Category: خبریں

  • قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں، قومی یکجہتی ہوتی ہے، بلاول بھٹو

    قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں، قومی یکجہتی ہوتی ہے، بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے بجٹ بحث پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  آج پوری دنیا کیلئے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی ہے، ایران امریکہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے امن جنگ سے بہتر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان جنگ کی قیمت کو اچھی طرح جانتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ ابھی مکمل طور پر پرامن نہیں ہوا اور بھارت کی جانب سے “سندور ٹو” جیسے بیانات اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہیں جس کے باعث سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دفاعی ذمہ داریاں مشترکہ طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جو آئین کے دائرے میں رہ کر کیا گیا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کے دوران میڈیا پر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے غیر مصدقہ افواہیں پھیلائی گئیں، جن میں کوئی صداقت نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کے شکر گزار ہیں کہ سیاسی اتفاق رائے سے جمہوری حل نکالا گیا۔

    بلاول بھٹو زرداری کے مطابق حکومت کے ساتھ طے پایا ہے کہ قومی دفاع کے لیے سب اپنا حصہ ڈالیں گے جبکہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ دو سے تین سال کی عبوری حکمت عملی کے بعد صوبوں سے مزید مالی مطالبات نہیں کیے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی اصل طاقت ہتھیار نہیں بلکہ قومی یکجہتی ہوتی ہے، اور خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے اس موقع پر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں یہ تاثر غلط ہے کہ صوبوں کے پاس زیادہ وسائل اور وفاق کے پاس کم ہیں، حقیقت میں دونوں سطحوں پر مالی دباؤ موجود ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ایک بڑی کامیابی ہے لیکن اس کے باوجود بعض صوبوں کو ان کا مکمل مالی شیئر نہیں مل سکا۔

    انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر کہا کہ یہ وفاق کے پاس رہتی ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ اسی طرح آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہر سال صوبوں سے سرپلس بجٹ دکھانے کا کہا جاتا ہے، جس کے تحت پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرپلس دکھایا جاتا رہا ہے۔

    انہوں نے سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے وعدے ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے، جبکہ بعض ٹیکس مراعات بھی ختم کی جا رہی ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بعض ممالک پاکستان کے خلاف منفی عزائم رکھتے ہیں لیکن قومی دفاع کے لیے تمام صوبے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور بعض صوبائی حکومتوں نے بھی وفاقی مالی تعاون میں حصہ ڈالا ہے۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے، کیونکہ یہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ کامیاب فلاحی منصوبہ ہے جسے ختم کرنے کے بجائے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، اور وزیراعظم نے بھی اس پروگرام میں اضافہ کیا ہے۔

  • وزیراعظم کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع

    وزیراعظم کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔

    قبل ازیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر بیان دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا تھا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں، ایران اور امریکا جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔

    علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو فوری منتقل کیا جائے، لہٰذا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    انکا کہنا تھا کہ شفاف فارمولے کی بدولت عوام قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات کو سمجھ سکیں گے، نیا فارمولا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے ساتھ بنایا جائے گا۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں تیل کی سپلائی چین بلا تعطل برقرار رکھی گئی، حکومت توانائی سلامتی کے فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریاستی مفادات کے تحفظ اور توانائی سلامتی کے لیے متعدد نئے اقدامات پر کام جاری ہے، بحران کے دوران تعاون پر تمام شراکت داروں اور عوام کے شکر گزار ہیں۔

  • امریکا ایران معاہدہ: وزیر اعظم پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردیے

    امریکا ایران معاہدہ: وزیر اعظم پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردیے

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔

    اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔

    شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔

    وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔

    وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا۔

    بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

    شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔

    امریکہ۔ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کا خیرمقدم، امریکی اور ایرانی قیادت کو مبارکباد

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔

    اپنے ایک پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ فروری 2026 میں شروع ہونے والے تنازع نے خطے کے عوام کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کیا اور عالمی توانائی کی ترسیل، تجارت اور معاشی استحکام کو شدید متاثر کیا۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی المناک صورتِ حال دوبارہ جنم نہیں لے گی اور خطے کے ممالک اپنی توانائیاں ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف کریں گے۔

    صدر مملکت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک سفارتی کاوشوں نے فریقین کو معاہدے تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے پورے بحران کے دوران اصولی، متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا اور مسلسل مذاکرات، تحمل اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔

    انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر مسعود پیزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں فریقین نے تنازع کے سفارتی حل اور امن کے فروغ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صدر مملکت نے برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ ساتھ روس اور چین کی قیمتی معاونت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں اور مذاکراتی عمل کی حوصلہ افزائی نے امن کے حصول میں مدد فراہم کی۔

    آصف علی زرداری نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور مقررہ مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کریں تاکہ دیرپا امن اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

    انہوں نے کہا، “ہیرو وہ ہیں جنہوں نے جنگ کا خاتمہ کیا، نہ کہ وہ جو جنگ شروع کرنے کے خواہشمند ہوں۔”صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ثالثی کی نمایاں چھاپ رکھنے والی یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار اور جامع امن کی بنیاد ثابت ہوگی اور ممالک کو اقتصادی ترقی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور اپنے عوام کی فلاح و ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

    انہوں نے مزید کہا، “جنگ تباہی اور مصیبت کے سوا کچھ نہیں لاتی۔ امن ہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ امن اور خوشحالی کے مشترکہ سفر میں یکجہتی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔”

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور ایرانی صدور نے یادداشت کے متن پر الیکٹرانک دستخط کیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا۔

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے گی۔ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، تاہم ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق آئندہ 60 روز کے دوران کسی بھی فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا نئی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

    دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تصدیق کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی دستخط کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر دی۔

    امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا سرکاری متن بھی جاری کر دیا ہے۔ معاہدے کا عنوان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” رکھا گیا ہے۔

    سی این این ورلڈ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران پر عائد بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات کا تعین کیا گیا ہے۔

    سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی، ایران کے جوہری مواد سے متعلق اقدامات اور پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔

  • یہ ممکن نہیں کہ عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے، وزیراعظم

    یہ ممکن نہیں کہ عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ  عوام قربانی دیں اور اشرافیہ  مراعات حاصل کرتی رہے۔

    مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں شہباز شریف نے خواتین ارکان کا خیرمقدم کیا اور جاری بجٹ اجلاس میں ان کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے دوران بجٹ، ملکی معیشت، خطے کی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے جس قدر ممکن ہو سکا، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ میں خواتین کو خودمختار بنانے اور قومی دھارے میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹ گئے اور امن کے قیام کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کی کوششوں میں ان کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کشیدگی کے آغاز سے ہی حکومت پاکستان، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور پوری حکومتی ٹیم خلوص نیت کے ساتھ امن کے قیام کے لیے سرگرم عمل رہی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن کے قیام سے ہی پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ مہینوں کے دوران عوام کو مہنگائی کی عالمی لہر کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں ملک میں نہ کوئی بحران پیدا ہوا اور نہ ہی ایندھن کے لیے طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی بہتر منصوبہ بندی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون کی بدولت نہ صرف عوام کو مشکلات سے بچایا گیا بلکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج بھی دیا گیا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ بحران کے دوران قربانی کا آغاز کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا گیا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ عوام قربانیاں دیں اور اشرافیہ مراعات سے فائدہ اٹھاتی رہے۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی اور وسیع پیمانے پر کفایت شعاری مہم کے ذریعے عوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا، جس پر وہ صوبائی حکومتوں کے شکر گزار ہیں۔ اس پورے عمل میں عوامی تعاون نے بھی کلیدی کردار ادا کیا، جس پر پاکستانی عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس سے صنعت کا پہیہ مزید تیز ہوگا اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں حکومت کی توجہ آبی ذخائر، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں پر مرکوز رہے گی تاکہ معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔ خطے میں امن اور حالات معمول پر آنے کے بعد اس کے مثبت معاشی اثرات بھی عوام تک منتقل کیے جائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام کاوشیں ’’ٹیم پاکستان‘‘ کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہیں اور یہی ٹیم پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    ملاقات کے دوران خواتین ارکان پارلیمنٹ نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے قیام کی کوششوں پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کی جانب سے بجٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں تعلیم و ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔

    ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اپنے حلقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے جاری منصوبوں اور بجٹ سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ شرکا نے تعلیم، صحت، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، صنعت و پیداوار، مواصلات، غذائی تحفظ اور دیگر شعبوں میں بہتری کے لیے مختلف سفارشات بھی پیش کیں۔

    ملاقات میں سیدہ نوشین افتخار، بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، منیبہ اقبال، نزہت صادق، مسرت آصف خواجہ، رومینہ خورشید عالم، زیب جعفر، کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرح ناز اکبر، شہناز سلیم ملک، زینب محمود بلوچ، کرن حیدر، اختر بی بی، غزالہ انجم، مس شاہین، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، تمکین اختر نیازی، سائرہ تارڑ، ہما اختر چغتائی، ماہ جبین خان عباسی، گلناز شہزادی، شمائلہ رانا، شازیہ فرید، سیدہ آمنہ بتول، رابعہ نسیم فاروقی، ارم حامد حمید اور مس نیلم شریک تھیں۔

    اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر برائے امور عامہ یونٹ رانا مبشر اقبال، وزرائے مملکت شزرا منصب علی خان کھرل، وجیہہ قمر اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی شریک تھے۔

  • نواز شریف کی کشمیری عوام سے دھرنے ختم کرکے مذاکرات کی اپیل

    نواز شریف کی کشمیری عوام سے دھرنے ختم کرکے مذاکرات کی اپیل

    مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان سے اپنا نظریاتی اور فکری رشتہ برقرار رکھتے ہوئے پُرامن رہیں، دھرنوں کو ختم کر کے بامقصد مذاکرات کریں۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں آزاد جموں کشمیر کی سیاسی اور انتظامی صورت حال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ن لیگ آزاد جموں کشمیر ن لیگ کی سینئر لیڈر شپ نے شرکت کی۔

    نواز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک واضح موقف رکھتی ہے جموں کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے، پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ آزاد جموں کشمیر کے عوام کو آئینی اور بنیادی حقوق اور تعمیرو ترقی کے حوالے سے ترجیح دی ہے۔

    آزاد جموں کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال پر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974ء کے مطابق انہیں مکمل شہری آزادیاں حاصل ہیں، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام تر کوششیں اور صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں، عوامی حقوق کے لیے آئین کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرنی چاہیے، مسلم لیگ ن تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ انہیں سرکاری اور سول شہریوں کے جانوں کے ضیاع پر دلی رنج اور صدمہ پہنچا ہے، ایسی صورت حال پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی یہ ملک ہم سب کا ہے  اس میں ہم سب نے بھائیوں کی طرح رہنا ہے، کشمیریوں نے پاکستان کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں  پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد  کو اپنی جدوجہد سمجھا ہے اور اس کے لیے کردار ادا کیا ہے۔

    انہوں نے اپیل کی کہ جموں کشمیر کے عوام پاکستان سے اپنا نظریاتی اور فکری رشتہ برقرار رکھتے ہوئے پر امن رہیں، دھرنوں کو ختم کر کے بامقصد مذاکرات کریں مجھے امید ہے کہ آزاد جموں کشمیر کے عوام، حکومت آزاد جموں کشمیر اور حکومت پاکستان تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آزاد جموں کشمیر میں امن کی بحالی اور انتخابی عمل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے دفاعی اداروں نے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں پاکستان اور آزاد جموں کشمیر میں بھائی چارے اور رواداری کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے اور کسی طور بھی کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

    اجلاس میں آزاد جموں کشمیر میں حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا گیا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی گئی۔ اجلاس میں قائد مسلم لیگ نے گلگت بلتستان  اور آزاد جموں کشمیر کی انتخابی مہم کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور انتھک محنت کرنے پر نواز شریف نے وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام کی خدمات کو سراہا۔

  • کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر، تنخواہوں پنشن میں 7 فیصد اضافہ، سندھ کا ٹیکس فری بجٹ پیش

    کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر، تنخواہوں پنشن میں 7 فیصد اضافہ، سندھ کا ٹیکس فری بجٹ پیش

    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کردیا۔

    سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔

    اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی بجٹ پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے، جس پر ایوان میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اراکین کو ہدایت کی کہ اگر وہ تقریر نہیں کرنا چاہتے تو واک آؤٹ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اپنی نشستوں پر بیٹھ کر بجٹ کارروائی کا حصہ بنیں۔

    اسپیکر نے ایوان میں موجود اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشستیں عوام کی امانت ہیں اور اگر وہ اجلاس میں رہنا چاہتے ہیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پوری قوم دیکھ رہی ہے اور عوامی فلاح کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل گیارہویں بجٹ کی پیشکش ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔

    انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے، جبکہ سندھ کی عوام نے ہمیشہ ایک ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 260 ارب روپے کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے اپنے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر میں پاک افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔

    انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی، صوبے کا بجٹ آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح کے چار بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی ہے اور صوبے میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا اہم مرکز بنے گا، جبکہ عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں اور شہر کا معاشی مستقبل مزید روشن بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    مراد علی شاہ کے مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے منصوبوں سمیت 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کے منصوبوں کو مکمل کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے گئے جبکہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔

    بجٹ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے، تعلیم کے شعبے کے لیے 25.9 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید اعلان کیا کہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ سوشل پروٹیکشن پروگراموں میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے اور صوبے میں عوامی فلاح اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

    بجٹ میں سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک رلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے کا اعلان کیا گیا جب کہ صوبے میں کم از کم تننخواہ 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار کردی گئی۔

    قبل ازیں مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، معاونینِ خصوصی، مشیروں، چیف سیکریٹری، مختلف محکموں کے سیکریٹریز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر وزیراعلیٰ سندھ کی کاوشوں کو سراہا گیا۔

    اس موقع پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی رہنمائی میں عوامی خدمت کا سفر جاری رکھا جائے گا اور نئے مالی سال میں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں معاشرے کے ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ محنت کش طبقے کے لیے کم از کم اجرت سے متعلق اہم فیصلہ بھی نئے بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    سندھ کے ترقیاتی بجٹ 2026-27 کا مجموعی حجم 656 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 641 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کیے گئے ہیں۔

    اسی طرح رواں مالی سال 3,715 ترقیاتی اسکیمیں بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 350 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ غیر منظور شدہ منتقل شدہ اسکیموں کے لیے 34 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

    فارن پروجیکٹ اسسٹنس (FPA) کے تحت 256 ارب روپے سے زائد رقم شامل کی گئی ہے۔ کچے کے علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے 1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ پسماندہ اضلاع کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔

    تعلیم و صحت

    سندھ حکومت نے رواں مالی سال تعلیم اور صحت کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے لیے 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ صحت کے شعبے کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں متعدد جاری منصوبے بھی شامل ہیں۔

    اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38.21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ صوبے بھر میں کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل تعلیم کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    دیگر شعبوں کا بجٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 9.22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ازیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.30 ارب روپے کی تجویز ہے۔ توانائی کے شعبے میں 5.18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

    زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کے لیے 4.90 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے منصوبوں کے لیے 2.78 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ جنگلات و جنگلی حیات کے شعبے کے لیے 2.39 ارب روپے کی تجویز ہے۔

    ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے منصوبوں کے لیے 54.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ محکمہ خوراک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

    زراعت کے لیے 4.9 ارب روپے مختص

    سندھ اے ڈی پی 2026-27 میں زراعت کے شعبے کے لیے 4.9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز کے لیے 4.899 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کرنے کی تجویز ہے جب کہ زرعی توسیع کے 9 منصوبوں کے لیے 65.67 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    زرعی مارکیٹنگ کے 3 منصوبوں کے لیے 1.319 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی میکانائزیشن کے 5 منصوبوں کے لیے 70.96 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ زرعی تحقیق کے لیے 25.52 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

    اسی طرح ایگریکلچر واٹر مینجمنٹ کے 7 منصوبوں کے لیے 1.884 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سپلائی، پرائسز، ویٹس اینڈ میژرز کے منصوبے کے لیے 3.07 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جب کہ زرعی تربیت و تحقیق کے منصوبے کے لیے 4.38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
    زراعت کے شعبے میں مجموعی طور پر 31 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے زرعی پیداوار، جدید مشینری، آبی نظم و نسق اور زرعی منڈیوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

    کراچی کے میگا پراجیکٹس

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے میگا پراجیکٹس کے لیے 14 ارب 11 کروڑ 63 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 25 جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔

    اسی طرح کراچی کے 17 غیر منظور شدہ جاری منصوبوں کے لیے 6.94 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 8 کیری فارورڈ منصوبوں کے لیے 7.17 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کراچی میگا پراجیکٹس کا مجموعی تھرو فارورڈ حجم 35.81 ارب روپے ریکارڈ ہوا ہے۔

    بجٹ میں ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں کراچی کے انفرا اسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کراچی کے 25 میگا منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں ترقیاتی کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

    آئندہ مالی سال میں 2026-27 میں کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی مجموعی تجویز منظور ہونے کا امکان ہے۔

  • 75 سال کےد وران پنڈی اور اسلام آباد میں آج جیسا تعلق ہوتا تو کئی سنگِ میل طے ہو چکے ہوتے، وزیرِ دفاع

    75 سال کےد وران پنڈی اور اسلام آباد میں آج جیسا تعلق ہوتا تو کئی سنگِ میل طے ہو چکے ہوتے، وزیرِ دفاع

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 75 برس کے دوران پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان آج جیسا تعلق ہوتا تو کئی سنگ میل طے ہو چکے ہوتے۔

    قومی اسمبلی  کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق  کی زیرصدارت ہوا، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف  نے کہا کہ ایک سال قبل ہم نے ایک اور جنگ بھی لڑی  تھی۔ اس جنگ میں ہماری افواج نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ۔ ہم ایک جنگ معاشی محاذ پر بھی لڑ رہے ہیں ۔ ساری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو تو یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ یہ جنگ 25 کروڑ عوام کی جنگ ہے ۔ میں امریکی قیادت کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں۔ 75 سال میں پہلے اتنی عزت پاکستان کو ملتے نہیں دیکھی ۔ اب معاشی محاذ پر بھی ہم نے مسائل سے نمٹنا ہے۔ سفارتی محاذ پر ہونے والی اس کامیابی سے ہمیں سیکھنا چاہیے ۔ دہشتگردی کے خلاف بھی سب کو مل کر کھڑا ہونا ہے۔

    وزیر دفاع  نے کہا کہ امریکی قیادت کا بھی شکریہ کہ ایران پر دہائیوں سے ہونے والی زیادتیوں کا احساس کیا ہے۔ گلف کے بھائیوں سے بھی کہوں گا کہ اختلافات ختم کریں تاکہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے کردار ادا کر سکیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس سے پہلے شاید اس قسم کا اعزاز نہیں ملا ۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جس طریقے سے یہ معاملہ حل کیا  ہے۔ پچھلے 75 سال میں پنڈی اور اسلام آباد میں ایسا تعلق ہوتا تو بہت سے سنگ میل طے ہو چکے ہوتے۔ پچھلے 3 سال میں جو کوششیں ہوئیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا ثمر عطا کیا ہے ۔ ایرانی بھائیوں نے جس عزم کے ساتھ اس جنگ کو ڈیل کیا اس پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ یہی اتحاد و اتفاق قائم رہا تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہوگا۔

  • سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں  قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں  قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے، امریکی بحری ناکا بندی ختم کرنے کے اعلان سے تیل کی عالمی قیمتوں میں 4فیصد کی کمی جیسے عوامل قیمتی دھاتوں کی مارکیٹوں پر اثرانداز ہیں، جس سے عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان برقرار ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت مسلسل تیسرے دن بھی 108ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 327ڈالر کی سطح پر آ گئی۔

    دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز فی تولہ سونے کی قیمت مزید 10ہزار 800روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 55ہزار 136روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 9ہزار 720روپے کے اضافے سے 3لاکھ 89ہزار 600روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 30سینٹس کے اضافے سے 70ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 230روپے کے اضافے سے 7ہزار 509روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 197روپے کے اضافے سے 6ہزار 396روپے کی سطح پر آگئی۔

  • جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع: جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کا میزبان پاکستان ہوگا، وزیراعظم

    جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع: جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کا میزبان پاکستان ہوگا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کی طویل رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے۔ پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    وزیراعظم نے اس پیش رفت پر پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور دانش مندی کی فتح ہے۔

    انہوں نے اپنے قائد میاں نواز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد اور یکجہتی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت مشکل حالات میں تدبر، دانش اور صبر کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں آج دنیا امن کے ایک عظیم دن کی گواہ بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے دنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے۔

    وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور چین کے صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں بھرپور تعاون اور مشاورت فراہم کی۔

    انہوں نے یورپ، برطانیہ اور پاکستان کے دیگر دوست ممالک کا بھی اس موقع پر شکریہ ادا کیا۔

    شہبا زشریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو آج جو عزت اور وقار عطا کیا ہے، قومیں صدیوں اس کی تلاش میں رہتی ہیں۔ جنگ کے شعلوں کو روکنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا ۔ تاریخ ہمیشہ اس کردار کو یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم نے ارکان اسمبلی اور پوری پاکستانی قوم کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی باعث فخر ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عظیم اور بہادر فرزند فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کیے بغیر یہ تقریر نامکمل رہے گی۔ انہوں نے جنگ کے شعلے بجھانے اور امن کے قیام کے لیے شب و روز محنت کی، متعدد مشکل مراحل اور نشیب و فراز کے باوجود ثابت قدمی، مسلسل مشاورت اور کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں گزشتہ شب جنگ بندی کا اعلان ممکن ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اگر خلوص، استقامت اور دانش مندی کا یہ سفر جاری نہ رہتا تو دنیا میں امن کا خواب بکھر سکتا تھا اور جنگ مزید تباہی کا سبب بنتی۔

    شہباز شریف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دن رات امن عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے ایران کے حوالے سے اہم امور نہایت ذمہ داری اور لگن کے ساتھ انجام دیے۔

    اس کے ساتھ انہوں نے وزارت خارجہ اور دیگر اداروں و محکموں کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور عالمی معیشت متاثر ہوئی ، پاکستان کی معیشت پر بھی دباؤ آیا، تاہم پاکستانی قوم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بروقت فیصلوں اور پیش بندی کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے بچانے کی کوشش کی، جس میں وزرائے اعلیٰ کا کردار بھی قابل ستائش رہا۔

    وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے عالمی معاشی ثمرات کو بروئے کار لا کر ہر پاکستانی کی دہلیز تک ریلیف اور فوائد پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی قیادت اس مقصد کے حصول تک کام جاری رکھے گی اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک اپنی ذمہ داری پوری نہ کر لے۔

  • کراچی کی حکومت کےلیے ہرحربہ استعمال کرنےوالے ہمیں طعنے نہیں دےسکتے، سعد رفیق کی پیپلزپارٹی پر تنقید

    کراچی کی حکومت کےلیے ہرحربہ استعمال کرنےوالے ہمیں طعنے نہیں دےسکتے، سعد رفیق کی پیپلزپارٹی پر تنقید

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی مقامی حکومت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے والے اور ہماری ضمانت پر  ایم کیو ایم کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے مسلم لیگ (ن) کو لاہور میں حکومت سازی کے طعنے نہیں دے سکتے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 28 فی صد اور مسلم لیگ ن نے 22 فی صد ووٹ حاصل کیے، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی نے 10 اور مسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتیں جبکہ 2 آزاد امیدوار مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ تھے‘۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اچھی طر ح جانتے ہیں کہ اعلیٰ مسلم لیگی قیادت نے الیکشن کے بعد 72 گھنٹے کے اندر از خود رابطہ کر کے صدر زرداری اور انھیں پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی تسلیم کرتے ھوئے، حکومت سازی میں حمایت کرنے کا عندیہ دیدیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا مقصد گلگت بلتستان کو ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی سودے بازی سے بچانا تھا، اس کے باوجود ppp قیادت کی جانب سے مسلم لیگ پر الزام تراشی یا توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا کوئی جواز تھا نہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 15 جون کو چند حلقوں میں ہونیوالے جزوی انتخابات کروانے کی مکمل ذمہ داری مقامی شکایت کنندگان اور الیکشن کمشن پر ہے، مسلم لیگ ن کے ایک حلقے کے نتائج کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

    رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کراچی کی مقامی حکومت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے والے اور ہماری ضمانت پر MQM کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے مسلم لیگ ن کو لاہور میں حکومت سازی کے طعنے نہیں دے سکتے۔

    سعد رفیق نے کہا کہ ہم PPP قیادت کی بہت عزت کرتے ہیں لیکن احترام کی یک طرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی۔