Category: سائنس اور ٹیکنالوجی

  • فیس بک، انسٹاگرام کے ڈیزائن پر اعتراض، میٹا کو جرمانے کی وارننگ

    فیس بک، انسٹاگرام کے ڈیزائن پر اعتراض، میٹا کو جرمانے کی وارننگ

    کیلیفورنیا:  یورپی یونین نے میٹا کے زیرِ انتظام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام کے کچھ فیچرز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    یورپی کمیشن کی ابتدائی جانچ کے مطابق دونوں پلیٹ فارمز پر موجود بعض سہولیات، جن میں خودکار مواد چلنا، نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ اور صارفین کی پسند کے مطابق مسلسل تجاویز شامل ہیں، لوگوں کو زیادہ دیر تک ایپس استعمال کرنے کی طرف راغب کرتی ہیں۔

    یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ان فیچرز کے باعث بالخصوص کم عمر صارفین میں سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال اور اس کی عادت بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ریگولیٹرز کے مطابق میٹا ان ممکنہ نقصانات کا بروقت جائزہ لینے اور ان کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

    یورپی یونین نے کمپنی پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے فیچرز کو بطورِ ڈیفالٹ فعال رکھنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کرے، صارفین کے لیے مناسب وقفوں کا نظام متعارف کرائے اور مواد دکھانے والے الگورتھمز کو صرف زیادہ سے زیادہ انگیجمنٹ حاصل کرنے کے بجائے محفوظ اور متوازن بنائے۔

    دوسری جانب میٹا نے یورپی یونین کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کے آن لائن تحفظ کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات نافذ کر چکی ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹین اکاؤنٹس کے ذریعے اسکرین ٹائم کی نگرانی، رات کے اوقات میں استعمال محدود کرنے اور دیگر حفاظتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    یورپی یونین کے ٹیکنالوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر میٹا مطلوبہ تبدیلیاں کرنے میں ناکام رہی تو اسے عالمی سالانہ آمدن کے 6 فیصد تک مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات، خاص طور پر ذہنی صحت سے متعلق خدشات، پر بحث تیز ہو رہی ہے اور کئی ممالک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے سخت ضوابط متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔

  • گوگل نے دنیا بھر کے جی میل صارفین کے لیے نیا اے آئی اپ ڈیٹ جاری کر دیا

    گوگل نے دنیا بھر کے جی میل صارفین کے لیے نیا اے آئی اپ ڈیٹ جاری کر دیا

    کیلیفورنیا: گوگل نے جی میل صارفین کے لیے ایک نئی اے آئی سہولت متعارف کروا دی ہے، جس کے ذریعے طویل ای میلز کا خلاصہ چند لمحوں میں پڑھا جا سکے گا، جس سے ای میلز سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔

    ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق یہ فیچر گوگل کے جیمنائی اے آئی سے چلتا ہے اور اسے بتدریج دنیا بھر کے مفت جی میل اکاؤنٹس تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف کچھ مخصوص ای میل تھریڈز پر دستیاب ہوگی۔

    اس نئے فیچر کی مدد سے صارفین پوری ای میل پڑھے بغیر اہم نکات جان سکیں گے، جبکہ جیمنائی سے ای میل کے بارے میں سوالات بھی کیے جا سکیں گے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ فیچر انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، جاپانی، کوریائی، پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں میں دستیاب ہے، جبکہ مستقبل میں مزید زبانیں بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

    صارفین اگر اس اے آئی فیچر کو استعمال نہیں کرنا چاہتے تو جی میل کی سیٹنگز میں موجود گوگل ورک اسپیس اسمارٹ فیچرز کے ذریعے اسے باآسانی غیر فعال کر سکتے ہیں۔

  • خبردار! آپ کی فیس بک پوسٹ کسی سائبر کرائم مافیا کی منفی سرگرمی کا ذریعہ بن سکتی ہے

    خبردار! آپ کی فیس بک پوسٹ کسی سائبر کرائم مافیا کی منفی سرگرمی کا ذریعہ بن سکتی ہے

    فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں، کیونکہ عوامی (پبلک) پوسٹس مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے آسانی سے تلاش کی جا سکیں گی، جس سے رازداری اور آن لائن سیکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر کسی صارف نے ماضی میں کسی ذاتی معاملے، دوست سے ہونے والے تنازع یا کسی حساس موضوع پر عوامی پوسٹ کی ہو تو ممکن ہے کہ آئندہ اے آئی سرچ فیچر کے ذریعے وہ معلومات چند لمحوں میں سامنے آجائیں، حالانکہ پہلے انہیں ہزاروں پوسٹس میں تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔ 

    رپورٹس کے مطابق فیس بک اپنے سرچ سسٹم میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کررہا ہے، جس کے بعد سرچ بار روایتی انداز میں صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک چیٹ اسسٹنٹ کی طرح سوالات کے جواب بھی فراہم کرے گا۔ اس نظام کے تحت صارفین کئی برس پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات تک بھی نسبتاً آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں گے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی سے معلومات تلاش کرنا پہلے سے زیادہ سہل ہو جائے گا، تاہم اسی کے ساتھ رازداری اور سائبر سیکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عوامی پوسٹس کا اے آئی کے ذریعے زیادہ مؤثر تجزیہ اور سرچ ممکن ہوگئی تو سائبر جرائم میں ملوث عناصر بھی صارفین کی معلومات استعمال کرکے انہیں فراڈ یا دیگر آن لائن دھوکا دہی کا زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ 

    سائبر سیکیورٹی ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر عوامی نہ کریں اور فیس بک پر پوسٹس کی پرائیویسی کو پبلک رکھنے کے بجائے فرینڈز یا محدود حلقے تک رکھیں۔ اس مقصد کے لیے فیس بک کی ’’Limit Past Posts‘‘ سہولت استعمال کی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے ماضی کی تمام عوامی پوسٹس کو صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صارفین وقتاً فوقتاً اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیتے رہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں جو مستقبل میں ان کی پرائیویسی یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔

  • گوگل کا اینڈرائیڈ صارفین کیلئے اہم فیچر پر کام جاری!

    گوگل کا اینڈرائیڈ صارفین کیلئے اہم فیچر پر کام جاری!

    ایک نئی رپورٹ کے مطابق گوگل اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایسے نئے فیچر پر کام کر رہا ہے، جس کی مدد سے فون کا ڈیٹا کلاؤڈ کے بغیر براہِ راست ونڈوز پی سی پر خودکار طور پر بیک اپ ہو سکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ بیک اپ وائی فائی کے ذریعے اس وقت ہوگا جب اینڈرائیڈ فون اور ونڈوز کمپیوٹر ایک ہی نیٹ ورک سے منسلک ہوں۔ 

    گوگل پلے سروسز کے تازہ ترین ورژن میں اس آنے والے فیچر سے متعلق ایک خفیہ معلوماتی صفحہ دریافت ہوا ہے، جس سے اس منصوبے کا اشارہ ملتا ہے۔

    اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اپنے ونڈوز کمپیوٹر پر کوئیک شیئر ایپ میں جا کر اسے فعال کرنا ہوگا جبکہ فون اور کمپیوٹر دونوں پر ایک ہی گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن ہونا بھی ضروری ہوگا۔ 

    صارفین اپنی پسند کی تصاویر اور ویڈیوز منتخب کر سکیں گے جن کا خودکار بیک اپ کمپیوٹر پر محفوظ کیا جائے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس فیچر میں سام سنگ فونز کو فی الحال شامل نہیں کیا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سام سنگ کی اپنی اسمارٹ سوئچ ایپ ہے جو پہلے ہی بیک اپ کی متعدد سہولیات فراہم کرتی ہے۔ البتہ، اس میں خودکار بیک اپ کا فیچر موجود نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سام سنگ کے علاوہ غالب امکان ہے کہ یہ نیا فیچر دیگر تمام اینڈرائیڈ فونز کے لیے دستیاب ہوگا۔ تاہم، گوگل کی جانب سے اس بارے میں ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری

    واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری

    واٹس ایپ آئی فون صارفین کے لیے ایک نئے کلاؤڈ بیک اپ فیچر پر کام کر رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین اپنی چیٹ بیک اپ فائلیں ایپل کے آئی کلاؤڈ کے بجائے براہِ راست واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ کر سکیں گے۔

    ٹیکنالوجی ویب سائٹ واٹس ایپ بِیٹا انفو کے مطابق یہ فیچر ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور فی الحال بیٹا صارفین کے لیے بھی دستیاب نہیں۔

    اس وقت آئی فون پر واٹس ایپ چیٹس کا بیک اپ آئی کلاؤڈ پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایپل مفت صارفین کو صرف 5 جی بی کلاؤڈ اسٹوریج فراہم کرتا ہے جو تصاویر، دستاویزات، ڈیوائس بیک اپ اور دیگر ایپس کے ڈیٹا کے ساتھ مشترکہ طور پر استعمال ہوتی ہے۔ 

    تصاویر اور ویڈیوز کی کثرت کے باعث واٹس ایپ بیک اپ جلد ہی یہ جگہ بھر سکتا ہے۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے واٹس ایپ اپنا الگ کلاؤڈ بیک اپ سروس متعارف کرا رہا ہے جس کے بعد آئی فون صارفین اپنی پسند کے مطابق آئی کلاؤڈ یا واٹس ایپ کے سرورز میں سے کسی ایک کو بیک اپ کے لیے منتخب کر سکیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق آئی کلاؤڈ بدستور ڈیفالٹ بیک اپ آپشن رہے گا جبکہ جو صارفین اسے ہی استعمال کرنا چاہیں گے، انہیں اپنی موجودہ سیٹنگز میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    اس نئے فیچر سے صارفین کو بیک اپ کے لیے زیادہ لچک، بہتر رازداری اور اضافی اسٹوریج کے متبادل آپشنز میسر آنے کی توقع ہے۔

  • زمین کی جانب گرتی ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن، زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش

    زمین کی جانب گرتی ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن، زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی 22 سال پرانی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد دوربین کو موجودہ نچلے مدار سے زیادہ بلند مدار میں پہنچانا ہے تاکہ وہ مزید کئی برس تک سائنسی تحقیق کا حصہ بنی رہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو خلائی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پرانی خلائی دوربین کو زیادہ بلند مدار میں منتقل کر کے اس کی عملی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ناسا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سوئفٹ خلائی دوربین کا مدار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس کی بلندی میں اضافہ نہ کیا گیا تو امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر ادارے نے اس خصوصی مشن کا آغاز کیا ہے تاکہ دوربین کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی خدمات مزید جاری رکھی جا سکیں۔

    اس مشن کے لیے ناسا نے امریکی خلائی کمپنی کیٹالسٹ اسپیس کا انتخاب کیا ہے۔ کمپنی کا ایک چھوٹا خلائی جہاز سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچے گا، جہاں وہ اپنے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے دوربین کو پکڑ کر آہستہ آہستہ زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس خلائی جہاز کو نارتھروپ گرومن کے تعاون سے مارشل جزائر سے فضا میں روانہ کیا گیا ہے اور اسے دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہے۔

    ناسا نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 30 ارب روپے کے برابر بنتے ہیں۔ اگر مشن کامیاب رہا تو سوئفٹ خلائی دوربین کم از کم مزید 5 برس تک فعال رہ کر خلائی تحقیق کے لیے اہم معلومات فراہم کرتی رہے گی۔

    سوئفٹ خلائی دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا ابتدائی مشن صرف دو برس کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس دوربین نے کائنات میں رونما ہونے والے متعدد اہم خلائی واقعات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں اور آج بھی پوری طرح فعال ہے۔

    یہ دوربین خاص طور پر گاما شعاعی دھماکوں سمیت کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیگر غیر معمولی خلائی واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی نئے خلائی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، جبکہ کئی بڑی خلائی دوربینوں کو ایسا کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

    ناسا کو امید ہے کہ اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو سوئفٹ خلائی دوربین ستمبر تک دوبارہ معمول کے مطابق سائنسی مشاہدات شروع کر دے گی اور آنے والے برسوں میں بھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

  • جاپان نے خلائی پروگرام میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا

    جاپان نے خلائی پروگرام میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا

    جاپان کی خلائی ایجنسی جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (JAXA) نے پہلی بار تجرباتی دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کی کامیاب پرواز اور لینڈنگ کر کے ملک کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔

    ایجنسی کے مطابق ری یوزایبل وہیکل ایکسپیریمنٹ (RV-X) راکٹ کو شمال مشرقی جاپان کے نوشیرو ٹیسٹنگ سینٹر سے آزمایا گیا جہاں راکٹ تقریباً 11 میٹر کی بلندی تک پہنچا اور پھر 16 میٹر دور سیدھی حالت میں کامیابی سے زمین پر اتر گیا۔ 

    یہ پہلا موقع ہے کہ جاپانی خلائی ایجنسی کسی راکٹ کو کامیابی سے لانچ کرنے کے بعد بحفاظت واپس اتارنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

    JAXA کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں RV-X راکٹ کو تقریباً 100 میٹر کی بلندی تک بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے بعد مستقبل میں اسے مداری (آربیٹل) پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ 

    یہ کامیاب آزمائش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل چین نے بھی سمندر میں نصب جال نما نظام کے ذریعے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔

  • چین نے تنہائی دور کرنے والے جدید اے آئی روبوٹس متعارف کرادیے

    چین نے تنہائی دور کرنے والے جدید اے آئی روبوٹس متعارف کرادیے

    چین کی روبوٹکس کمپنی یو-بی ٹیک نے ایسے جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس انسان نما روبوٹس متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد تنہائی کا شکار افراد کو صحبت فراہم کرنا، روزمرہ کاموں میں مدد دینا اور جذباتی روابط کو بہتر بنانا ہے۔

    کمپنی کے مطابق یہ روبوٹس جدید لارج لینگویج ماڈلز، آواز کی پہچان، چہرے کی شناخت اور قدرتی انداز میں گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹس صارف کی بات چیت کو یاد رکھ سکتے ہیں، سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، یاد دہانیاں کرا سکتے ہیں اور گھر میں بنیادی معاونت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

    یو-بی ٹیک کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو خاص طور پر بزرگ افراد کی معاونت، تنہا رہنے والے افراد کی صحبت، گھریلو معلوماتی معاون اور تعلیمی و تفریحی سرگرمیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 

    کمپنی کے مطابق مستقبل میں یہ روبوٹس اس قابل ہوں گے کہ وہ صارف کی عادات کو سمجھ کر زیادہ ذاتی نوعیت کی مدد فراہم کریں گے اور گھر کے مزید پیچیدہ کام بھی انجام دیں۔

  • ناسا کا ایک برس سے غیر فعال اسپیس کرافٹ دوبارہ فعال

    ناسا کا ایک برس سے غیر فعال اسپیس کرافٹ دوبارہ فعال

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا اسپیس کرافٹ نیو ہورائزنز تقریباً ایک سال تک ہائبرنیشن (غیر فعال) حالت میں رہنے کے بعد دوبارہ فعال ہو گیا ہے، جس کے بعد سائنس دان اس کے جمع کردہ اہم ڈیٹا کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ 

    78 کروڑ اور 6 لاکھ ڈالر سے تیار کیا گیا نیو ہورائزنز پہلا خلائی مشن ہے جس نے پلوٹو کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ یہ خلائی جہاز اس وقت زمین سے تقریباً 6 ارب میل دور شمسی نظام کے بیرونی حصے میں سفر کر رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق وہاں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کائنات کی تشکیل، اس کے ارتقا اور دور دراز واقع کوائپر بیلٹ میں موجود اجرامِ فلکی سے متعلق نئی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

    ناسا کے مطابق نیو ہورائزنز طویل سفری مراحل کے دوران عموماً ہائبرنیشن موڈ میں چلا جاتا ہے۔ تاہم، اس دوران بھی وہ معلومات جمع کرکے محفوظ کرتا رہتا ہے۔ اس بار ہائبرنیشن کا دورانیہ 321 دن رہا، جو 23 جون کو اختتام پذیر ہوا۔

    خلائی ادارے نے بتایا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ خلائی جہاز مکمل طور پر درست حالت میں بیدار ہوا ہے۔ ہائبرنیشن کے دوران وہ اپنی عمومی صورتحال سے متعلق معلومات زمین پر بھیجتا رہا۔ البتہ، سائنسی آلات اور سینسرز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اب تجزیے کے لیے موصول ہونا شروع ہوگا۔ 

  • ایپل کا اپنی ’ایپل پینسل‘ کے نئے ماڈلز پر کام جاری

    ایپل کا اپنی ’ایپل پینسل‘ کے نئے ماڈلز پر کام جاری

    ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اگلے سال نئی نسل کے آئی پیڈ پرو ماڈلز کے ساتھ متعارف کرانے کے لیے ایپل پینسل کے دو نئے ماڈلز تیار کر رہی ہے۔

    بلومبرگ کے مارک گورمین کے مطابق کمپنی مبینہ طور پر اپنی ایپل پینسل کے دو نئے ماڈلز پر کام کر رہی ہے جن میں ایک یو ایس بی-سی پورٹ والا بنیادی ماڈل اور دوسرا ایپل پینسل پرو کا نیا ورژن شامل ہے۔ 

    رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے نئے قوانین کے پیش نظر (جن کے تحت الیکٹرانک ڈیوائسز میں بیٹری کو زیادہ آسانی سے تبدیل کیا جا سکے) ایپل اپنے نئے ایپل پینسل ماڈلز میں نئے بیٹری سسٹم متعارف کرا سکتا ہے۔

    اگرچہ کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ نئے ایپل پینسل میں قابلِ تبدیلی بیٹری دی جا سکتی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہیں کہ نئے ماڈلز کے ڈیزائن یا دیگر فیچرز میں کیا تبدیلیاں کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ یو ایس بی-سی پورٹ والی موجودہ ایپل پینسل نومبر 2023 میں جبکہ ایپل پینسل پرو مئی 2024 میں متعارف کرائی گئی تھی۔