کیلیفورنیا: یورپی یونین نے میٹا کے زیرِ انتظام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کے کچھ فیچرز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی ابتدائی جانچ کے مطابق دونوں پلیٹ فارمز پر موجود بعض سہولیات، جن میں خودکار مواد چلنا، نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ اور صارفین کی پسند کے مطابق مسلسل تجاویز شامل ہیں، لوگوں کو زیادہ دیر تک ایپس استعمال کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ان فیچرز کے باعث بالخصوص کم عمر صارفین میں سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال اور اس کی عادت بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ریگولیٹرز کے مطابق میٹا ان ممکنہ نقصانات کا بروقت جائزہ لینے اور ان کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔
یورپی یونین نے کمپنی پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے فیچرز کو بطورِ ڈیفالٹ فعال رکھنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کرے، صارفین کے لیے مناسب وقفوں کا نظام متعارف کرائے اور مواد دکھانے والے الگورتھمز کو صرف زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ حاصل کرنے کے بجائے محفوظ اور متوازن بنائے۔
دوسری جانب میٹا نے یورپی یونین کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کے آن لائن تحفظ کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات نافذ کر چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹین اکاؤنٹس کے ذریعے اسکرین ٹائم کی نگرانی، رات کے اوقات میں استعمال محدود کرنے اور دیگر حفاظتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یورپی یونین کے ٹیکنالوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر میٹا مطلوبہ تبدیلیاں کرنے میں ناکام رہی تو اسے عالمی سالانہ آمدن کے 6 فیصد تک مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات، خاص طور پر ذہنی صحت سے متعلق خدشات، پر بحث تیز ہو رہی ہے اور کئی ممالک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے سخت ضوابط متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔









