Category: تازہ ترین

  • آزاد کشمیر کا بجٹ پیش، مجموعی حجم 286 ارب روپے مختص

    آزاد کشمیر کا بجٹ پیش، مجموعی حجم 286 ارب روپے مختص

    مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مالی سال 27-2026ء کے لیے آزاد جموں و کشمیر کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا گیا۔

    روزنامہ جنگ کے مطابق وزیرِ خزانہ چودھری قاسم مجید نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 286 ارب روپے ہے، ترقیاتی اخرجات کا تخمینہ 36 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخرجات کے لیے 250 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    چودھری قاسم مجید کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے آمدن کا تخمینہ 75 ارب 20 کروڑ رکھا گیا ہے۔

    بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 671 نئی سڑکیں، 376 میٹر طویل آر سی سی پل، 97 میٹر طویل بیلی برج تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 394 کلو میٹر سڑکوں کی مرمت کی جائے گی اور ہر انتخابی حلقے میں 10 کلو میٹر رابطہ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ 
    ان کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران 118 کلو میٹر طویل بجلی کی لائنیں بچھائی جائیں گی، ہنر مندوں کو بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے گا۔

  • عدالت کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    عدالت کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

     نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پر مبینہ گمراہ کن الزامات عائد کرنے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ 

    دوران سماعت عدالت نے سہیل آفریدی کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ 

    مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • مبینہ انسانی اعضاء کی سمگلنگ کا الزام، پاکستانی اور چینی شہری گرفتار، لیکن انسانی نال کس کام آتی ہے؟ ممکنہ تفصیلات منظرعام پر

    مبینہ انسانی اعضاء کی سمگلنگ کا الزام، پاکستانی اور چینی شہری گرفتار، لیکن انسانی نال کس کام آتی ہے؟ ممکنہ تفصیلات منظرعام پر

     اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد میں تین چینی شہریوں اور دو پاکستانیوں کی مبینہ طور پر “انسانی اعضا” جمع کرنے اور پراسیس کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد انسانی نال (Placenta) کی طبی اور سائنسی اہمیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
     سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں ڈیپ فریزرز کے اندر خون آلود بافتوں (Tissues) سے بھرے پلاسٹک بیگز دکھائے گئے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ مواد خوراک کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بھی تاحال برآمد شدہ مواد کی سرکاری طور پر شناخت نہیں کی۔ بعض ماہرین کے مطابق ویڈیوز میں دکھائی دینے والا مواد غالب امکان ہے کہ انسانی نال (پلیسینٹا) ہو، جسے پاکستان میں عموماً طبی فضلہ سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں اسے ری جنریٹو میڈیسن کے لیے اسٹیم سیلز کے اہم ترین ذرائع میں شمار کیا جا رہا ہے۔


    ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد پلیسینٹا کو عام طور پر انسانی عضو نہیں بلکہ حیاتیاتی بافت (Biological Tissue) تصور کیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اسے اب بھی زیادہ تر طبی فضلے کے طور پر تلف کیا جاتا ہے۔ ملک کے بیشتر اسپتالوں میں زچگی کے بعد پلیسینٹا مناسب طریقے سے ضائع نہیں کیا جاتا، جس کے باعث یہ کچرے کے ڈھیروں تک پہنچ جاتا ہے جہاں آوارہ کتے اور بلیاں اسے کھاتے ہوئے دیکھی جاتی ہیں۔ کراچی کے سول اسپتال کے گائنی وارڈ سمیت کئی سرکاری اسپتالوں میں بھی اس طرح کے مناظر عام ہیں۔


    vitalsnewsکی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور معروف طبی ماہر ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق انسانی پلیسینٹا انتہائی قیمتی حیاتیاتی بافت ہے، جس کی اہمیت ترقی یافتہ ممالک کئی برس قبل تسلیم کر چکے ہیں کیونکہ اس میں مختلف اقسام کے اسٹیم سیلز بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں، جو ری جنریٹو میڈیسن کے میدان میں امید افزا حیاتیاتی وسائل میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پلیسینٹا میں موجود اسٹیم سیلز ہڈی، کارٹلیج، پٹھوں، کنیکٹو ٹشو اور دیگر مخصوص بافتوں میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ نال میں موجود خون (Umbilical Cord Blood) میں ہیماتوپوائٹک اسٹیم سیلز پائے جاتے ہیں جو سرخ اور سفید خون کے خلیات اور پلیٹ لیٹس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پلیسینٹا سے اسٹیم سیلز کو نسبتاً آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور لیبارٹری میں تیزی سے بڑھائے جا سکتے ہیں۔


    دیگر طبی ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں زچگی کے بعد ماں کی باقاعدہ رضامندی سے پلیسینٹا اور نال کا خون جمع کیا جاتا ہے، جہاں انتہائی کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول میں اسٹیم سیلز کو الگ کرکے مائع نائٹروجن میں منفی 196 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں مستقبل میں تحقیق اور جہاں طبی طور پر مناسب ہو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے۔


    دنیا بھر میں محققین پلیسینٹا سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کو اوسٹیو آرتھرائٹس، ہڈیوں اور جوڑوں کی بیماریوں، شدید جھلسنے، دائمی زخموں، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، فالج، دل، جگر اور گردوں کی بیماریوں سمیت متعدد دیگر امراض کے علاج میں استعمال کرنے کے امکانات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ نال کے خون سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز کی پیوندکاری خون کی کئی بیماریوں کے علاج میں پہلے ہی تسلیم شدہ طریقہ علاج بن چکی ہے، تاہم پلیسینٹا سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کے بیشتر ری جنریٹو استعمالات ابھی کلینیکل تحقیق کے مراحل میں ہیں۔


    اسلام آباد کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق وہ اس وقت منتخب مریضوں میں بون میرو سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز کے ذریعے علاج کر رہے ہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ پلیسینٹا اور نال کا خون اسٹیم سیلز کے سب سے زیادہ امید افزا ذرائع میں شامل ہیں، اگرچہ پاکستان میں یہ شعبہ ابھی ترقی نہیں کر سکا۔


    ڈاکٹر قائد سعید نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے ری جنریٹو میڈیسن کے ماہرین کے تعاون سے اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا کارڈ بلڈ بینک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کے باعث منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان کے مطابق کارڈ بلڈ بینک میں بچے کی پیدائش کے بعد نال سے حاصل ہونے والا خون محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس میں موجود اسٹیم سیلز کو مستقبل میں علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے، تاہم ایسی سہولت کے قیام کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی منظوری درکار ہوتی ہے اور ان کی تجویز تاحال بیوروکریٹک پیچیدگیوں کا شکار ہے۔


    ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق جدید کارڈ بلڈ بینکس کے قیام سے نہ صرف پاکستان میں مستقبل کی طبی سہولیات بہتر بنائی جا سکتی ہیں بلکہ ملک میں ایک اعلیٰ قدر کی بایوٹیکنالوجی صنعت بھی فروغ پا سکتی ہے، جو کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایف آئی اے کی جانب سے برآمد کیا گیا مواد واقعی پلیسینٹا یا اس سے متعلق حیاتیاتی بافت ثابت ہوتا ہے تو اس معاملے کو صرف سنسنی خیز سرخیوں یا مجرمانہ الزامات کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ایک سائنسی اور پالیسی بحث کا آغاز سمجھنا چاہیے کہ آیا پاکستان انسانی پلیسینٹا کو محض طبی فضلہ سمجھ کر ضائع کرتا رہے یا اس کے اخلاقی، قانونی اور سائنسی استعمال کے لیے مناسب ریگولیٹری اور تحقیقی نظام تشکیل دے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں پلیسینٹا اور نال کے خون کی سائنسی بنیادوں پر جمع آوری، پراسیسنگ اور محفوظ رکھنے سے متعلق واضح پالیسیوں کا فقدان ہے، حالانکہ دنیا بھر میں ان حیاتیاتی مواد کی تحقیق اور مستقبل کے علاج میں اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔


    ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ہر سال لاکھوں انسانی پلیسینٹا طبی فضلے کے طور پر ضائع کر رہا ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک انہیں مستقبل کی تحقیق اور جدید علاج کے لیے قیمتی حیاتیاتی سرمایہ تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز، ریگولیٹرز اور طبی ماہرین اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، مناسب قانونی و سائنسی فریم ورک تشکیل دیں اور اس حیاتیاتی مواد کو اخلاقی، قانونی اور سائنسی اصولوں کے مطابق طبی تحقیق اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے استعمال کرنے کے امکانات پر کام کریں۔


    پلیسینٹا کسے کہتے ہیں؟ 
     ’پلیسینٹا‘ حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والے عضو کو کہا جاتا ہے، اور یہ امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔اے آروائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ پلیسینٹا مادر رحم میں بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے ادویات، کاسمیٹکس اور روایتی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ملزمان مختلف اسپتالوں سے ہیومن پلیسینٹا خرید کر پراسیسنگ کرتے تھے، پلیسینٹا کو خشک کرکے بیرون ملک اسمگل کیا جاتا تھا۔

  • برکس امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی تیار نہیں کر رہا، کریملن

    برکس امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی تیار نہیں کر رہا، کریملن

    ماسکو (شنہوا) کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے کہ برکس امریکی ڈالر کے متبادل کرنسی بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

    پیسکوف نے 12ویں بین الاقوامی فورم “پریماکوف ریڈنگز” کے دوران کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ برکس امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر کسی نئی کرنسی کی تیاری کر رہا ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ برکس دراصل ایسے ممالک پر مشتمل ہے جنہیں ریزرو کرنسیوں کے استعمال کے حق سے محروم کیا گیا ہے یا جن کی ان کرنسیوں تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے رکن ممالک کے درمیان اپنی قومی کرنسیوں میں لین دین کے حصے کو بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • امریکہ چینی کمپنیوں کو نام نہاد “فوجی کمپنیوں کی فہرست” میں شامل کرنے کے غلط اقدامات بند کرے، چین  

    امریکہ چینی کمپنیوں کو نام نہاد “فوجی کمپنیوں کی فہرست” میں شامل کرنے کے غلط اقدامات بند کرے، چین  

    بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ چینی فوج سے منسلک کمپنیوں کی اپنی نام نہاد فہرست میں مزید چینی کمپنیوں کو شامل کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے اور واضح کیا ہے کہ چین اس کے ردعمل میں جوابی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

    وزارت تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے ایک معمول کی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کے اس اقدام نے چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہےجس کے باعث چین کے لئے ردعمل دینا ضروری ہو گیا ہے۔

     انہوں نے کہا کہ چین کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ اور عدم پھیلاؤسمیت بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے 22 جون کو چین کے سرکاری محکموں نے ایوی اوکس انکارپوریشن سمیت 10 امریکی اداروں کو برآمدی کنٹرول کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ 46 نامزد امریکی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات کو سرکاری خریداری میں شامل کرنے پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات بھی کئے گئے۔

    حہ یادونگ نے مزید کہا کہ نشانہ بنائی گئی تمام امریکی کمپنیاں فوجی شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ مل کر باہمی تعلقات میں تعمیری تعاون اور اسٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنے اور فروغ دینے کے لئے کام کرے۔

  • سرگودھا میں آٹھ سالہ منتہا زہرا کیس کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک: ’بچی گھر کے قریب دکان میں گئی مگر واپس نہیں آئی‘

    سرگودھا میں آٹھ سالہ منتہا زہرا کیس کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک: ’بچی گھر کے قریب دکان میں گئی مگر واپس نہیں آئی‘

    اس رپورٹ میں قتل کے جرم سے متعلق تفصیلات ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں

    پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام کے مطابق سرگودھا شہر میں آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ پولیس نے آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے سی سی ڈی کے حوالے کیا تھا۔

    سی سی ڈی حکام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سی سی ڈی سرگودھا کی ٹیم ’ملزم کو برائے نشاندہی و برآمدگی آلہ قتل علاقہ تھانہ جھال چکیاں لے جا رہی تھی۔ (اس دوران) ملزمان نے سی سی ڈی ٹیم کو دیکھتے ہی ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز سرگودھا کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کی ایف آئی آر آٹھ سالہ منتہا زہرا کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر قتل اور بچوں کے ساتھ ریپ سے متعلق دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

    والد کی جانب سے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو اس کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے پانچوں نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

    تاہم اس کیس کی ایف آئی آر میں درج تفصیلات اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں کچھ فرق ہے۔

  • وہ ’پُراسرار‘ قطری ثالث جو پسِ پردہ رہتے ہوئے امریکہ، ایران مذاکرات کا حصہ بنا

    وہ ’پُراسرار‘ قطری ثالث جو پسِ پردہ رہتے ہوئے امریکہ، ایران مذاکرات کا حصہ بنا

    قطری وزیر علی الزوادی ان رہنماؤں اور اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست میں شامل تھے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مئی کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر تمام معاملات حتمی مراحل تک پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان رہنماؤں کو مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

    واشنگٹن اور تہران کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے اعلان کے فوراً بعد میڈیا نے پاکستان کے ساتھ ساتھ قطر کی ثالثی کے کردار کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا اور توجہ خاص طور پر اس قطری وزیر کی طرف مبذول ہوئی ہے۔

    چند امریکی رپورٹس کے مطابق علی الزوادی نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے اعلان سے قبل صرف 10 دن میں چار بار تہران کا سفر کیا۔

    امریکی میڈیا میں علی الزوادی کو ایک ’پراسرار قطری ثالث‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو شہ سرخیوں میں رہنے کی بجائے صرف عملی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    علی الزوادی شاید قطر کے خاموش سفارت کاری کے طریقہ کار کی بہترین مثال ہیں۔ وہ شاذ و نادر ہی عوامی نظروں میں آتے ہیں، سفارتی حلقوں سے باہر ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اور ان کا کوئی سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی نہیں۔

    اس کے باوجود حالیہ برسوں میں علی الزوادی سب سے زیادہ بااثر سفارتی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں، ان کا نام غزہ جنگ سے متعلق مذاکرات اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں اکثر اہم موڑ پر سامنے آیا۔

  • مسعود پزشکیان کی موجودگی میں شہباز شریف کو ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام پر وضاحت کیوں دینا پڑی؟

    مسعود پزشکیان کی موجودگی میں شہباز شریف کو ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام پر وضاحت کیوں دینا پڑی؟

    اسلام آباد میں منگل کے روز پاکستان اور ایران کے بیچ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات اور اِس دوران شہباز شریف کی جانب سے کی گئی گفتگو اور دورے کے اختتامی مرحلے پر پاکستانی وزیر اعظم اور ایرانی صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جو معاملہ بارہا سُننے کو ملا وہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق تھا۔

    اسلام آباد میں وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ (امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی) مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ’یہ معاملہ کبھی زیر غور آیا نہ ہی ایجنڈے کا حصہ تھا۔‘

    اس ابتدائی گفتگو کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی، جسے براہ راست نشر کیا گیا۔

    شہباز شریف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بیلسٹک میزائل کبھی بھی ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ بحث موضوع نہیں رہا۔ یہ معاملہ کبھی میز پر نہیں آیا اور نہ ہی اس کا ایم او یو میں کوئی ذکر موجود ہے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر وضاحتوں کے بعد بہت سے صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے کہ آخر وہ کیا معاملہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم ایرانی وفد کے دورے کے دوران اس معاملے پر بارہا گفتگو کر رہے ہیں۔

    بدھ کو ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفننگ کے دوران کہا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر ایرانی صدر کے ساتھ پریس ٹاک میں وضاحت کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران ’اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے بہت اچھے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

  • انقلابی قدم: جامشورو پاور پلانٹ کی درآمدی کوئلے کے بجائے تھر کول پر منتقلی کا فیصلہ

    انقلابی قدم: جامشورو پاور پلانٹ کی درآمدی کوئلے کے بجائے تھر کول پر منتقلی کا فیصلہ

    توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جامشورو پاور پلانٹ کی درآمدی کوئلے سے تھر کول پر منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے 26 برس میں 3.239 ارب ڈالر بچت متوقع ہے۔

    اس حوالے سے ڈورنیئر گروپ اور ای وائی پارتھینون نے بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر لی، وفاقی وزیر اویس لغاری کوفزیبلٹی اسٹڈی باضابطہ طور پر پیش کر دی گئی۔

    پاور ڈویژن کے مطابق منصوبے سے 2.113 ارب ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوگی،  جامشورو یونٹ-1 کو 100 فیصد تھر لِگنائٹ پر منتقل کرنا تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہے، منصوبہ معاشی طور پر انتہائی فائدہ مند، ماحولیاتی طور پر قابلِ انتظام ہوگا، پاور سیکٹر کو 1.720 ارب ڈالر کے مجموعی فوائد حاصل ہوں گے۔

    پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی پیداوار کی لاگت میں 1.051 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے، تھر کول مائنز کی توسیع سے 669 ملین ڈالر کے اضافی فوائد حاصل ہوں گے، غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں کمی سے 1.519 ارب ڈالر بچت ہوگی، جامشورو پلانٹ کی تبدیلی پر 86.2 ملین ڈالر کی سرمایہ جاتی لاگت آئے گی، منصوبہ وزیراعظم کے پاور سیکٹر ریفارم پلان کا اہم حصہ ہے۔

    پاور ڈویژن کے مطابق تھر کول کے استعمال سے تھرپارکر میں روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی متوقع ہے، منصوبے سے عالمی کوئلہ قیمتوں اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کم ہوں گے، پاور ڈویژن منصوبے کے نفاذ کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہوگیا۔

    پاور ڈویژن نے مزید کہا ہے کہ حکومت مقامی توانائی وسائل کے فروغ اور توانائی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے، وزارت توانائی منصوبے کے نفاذ کے لئےریگولیٹری منظوریوں کا عمل شروع کرے گی۔

  • آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیرونی ایجنڈے کا سخت جواب دینا چاہیے، خواجہ آصف

    آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیرونی ایجنڈے کا سخت جواب دینا چاہیے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد جموں و کشمیر میں جاری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہیے۔

     وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میرے آزاد جموں و کشمیر کے بحران سے متعلق ریمارکس صاف گو اور دیانت دارانہ تھے، جن لوگوں کے خفیہ اور منفی ایجنڈے ہیں وہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مجھ سے اور پاکستان سے کشمیر کو یا پاکستان کو کشمیر سے جدا نہیں کر سکتے، ان کشمیریوں کی قربانیاں جنہوں نے اکتوبر1947 میں ہجرت کر کے پاکستان کا رخ کیا، تاریخ میں درج ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد گزشتہ 78 سال سے قربانیوں، شہادتوں اور جیلوں میں قید رہنے کی ایک طویل داستان ہے۔

    وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان کا کشمیرکے مقصد سے وابستگی کا ثبوت ہمارے  شہدا کے خون میں موجود ہے جو 5 جنگوں میں بہایا گیا، پاکستان کا کشمیر کے مقصد سے وابستگی کا ثبوت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت اور ریفرنڈم کے اصولی مؤقف پر مبنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا چند کشمیری وہ ہیں جنہوں نے ہجرت کی قربانیاں دیں اور چند وہ ہیں جو آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سپاہیوں کی حفاظت میں دہائیوں سے امن میں رہنے والے آزاد کشمیر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کے عوام  اور مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، مقبوضہ کشمیرکے عوام  اور مہاجرین کی قربانیوں کو کم تر سمجھنا کشمیر کے مقصد کی نفی کے مترادف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کشمیریت کی تعریف پیدائشی سرٹیفکیٹس سے نہیں بلکہ وہ جدوجہد اور قربانیاں ہیں جو تقریباً 8 دہائیوں سے پاکستانیوں سمیت تمام لوگوں نے دی ہیں۔