون ریلوے منصوبے اور سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25، 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح دانش اسکولوں کی تعمیر کے لیے 22 ارب روپے، مہران ہائی وے اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 21، 21 ارب روپے، کراچی بلک واٹر سپلائی کے لیے 10 ارب روپے اور پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    توانائی اور آبی وسائل کے شعبے میں پاور سیکٹر کے لیے پی ایس ڈی پی سے 151 ارب روپے اور آبی وسائل کے لیے 74 ارب 92 کروڑ روپے مختص کرنے کا پلان ہے جبکہ قومی گرڈ میں بجلی کی پیداوار میں 3787 میگاواٹ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    نئے مالی سال کے لیے بڑے اہداف

    بجٹ کی دستاویز کے مطابق حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعت کا ہدف 4.5 فیصد، مینوفیکچرنگ کی ترقی کا ہدف 5.7 فیصد اور بڑی صنعتوں کی پیداوار کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

    بجٹ میں سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد، برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کا ہدف 11 ارب 30 کروڑ ڈالر، درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

    حکومت نے ملک میں پانی کی دستیابی کو 63.5 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 84.2 ملین ایکڑ فٹ اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو 13.5 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھا کر 23.5 ملین ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف بھی طے کیا ہے۔

    مختلف شعبہ جات کی ترقی اور روزگار کے حوالے سے بجٹ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے اور آئی ٹی سیکٹر میں ساڑھے سات ہزار ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

    صنعتی شعبے کی ترویج کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران ملک بھر میں 637 چھوٹے صنعتی یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ سمندری امور اور ماحول کے تحفظ کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کی تعداد کو بڑھا کر 30 کیا جائے گا جبکہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے 23 نئے بلاکس کو آپریشنلائز کیا جائے گا۔

    اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی بہتری کے لیے آئندہ سال ملک بھر میں ایک کروڑ 13 لاکھ درخت لگانے کا ہدف بھی سالانہ پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

  • 17 ہزار ارب کا وفاقی بجٹ کابینہ سے منظور

    17 ہزار ارب کا وفاقی بجٹ کابینہ سے منظور

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اگلے مالی سال کے ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ 

    وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے اجلاس کو بجٹ پر بریفنگ دی۔

    ذرائع کے مطابق اس دوران وزیراعظم نے بجٹ تقریر طلب کی جس میں کابینہ کے ممبران کے بعض مطالبات کی روشنی میں کچھ ردو بدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔

    کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کابینہ ارکان، تمام اتحادیوں اور پارلیمانی رہنماؤں کا بجٹ کے لیے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے، اور بجٹ میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

    تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا بجٹ بارے مؤقف وزیر اعظم کے دعوے کے برعکس ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت پانچواں بجٹ پیش کر رہی ہے لیکن ڈیلیور نہیں کر سکی۔

    ن لیگ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت تو دفاعی اخراجات بھی پورے نہیں کر سکی اور صوبوں پر بوجھ ڈال رہی  ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار 

    کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہوگا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امورز ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق 3 بجے شروع ہونا تھا، تاہم یہ اہم اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد تاحال شروع نہ ہوسکا۔

    اس تاخیر کی وجہ سے بجٹ کو سینیٹ میں بھی مقررہ وقت یعنی شام 5 بجے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ملکی دفاع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار ارب روپے رکھا جائیگا۔

    حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے جبکہ بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32 اعشاریہ 8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کے طور پر ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے جس کے تحت اگلے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر کام جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئے مالی سال کے دوران سابق فاٹا کے علاقوں کو حاصل ٹیکس استثنا بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تمام اتحادی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے۔

    اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کو بجٹ اجلاس کے دوران مثبت جمہوری کردار ادا کرنا چاہیے اور ہنگامہ آرائی کے بجائے وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو غور سے سننا چاہیے تاکہ وہ اس پر تعمیری اور مثبت معاشی تجاویز دے سکیں۔

  • تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، رانا تنویر حسین

    تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، رانا تنویر حسین

    وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کر رہی ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے حصول کی جانب اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور اقتصادی اشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔

    بجٹ 2026-27: کس بڑے منصوبے کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں، مزدوروں اور سرکاری ملازمین سمیت مختلف طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ ملازمین کے معاشی مسائل کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جبکہ حکومت آئندہ بھی عوامی فلاح اور معاشی ترقی کے لیے مؤثر پالیسیاں اختیار کرتی رہے گی۔

  • قومی اسمبلی نے اقبال آفریدی کی رکنیت معطل کر دی

    قومی اسمبلی نے اقبال آفریدی کی رکنیت معطل کر دی

    اقبال آفریدی کی رکنیت معطل کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی۔

    ایوان کے فیصلے کے مطابق اقبال آفریدی کی رکنیت موجودہ اجلاس کی مدت کے لیے معطل کی گئی ہے، جس کے دوران وہ اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

    اس کے ساتھ ہی اسپیکر قومی اسمبلی نے سیکیورٹی عملے کو ہدایت جاری کی ہے کہ اقبال آفریدی کو پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت سے باہر لے جایا جائے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اقبال آفریدی نے ان کے اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا سے بدتمیزی کی، اقبال آفریدی نے پولیس اہلکاروں سے بھی بدتمیزی کی یہ سب ناقابل قبول ہے۔

    فرح ناز اکبر نے اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اقبال آفریدی کو کسی قسم کے الاؤنسز نہیں ملیں گے۔

  • ملکی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز، بیروزگار افراد کی تعداد 59 لاکھ، اکنامک سروے

    ملکی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز، بیروزگار افراد کی تعداد 59 لاکھ، اکنامک سروے

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے اکنامک سروے آف پاکستان 2025-26 کے مطابق ملک کی آبادی بڑھ کر 25 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ شرحِ اضافہ 2.07 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق 2025 میں مردوں کی تعداد 12 کروڑ 96 لاکھ اور خواتین کی تعداد 12 کروڑ 24 لاکھ 50 ہزار رہی۔ صوبائی لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں آبادی 13 کروڑ 33 لاکھ ہے، اس کے بعد سندھ 5 کروڑ 82 لاکھ، خیبر پختونخوا 4 کروڑ 26 لاکھ اور بلوچستان 1 کروڑ 52 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

    لیبر فورس سروے 2024-25 میں کل آبادی میں سے مجموعی لیبر فورس 8 کروڑ 31 لاکھ سے زائد رہی، جس میں سے 7 کروڑ 72 لاکھ افراد برسرِ روزگار جبکہ تقریباً 59 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔

    سروے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2026 میں 90 ہزار 550 افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔

    اسی طرح وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت جولائی تا فروری 2026 کے دوران 58 ارب روپے کے قرضے ایک لاکھ 14 ہزار 815 مستفید افراد کو جاری کیے گئے۔

    وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت جولائی تا مارچ 2026 کے دوران میرٹ پر 72 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق 2025 کے دوران بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد نے بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی، جبکہ وزارت اوورسیز پاکستانیز نے 75 نئے لائسنس جاری کیے، جس کے بعد لائسنس ہولڈرز کی مجموعی تعداد 2 ہزار 697 ہو گئی ہے۔

    رپورٹ میں آبادی میں تیز رفتار اضافے، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے لیے حکومتی اقدامات کو معیشت کے اہم چیلنجز اور ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔

  • وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا

    وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025 جاری کردیا

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی سروے 26-2025جاری کردیا ، جو پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کا قومی اقتصادی سروے باقاعدہ طور پر جاری کر دیا، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اندرونی و بیرونی چیلنجز اور شدید عالمی و علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    وزیرِ خزانہ نے سروے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی معاشی کارکردگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو پورا یقین تھا کہ اس سال پاکستان کی معاشی گروتھ 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی، لیکن بدقسمتی سے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی حالات اور ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی اور 4 فیصد کا ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت بھی سکڑ کر 3.7 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد پر آ گئی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر نئے ٹیرف کے نفاذ سے بھی عالمی سطح پر شدید معاشی غیر یقینی پیدا ہوئی۔

    وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے ہی ماہ میں ملک کو شدید معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور ان چیلنجز نے پاکستانی معیشت کی اہلیت کا سخت امتحان لیا، تاہم موجودہ حکومت اپنی بہترین پالیسیوں کی بدولت ان تمام بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی جس کی وجہ سے ملکی معیشت استحکام کی طرف گامزن ہوئی۔

    وزیرِ خزانہ نے معیشت کے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے زرعی شعبے کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ حاصل کردہ شرح 3.7 فیصد رہی۔

    اسی طرح زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا لیکن موسم کی خرابی اور دیگر عوامل کے باعث اس سال یہ شرح 2.9 فیصد تک محدود رہی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت آنے والے مالی سال میں معاشی اصلاحات اور ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے ذریعے ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرے گی۔

  • مظفرآباد کے قریب پاک آرمی کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام افراد شہید

    مظفرآباد کے قریب پاک آرمی کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام افراد شہید

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب ٹیک آف کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد شہید ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری بھی تشکیل دے دیا گیا ہے، جو تکنیکی خرابی اور دیگر ممکنہ عوامل کا جائزہ لے گا۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ پاک فوج کی قیادت نے بھی شہداء کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    مری ایکسپریس وے پر مسافر وین میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق، 13 زخمی

    دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاک فوج کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • نگران دور کی بھرتیاں غیر قانونی قرار، آئینی عدالت نے ملازمین کی اپیلیں مسترد کردیں

    نگران دور کی بھرتیاں غیر قانونی قرار، آئینی عدالت نے ملازمین کی اپیلیں مسترد کردیں

    وفاقی آئینی عدالت نے نگران حکومتوں کے اختیارات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے خیبرپختونخوا میں نگران دور کے دوران کی گئی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا کہ نگران حکومت کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے انتظامی امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نگران حکومت کسی بھی صورت منتخب حکومت کے مساوی اختیارات نہیں رکھتی اور اس کے ہر اہم اقدام کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔

    فیصلے کے مطابق ملازمین کی بھرتیاں مستقل نوعیت کا اقدام ہیں، اس لیے جنوری 2023 سے فروری 2024 کے دوران نگران حکومت کی جانب سے کی گئی تقرریاں قانون کے مطابق نہیں تھیں۔

    معیشت مستحکم، روزگار اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دینا ہوگی، وزیراعظم

    عدالت نے خیبرپختونخوا ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی قانون سے چند افراد متاثر ہوتے ہیں تو محض اس بنیاد پر اسے بنیادی حقوق کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔

    عدالت نے مزید قرار دیا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔

    فیصلے کے ساتھ ہی برطرف ملازمین کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کر دی گئیں، جبکہ نگران دور میں بھرتی کیے گئے درجہ چہارم کے ملازمین کی برطرفی برقرار رکھی گئی۔