Category: تازہ ترین

  • چرچ   کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں، جان قادر

    چرچ   کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں، جان قادر

    دبئی (طاہر منیر طاہر)  پاکستان کرسچن الائنس دبئی متحدہ عرب امارات کے  صدر جان قادر اور دیگر عہد ے داران  نے  خواتین کو چرچ سے باہر نکالنے اور ان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ھوئے کہا ہے کہ اہل کلیسیا کے مطابق یہ چرچ 1990 ء میں سادھو سردار مرحوم نے پوری کلیسیا کی روحانی ترقی اور اجتماعی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا۔ یہ کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پوری کلیسیا کا مشترکہ عبادت خانہ ہے۔

    اہل کلیسیا کے مطابق 28 جون 2026 ء کو بعض مقامی افراد نے چرچ کو تالہ لگا دیا اور چرچ کے باہر ایک نوٹس آویزاں کیا، جس کے ذریعے کنونشنز اور خواتین کی ہفتہ وار میٹنگز بند کرنے کا فیصلہ ظاہر کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں خواتین نے اپنے ہی چرچ کے باہر بازار میں نالے کے کنارے بیٹھ کر عبادت کی۔ابل کلیسیا کا مزید مؤقف ہے کہ برسوں سے تعینات چندلوگ  چرچ کے انتظامی معاملات اپنے یکطرفہ فیصلوں کے تحت چلانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ چرچ پوری کلیسیا کا مشترکہ ادارہ ہے اور اس کے فیصلے مشاورت شفافیت اور اتفاق رائے سے ہونے چاہییں۔

    پاکستان کرسچن الائنس دبئی متحدہ عرب امارات ان تمام بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کرتی ہے جنہیں چرچ میں داخل ہونے یا عبادت کرنے سے روکا گیا۔ جان قادر نے مزید کہا کہ  چرچ  کسی فرد یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں  ہر مسیحی کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ   عبادت کر سکے۔ہم گوجرانوالہ کی انتظامیہ سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر چرچ کے دروازے تمام خواتین اور تمام مسیحی بہن بھائیوں کے لیے کھولیں تاکہ ہر شخص امن، محبت اور احترام کے ماحول میں عبادت کر سکے ۔

  • فیٹف، پاکستان اور عالمی اعتماد کی نئی جہتیں

    فیٹف، پاکستان اور عالمی اعتماد کی نئی جہتیں

    مالیاتی شفافیت، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے حوالے سے دنیا کا اہم بین الاقوامی ادارہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) ہے۔ اس ادارے کا قیام 1989ء میں عمل میں آیا جبکہ اس کا مرکزی سیکریٹریٹ پیرس، فرانس میں قائم ہے۔ فیٹف کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے ممالک اپنے مالیاتی نظام کو شفاف، محفوظ اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ بنائیں تاکہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔فیٹف خود کسی ملک پر براہِ راست پابندیاں عائد نہیں کرتا بلکہ سفارشات مرتب کرتا ہے، مختلف ممالک کے مالیاتی نظام کا جائزہ لیتا ہے اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی رپورٹس جاری کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس ادارے کی سفارشات کو نہایت اہمیت دیتے ہیں پاکستان کا فیٹف کے ساتھ تعلق کئی برسوں پر محیط ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا، جس کے باعث ملکی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تاہم بعد ازاں پارلیمنٹ، ریاستی اداروں، مالیاتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ وزارتوں نے مشترکہ کوششوں کے ذریعے متعدد قانونی اور انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان نے فیٹف کے ایکشن پلان کے تقاضے پورے کیے اور بالآخر گرے لسٹ سے باہر آنے میں کامیاب ہوا، جسے سفارتی اور معاشی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا آج بھی پاکستان مالیاتی نظم و ضبط، بینکاری نظام کی مضبوطی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اپنی اصلاحاتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی برادری کی توقع ہے کہ پاکستان ان اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیارات پر مؤثر عمل درآمد جاری رکھے گا۔
    قومی سلامتی، داخلی استحکام اور علاقائی امن کے حوالے سے ریاستی اداروں، حکومت اور مسلح افواج کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان سفارتی سطح پر علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد پاکستان کو ایک ذمہ دار، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ پیرس کے دورے کے دوران چند متعلقہ افراد سے غیر رسمی گفتگو کا موقع ملا۔ ان گفتگوؤں سے مجھے یہ تاثر ملا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کی مالیاتی اصلاحات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ مشاہدات میری ذاتی ملاقاتوں اور تاثرات پر مبنی ہیں، انہیں فیٹف یا کسی سرکاری ادارے کا باضابطہ مؤقف نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی ملک کا عالمی وقار صرف بیانات سے نہیں بلکہ مستقل اصلاحات، قانون کی حکمرانی، مالیاتی شفافیت، مؤثر سفارت کاری، امن و استحکام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے بلند ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اسی سمت میں اپنی پیش رفت جاری رکھتا ہے تو نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا بلکہ ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی ساکھ بھی مزید بہتر ہوگی پیرس میں قیام کے دوران مختلف حلقوں سے گفتگو میں یہ احساس بھی سامنے آیا کہ پاکستان کو ایک باصلاحیت، باوقار اور مشکلات کا سامنا کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو انسانی حقوق، امن اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی مثبت شناخت اسی وقت مزید مضبوط ہوتی ہے جب داخلی استحکام، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں عوام کو احتجاج کا آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ احتجاج پُرامن رہے، عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو، سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے۔ جہاں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، وہیں مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، برداشت اور آئینی راستہ اختیار کرنا قومی مفاد میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔اگر کسی احتجاج کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل ہوں، تعلیمی ادارے بند ہوں، آمدورفت متاثر ہو یا عوام کو مالی نقصان پہنچے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی بھی فریق کی جانب سے تشدد، اسلحے کا استعمال یا قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی رٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بھی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ ایسے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔آج پاکستان معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں قومی اتحاد، سیاسی برداشت، آئین و قانون کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی جانب لے جا سکتا ہے۔ اختلافات کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔پاکستان ایک باصلاحیت، ذمہ دار اور باوقار ملک ہے۔ قومی اداروں، حکومت، سول سوسائٹی اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے یہ ملک عالمی برادری میں اپنا مثبت کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکتا ہے۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان شفافیت، امن، ترقی، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گا اور دنیا میں اپنا مقام مزید مضبوط بنائے گا۔

  • عرب ریاستوں میں مقیم پاکستانی ملکی سرمایہ اور فخر ہیں:  میاں منیر ہانس

    عرب ریاستوں میں مقیم پاکستانی ملکی سرمایہ اور فخر ہیں:  میاں منیر ہانس

    ریاض (وقار نسیم وامق) پاکستان پیپلزپارٹی مڈل ایسٹ کے صدر میاں منیر ہانس کا کہنا ہے کہ عرب ریاستوں میں مقیم پاکستانی ملکی سرمایہ اور فخر ہیں جنھوں نے ہمیشہ ملک و قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دیا ہے۔

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پیپلزپارٹی کے سنئیر رہنما مشتاق بلوچ کی جانب سے میاں منیر ہانس کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں پیپلزپارٹی کے عہدیدار اور اراکین شریک ہوئے۔

     اس موقعہ پر پیپلزپارٹی مڈل ایسٹ کے صدر میاں منیر ہانس اور سنئیر رہنما مشتاق بلوچ کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے لیے کام کیا ہے اور بلاول بھٹو زرداری نوجوان نسل کے اہم لیڈر بن کر ابھرے ہیں اور ہم انکی رہنمائی اور لیڈرشپ میں متحد ہیں جبکہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ ملک و قوم کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہم وطنوں نے سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیج کر ملکی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

    تقریب سے وسیم ساجد، رانا عدیل، قریب اللہ خان سمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

  • سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا

    سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق سردار تنویر الیاس نے اپنا استعفیٰ بلاول بھٹو کو بھجوا دیا، وہ آزاد کشمیر میں ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر پارٹی قیادت سے شدید ناراض ہیں۔

    ذرائع کے مطابق تنویر الیاس کو وسطی باغ کا ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا تھا، اپنے حلقوں سے ٹکٹ نہ ملنے پر سردار تنویر الیاس نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ 

    سردار تنویر الیاس کی قریبی ساتھیوں سے مشاورت جاری ہے اور وہ امکان ہے کہ وہ جلد پریس کانفرنس کرکے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

  • قطر نے ایران کو 6 ارب ڈالر منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کر دی

    قطر نے ایران کو 6 ارب ڈالر منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کر دی

    دوحہ: قطر نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر تہران منتقل کر دیے گئے ہیں۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم اب بھی قطر کے بینکوں میں موجود ہے اور امریکی پابندیوں کے تحت ہونے کی وجہ سے ایران کو اس تک براہ راست رسائی حاصل نہیں۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 6 ارب ڈالر دراصل ایران کی جنوبی کوریا میں تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا سے قطر منتقل کی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پانچ، پانچ قیدیوں کے تبادلے کے بعد یہ فنڈز قطر منتقل کیے گئے تھے، تاہم اس کا مقصد صرف رقم کو ایک مخصوص مالیاتی نظام کے تحت رکھنا تھا، نہ کہ اسے براہِ راست ایران کے حوالے کرنا۔

    ترجمان کے مطابق امریکی شہریوں کی رہائی کے باوجود یہ رقم اب تک ایران کو منتقل نہیں کی گئی اور نہ ہی تہران کو اس پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈز اب بھی قطر کے بینکوں میں محفوظ ہیں اور ان کے استعمال پر امریکی پابندیاں اور نگرانی برقرار ہے۔

    ماجد الانصاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی صدر کی جانب سے فنڈز کی واپسی سے متعلق بیانات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ 6 ارب ڈالر اب تک ایران منتقل نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اثاثے اگرچہ ایران کی ملکیت ہیں، لیکن ان کے استعمال یا منتقلی کا ہر مرحلہ امریکی پابندیوں اور طے شدہ ضوابط کے مطابق ہوگا۔

    قطری حکام نے مزید کہا کہ قطر ان فنڈز کا مالک نہیں بلکہ صرف ان کا نگہبان ہے، جبکہ ان کی منتقلی یا استعمال سے متعلق حتمی فیصلے متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقہ کار کے تحت کیے جائیں گے۔

    قطر کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے اور تکنیکی مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان منجمد ایرانی اثاثوں کے مستقبل پر بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

  • عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہورہی ہیں ہمیں معلوم ہے انصاف نہیں ملے گا، علیمہ خان

    عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہورہی ہیں ہمیں معلوم ہے انصاف نہیں ملے گا، علیمہ خان

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمہ میں وکیل صفائی کی جانب سے 342 کا بیان جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا منظور کرلی، مقدمہ کی مزید سماعت 3 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

    تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ میں نامزد ملزمہ علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔ وکیل صفائی نے 342 کا بیان جمع کرانے کیلئے عدالت سے مہلت مانگتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سوالنامہ کے جواب کے ساتھ ہم نے کچھ دستاویزات بھی پیش کرنی ہیں جس پر عدالت نے علیمہ خان کے وکیل کی استدعا منظور کرلی جبکہ آئندہ سماعت پر مقدمہ میں نامزد تین ملزمان کے 342 کے بیانات بھی طلب کر لیے۔

    اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے مقدمہ کی مزید سماعت جمعہ 3 جولائی تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ عدالت نے علیمہ خان کو 37 سوالات پر مشتمل سوالنامہ گزشتہ سماعت پر فراہم کیا تھا۔

    عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہورہی ہیں انصاف نہیں ملنا یہ ہمیں معلوم ہے، علیمہ خان

    عدالت کے باہر گفت گو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عدالتوں میں صرف کارروائیاں ہورہی ہیں ہمیں کسی عدالت سے انصاف نہیں ملنا یہ ہمیں پتہ ہے، ہم ان کے تمام جرائم، آئینی و قانونی خلاف ورزیاں صرف ریکارڈ پر لارہے ہیں، 26 اور 27 ویں ترامیم سے عدالتیں حکومتی ماتحت ادارہ بن چکی ہیں، ہمیں وزیر داخلہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عدالت سے دو ہفتوں کا وقت لے کر دیتے ہیں بادشاہ سلامت وزیر داخلہ خود کہتے ہیں عدالتوں نے کب سزا اور کب ریلیف دینا ہے؟ فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں نورین خان سے ایک رسمی ملاقات کرائیں پھر 6 ماہ بانی کو قید تنہائی میں ڈال دیں، ہم بھائی سے رسمی ملاقات نہیں ان کے تمام آئینی حقوق بحالی چاہتے ہیں جس نے گرفتار کرنا، سزا دینی ہے دے دی، ڈٹے رہیں گے، ان سب نے تو مشکل وقت پر پہلے جہاز سے بیرون ملک بھاگ جانا ہے، محسن نقوی نے پیغام بھیجا نورین خان درخواست دے جمعرات کو ہی ملاقات کرا دیں گے ہم بھائی کے تمام حقوق بحالی مطالبہ کرتے ہیں پارٹی بھی یہی موقف اختیار کرے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ ہر جمہوری ملک میں پُرامن احتجاج آئینی قانونی حق ہوتا ہے، ہم اپنے مطالبات پر کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

    میڈیا سے گفت گو میں وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ علیمہ خان کے صفائی کے بیان کے ساتھ دستاویزات و ریکارڈ لگا رہے ہیں، محسن نقوی، عطاء تارڑ، عظمیٰ بخاری کو بطور گواہ طلبی ہائی کورٹ اپیل دائر کر رہے ہیں، بادی النظر میں علیمہ خان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کیلیے وفاقی حکومت نے فنڈ قائم کر دیا

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کیلیے وفاقی حکومت نے فنڈ قائم کر دیا

    اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے پیٹرولیم پرائسز سٹیبلائزیشن فنڈ قائم کر دیا۔

    ’’جنگ ‘‘ کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم پرائسز سٹیبلائزیشن فنڈ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا اور وزارتِ خزانہ نے تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق فنڈ کے لیے سرکاری اکاؤنٹ مختص کر دیا گیا ہے۔ فنڈ میں جمع تمام رقوم وفاقی حکومت کے پبلک اکاؤنٹ میں منتقل ہوں گی، فنڈ کے لیے خصوصی اکاؤنٹ ہیڈ اور آبجیکٹ کوڈ مختص کر دیا گیا ہے۔

    آڈیٹر جنرل پاکستان، کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے اکاؤنٹنٹ جنرلز کو بھی آگاہ  کیا گیا ہے۔صوبائی حکومتوں کو بھی فنڈ کی وصولی سے متعلق ضروری انتظامات مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    فنڈ کے قواعد و ضوابط وزارتِ خزانہ، پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا مشترکہ طور پر تیار کریں گے جبکہ پیٹرولیم قیمتوں میں استحکام کے لیے قانونی اور مالیاتی طریقۂ کار الگ سے منظور کیا جائے گا۔

  • کھیلوں کی مشہور عُمانی شخصیت شعیب محمد الزدجالی کی شاندار پذیرائی, سرمایہ افتخار ہیں، چوہدری محمد اسلم

    کھیلوں کی مشہور عُمانی شخصیت شعیب محمد الزدجالی کی شاندار پذیرائی, سرمایہ افتخار ہیں، چوہدری محمد اسلم

    دبئی (طاہر منیر طاہر) ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے امور کی عمانی وزارت میں کھیلوں کے شعبے میں اینٹی ڈوپنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کے خصوصی ماہر کے طور پر بہترین اور دیرینہ کارکردگی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر نمایاں شہرت کے حامل عمانی نوجوان شعیب محمد الزدجالی گزشتہ دنوں پاکستان آئے۔ وہ پانچ اولمپک اور چھ ایشیائی اولمپک مقابلوں کی نگرانی کر چکے ہیں۔ شعیب محمد الزدجالی اولمپک کونسل آف ایشیا کے رکن بھی ہیں۔ اپنے مثالی کیریئر کے دوران میں وہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں ارشد ندیم، کرسٹیانو رونالڈو، لیونل میسی، ایڈنسن کاوانی اور شعیب اختر کے ڈوپنگ ٹیسٹوں کا قابل فخر اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ سرکردہ عمانی ماہر قانون، بانی محمد ابراہیم لا فرم، سابق ممبر مجلس الشوریٰ عمان اور گلف لائرز یونین کے سیکرٹری جنرل، الشیخ ڈاکٹر محمد ابراہیم الزدجالی کے فرسٹ کزن بھی ہیں۔ شعیب محمد الزدجالی کی پاکستان آمد پر بھکر کے ممتاز و معروف انٹرنیشنل صنعتکار، بزنسمین، سماجی و سیاسی رہنما، الکرم پیپر ملز لاہور کے چیئرمین اور عمان میں 1976 سے بسلسلہ کاروبار مقیم اور وہاں پاکستان اسکول صحار کے بانی الحاج چوہدری محمد اسلم نے کھیلوں کے ضمن میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ان کے اعزاز میں لاہور میں اپنی قیام گاہ پر پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا، تحائف سے ان کی پزیرائی کی اور تحسین و ستائش بھی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شعیب محمد الزدجالی عمان کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ شعیب محمد الزدجالی نے اپنے پرتپاک خیر مقدم اور بھرپور قدر و منزلت کے لئے ان کا دلی طور پر شکریہ ادا کیا۔ معروف بزنسمین چوہدری محمد فہد اسلم اور فہد نواز چیمہ بھی استقبالیہ تقریب میں موجود تھے۔

  • غسل کعبہ ، سعودی  فرمانروا  کی نیابت کرتے ہوئے نائب گورنر مکہ مکرمہ نے اعزاز حاصل کیا 

    غسل کعبہ ، سعودی  فرمانروا  کی نیابت کرتے ہوئے نائب گورنر مکہ مکرمہ نے اعزاز حاصل کیا 

    مکہ مکرمہ (محمد اکرم اسد) مسجد الحرام میں غسل کعبہ کی سالانہ بابرکت روح پرور تقریب میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی نمائندگی کرتے ہوئے نائب گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز آل سعود نے کعبتہ اللہ کو غسل دینے کا اعزاز حاصل کیا۔

    غسل کعبہ کی رسم کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ امام وخطیب حرم کعبہ فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن’ السدیس، اسلامی ملکوں کے سفارتکاروں، علما، شاہی خاندان کے افراد اور منتخب شخصیات نے غسل کعبہ میں شرکت کی۔

    شہزادہ سعود بن مشعل نے مسجد حرام آمد کے بعد پہلے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور دو رکعت نوافل ادا کیے۔ اس کے بعد نائب گورنر مکہ مکرمہ نے  خانہ کعبہ کو غسل دینے کا آغاز کیا اس موقعہ پر کعبہ شریف کی دیواروں کو آب زم زم اور خالص عرق گلاب سے دھونے کے بعد عود اور دیگر خوشبو یات سے معطر کیا گیا۔

    خانہ کعبہ شریف کو غسل دینے کی تقریب میں شرکت کرنے والوں میں حج و عمرہ کے وزیر اور حرمین شریفین کی دیکھ بھال کے نگران ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ، حرمین شریفین کے مذہبی امور کے سربراہ، امام وخطیب حرم کعبہ فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن’السدیس ، مسجد نبویﷺ شریف کے امام وخطیب فضیلتہ الشیخ احمد الحذیفی، موزن الشیخ اسامہ اخضرّ ، دیگر ائمہ کرام،  شیخ بدر الترکی، شیخ قرافی، شیخ برہجی، رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، کلید کعبہ ’’سدنہ‘‘ کے ارکان اور متعدد مسلمان ممالک کے سفیروں نے شرکت کی

  • کینیڈا کے شہر  برامپٹن میں مسجد ابراہیم کا افتتاح ہوگیا

    کینیڈا کے شہر  برامپٹن میں مسجد ابراہیم کا افتتاح ہوگیا

    دبئی (طاہر منیر طاہر)  کینیڈا کے شہر برامپٹن میں مسلم کمیونٹی کی کئی سالہ محنت، عزم اور اجتماعی جدوجہد کا ثمر اس وقت سامنے آیا جب عظیم الشان مسجد ابراہیم کا باوقار افتتاح عمل میں آیا۔ یہ مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ تعلیم، تربیت، سماجی خدمت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا ایک ہمہ جہت مرکز بننے جا رہی ہے۔
    افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر شفقت علی، برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، کاروباری، سماجی اور مذہبی شخصیات سمیت خواتین، بچوں اور کمیونٹی کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ تقریب خوشی، شکرگزاری اور فخر کے جذبات سے بھرپور تھی، کیونکہ حاضرین ایک ایسے منصوبے کی تکمیل کا جشن منا رہے تھے جو کئی برسوں کی مسلسل محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

    مسجد ابراہیم تقریباً 2.1 ایکڑ اراضی پر قائم کی گئی ہے جبکہ اس کا مجموعی تعمیراتی رقبہ تقریباً 83 ہزار مربع فٹ ہے۔ پانچ منزلوں پر مشتمل اس عظیم الشان مرکز میں ایک وقت میں 6 ہزار سے زائد نمازیوں کے لیے عبادت کی سہولت موجود ہے۔ منصوبے کا ایک اہم حصہ 600 طالبات کے لیے جدید ہائی اسکول کا قیام بھی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو دینی اور عصری تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 20 ملین ڈالر ہے، جن میں سے 14 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ کاموں کی تکمیل کے لیے مزید 6 ملین ڈالر درکار ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل میں سینکڑوں مخیر حضرات، رضاکاروں اور کمیونٹی کے افراد نے مالی اور عملی تعاون فراہم کیا۔
    مسجد ابراہیم کے چیئرمین انور چٹھہ نے اپنے خطاب میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ان تمام ساتھیوں، کارکنوں اور مخیر حضرات کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے تعمیر کے ہر مرحلے میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر عابد بھائی، اشفاق خان، رشید بھائی، حسین بھائی، شہباز الحق، تنویر سلطان، وقاص بھائی، بابا رحیم، راشد بھائی، قمر بھائی، رحیل بیگ، محمد امیر خان، حفیظ رانا، رانا حسین اور دیگر ساتھیوں کی خدمات کو سراہا جنہوں نے دن رات محنت کرکے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔
    انور چٹھہ نے برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے منصوبے کے آغاز سے لے کر تکمیل تک انہوں نے ہر مرحلے پر بھرپور تعاون فراہم کیا۔ تعمیراتی منظوریوں، انتظامی امور اور دیگر سرکاری معاملات میں میئر اور ان کی ٹیم نے جس جذبے سے تعاون کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد جاوید چوہدری، ڈائریکٹر سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ، نے مسجد ابراہیم کی تعمیر کو کمیونٹی کے اتحاد، ایثار اور دینی وابستگی کی ایک روشن مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انور چٹھہ اور ان کی ٹیم نے جس خلوص، مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ اس عظیم منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے منصوبے صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ اخلاص، نیک نیتی اور مسلسل محنت سے مکمل ہوتے ہیں اور مسجد ابراہیم اس کی ایک بہترین مثال ہے۔
    محمد جاوید چوہدری نے انور چٹھہ اور ان کے تمام رفقائے کار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج اس عظیم الشان مسجد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر کمیونٹی متحد ہو جائے تو ناممکن دکھائی دینے والے خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسجد ابراہیم کو دین اسلام کی خدمت، نئی نسل کی تربیت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا ایک مؤثر مرکز بنائے اور اس منصوبے میں حصہ لینے والے تمام افراد کو بہترین اجر عطا فرمائے۔
    اپنے خطاب میں میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برامپٹن کی ترقی اور خوشحالی میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار نمایاں اور قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے مسجد ابراہیم کو شہر کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف عبادت بلکہ تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور کمیونٹی کی خدمت کا بھی مرکز بنے گا۔
    وفاقی وزیر شفقت علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسجد ابراہیم کی تکمیل کو کمیونٹی کے اتحاد اور عزم کی شاندار مثال قرار دیا۔ انہوں نے انور چٹھہ، ان کی ٹیم اور تمام عطیہ دہندگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب لوگ ایک نیک مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑے خواب بھی حقیقت بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی ترقی میں پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کا کردار نہایت اہم ہے اور انہیں اس کمیونٹی پر فخر ہے۔


    تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات بھی شریک ہوئیں جن میں جاوید چوہدری، میاں نعیم، مرتضیٰ جویا، ندیم شیخ، عاقب بھائی، کاشو بھائی، محمد عاصف، افتخار صاحب، چوہدری احمد شہزاد، طارق ہانس، چوہدری طاہر، افضل صاحب، ارشد ہانس، ملک خالد، شہباز الزمان اور دیگر معززین شامل تھے۔
    افتتاحی تقریب میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی جبکہ مہمانوں کے لیے پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مسجد ابراہیم آنے والے برسوں میں نہ صرف عبادت کا مرکز بنے گی بلکہ تعلیم، تربیت، سماجی خدمت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
    تقریب کا اختتام ملک و ملت، عالم اسلام، پاکستان اور کینیڈا کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔