Category: سائنس اور ٹیکنالوجی

  • ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں دلچسپ دریافت

    ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں دلچسپ دریافت

    ناسا کی چندرا ایکس رے آبزرویٹری نے ہماری ملکی وے کہکشاں کے عین مرکز میں ایک نہایت دلچسپ مقام پر ممکنہ طور پر ایک نئے سپرنووا کے باقیات دریافت کی ہیں۔

    سپرنووا کے باقیات دراصل اُن ستاروں کے پھیلتے ہوئے ملبے ہوتے ہیں جو عظیم دھماکے سے پھٹ چکے ہوتے ہیں۔ یہ باقیات فولاد، آکسیجن اور سلیکون جیسے اہم عناصر خلا میں بکھیرتے ہیں، جو سیاروں کی تشکیل اور زندگی کے وجود اور نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

    اگر اس نئی دریافت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ سپرنووا باقیات ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکزی خطے میں موجود دیوقامت بلیک ہول کے قریب ترین دریافت ہونے والی سپرنووا باقیات میں سے ایک ہوں گی۔

    کہکشاں کا یہ مرکزی علاقہ انتہائی پراسرار اور غیر معمولی ہے، جہاں بے شمار دیوقامت ستارے موجود ہیں، مقناطیسی فیلڈز کے طویل دھاگے نما ڈھانچے پھیلے ہوئے ہیں اور گیس کے گھنے بادل نہایت تیز رفتاری سے گلیکٹک سینٹر کے گرد گردش کر رہے ہیں۔

    اس خطے کی نئی جامع تصویر چندرا اور یورپین اسپیس ایجنسی کے ایکس ایم ایم-نیوٹن مشن (نیلے رنگ میں) سے حاصل شدہ ایکس رے، مِیر کیٹ دوربین کے ریڈیو ڈیٹا (سرخ رنگ) اور پین اسٹارز کی آپٹیکل تصاویر (سرخم سبز اور نیلے رنگوں میں) سے یکجا کر کے بنائی گئی ہے۔

    اس سپر نووا کی باقیات زمین سے 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔

  • ’سن آف کونکرڈ‘ نے آزمائشی پرواز میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا

    ’سن آف کونکرڈ‘ نے آزمائشی پرواز میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا

    ناسا کے 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے جدید سپرسونک طیارے (جسے ’سن آف کونکورڈ‘ کا لقب دیا جا رہا ہے) نے پہلی بار کامیابی سے آواز کی رفتار عبور کر لی ہے۔ آزمائشی پرواز کے دوران یہ طیارہ 700 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے فضا میں دوڑا اور ایک اہم سنگِ میل عبور کر گیا۔

    یہ کامیابی مستقبل میں لندن سے نیویارک کے درمیان انتہائی تیز رفتار فضائی سفر کی واپسی کی جانب پہلا بڑا قدم سمجھی جا رہی ہے۔

    اس طیارے کے ذریعے بحرِ اوقیانوس کا سفر چار گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہو سکے گا، جو 2003 میں مشہور سپرسونک طیارے کونکورڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار ہوگا۔

    جمعے کے روز ہونے والی 81 منٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران طیارے نے آواز کی رفتار کی حد توڑتے ہوئے 713 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی۔

    یہ تاریخی پرواز امریکی فضائیہ کے سابق تجربہ کار پائلٹ جم ’کِلو‘ لیس نے انجام دی، جنہوں نے طیارے کو 43 ہزار 400 فٹ کی بلندی تک پہنچایا۔

    ماہرین کے مطابق سطحِ سمندر پر آواز کی رفتار توڑنے کے لیے تقریباً 760 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار درکار ہوتی ہے۔ تاہم، 40 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر 660 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی سپرسونک حد عبور کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

  • پگھلتے گلیشیئرز زیرِ سمندر ماحول تبدیل کر رہے ہیں: تحقیق

    پگھلتے گلیشیئرز زیرِ سمندر ماحول تبدیل کر رہے ہیں: تحقیق

    محققین نے انکشاف کیا ہے کہ فرام اسٹریٹ (جو گرین لینڈ اور سوالبارڈ کے درمیان واقع سمندری راستہ ہے) سے گزرنے والے برفانی تودوں (آئس برگز) کی تعداد 2000 کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔

    سائنس دانوں کے مطابق اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ شمال مشرقی گرین لینڈ اور روسی آرکٹک کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث برف کے بڑے ذخائر کا ٹوٹنا ہے۔

    اگرچہ آئس برگز کی بڑھتی ہوئی تعداد خود زمین کے گرم ہوتے موسم کی ایک واضح علامت ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح کے نیچے ہونے والی تبدیلیاں اس سے بھی زیادہ حیران کن ہیں۔

    یہ برفانی تودے جب آرکٹک کے پانیوں میں سفر کرتے ہیں تو اپنے ساتھ ہزاروں برس پرانی چٹانیں، پتھر اور مٹی بھی لے کر چلتے ہیں جو برف میں قید ہوتی ہیں۔ جب یہ آئس برگز پگھلتے ہیں تو یہ تمام مواد سمندر کی تہہ میں جا گرتا ہے۔

    نتیجتاً سمندر کی تہہ میں نئی سخت سطحیں وجود میں آتی ہیں جہاں سمندری حیات پنپنے لگتی ہے۔

    اسفنج، کورلز اور دیگر جاندار ان نئی چٹانوں پر بسیرا اختیار کر رہے ہیں۔ یوں ایسے مقامات پر نئے آبی ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہے ہیں جو پہلے صرف کیچڑ اور ویران سمندری میدانوں پر مشتمل تھے۔

    سائنس دان ان چٹانوں کو ’ڈراپ اسٹونز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ پتھر اور چٹانی مواد ہے جو گلیشیئرز اپنے ساتھ لاتے ہیں اور آئس برگز کے پگھلنے پر سمندر کی تہہ میں چھوڑ دیتے ہیں، جہاں یہ سمندری حیات کے لیے نئی پناہ گاہیں اور بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔

    تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف موجودہ ماحول کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ بعض جگہوں پر بالکل نئے ماحول اور ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے رہی ہے۔

  • یوٹیوب نے اپنا نیا فیچر متعارف کرنا شروع کر دیا

    یوٹیوب نے اپنا نیا فیچر متعارف کرنا شروع کر دیا

    یوٹیوب نے آزمائشی مرحلے کے بعد اپنے نئے اِن ایپ میسجنگ فیچر کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔ فیچر کا مقصد صارفین کو اپنی پسندیدہ ویڈیوز پر براہِ راست یوٹیوب کے اندر ہی ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

    نئے فیچر کے تحت یوٹیوب ایپ کے اوپری دائیں کونے میں ایک نیا میسجنگ آئیکن ظاہر ہوگا جس کے ذریعے صارفین ویڈیوز، شارٹس اور لائیو اسٹریمز شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ ون ٹو ون گفتگو بھی کر سکیں گے۔

    تاہم، اس سسٹم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کسی شخص سے براہِ راست بات چیت شروع کرنے کے لیے پہلے اسے ایک دعوتی لنک بھیجنا ہوگا۔ یہ لنک سات دن تک مؤثر رہے گا اور اسے واٹس ایپ یا کسی دوسری تھرڈ پارٹی چیٹ ایپ کے ذریعے شیئر کرنا پڑے گا۔ اس کا مقصد اجنبی افراد کے بجائے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ رابطے کو آسان بنانا ہے۔

    یوٹیوب کے مطابق گزشتہ سال آزمائش کے دوران صارفین نے اس فیچر کا بھرپور مطالبہ کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی 2019 تک اسی نوعیت کی میسجنگ سروس فراہم کر رہی تھی، جسے بعد میں بند کر دیا گیا تھا۔

    جب کوئی صارف دعوتی لنک پر کلک کرے گا تو اسے ’الاؤ میسجنگ‘ یا ’نات ناؤ‘ کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے یہ فیچر مکمل سوشل چیٹ پلیٹ فارم کے بجائے زیادہ تر ویڈیوز شیئر کرنے اور ان پر گفتگو تک محدود رکھا گیا ہے۔

  • گھر بیٹھ کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ: ایک اور آن لائن روزگار سامنے آگیا

    گھر بیٹھ کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ: ایک اور آن لائن روزگار سامنے آگیا

    دنیا میں ایک نیا آن لائن روزگار  متعارف ہو رہا ہے، جس سے گھر میں کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ  سامنے آیا ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی جہاں دنیا بھر میں لاکھوں ملازمتوں کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھا رہی ہے، وہیں اس ٹیکنالوجی نے عام لوگوں کے لیے کمائی کے نئے مواقع بھی پیدا کر دیے ہیں۔

    بھارت میں ہزاروں افراد اب گھروں، فیکٹریوں اور خصوصی اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر ایسی ویڈیوز بنا رہے ہیں جو مستقبل کے اے آئی روبوٹس کو انسانی انداز میں کام کرنا سکھانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

    تمل ناڈو میں اے آئی ڈیٹا کمپنی کے دفتر میں کارکن سر پر کیمرا لگا کر حرکات ریکارڈ کرتے ہوئے رنگین بلاکس ترتیب دے رہی ہے(فوٹو: اے ایف پی)

    خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی بھارتی شہر چنئی کی 25 سالہ ناگیریڈی سری رامیاچندرا اُن لوگوں میں شامل ہیں جو گھر بیٹھ کر اے آئی سسٹمز کی تربیت کے لیے ویڈیوز ریکارڈ کرتی ہیں۔

    وہ اپنے سر پر اسمارٹ فون باندھ کر روزمرہ گھریلو کاموں کی فلم بندی کرتی ہیں۔ ان کاموں میں آم کاٹنا، باورچی خانے کے معمول کے کام انجام دینا اور دیگر گھریلو سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔

    چنئی میں ایک خاتون گھر پر آم کاٹتے ہوئے سر پر اسمارٹ فون لگا کر اپنی سرگرمیاں ریکارڈ کر رہی ہے(فوٹو: اے ایف پی)

    ان ویڈیوز کے بدلے انہیں ایک گھنٹے کی ریکارڈنگ پر 731 پاکستانی روپے (250 بھارتی روپے، یعنی تقریباً 2.6 امریکی ڈالر) ادا کیے جاتے ہیں۔

    بظاہر معمولی نظر آنے والی یہ ویڈیوز درحقیقت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی ڈیٹا سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کی مدد سے مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس کو انسانی حرکات و سکنات سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    تمل ناڈو کے ضلع کرور کی ایک فیکٹری میں کارکن سر پر کیمرا لگا کر کام کر رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

    ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس اور تصویری جنریٹرز تو پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود وسیع ڈیجیٹل ڈیٹا سے سیکھتے ہیں، تاہم حقیقی دنیا میں چلنے پھرنے اور کام کرنے والے روبوٹس کی تربیت کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔

    اسی مقصد کے لیے ’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘ یا انسان کی آنکھ سے دیکھی جانے والی ویڈیوز جمع کی جا رہی ہیں تاکہ روبوٹس انسانی رویوں اور حرکات کی نقل کر سکیں۔

    تمل ناڈو کی فیکٹری میں کارکن سر پر کیمرے لگا کر اے آئی تربیتی ڈیٹا جمع کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

    رپورٹ کے مطابق بعض افراد اپنے گھروں سے یہ کام کرتے ہیں جبکہ کچھ فیکٹریوں یا خصوصی مراکز میں ویڈیو گلاسز، سر پر نصب کیمروں اور موشن سینسرز کے ذریعے ڈیٹا ریکارڈ کرتے ہیں۔

    بعد ازاں یہ ریکارڈنگز خصوصی ایپس کے ذریعے اے آئی ڈیٹا کمپنیوں کو بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی بعض کمپنیاں بھارت اور امریکا دونوں جگہ پر اپنے دفاتر رکھتی ہیں اور ان کے گاہکوں میں فارچیون 500 کی بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

    اے آئی ڈیٹا کمپنی کے ماڈل باتھ روم میں کارکن سر پر کیمرا لگا کر تولیے تہہ کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

    اے آئی انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کی عالمی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    اندازوں کے مطابق 2050ء تک ایک ارب سے زیادہ روبوٹس استعمال میں ہوں گے جن کی اکثریت صنعتی اور تجارتی مقاصد کے لیے کام کرے گی۔ اسی وجہ سے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے درکار ڈیٹا کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔

    ماہرین کے مطابق انسانی نظر سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز روبوٹس کو انسانی انداز سیکھنے میں مدد دے سکتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

    انڈین انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن سیٹلمنٹس سے وابستہ ڈیجیٹل لیبر ماہر ادیتی سوری کا کہنا ہے کہ ایسے ڈیٹا جمع کرنے والے کاموں کی ضرورت مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام جتنے زیادہ پیچیدہ ہوتے جائیں گے، انہیں حقیقی انسانی سرگرمیوں سے متعلق مزید ڈیٹا درکار ہوگا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی کمائی کے موقع کے ساتھ ساتھ کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔

    اے آئی ٹرینرز گھروں، فیکٹریوں اور خصوصی اسٹوڈیوز میں کیمرے اور سینسرز کے ذریعے ڈیٹا ریکارڈ کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

    بھارت کے سرکاری تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق زیادہ تر بحث سفید پوش یا دفتری ملازمتوں کے ممکنہ خاتمے پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ کروڑوں کارکنوں پر اس کے اثرات کو کم توجہ دی جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بنگلورو میں گزشتہ ایک دہائی سے سڑک کنارے پھولوں کے ہار بنانے والی 55 سالہ پونی بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اے آئی تربیت کے لیے اپنی سرگرمیوں کی ویڈیوز ریکارڈ کروائیں۔ انہوں  نے بتایا کہ مستقبل میں ان جیسا کام کرنے والی نئی نسل کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ وہی مہارتیں روبوٹس کو سکھائی جا رہی ہیں۔

  • اسنیپ چیٹ کا کم عمر صارفین کی سیکیورٹی کے لیے اہم قدم!

    اسنیپ چیٹ کا کم عمر صارفین کی سیکیورٹی کے لیے اہم قدم!

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم اسنیپ چیٹ نے کم عمر صارفین کی آن لائن رسائی کو مزید محدود کرنے کے لیے ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اب 13 سے 15 سال کی عمر کے نوجوان صارفین اسپاٹ لائٹ کے عوامی ورژن پر ویڈیوز شیئر نہیں کر سکیں گے۔

    اسپاٹ لائٹ اسنیپ چیٹ کا شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ہے، جہاں اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز ایپ استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے۔

    ماضی میں 13 سال یا اس سے زیادہ عمر کے صارفین کو یہاں مواد پوسٹ کرنے کی اجازت تھی۔ تاہم، ان کی پروفائلز کو عوامی پوسٹس کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ، نئی پالیسی کے تحت 13 سے 15 سال کے صارفین کا مواد اب عام اسپاٹ لائٹ فیڈ میں نظر نہیں آئے گا۔

    اس کے بجائے پلیٹ فارم ایک نیا ’پروفائل‘ فیچر متعارف کرا رہا ہے، جہاں کم عمر صارفین اپنی مختصر ویڈیوز صرف اپنے باہمی دوستوں کے ساتھ شیئر کر سکیں گے۔ یہی پروفائل ان کی اسٹوریز کا بھی مرکز ہوگا، جو غیر دوست صارفین سے مکمل طور پر پوشیدہ رہیں گی۔

    کمپنی کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد نوجوانوں کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ماحول میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور خود اظہار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’فیورٹس‘ جیسے عوامی میٹرکس ختم کرکے نوجوانوں پر سوشل دباؤ کو بھی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • واٹس ایپ کی اسٹیٹس سے متعلق اہم فیچر متعارف کرانے کی تیاری

    واٹس ایپ کی اسٹیٹس سے متعلق اہم فیچر متعارف کرانے کی تیاری

    انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ ایک نیا فیچر ’اسٹیٹس آرکائیو‘ متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے ایکسپائر ہونے والے اسٹیٹس اپ ڈیٹس کو ایک نجی آرکائیو میں محفوظ رکھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ پر اسٹیٹس اپ ڈیٹس عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں اور یہ منتخب رابطوں کو 24 گھنٹے تک نظر آتی ہیں اور پھر خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ سہولت روزمرہ لمحات شیئر کرنے کے لیے مفید ہے، لیکن بعض اوقات اہم یا یادگار اسٹیٹس بھی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے واٹس ایپ نے یہ نیا فیچر متعارف کرایا ہے۔

    واٹس ایپ بِیٹا انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق اسٹیٹس آرکائیو فیچر اسٹیٹس کی 24 گھنٹے کی مدت ختم ہوتے ہی اسے خودبخود محفوظ کرلے گا۔ یعنی اسٹیٹس مستقل طور پر حذف ہونے کے بجائے ایک پرائیویٹ آرکائیو میں منتقل ہو جائے گا، جس تک صرف اکاؤنٹ کا مالک کو ہی رسائی حاصل ہوگی۔ اس طرح صارفین جب چاہیں اپنے پرانے اسٹیٹس دوبارہ دیکھ سکیں گے۔

    یہ فیچر فی الحال کچھ اینڈرائیڈ بیٹا صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے اور جبکہ آنے والے ہفتوں میں اس کی عوامی ریلیز متوقع ہے۔

  • پرانے آئی فون صارفین خبردار! واٹس ایپ سپورٹ جلد ختم ہونے کا امکان

    پرانے آئی فون صارفین خبردار! واٹس ایپ سپورٹ جلد ختم ہونے کا امکان

    اگر آپ 10 سے 11 سال پرانا آئی فون استعمال کر رہے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے، کیونکہ ایسے پرانے ماڈلز پر جلد واٹس ایپ کا استعمال ممکن نہیں رہے گا۔

    ٹیکنالوجی ویب سائٹ WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2026 سے پرانے آئی فونز کے لیے واٹس ایپ سپورٹ ختم کی جا رہی ہے، جس کے بعد بعض ڈیوائسز پر یہ مقبول میسجنگ ایپ کام کرنا بند کر دے گی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 نومبر 2026 کے بعد مخصوص پرانے آئی فون ماڈلز پر واٹس ایپ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ اس وقت آئی فونز پر واٹس ایپ چلانے کے لیے کم از کم iOS 15.1 یا اس کے بعد کا آپریٹنگ سسٹم ضروری ہے، تاہم مستقبل میں یہ حد بڑھا کر iOS 15.5 یا اس سے جدید ورژن تک کر دی جائے گی۔

    اس تبدیلی کے بعد آئی فون 6 ایس اور اس جیسے پرانے ماڈلز استعمال کرنے والے صارفین کو واٹس ایپ چلانے کے لیے لازمی طور پر اپنے ڈیوائس کا آپریٹنگ سسٹم iOS 15.5 یا اس سے اپ ڈیٹ ورژن پر اپ گریڈ کرنا ہوگا، تاکہ وہ میسجنگ سروس سے جڑے رہ سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس وقت بھی زیادہ تر آئی فونز میں iOS 15.5 یا اس سے جدید ورژن موجود ہے، لیکن اب بھی ایک قابلِ ذکر تعداد ایسے صارفین کی ہے جو پرانے سسٹمز پر انحصار کر رہے ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے مسلسل یوزر انٹرفیس اور پرائیویسی فیچرز کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، تاکہ ایپ کو جدید اینڈرائیڈ اور آئی او ایس سسٹمز کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 8 ستمبر 2026 سے اینڈرائیڈ 6 سے پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے اینڈرائیڈ فونز کے لیے بھی واٹس ایپ سپورٹ ختم کر دی جائے گی، جس کے بعد یہ ایپ صرف اینڈرائیڈ 6 اور اس کے بعد کے ورژنز پر ہی دستیاب ہوگی۔

  • بیٹی کو خودکشی کیلئے اکسانے پر خاتون کا اوپن اے آئی کیخلاف مقدمہ

    بیٹی کو خودکشی کیلئے اکسانے پر خاتون کا اوپن اے آئی کیخلاف مقدمہ

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی کمپنی OpenAI کے خلاف ایک سنگین نوعیت کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں ایک ماں نے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے اس کی بیٹی کو خودکشی پر اُکسایا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے سان فرانسسکو کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی 24 سالہ بیٹی نے اپنی ذہنی کیفیت اور خودکشی سے متعلق خیالات کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے بارہا گفتگو کی۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے ان حساس بات چیت کو مناسب طریقے سے ہینڈل نہیں کیا، نہ ہی کسی ماہر کی مدد لینے کا مشورہ دیا بلکہ بعض مواقع پر اس نے لڑکی کے خیالات کی تائید کی اور گفتگو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جو بالآخر اس کی موت کا سبب بنی۔

    مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے خود کو ایک قابلِ اعتماد دوست اور رہنما کے طور پر پیش کیا، حالانکہ وہ اس نوعیت کے حساس معاملات کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔

    دوسری جانب OpenAI نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ صارف جس سسٹم کا استعمال کر رہی تھی وہ اب دستیاب نہیں اور کمپنی مسلسل اپنے پلیٹ فارم کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ماہرین کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

    درخواست گزار نے عدالت سے ہرجانے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ خودکشی جیسے حساس موضوعات پر چیٹ بوٹس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور واضح انتباہی نظام متعارف کرایا جائے۔

  • ناسا کا خلا میں زندگی کی تلاش کیلئے نئی دوربین کا منصوبہ

    ناسا کا خلا میں زندگی کی تلاش کیلئے نئی دوربین کا منصوبہ

    امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا ایک خلائی دوربین پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد قریبی ستاروں کے گرد گردش کرنے والے زمین جیسے سیاروں کی براہِ راست تصاویر حاصل کرنا اور ان کے ایٹماسفیئر سے منعکس ہونے والی روشنی کا تجزیہ کرکے زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کرنا ہوگا۔

    اگرچہ اس مشن کے آغاز میں ابھی کئی سال باقی ہیں لیکن ڈیزائن سے متعلق کیا انتخاب اس بات کا تعین کرے گا کہ یہ دوربین مستقبل میں کیا کچھ دریافت کر سکے گی۔

    اسی سلسلے میں ایک نئی تحقیق (جو arXiv پری پرنٹ سرور پر شائع ہوئی ہے) ایک نہایت اہم سوال کا جواب دیتی ہے کہ اس دوربین کی اسپیکٹرل ریزولوشن کتنی ہونی چاہیے۔

    سائنس دانوں نے تفصیلی تجزیے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہیبیٹ ایبل ورلڈز آبزرویٹری (ایچ ڈبلیو او) کو کسی دور دراز زمین نما سیارے سے آنے والی روشنی کو کتنی باریکی سے تقسیم کرنا ہوگا تاکہ اس کے ماحول میں موجود حیاتیاتی نشانات کو اعتماد کے ساتھ نشاندہی کی جا سکے۔

    یہ سوال بظاہر تکنیکی لگتا ہے لیکن حقیقت میں پورے مشن کی کامیابی اسی پر منحصر ہو سکتی ہے۔

    اسپیکٹرل ریزولوشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ دوربین روشنی کے ایک دوسرے سے ملتے جلتے رنگوں میں کتنی باریک تفریق کر سکتی ہے۔ زیادہ ریزولوشن کا مطلب ہے ماحول کا زیادہ تفصیلی “فنگر پرنٹ” حاصل کرنا، جس سے آکسیجن، میتھین یا دیگر ممکنہ حیاتیاتی گیسوں کی شناخت آسان ہو جاتی ہے۔