دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان کرسچن الائنس دبئی متحدہ عرب امارات کے صدر جان قادر اور دیگر عہد ے داران نے خواتین کو چرچ سے باہر نکالنے اور ان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ھوئے کہا ہے کہ اہل کلیسیا کے مطابق یہ چرچ 1990 ء میں سادھو سردار مرحوم نے پوری کلیسیا کی روحانی ترقی اور اجتماعی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا۔ یہ کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پوری کلیسیا کا مشترکہ عبادت خانہ ہے۔
اہل کلیسیا کے مطابق 28 جون 2026 ء کو بعض مقامی افراد نے چرچ کو تالہ لگا دیا اور چرچ کے باہر ایک نوٹس آویزاں کیا، جس کے ذریعے کنونشنز اور خواتین کی ہفتہ وار میٹنگز بند کرنے کا فیصلہ ظاہر کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں خواتین نے اپنے ہی چرچ کے باہر بازار میں نالے کے کنارے بیٹھ کر عبادت کی۔ابل کلیسیا کا مزید مؤقف ہے کہ برسوں سے تعینات چندلوگ چرچ کے انتظامی معاملات اپنے یکطرفہ فیصلوں کے تحت چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ چرچ پوری کلیسیا کا مشترکہ ادارہ ہے اور اس کے فیصلے مشاورت شفافیت اور اتفاق رائے سے ہونے چاہییں۔
پاکستان کرسچن الائنس دبئی متحدہ عرب امارات ان تمام بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کرتی ہے جنہیں چرچ میں داخل ہونے یا عبادت کرنے سے روکا گیا۔ جان قادر نے مزید کہا کہ چرچ کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں ہر مسیحی کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ عبادت کر سکے۔ہم گوجرانوالہ کی انتظامیہ سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر چرچ کے دروازے تمام خواتین اور تمام مسیحی بہن بھائیوں کے لیے کھولیں تاکہ ہر شخص امن، محبت اور احترام کے ماحول میں عبادت کر سکے ۔








