وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اگلے مالی سال کے ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے اجلاس کو بجٹ پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق اس دوران وزیراعظم نے بجٹ تقریر طلب کی جس میں کابینہ کے ممبران کے بعض مطالبات کی روشنی میں کچھ ردو بدل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کابینہ ارکان، تمام اتحادیوں اور پارلیمانی رہنماؤں کا بجٹ کے لیے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے، اور بجٹ میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا بجٹ بارے مؤقف وزیر اعظم کے دعوے کے برعکس ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت پانچواں بجٹ پیش کر رہی ہے لیکن ڈیلیور نہیں کر سکی۔
ن لیگ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت تو دفاعی اخراجات بھی پورے نہیں کر سکی اور صوبوں پر بوجھ ڈال رہی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار
کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہوگا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امورز ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق 3 بجے شروع ہونا تھا، تاہم یہ اہم اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد تاحال شروع نہ ہوسکا۔
اس تاخیر کی وجہ سے بجٹ کو سینیٹ میں بھی مقررہ وقت یعنی شام 5 بجے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ملکی دفاع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار ارب روپے رکھا جائیگا۔
حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے جبکہ بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32 اعشاریہ 8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کے طور پر ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے جس کے تحت اگلے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر کام جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئے مالی سال کے دوران سابق فاٹا کے علاقوں کو حاصل ٹیکس استثنا بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور تمام اتحادی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے۔
اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کو بجٹ اجلاس کے دوران مثبت جمہوری کردار ادا کرنا چاہیے اور ہنگامہ آرائی کے بجائے وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو غور سے سننا چاہیے تاکہ وہ اس پر تعمیری اور مثبت معاشی تجاویز دے سکیں۔