Category: خبریں

  • حکومت کی آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس مہنگی کرنے کی یقین دہانی

    حکومت کی آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس مہنگی کرنے کی یقین دہانی

    حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی یقین دہانی کرا دی جبکہ توانائی شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے میں کمی کے لیے مختلف اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان جاری بجٹ مذاکرات میں توانائی شعبے کی صورتحال، مالی اہداف اور گردشی قرضے سے متعلق امور زیر غور آئے۔ حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگر بجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیپرا کی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹس بروقت نافذ رہیں گے جبکہ عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔

    حکام کے مطابق پیٹرول، بجلی اور گیس ٹیرف میں ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی جاری ہے تاہم کمزور اور کم آمدن طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی برقرار رکھی جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئی پی پیز کے جرمانوں اور بقایاجات سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے جبکہ ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے۔

    آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کے آڈٹ شدہ گردشی قرضے کا جامع ڈیٹا تیار کرلیا گیا ہے اور آئندہ اسے سہ ماہی بنیادوں پر پبلک کیا جائے گا۔ مالی سال 2027 کے لیے گیس گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان پر بھی کام جاری ہے۔

    بریفنگ کے مطابق جنوری 2027 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ مکمل طور پر نافذ رہے گا جبکہ آئندہ مالی سال میں بجلی سبسڈی کو 830 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی کہ مالی سال 2031 تک بجلی شعبے کا گردشی قرض صفر کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، جبکہ آئیسکو، گیپکو اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری 2027 کے آغاز تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  • ’ایپسٹین نے مجھے تین سال تک ریپ کا نشانہ بنایا‘

    ’ایپسٹین نے مجھے تین سال تک ریپ کا نشانہ بنایا‘

    روزا نے سماعت کے دوران بتایا کہ ’ایک دن اُس (ایپسٹین) کے مساج کرنے والی خاتون نے مجھے اُس کے کمرے میں بلایا، جہاں جیفری نے پہلی بار مجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ اور اس کے بعد کے تین سالوں تک میرے ساتھ مسلسل ریپ کیا جاتا رہا۔‘

    روزا کا کہنا ہے کہ اُن کے کمزور معاشی پس منظر نے انھیں ایپسٹین کا شکار بنایا
    جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کی جانب سے بدسلوکی اور استحصال کا نشانہ بنائے جانے والی ایک خاتون نے بتایا ہے کہ کس طرح جیفری ایپسٹن نے انھیں ریپ کا نشانہ بنایا۔

    ازبکستان سے تعلق رکھنے والی روزا نامی خاتون کو ایپسٹین کے قریبی ساتھی اور ماڈلنگ ایجنٹ جینلُوک برونیل نے اُس وقت بھرتی کیا تھا جب روزا ٹین ایج تھیں ۔

    روزا نے امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے منعقدہ ایک سماعت میں دیگر متاثرین خواتین کے ساتھ پہلی بار عوامی سطح پر اس بارے میں بات کی ہے۔

    روزا نے بتایا کہ جولائی 2009 میں ماڈلنگ ایجنٹ برونیل نے اُن کا تعارف ایپسٹین سے کروایا، جس کے بعد ایپسٹین نے انھیں درپیش مالی مسائل میں مدد کے لیے کام کی پیشکش کی، اور پھر تین برس تک انھیں ریپ کا نشانہ بنایا۔

    اس سماعت کا انعقاد ویسٹ پام بیچ (فلوریڈا) میں کیا گیا تھا کیونکہ ڈیموکریٹ قانون ساز رابرٹ گارشیا کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں ایپسٹین کے ’جرائم پہلی بار منظرِ عام پر آئے تھے۔‘

    سماعت کے لیے منتخب کی گئی یہ جگہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو کے قریب بھی ہے۔

    ریپبلکن ارکان کی اکثریت پر مبنی اس کمیٹی نے سماعت کے وران ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایپسٹین فائلز کے معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے پر توجہ دی ہے۔

    اگرچہ اس سماعت کو کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے، لیکن اسے اس مقصد کے لیے منعقد کیا گیا تاکہ ایپسٹین کیس کو توجہ کا مرکز بنایا رکھا جا سکے۔

    اس موقع پر قانون سازوں نے سُنا کہ کس طرح ایپسٹین اور اس کے ساتھی برسوں تک جواب دہی سے بچتے رہے، اور کس طرح متاثرین کو بار بار نظامِ انصاف سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


    جیفری ایپسٹین
    روزا نامی خاتون نے سماعت کے دوران بتایا کہ وہ سنہ 2008 میں ماڈلنگ ایجنٹ برونیل (جو وفات پا چکے ہیں) سے ملیں تو اُس وقت ان کی عمر 18 سال تھی اور برونیل نے اُن سے ’میرے خوابوں سے بھی بڑھ کر ایک شاندار ماڈلنگ کیریئر‘ کا وعدہ کیا۔

    اپنی کہانی بتاتے ہوئے روزا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’مالی طور پر غیر مستحکم پس منظر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میں اُن کا ایک موزوں ہدف بن گئی۔‘

    روزا کے مطابق وہ مئی 2009 میں نیویارک پہنچیں اور دو ماہ بعد جولائی میں وہ ویسٹ پام بیچ میں ایپسٹین کے گھر پر اُس وقت اُن سے ملیں جب ایک کیس میں ایپسٹین کو ہاؤس اریسٹ (گھر میں نظر بند) کا سامنا تھا۔

    ایپسٹین نے ملاقات کے دوران روزا کو فلوریڈا سائنس فاؤنڈیشن میں کام کی پیشکش کی۔

    روزا نے سماعت کے دوران بتایا کہ ’ایک دن اُس (ایپسٹین) کے مساج کرنے والی خاتون نے مجھے اُس کے کمرے میں بلایا، جہاں جیفری نے پہلی بار مجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ اور اس کے بعد کے تین سالوں تک میرے ساتھ مسلسل ریپ کیا جاتا رہا۔‘

    یاد رہے کہ ایپسٹین 10 اگست 2019 کو نیویارک کی ایک جیل کی کوٹھڑی میں اُس وقت موت کے منہ میں چلے گئے جب انھیں جنسی استحصال اور سمگلنگ کے الزامات کے مقدمے کا سامنا تھا۔

    ’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟
    ’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں
    ’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگو
    نابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیں
    منگل کو ڈیموکریٹک نگرانی کمیٹی کے ارکان کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2008 میں ایپسٹین کے وکیل کے ذریعے طے پانے والے متنازع پلی بارگین( ڈیل) نے انھیں ’تقریباً ایک دہائی تک جنسی استحصال اور سمگلنگ کی سرگرمیاں جاری رکھنے‘ کے قابل بنائے رکھا۔

    روزا کے مطابق گھر میں نظربندی کے دوران ایپسٹین کی جانب سے کی گئی جنسی بدسلوکی نے انھیں ’انصاف کا حصول ناممکن ہوتا محسوس کرایا‘ لیکن انھوں نے ’بالآخر مدد کے لیے رجوع کرنے کی ہمت کی۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ ’محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری ایپسٹین فائلز میں اُن کا نام غلطی سے شائع ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ صدمہ پہنچا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’امیر اور طاقتور طبقے کے افراد کو حذف شدہ معلومات کے ذریعے محفوظ رکھا گیا۔‘

    ’اب دنیا بھر سے رپورٹرز مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور میں ہر وقت ایک خوف کا شکار رہتی ہوں۔ میں صرف یہ تصور ہی کر سکتی ہوں کہ اس ’غلطی‘ کا میری زندگی پر آگے جا کر کیا اثر کیا ہو گا۔‘

    محکمۂ انصاف اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ وہ ’متاثرین کے تحفظ کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے‘ اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے متاثرین کی جانب سے ان کی شناخت ظاہر ہونے کا شکایات پر اپنی ویب سائٹ سے ایپسٹین سے متعلق متعدد فائلیں ہٹا دی تھیں۔

    محکمۂ انصاف کا دعویٰ ہے کہ یہ غلطیاں ’تکنیکی یا انسانی غلطی‘ کی وجہ سے ہوئیں۔

    ایپسٹین کی ایک اور متاثرہ ماریا فارمر نے بھی قانون سازوں کے سامنے اپنے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں گواہی دی۔

    ان کے مطابق پہلی بار انھوں نے 1996 میں بدسلوکی کو رپورٹ کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بار بار کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔

    ماریا نے زور دیا کہ ’حکومت کو سچ بولنا شروع کرنا ہوگا۔‘

    ’کپڑے اُتارنے کے دوران وہ مجھے گھور رہا تھا‘: جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک نوعمر لڑکیوں کو ماڈلنگ کی آڑ میں کیسے بھرتی کرتا تھا؟
    ’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگو
    نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟
    نابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیں
    ’ایپسٹین فائلز‘ اور وہ سازشی نظریات جو ٹرمپ کو مشکل میں ڈال رہے ہیں
    نو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی گیلین میکسویل کون ہیں؟

  • پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے پرچے ’لیک‘ ہونے پر تحقیقات کا حکم: ’معاملہ بظاہر چوری کا ہے‘

    پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے پرچے ’لیک‘ ہونے پر تحقیقات کا حکم: ’معاملہ بظاہر چوری کا ہے‘

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سیکریٹری داخلہ کی موجودگی میں ایک اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ’برطانوی نائب ہائی کمشنر نے شرکا کو بتایا کہ معاملہ بظاہر لیک کے بجائے چوری کا ہے۔‘

    پاکستان کی وزارت داخلہ نے کیمبرج کے اے لیول کے امتحانی پرچے مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سیکریٹری داخلہ کی موجودگی میں ایک اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ’برطانوی نائب ہائی کمشنر نے شرکا کو بتایا کہ معاملہ بظاہر لیک کے بجائے چوری کا ہے۔‘

    خیال رہے کہ 13 مئی کو کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے لیول ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 15 مئی کے امتحان کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کے نمائندگان نے پاکستانی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر باضابطہ معلومات جلد از جلد شیئر کی جائیں گی۔

    سیکریٹری داخلہ نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور معاملے کے فوری حل کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے این سی سی آئی اے کے سربراہ کو ہدایت کی کہ ’کیمبرج کے ساتھ مل کر مکمل تحقیقات کی جائیں۔‘

    اعلامیے کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کیمبرج ’امتحانی نظام میں موجود خامیوں اور خلا کو دور کرنے کے لیے اپنی نظامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔‘

    اس سے قبل بدھ کو جاری کردہ پیغام میں کیمبرج نے کہا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709)، جو 12 مئی کو ہمارے انتظامی زونز 3 اور 4 میں لیا گیا، اسے سخت ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبل از وقت شیئر کر دیا گیا تھا۔

    ’ہم ایسے واقعات کی فوری اور تفصیلی تحقیقات کرتے ہیں اور اب ہم یہ جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ یہ پرچہ کس حد تک لیک ہوا اور آئندہ کے اقدامات کیا ہونے چاہییں۔‘

    اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پاکستان میں اہم شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد اور اضافی سکیورٹی اور شناختی اقدامات کے طور پر ہم احتیاطی تدبیر کے تحت کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 32 (9709) کا امتحان، جو پاکستان میں جمعہ 15 مئی کو ہونا تھا، ملتوی کر رہے ہیں۔

    ’ہم اس کی جگہ ایک نیا امتحانی پرچہ دیں گے اور جون سیریز کے اندر نئی امتحانی تاریخ کا اعلان جمعہ 22 مئی تک کریں گے۔‘

    خیال رہے کہ 30 اپریل کو بھی کیمبرج نے تصدیق کی تھی کہ ایڈوانس سبسیڈیری میتھمیٹکس کا امتحانی پرچہ ’ہمارے قواعد کے خلاف وقت سے پہلے شیئر کیا گیا۔‘

    اگرچہ اس معاملے پر ادارے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریاضی کے امتحان سے کچھ گھنٹے قبل پرچہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے جانے کے معاملے نے پاکستان میں کئی طلبہ، اساتذہ اور والدین کو پریشانی میں مبتلا کیا ہے۔

    ’امتحان سے کچھ گھنٹے قبل پرچہ آن لائن شیئر کیا گیا‘
    اپریل کے اواخر میں اے لیول امتحانات کے پارٹ ون میں اے ایس ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات سب سے پہلے سوشل میڈیا پر سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پرچے کی حل شدہ اور غیر حل شدہ نقلیں آن لائن موجود ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ امتحان شروع ہونے سے صرف چند گھنٹے پہلے ہوا ہے۔

    پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق یہ پرچہ منگل کی رات گئے منظرِ عام پر آیا جبکہ دیگر کے مطابق امتحان سے کم از کم چھ گھنٹے پہلے ہی یہ گردش میں تھا۔

    صارفین نے نشاندہی کی ہے کہ پرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ریڈ اِٹ اور واٹس ایپ کے ذریعے مزید پھیلا۔ سب سے پہلے پرچہ کہاں لیک ہوا، بی بی سی اس کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

    بعض طلبہ نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے آن لائن تقسیم کیے جانے سے پہلے انٹرنیٹ پر ہی فروخت کیا جا رہا تھا۔

    لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہونے کے لیے 30 روپے انٹری فیس کیوں عائد کی گئی؟
    ’گریڈز اس قدر گرائے گئے کہ کوئی میڈیکل کالج داخلہ نہیں دے گا‘
    موبائل فون اور ٹیبلٹ پر ویڈیوز دیکھنے والے بچوں کی توجہ دیگر کھیلوں کی طرف کیسے مبذول کروائی جائے؟
    وفاقی اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا بیان ہراسانی قرار: کیا عمر کے ساتھ ہارمونل تبدیلیاں خواتین کے رویے یا صلاحیتوں پر اثر ڈالتی ہیں؟
    صارفین کی طرف سے اظہار برہمی
    سوشل میڈیا پر نہ صرف متاثرہ طلبہ اور اساتذہ بلکہ والدین بھی اس معاملے پر اپنی تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

    ابراہیم جعفری نامی صارف نے کہا کہ ’اندازے کے مطابق پاکستان کے تقریباً 25 ہزار طلبہ نے اے لیولز میتھمیٹکس کے امتحان میں شرکت کے لیے برٹش کونسل کو لگ بھگ 50 ہزار روپے فی امیدوار ادا کیے۔۔۔ تیاری میں صرف کیے گئے لاتعداد گھنٹے اور ایک سال کے دوران ٹیوشن فیس کی مد میں ادا کی گئی لاکھوں روپے کی رقم سب ضائع ہو گئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔

    فیضان نے کہا کہ کئی والدین اور طلبہ کو اس بارے میں اس وقت علم ہوا جب وہ ’اپنے امتحانی مراکز پہنچے۔ اس کے نتیجے میں امتحان کے روز والدین اور طلبہ دونوں کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔‘

    ایک والد نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’میرے بیٹے کو اس صورتحال نے خاصا پریشان کر دیا ہے۔ یہ معاملہ تین برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ آج اساتذہ نے طلبہ سے کہا کہ وہ کیمبرج میں شکایت درج کرائیں اور اپنے والدین سے بھی ایسا کرنے کو کہیں۔‘

    ’یہ طلبہ کی اکثریت کے ساتھ نہایت ناانصافی ہے۔ اب یہ سن کر کہ امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے، تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔‘

    امبر نے تبصرہ کیا کہ اس سے ’ایک بچے کی ایک سال کی پوری محنت ضائع ہوئی ہے‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میتھمیٹکس کے کسی دوسرے ویرینٹ کی بنیاد پر گریڈ دینا یا امتحان دوبارہ ایک مزید مشکل پرچے کے ساتھ منعقد کرنا اُن طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے جنھوں نے بہتر نمبرز حاصل کرنے کے لیے محنت کی تھی۔‘

    کئی صارفین نے کیمبرج کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جیسے ندیم تنولی نے لکھا کہ ’فیسیں تو برطانوی معیار کی لی جاتی ہیں لیکن سروس ڈیلیوری کسی تیسرے درجے کے ادارے سے بھی بدتر ہے۔‘

    کیمبرج پاکستان نے کیا کہا؟
    13 مئی کے پیغام میں کیمبرج نے کہا ہے کہ ’امتحانی پرچوں کی چوری کا یہ سلسلہ بے مثال ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ان عناصر کا کام ہے جو امتحانات کو کمزور کرنے اور ان طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان پر انحصار کرتے ہیں۔

    ’ہم ذمہ دار افراد کو روکنے اور انھیں سزا دلوانے کے لیے متعدد قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں۔‘

    پاکستان میں کیمبرج ایجوکیشن کی ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے کہا ہے کہ ’ہماری ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے طلبہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور ہم اپنے امتحانات کی ساکھ کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ’ہمارے اگلے اقدامات سے متعلق فیصلے سینئر اور تجربہ کار ماہرین کرتے ہیں جو تمام حقائق سے آگاہ ہیں، اور ہمارے بنیادی اصول یہ ہیں کہ۔ ہم اپنے دیے جانے والے گریڈز کی شفافیت اور بھروسا مندی کو یقینی بنائیں تاکہ جامعات اور دیگر ادارے ان پر اعتماد جاری رکھ سکیں۔‘

    اس سے قبل 30 اپریل کو کیمبرج پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس کا امتحان 12 (9709) جو افریقہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے علاقوں میں لیا گیا، ہمارے ضوابط کے خلاف مقررہ وقت سے پہلے شیئر کیا گیا۔’

    اس کا کہنا ہے کہ ’ہم اس نوعیت کے واقعات کی فوری اور مکمل تحقیقات کرتے ہیں اور اب ہم اس بات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ یہ لیک کس حد تک پھیلی اور اس حوالے آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔‘

    ’ہماری ترجیح یہ ہے کہ طلبہ اس واقعے کے باعث کسی نقصان کا شکار نہ ہوں اور ہم اپنے امتحانات کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ امیدوار ’آئندہ امتحانات دینے کے لیے تیاری جاری رکھیں۔‘

    کیمبرج پاکستان کے مطابق اگلے اقدامات سے متعلق ہمارے فیصلے سینیئر اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کرتے ہیں جن کے پاس تمام حقائق موجود ہوتے ہیں اور ہمارے اصول یہ ہیں: ان گریڈز کے اعتبار کو یقینی بنانا، جو ہم دیتے ہیں تاکہ جامعات اور گریڈز استعمال کرنے والے دیگر ادارے ان پر اعتماد برقرار رکھ سکیں۔ پرچہ چوری ہونے کے باعث طلبہ کو ہونے والی ذہنی کوفت اور خلل کو کم سے کم کرنا۔‘

    اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم اس طرح کے واقعات کے طلبہ پر اثرات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہمیں اس اعتماد کی قدر ہے جو ہم پر 160 ممالک میں ہر سال 20 لاکھ سے زائد امتحانات منصفانہ نتائج کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

    ’امتحان کی ساکھ متاثر ہونا ایک نایاب امر ہے اور جہاں ہمیں بدعنوانی کے شواہد ملتے ہیں وہاں ہم امتحانی مراکز اور طلبہ کے خلاف مناسب کارروائی کرتے ہیں۔‘

    کیمبرج پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید پیشرفت 7 مئی کو بتائی جائے گی۔

    ’گریڈز اس قدر گرائے گئے کہ کوئی میڈیکل کالج داخلہ نہیں دے گا‘
    ’امتحانوں سے ڈر نہیں لگتا، کورونا سے ڈر لگتا ہے‘
    کیا پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام یکساں قومی نصاب کو اپنانے کے لیے تیار ہے؟
    ’مائیتھوس‘ جس کو عالمی رہنما آبنائے ہرمز سے بھی ’بڑا خطرہ‘ سمجھتے ہیں
    موبائل فون اور ٹیبلٹ پر ویڈیوز دیکھنے والے بچوں کی توجہ دیگر کھیلوں کی طرف کیسے مبذول کروائی جائے؟
    طالب علموں کا بے ضرر مذاق اور استاد کی ہلاکت

  • بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 جوان شہید، 7 دہشت گرد ہلاک

    بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 جوان شہید، 7 دہشت گرد ہلاک

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع بارکھان کے علاقے نوشم میں پاک فوج اور فرنٹیئرکوربلوچستان نے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کلیئرنس آپریشن کیا۔

    13 مئی 2026 کی صبح کیے گئے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی حمایت یافتہ تنظیم کے 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے پاک فوج کے ایک افسر سمیت 5 جوان وطن پر قربان ہوگئے۔ شہداء میں میجر توصیف احمد بھٹی (ضلع پاکپتن)، نائب فدا حسین (ضلع سکھر)، سپاہی ذاکر حسین (ضلع اسکردو)، سپاہی سہیل احمد (ضلع خانیوال) اور سپاہی محمد ایاز (ضلع رحیم یار خان) شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ موجود دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کو ڈگری ایوارڈنگ ادارہ بنانے کا اعلان

    پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کو ڈگری ایوارڈنگ ادارہ بنانے کا اعلان

    وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کا دورہ کیا اور ادارے کو ڈگری ایوارڈنگ ادارہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میری ٹائم اکیڈمی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں اور ادارے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا حکومت کی ترجیح ہے۔

    دورے کے موقع پر قائم مقام کمانڈنٹ محمد آصف فاروق نے وفاقی وزیر کو اکیڈمی میں جاری تربیتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی میں بندرگاہی اہلکاروں کو فائر فائٹنگ سمیت مختلف جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے تربیتی معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈمی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ادارے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ ملکی میری ٹائم شعبہ بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی دکھا سکے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ کے ہنگامی دورے اور ٹرمپ کا ’فون پر رابطے‘ کا مشورہ: حالیہ پیشرفت مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے کیا ظاہر کرتی ہے؟

    ایرانی وزیر خارجہ کے ہنگامی دورے اور ٹرمپ کا ’فون پر رابطے‘ کا مشورہ: حالیہ پیشرفت مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے کیا ظاہر کرتی ہے؟

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنا دورہ پاکستان مکمل کر کے اب روس پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں اب امریکہ، ایران مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا اور اس نازک موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ کے پاکستان، عمان اور روس کےاِن دوروں کا مقصد کیا ہے؟

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنا دورہ پاکستان مکمل کر کے گذشتہ شب روس کے لیے روانہ ہو گئے ہیں اور ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے مطابق عباس عراقچی روسی دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

    گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران عباس عراقچی کا یہ دوسرا دورہ پاکستان تھا۔

    امریکہ، ایران تنازع سے متعلق تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

    جمعہ (24 اپریل) کی شب جب ایرانی وزیر خارجہ پاکستان پہنچے تو یہ عندیہ ملا کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان بظاہر تعطل کے شکار مذاکرات میں اہم پیش رفت ہونے جا رہی ہے، اور اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب عالمی ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا کہ جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف پر مشتمل امریکی مذاکراتی ٹیم بھی سنیچر کو اسلام آباد کا دورہ کر سکتی ہے۔

    تاہم جمعہ کو عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے آگاہ کیا کہ ایرانی وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کا مقصد ’دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت‘ کرنا تھا اور یہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔

    عباس عراقچی پاکستان میں جمعہ کی شب وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کے بعد مسقط روانہ ہو گئے اور جلد ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا کہ وہ اپنے نمائندے اسلام آباد نہیں بھیج رہے اور یہ کہ اگر ایرانی مذاکرات کے خواہاں ہیں تو وہ امریکی نمائندوں کو فون کر سکتے ہیں۔

    24 اپریل کو ہونے والی اس پیشرفت کے بعد اتوار (26 اپریل) کی شام عباس عراقچی مسقط سے واپسی پر ایک مرتبہ پھر پاکستان پہنچے، اور چند ہی گھنٹوں پر محیط دورہ مکمل کر کے روس کے لیے روانہ ہو گئے۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

    اس موقع پر یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اب پاکستان کی سہولت کاری میں ہونے والے امریکہ، ایران مذاکرات کا مستقبل اب کیا ہو گا اور اس نازک موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ کے اِن ہنگامی دوروں کا مقصد کیا ہے؟

    امریکی صدر کے بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟

    Getty Images
    صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ وہ اپنے نمائندے اسلام آباد نہیں بھیج رہے اور یہ کہ اگر ایرانی مذاکرات کے خواہاں ہیں تو وہ فون پر رابطہ کر سکتے ہیں

    چند ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے موجودہ صورتحال کو ایک ’معمے‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    اگرچہ پاکستانی حکام اِن حالیہ ملاقاتوں کی نوعیت اور تفصیلات پر خاموش نظر آتے ہیں تاہم ایران کے نیم سرکاری خبررساں اداروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دورہ پاکستان کے دوران عباس عراقچی نے آئندہ مذاکرات کے لیے اپنی تحریری شرائط اور مطالبے اسلام آباد کی وساطت سے امریکہ تک پہنچا دیے ہیں۔

    اسلام آباد اور تہران میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بھی بی بی سی اُردو کو اس کی تصدیق کی ہے اور امریکی صدر کا حالیہ بیان بھی ان معلومات کی تائید کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے پاکستان میں مذاکرات کے لیے طے شدہ دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ امریکہ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور ’وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس ’تمام پتے‘ ہیں۔

    بی بی سی نے پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات کا مطلب کیا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کا کردار اب کیسے آگے بڑھے گا؟

    ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انھیں ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

    ماضی میں واشنگٹن میں بطور پاکستانی سفیر خدمات انجام دینے والی ملیحہ لودھی سے پوچھا گیا کہ وہ کون سے ’پتے‘ ہیں جن کا ذکر صدر ٹرمپ اس موقع پر کر رہے ہیں، تو اُن کا کہنا تھا: ’یہ ٹرمپ کا لفاظی پر مبنی روایتی بیان ہے، جو بنیادی طور پر ملک کے اندر موجود لوگوں کے لیے ہے۔‘

    Reuters

    وہ کہتی ہیں کہ ’جب ایران کے پاس سٹریٹجک برتری (آبنائے ہرمز پر کنٹرول) تاحال موجود ہے تو ایسے میں ٹرمپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ تمام پتّے اُن کے ہی پاس ہیں۔‘

    دیگر تجزیہ کار بھی اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    قائدِ اعظم یونیورسٹی سے منسلک تاریخ دان اور تجزیہ کار ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ حکومت کی تبدیلی، جوہری پروگرام کے خاتمے، میزائل پروگرام کی تباہی، پراکسی گروہوں کے خاتمے اور ڈرون پروگرام کی تباہی کے مقاصد سے شروع کی گئی تھی۔‘

    ان کے مطابق ’بظاہر تاحال یہ تمام مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز پر بھی کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جس سے اس کی سٹریٹجک پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔‘

    ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ کو اس بات کا اعتراف کرنے میں وقت لگے گا کہ اُن کا ایران کا جُوا ناکام ہو گیا ہے۔‘

    آسٹریلیا کی ڈیکن یونیورسٹی سے منسلک محقق زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ ’جہاں تک ٹرمپ کے پاس موجود کارڈز کی بات ہے تو امریکہ جانتا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا ایران کی معیشت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ کیونکہ سمندری راستے سے اس کی تیل کی تجارت میں رکاوٹ آ رہی ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران اپنا تیل فروخت نہ کر پایا تو عین ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اسے اپنے تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں۔

    اُن کے بقول اگر ایک مرتبہ یہ کنویں بند کر دیے جائیں تو انھیں دوبارہ کھولنے کی بہت زیادہ لاگت ہے جبکہ اس میں وقت بھی بہت زیادہ لگتا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اب ایران پر بھی دباو بڑھ رہا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ عمان اور روس سمیت دیگر ممالک سے بھی اپنے رابطے بڑھا رہا ہے، تاکہ ایک کثیر ملکی معاہدہ ہو جس میں ایران کو کچھ یقین دہانیاں بھی کروائی جائیں۔

    اتوار کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بھی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا تیل انفراسٹرکچر اگلے تین روز میں ایکسپلوڈ (پھٹ) کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس کی منطق یہ پیش کی کہ اگر پائپ لائنز کے ذریعے تیل مسلسل آ رہا ہے، لیکن اسے آئل ٹینکرز یا تیل ترسیل کرنے والے جہازوں میں منتقل نہیں کیا جاتا تو یہ سسٹم شدید دباؤ آتا ہے اور ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کو کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر کیوں ہیں؟

    پاکستان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے اور اس کے وزیرِ خارجہ کے اسلام آباد کے دورے اسی سبب ہیں، لیکن سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ ان کے مسقط اور ماسکو جانے کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

    سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے عمان اور روس کے دورے اور اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے، ایران کی علاقائی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔

    ملیحہ لودھی کی رائے میں ’ان کا مقصد ایران کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرنا، جنگ بندی برقرار رکھنا اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔‘

    دوسری جانب ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول تسلیم کروانا چاہتا ہے اور اس ضمن میں عمان اور پاکستان کی سفارتی حمایت حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔

    روس ایران کا ایک قریبی اتحادی ہے اور ڈاکٹر الہان نیاز کے مطابق عباس عراقچی کا روس کا دورہ کسی طور بھی حیرت کا باعث نہیں ہے۔

    ’اگرچہ سرکاری طور پر اس کی تردید کی جاتی رہی ہے لیکن روس کا موجودہ جنگی منظر نامے میں ایران کی کامیابی میں مدد دینے میں ایک واضح مفاد موجود ہے۔‘

    کیا پاکستان سہولت کار سے ثالث بننے کی طرف بڑھ رہا ہے؟

    یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ موجودہ مذاکرات میں اب پاکستان کا کردار صرف بطور سہولت کار کا نہیں بلکہ ایک ثالث کا ہے۔

    ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ عالمی تنازعات میں ’کسی سہولت کار کا کردار عموماً وقت کے ساتھ ایک ثالث کے کردار میں بدل جاتا ہے۔‘

    تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو گا، بلکہ ان ہی مذاکرات تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔‘

    تاہم ڈاکٹر الہان نیاز سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کام ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مدد دینا ہے اور فریقین کو یہ بتانا ہے کہ صورتحال کسی طرف جا رہی ہے۔

    ’اس جنگ کا فوری خاتمہ پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن پاکستان امریکہ کے اچھے رویے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔‘

    ’کوئی بھی طاقت یا اتحاد امریکہ کی ضمانت نہیں لے سکتا اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کے موجودہ دور میں یہ ایک بڑی رُکاوٹ نظر آئی ہے۔‘

    محقق زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ پاکستان نے سہولت کار اور ثالث کے طور پر دونوں کردار نبھائے ہیں، لیکن بظاہر اب ایسا لگتا ہے کہ اس عمل میں مزید ممالک شامل ہوں۔

    اُن کے بقول ایران کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سجے اور وہ پاکستان کو مرکزی ثالث بھی سمجھتے ہیں، تاہم وہ یہ چاہتے ہیں کہ دیگر علاقائی ممالک بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد سے عمان گئے اور پھر اسلام آباد آئے اور اب وہ روس پہنچ چکے ہیں۔

    زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ پاکستان بھی چاہے گا کہ دیگر ممالک بھی اس مذاکراتی عمل میں شامل ہوں اور امریکہ اور ایران کے بلواسطہ یا بلا واسطہ مذاکرات کا مرکز اسلام آباد ہی رہے۔ تاہم اُن کے بقول اس عمل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

    ’معاہدے کی اُمید برقرار ہے‘

    امریکہ، ایران مذاکرات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے زاہد شہاب احمد نے کہا کہ ایران امریکی ناکہ بندی کا زیادہ دیر تک متحمل نہیں ہو سکتا اور اسی لیے اس کے آپشنز محدود ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ، جس کی طرف صدر ٹرمپ نے بھی بارہا اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ یہ پتہ نہیں چل پا رہا کہ ایران میں آخر فیصلے کون کر رہا ہے؟

    اُن کے بقول حالیہ پیشرفتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران اور امریکہ، دونوں ہی جنگ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتے، کیونکہ اس جنگ کے نہ صرف خلیج بلکہ پوری دُنیا پر اثرات پڑ رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بظاہر دونوں ممالک اب اس کوشش میں ہیں کہ ایک دوسرے کو زیادہ رعایتیں دیے بغیر کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں۔

    ’دونوں ممالک پاکستان کے ذریعے ایک دوسرے کو تحریری مسودے اور پیغامات پہنچا رہے ہیں اور دونوں ہی بارگین بھی کر رہے ہیں اور کچھ لچک بھی دکھا رہے ہیں۔‘

    اُن کے بقول اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی امن معاہدہ ہو سکتا ہے، لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد، عمان اور روس کے دوروں کے نتائج بھی جلد سامنے آ جائیں گے۔

  • سنگاپور کا چھنگی ایئرپورٹ: دنیا کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ اندر سے کیسا ہے؟

    سنگاپور کا چھنگی ایئرپورٹ: دنیا کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ اندر سے کیسا ہے؟

    • جہاں دوسرے بڑے ہوائی اڈے چوہوں کی بہتات، عملے کی ہڑتالوں اور چھتیں گرنے جیسے مسائل سے دوچار ہیں، وہاں چنگی کی مستقبل پسندانہ خاموشی ایک بالکل مختلف دنیا محسوس ہوتی ہے۔ اوسط اور عالمی معیار کے ہوائی اڈے کے درمیان فرق کبھی اتنا واضح محسوس نہیں ہوا۔
      Getty Images
      اپنے جدید ڈیزائن، تیز رفتار امیگریشن اور مسافروں کی سہولیات کی وجہ سے چھنگی ایئر پورٹ کو مسلسل دوسری مرتبہ دنیا کا سب سے بہترین ہوائی اڈہ قرار دیا گیا ہے

      تصور کیجیے کہ آپ ابھی 18 گھنٹے کی پرواز کے بعد ایک ہوائی اڈے پر اُترے ہیں۔ طویل سفر کی تھکان کے باعث آپ کی آنکھیں سُرخ ہیں اور آج جمائیاں لیتے ہوئے امیگریشن کاؤنٹر تک کے لمبے پیدل سفر، طویل قطاروں اور سامان کے ناختم ہونے والے انتظار کے حوالے سے اپنے ذہن کو تیار کر رہے ہیں۔

      مگر اس کے برعکس آپ کا فوری طور پر سامنا مسکراتے ہوئے اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار ربورٹس سے ہوتا ہے جو ایئرپورٹ کے فرش کی صفائیوں میں مصروف ہیں۔ آپ کی حیرت اور بڑھے گی جب امیگریشن کاؤنٹر پر مسافروں کی قطار اس رفتار سے اگے بڑھے گی جس کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا اور پھر 15 منٹ سے بھی کم وقت میں آپ اپنے آپ کو ہوائی اڈے سے باہر پائیں گے۔

      اور اس وقت شاید ایک ہی سوچ آپ کے دماغ میں ہو کہ باقی دنیا اب بھی یہ سب اتنا مشکل کیوں ہے؟

      اس ایئرپورٹ پر بغیر کسی رکاوٹ کے چیک اِن کے بعد، آپ ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ ہالز میں اپنی پرواز کا انتظار کرتے ہیں، جہاں 24 گھنٹے مفت سنیما، تتلیوں کا باغ اور دنیا کی سب سے اونچی اِن ڈور آبشار موجود ہے۔

      یہاں تک کہ ایک شیشے کا اِن ڈور مچھلیوں کا تالاب بھی ہے جس کے اوپر سے آپ چل سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل چھت جو باہر کے موسم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ایئرپورٹ پر رہتے ہوئے کئی بار آپ بھول جاتے ہیں کہ آپ کسی ہوائی اڈے میں ہیں یا مستقبل کے کسی جدید شہر میں جس کا نظم و نسق بہترین انداز میں چلایا جا رہا ہو۔

      سننے میں یہ سب ایک خواب جیسا لگتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سنگاپور کا ’چھنگی ایئرپورٹ‘ ہے، جس نے حال ہی میں مسلسل دوسرے برس دنیا کے سب سے بہترین ہوائی اڈے کا ایوارڈ اپنے نام کیا ہے۔

      جہاں دنیا کے دوسرے بڑے ایئرپورٹس چوہوں کی بہتات، عملے کی ہڑتالوں اور چھتیں گرنے جیسے مسائل سے دوچار ہیں، وہاں چھنگی ایئرپورٹ کی مستقبل پسندانہ خاموشی ایک بالکل مختلف دنیا محسوس ہوتی ہے۔

      اس سے قبل کسی اوسط اور عالمی معیار کے ہوائی اڈے کے درمیان فرق کبھی اتنا واضح محسوس نہیں ہوا۔

      تو پھر جدید فضائی سفر کو اس قدر پرکشش بنانے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے اور سنگاپور اُس وقت میں درست فیصلے کیسے کرتا رہتا ہے جب اس کے حریف ایسا نہیں کر پا رہے تھے؟

      سب سے پہلے کارکردگی

      Getty Images
      ایئرپورٹ کے ویٹنگ لاؤنج کا منظر

      ہوائی اڈوں کی منصوبہ بندی اور ترقی پر مرکوز ایک تحقیقی ادارے ’ایئرپورٹ سٹی اکیڈمی‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر میکس ہرش کے مطابق، چھنگی ایئرپورٹ کی کامیابی صرف معیار کو برقرار رکھنے تک محدود نہیں۔

      اُن کے بقول رفتار سے لے کر حفاظت اور رابطے تک۔ اس ایئرپورٹ کے سسٹمز میں یہ لچک بھی شامل ہے کہ جب چیزیں انسانی منصوبے کے مطابق نہ چلیں تو وہ خود سے معاملات سے نمٹیں۔

      ہرش کہتے ہیں کہ ’ہوابازی کی دنیا میں یہ اکثر ہوتا ہے۔ چیلنج صرف ایک بار اس توازن کو حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ بدلتی ہوئی ضروریات، ٹیکنالوجیز اور رکاوٹوں کے باوجود دہائیوں تک اسے برقرار رکھنا ہے۔ چھنگی ایئرپورٹ اس لیے کامیاب ہے کہ وہ اس توازن کو کسی ایک وقتی کارنامے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری منصوبے کے طور پر لیتا ہے۔‘

      اگر آپ کبھی سنگاپور کے ذریعے سفر کر چکے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ نے اس ہوائی اڈے پر چھائے سکون کے احساس کو محسوس کیا ہو۔

      لیکن یہاں ہوتے ہوئے جو بات آپ غالباً نہیں سمجھ پاتے، وہ یہ ہے کہ یہ سکون کتنی باریکی سے ترتیب دیا گیا ہے۔

      پردے کے پیچھے ایک بہت بڑا اور نہایت منظم آپریشن روم موجود ہے جس میں خودکاری، بائیومیٹرکس اور پیشگی تجزیاتی نظام استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ رکاوٹیں نمایاں ہونے سے پہلے ہی ختم کر دی جائیں۔

      ہرش کہتے ہیں کہ صفائی، توانائی کے استعمال اور مسافروں کی آمدورفت کے معاملات کو فی الفور نمٹانے میں یہ ایئرپورٹ اکثر آپ کو ایک قدم آگے محسوس ہوتا ہے۔

      پس پردہ بنیادی انتظامات، جیسا کہ مسافروں کے لیے راستوں کی غیرمبہم اور واضح نشاندہی، صاف اور واضح اشارتی بورڈز اور مسافروں کے ہجوم کا مؤثر انتظام، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جیٹ لیگ کے شکار مسافروں کو محض اپنے گیٹ تک پہنچنے کی کوشش میں اپنی ذہنی توانائی ضائع نہ کرنی پڑے۔

      ٹرمینلز میں نصب 500 بیت الخلا بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں مسافروں کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل ٹچ سکرینیں موجود ہوتی ہے۔ معیار میں ذرا سی بھی کمی آئے تو صفائی کا عملہ چند منٹوں میں وہاں پہنچ جاتا ہے۔

      ہرش کہتے ہیں کہ ’درجہ بندی سادہ ہے: کارکردگی پہلے، ماحول بعد میں اور تماشا سب سے آخر میں۔‘

      سہولیات کی بھرمار

      چھنگی ایئرپورٹ پر سہولیات کی اتنی بھرمار ہے کہ اُن کی وسعت کو سراہنے کے لیے یہاں کے کئی دورے درکار ہو سکتے ہیں۔

      سب سے معروف مثال ’جیول رین وورٹیکس‘ ہے، جو چنگی ایئرپورٹ سے متصل ریٹیل کمپلیکس میں واقع اِن ڈور آبشار ہے، اور یہ آبشار اب سنگاپور کے سب سے زیادہ جانے پہچانے سفری مناظر میں سے ایک بن چکی ہے۔

      آپ یہاں روبوٹک بار ٹینڈر، ٹونی، کو مختلف قسم کے کاک ٹیلز تیار کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

      تتلیوں کے باغ میں ہر دو سے تین ہفتے بعد نئی تتلیاں ڈالی جاتی ہیں تاکہ رنگین پروں والی خوبصورتی کبھی ختم نہ ہو پائے۔ اگر اڑنے والے حشرات آپ کو پسند نہیں، تو یہاں کیکٹس گارڈن اور چھت پر سورج مکھی کا باغ بھی موجود ہے۔

      ایک نیا فِٹ اینڈ فن زون، جو 2025 کے اوائل میں کھلا ہے، ایسی سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہے جو ہر مزاج کے لوگوں کو بھاتی ہیں۔

      اور جن مسافروں کا ٹرانزٹ کافی طویل ہو (اور ویزا کی کوئی شرط نہ ہو)، ان کے لیے یہ ایئرپورٹ شہر کی مفت رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔

      لیکن یہ تفریحات صرف طویل سفر کی تھکن کم کرنے تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ایک زیادہ عملی مقصد بھی پورا کرتی ہیں: لوگوں کو دریافت کی ترغیب دے کر یہ ٹرمینل کے مختلف حصوں تک آمد و رفت کو پھیلا دیتی ہیں اور اس ہجوم کے احساس سے بچنے میں مدد دیتی ہیں جو دیگر ہوائی اڈوں کو درپیش رہتا ہے۔

      Getty Images

      آسان آنا، آسان جانا

      ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس سے لے کر صفائی ستھرائی اور مسافروں سے متعلق دیگر خدمات تک کو آٹومیٹک نظام کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔

      چھنگی ایئرپورٹ گروپ میں کارپوریٹ اور مارکیٹنگ مواصلات کے سینیئر نائب صدر آئیون ٹین نے وضاحت کی کہ ’امیگریشن خدمات کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار ہوتی ہے اور بہت سے شہری ایسے کام کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی حد تک ہم اپنی ضرورت کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔‘

      سنہ 2024 میں چھنگی ایئرپورٹ مکمل طور پر پاسپورٹ کے بغیر امیگریشن کلیئرنس نافذ کرنے والا پہلا ہوائی اڈہ بن گیا تھا۔

      اس نظام میں چہرے اور آنکھوں کی بائیومیٹرک شناخت استعمال کی جاتی ہے تاکہ بین الاقوامی سفر کے سب سے مایوس کر دینے والے مراحل میں سے ایک پر وقت بچایا جا سکے۔

      سنگاپور کے رہائشی آمد اور روانگی دونوں پر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ غیر ملکی مسافر سنگاپور سے روانگی کے وقت پاسپورٹ کے بغیر کلیئرنس کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔

      چھنگی ایئرپورٹ نے حال ہی میں ٹرمینل ایکس قائم کیا ہے، جو ایک اختراعی لیبارٹری ہے اور موسمی تغیر، افرادی قوت کے مسائل، گنجائش کے دباؤ اور مسلسل بدلتی ہوئی صارفین کی توقعات سے نمٹنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔

      لیب کے کمیونیکیشنز مینیجر کرس موک کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے یہ اختراعی مرکز ناگزیر ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے چیلنجز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ چند برسوں میں ہمیں دگنی محنت کرنا پڑے گی۔‘

      لیب کے منصوبوں میں ایسے ڈرونز کا ایک بیڑا بھی شامل ہے جو طوفانی موسم میں فضا میں منڈلاتے ہیں تاکہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کو روکا جا سکے۔ یاد رہے کہ سنگاپور میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

      سنگاپور کی رہائشی الیشا روڈریگو اس ایئر پورٹ کے ذریعے اکثر سفر کرتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک مؤثر، صاف ستھرا اور منظم نظام ہے اور یہاں موجود رہتے ہوئے آپ کو یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز کام کرے گی۔

      امریکی ایئر پورٹس پر سکیورٹی کی وجہ سے چار، چار گھنٹوں تک انتظار کے تناظر میں وہ کہتی ہیں کہ چھنگی ایئرپورٹ اس لحاظ سے سب سے آگے ہے اور آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ یہاں کتنا وقت لگے گا۔

      یہی وجہ ہے کہ چھنگی مسلسل کامیابی حاصل کرتا جا رہا ہے۔ اگرچہ آبشار وہ چیز ہو سکتی ہے جو مسافروں کے ذہن میں رہ جاتی ہے، مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ وہاں تک بغیر راستہ بھٹکے اپنی منزل تک منٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

  • وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائی، فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوششیں ناکام

    وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائی، فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوششیں ناکام

    وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سرحدی علاقے میں اشتعال انگیزی اور دراندازی کی کوشش کو مؤثر طریقے سے روکا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ناکامی کے بعد افغان طالبان کی جانب سے انگور اڈہ زلول خیل کے علاقے میں سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر وانا اسپتال منتقل کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔سیکیورٹی فورسز علاقے میں صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔

  • کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت 38 ڈگری تک جانے کا امکان

    کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت 38 ڈگری تک جانے کا امکان

    محکمہ موسمیات پاکستان نے پیشگوئی کی ہے کہ کراچی میں آج درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دن کے اوقات میں پارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ہے جبکہ جنوب مغرب سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار 19 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس سے موسم مزید گرم محسوس ہو سکتا ہے۔

  • پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کا کراچی میں کیمپ، بنگلا دیش سیریز کی تیاری

    پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کا کراچی میں کیمپ، بنگلا دیش سیریز کی تیاری

    پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا اسکواڈ آج کراچی میں رپورٹ کرے گا جہاں کھلاڑی ایک مقامی ہوٹل میں جمع ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے تربیتی کیمپ کل سے شروع ہوگا جس میں کھلاڑیوں کی فٹنس اور تکنیکی تیاریوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    بابر اعظم، خرم شہزاد اور شان مسعود پی ایس ایل میچز کی مصروفیات کے باعث بعد میں اسکواڈ کو جوائن کریں گے۔

    رپورٹس کے مطابق اگر ان کی ٹیمیں پلے آف یا فائنل تک پہنچتی ہیں تو یہ کھلاڑی 4 مئی کو بنگلا دیش روانہ ہوں گے بصورت دیگر اسکواڈ 2 مئی کو مکمل طور پر روانہ ہوگا۔

    پاکستان ٹیم کی تیاریوں کا مقصد آئندہ سیریز میں بہترین کارکردگی دکھانا ہے جبکہ کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور فٹنس پلان کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔