اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد میں تین چینی شہریوں اور دو پاکستانیوں کی مبینہ طور پر “انسانی اعضا” جمع کرنے اور پراسیس کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد انسانی نال (Placenta) کی طبی اور سائنسی اہمیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں ڈیپ فریزرز کے اندر خون آلود بافتوں (Tissues) سے بھرے پلاسٹک بیگز دکھائے گئے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ مواد خوراک کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بھی تاحال برآمد شدہ مواد کی سرکاری طور پر شناخت نہیں کی۔ بعض ماہرین کے مطابق ویڈیوز میں دکھائی دینے والا مواد غالب امکان ہے کہ انسانی نال (پلیسینٹا) ہو، جسے پاکستان میں عموماً طبی فضلہ سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں اسے ری جنریٹو میڈیسن کے لیے اسٹیم سیلز کے اہم ترین ذرائع میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد پلیسینٹا کو عام طور پر انسانی عضو نہیں بلکہ حیاتیاتی بافت (Biological Tissue) تصور کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اسے اب بھی زیادہ تر طبی فضلے کے طور پر تلف کیا جاتا ہے۔ ملک کے بیشتر اسپتالوں میں زچگی کے بعد پلیسینٹا مناسب طریقے سے ضائع نہیں کیا جاتا، جس کے باعث یہ کچرے کے ڈھیروں تک پہنچ جاتا ہے جہاں آوارہ کتے اور بلیاں اسے کھاتے ہوئے دیکھی جاتی ہیں۔ کراچی کے سول اسپتال کے گائنی وارڈ سمیت کئی سرکاری اسپتالوں میں بھی اس طرح کے مناظر عام ہیں۔
vitalsnewsکی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور معروف طبی ماہر ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق انسانی پلیسینٹا انتہائی قیمتی حیاتیاتی بافت ہے، جس کی اہمیت ترقی یافتہ ممالک کئی برس قبل تسلیم کر چکے ہیں کیونکہ اس میں مختلف اقسام کے اسٹیم سیلز بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں، جو ری جنریٹو میڈیسن کے میدان میں امید افزا حیاتیاتی وسائل میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پلیسینٹا میں موجود اسٹیم سیلز ہڈی، کارٹلیج، پٹھوں، کنیکٹو ٹشو اور دیگر مخصوص بافتوں میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ نال میں موجود خون (Umbilical Cord Blood) میں ہیماتوپوائٹک اسٹیم سیلز پائے جاتے ہیں جو سرخ اور سفید خون کے خلیات اور پلیٹ لیٹس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پلیسینٹا سے اسٹیم سیلز کو نسبتاً آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور لیبارٹری میں تیزی سے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
دیگر طبی ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں زچگی کے بعد ماں کی باقاعدہ رضامندی سے پلیسینٹا اور نال کا خون جمع کیا جاتا ہے، جہاں انتہائی کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول میں اسٹیم سیلز کو الگ کرکے مائع نائٹروجن میں منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں مستقبل میں تحقیق اور جہاں طبی طور پر مناسب ہو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
دنیا بھر میں محققین پلیسینٹا سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کو اوسٹیو آرتھرائٹس، ہڈیوں اور جوڑوں کی بیماریوں، شدید جھلسنے، دائمی زخموں، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج، دل، جگر اور گردوں کی بیماریوں سمیت متعدد دیگر امراض کے علاج میں استعمال کرنے کے امکانات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ نال کے خون سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز کی پیوندکاری خون کی کئی بیماریوں کے علاج میں پہلے ہی تسلیم شدہ طریقہ علاج بن چکی ہے، تاہم پلیسینٹا سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کے بیشتر ری جنریٹو استعمالات ابھی کلینیکل تحقیق کے مراحل میں ہیں۔
اسلام آباد کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق وہ اس وقت منتخب مریضوں میں بون میرو سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز کے ذریعے علاج کر رہے ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ پلیسینٹا اور نال کا خون اسٹیم سیلز کے سب سے زیادہ امید افزا ذرائع میں شامل ہیں، اگرچہ پاکستان میں یہ شعبہ ابھی ترقی نہیں کر سکا۔
ڈاکٹر قائد سعید نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے ری جنریٹو میڈیسن کے ماہرین کے تعاون سے اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا کارڈ بلڈ بینک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کے باعث منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان کے مطابق کارڈ بلڈ بینک میں بچے کی پیدائش کے بعد نال سے حاصل ہونے والا خون محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس میں موجود اسٹیم سیلز کو مستقبل میں علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے، تاہم ایسی سہولت کے قیام کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی منظوری درکار ہوتی ہے اور ان کی تجویز تاحال بیوروکریٹک پیچیدگیوں کا شکار ہے۔
ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق جدید کارڈ بلڈ بینکس کے قیام سے نہ صرف پاکستان میں مستقبل کی طبی سہولیات بہتر بنائی جا سکتی ہیں بلکہ ملک میں ایک اعلیٰ قدر کی بایوٹیکنالوجی صنعت بھی فروغ پا سکتی ہے، جو کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف آئی اے کی جانب سے برآمد کیا گیا مواد واقعی پلیسینٹا یا اس سے متعلق حیاتیاتی بافت ثابت ہوتا ہے تو اس معاملے کو صرف سنسنی خیز سرخیوں یا مجرمانہ الزامات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک سائنسی اور پالیسی بحث کا آغاز سمجھنا چاہیے کہ آیا پاکستان انسانی پلیسینٹا کو محض طبی فضلہ سمجھ کر ضائع کرتا رہے یا اس کے اخلاقی، قانونی اور سائنسی استعمال کے لیے مناسب ریگولیٹری اور تحقیقی نظام تشکیل دے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں پلیسینٹا اور نال کے خون کی سائنسی بنیادوں پر جمع آوری، پراسیسنگ اور محفوظ رکھنے سے متعلق واضح پالیسیوں کا فقدان ہے، حالانکہ دنیا بھر میں ان حیاتیاتی مواد کی تحقیق اور مستقبل کے علاج میں اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ہر سال لاکھوں انسانی پلیسینٹا طبی فضلے کے طور پر ضائع کر رہا ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک انہیں مستقبل کی تحقیق اور جدید علاج کے لیے قیمتی حیاتیاتی سرمایہ تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز، ریگولیٹرز اور طبی ماہرین اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، مناسب قانونی و سائنسی فریم ورک تشکیل دیں اور اس حیاتیاتی مواد کو اخلاقی، قانونی اور سائنسی اصولوں کے مطابق طبی تحقیق اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے استعمال کرنے کے امکانات پر کام کریں۔
پلیسینٹا کسے کہتے ہیں؟
’پلیسینٹا‘ حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والے عضو کو کہا جاتا ہے، اور یہ امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔اے آروائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ پلیسینٹا مادر رحم میں بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے ادویات، کاسمیٹکس اور روایتی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ملزمان مختلف اسپتالوں سے ہیومن پلیسینٹا خرید کر پراسیسنگ کرتے تھے، پلیسینٹا کو خشک کرکے بیرون ملک اسمگل کیا جاتا تھا۔