Category: عالمی خبریں

  • امریکی حملوں کے بعد تہران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

    امریکی حملوں کے بعد تہران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

    امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار نگرانی کے مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ڈرونز کے انتظام سے وابستہ یونٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بعد ازاں تہران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام اقسام کے بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

    امریکی ویب سائٹ ”ایکسِیوس” کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی کارروائیاں جلد شروع کی جائیں گی۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکی افواج ایران کے اہم اہداف پر بھاری حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال کا تقاضا ہوا تو طاقت کے ذریعے مذاکرات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ”آج رات ایران پر سخت حملہ کرے گا”، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) آنے والے گھنٹوں میں کارروائیوں میں مصروف رہے گی۔ اسی دوران سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے متعدد اہداف پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں ایرانی ”مسلسل اور بلاجواز جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی جنگی طیارے اس وقت ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی براہِ راست ایرانی حکام سے بات ہوئی ہے۔ٹرمپ کے مطابق: ”ایرانیوں نے مجھ سے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے… اور ایران پر حملے جلد روک دیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف مزید حملوں کا آپشن بدستور موجود ہے۔

  • امریکی حملوں کے بعد تہران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

    امریکی حملوں کے بعد تہران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی

    امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار نگرانی کے مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ڈرونز کے انتظام سے وابستہ یونٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بعد ازاں تہران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام اقسام کے بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

    امریکی ویب سائٹ ”ایکسِیوس” کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔

    اس سے قبل امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی کارروائیاں جلد شروع کی جائیں گی۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکی افواج ایران کے اہم اہداف پر بھاری حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال کا تقاضا ہوا تو طاقت کے ذریعے مذاکرات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ”آج رات ایران پر سخت حملہ کرے گا”، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) آنے والے گھنٹوں میں کارروائیوں میں مصروف رہے گی۔ اسی دوران سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے متعدد اہداف پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں ایرانی ”مسلسل اور بلاجواز جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی جنگی طیارے اس وقت ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی براہِ راست ایرانی حکام سے بات ہوئی ہے۔ٹرمپ کے مطابق: ”ایرانیوں نے مجھ سے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے… اور ایران پر حملے جلد روک دیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف مزید حملوں کا آپشن بدستور موجود ہے۔

  • ہو سکتا ہے ایران ڈیل میں کئی ماہ لگ جائیں، جے ڈی وینس

    ہو سکتا ہے ایران ڈیل میں کئی ماہ لگ جائیں، جے ڈی وینس

    واشنگٹن (10 جون 2026): اگرچہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ دو سے تین دن میں معاہدہ ہو سکتا ہے، تاہم اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس بھی اس سوال کا واضح جواب نہیں ہے کہ ایران ڈیل دراصل کب ہوگی؟

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک ایسے معاہدے کے ’بہت قریب‘ ہے جو اس مسئلے کو ’طویل مدت‘ کے لیے حل کر دے گا، تاہم یہ معاہدہ اگلے ہفتے بھی ہو سکتا ہے یا پھر کئی ماہ بعد۔

    وینس نے سی بی ایس سنڈے مارننگ میں نشر ہونے والے، رابرٹ کوسٹا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’’اس وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسی پوزیشن میں ہیں جہاں ہم ایک ایسا معاہدہ حاصل کر سکتے ہیں جو معاشی طور پر امریکا کے لیے اچھا ہو اور جو واقعی ایرانی جوہری پروگرام سے نمٹے، صرف ابھی کے لیے نہیں، صرف اس وقت تک نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ صدر ہیں، بلکہ طویل مدت کے لیے، اس حد تک کہ جب میرے بچے بالغ ہوں تو وہ کہہ سکیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘‘

    انھوں نے مزید کہا ’’یہی اس پالیسی کا مقصد ہے۔ اور میرے خیال میں ہم اس مقصد کے حصول کے بہت قریب ہیں۔ لیکن ابھی کچھ کام باقی ہے۔ ہم اسے جاری رکھیں گے۔‘‘ وینس نے کہا کہ یہ معاہدہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے ’’یقینی طور پر‘‘ طے پا سکتا ہے۔

    جے ڈی وینس نے کہا ’’میرے خیال میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہمیں بہت کچھ معلوم ہو جائے گا۔ دیکھیے، میرے خیال میں معاہدہ اگلے ہفتے بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ معاہدہ کئی ماہ بعد ہو۔‘‘

    یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے نسبتاً مختصر مدت کی نشان دہی کی تھی۔ انھوں نے منگل کی صبح کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں ہیں اور دو یا تین دن میں معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ ایرانیوں نے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے جو پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا، اور انھوں نے عہد کیا کہ امریکا اس کا جواب دے گا۔

    وینس نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ ایرانی صدر ٹرمپ کو جان بوجھ کر ٹال مٹول کا شکار بنا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ایک بار پھر، میرے خیال میں ایران کے نظام کو اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ لوگ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے ہیں، کہ کیا آپ ایرانیوں پر اعتماد کرتے ہیں؟ اور صدر نے کہا ہے میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔ میں کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔ جس چیز پر مجھے اعتماد ہے وہ میری اپنی مذاکراتی صلاحیت ہے۔ مجھے اپنی انتظامیہ کی مذاکرات کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے اور مجھے ان نفاذی اقدامات پر اعتماد ہے جو ہم نافذ کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

  • علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، سفارتخانوں سے ویزے کب جاری ہوں گے؟

    علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، سفارتخانوں سے ویزے کب جاری ہوں گے؟

    تہران (10 جون 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کا اعلان ہوتے ہی ویزے جاری ہوں گے۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ نماز جنازہ، تدفین کے اعلان پر غیر ملکی مہمانوں کے استقبال کی گنجائش کا تعین کیا جائے گا اور اس کے بعد دنیا بھر میں ایرانی سفارت خانے انٹری ویزے جاری کریں گے۔

    واضح رہے کہ مشہد میں سرکاری جنازے اور تدفین کی تقریبات مؤخر کر دی گئی ہیں۔ حکام نے محرم الحرام کے احترام اور بڑی تعداد میں آنے والے سوگواروں کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ان تقریبات کو ملتوی کیا ہے۔

    وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جیسے ہی جنازے کی تقریبات کی حتمی تاریخوں کا سرکاری اعلان کیا جائے گا اور میزبان شہروں کی زائرین کو سنبھالنے کی استعداد کا جائزہ مکمل ہو جائے گا، دنیا بھر میں ایرانی سفارت خانے شرکا کے لیے داخلے کے ویزوں کی درخواستوں پر کارروائی شروع کر دیں گے اور ویزے جاری کریں گے۔

    سرکاری شیڈول اور ویزا درخواست کے طریقہ کار سے متعلق مزید پیش رفت کے لیے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ یا اپنے ملک میں موجود ایرانی سفارتی مشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

  • 3 ارب ڈالر ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، ایرانی نائب وزیر خارجہ کی تردید

    3 ارب ڈالر ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، ایرانی نائب وزیر خارجہ کی تردید

    ابوظبی (10 جون 2026): اسرائیلی میڈیا کان نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اثاثے ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔

    ایرانی وانا نیوز ایجنسی کے مطابق کئی غیر ملکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے ایران کے 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے تہران منتقل کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ اقدام خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔

    اسرائیلی نشریاتی ادارے Kan کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اثاثے ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے منتقل کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بدلے ایران سے کہا گیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنے حملے روک دے۔ کان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس منتقلی کے ساتھ ایک پیغام بھی بھیجا گیا، جو مبینہ طور پر امریکا کی جانب سے پہنچایا گیا تھا، جس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پیغامات کے اس تبادلے میں ایک قطری وفد نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور اثاثے لے جانے والا طیارہ کامیابی سے تہران پہنچا۔ کچھ مغربی ذرائع نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ خلیج فارس کے کئی ممالک تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور اعتماد بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ اسی تناظر میں رپورٹس میں قیاس آرائی کی گئی ہے کہ یو اے ای ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بعض رعایتیں دے رہا ہے۔

    تاہم ایران، متحدہ عرب امارات، امریکا یا قطر کی کسی سرکاری اتھارٹی نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے، اور یہ رپورٹس تاحال غیر مصدقہ میڈیا دعوؤں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر لکھا کہ منجمد اثاثے خطے کے ممالک کو منتقل کیے جانے کے دعوے بے بنیاد ہیں، ایسی رپورٹس مخلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔

  • امریکی صحافی ڈیوڈ رھوڈ کو یرغمال بنانے والے حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا

    امریکی صحافی ڈیوڈ رھوڈ کو یرغمال بنانے والے حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا

    نیویارک (10 جون 2026): امریکی صحافی ڈیوڈ رھوڈ کو اغوا کر کے یرغمال بنانے والے طالبان رہنما حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ نے گزشتہ سال اپنے اعترافِ جرم میں کہا تھا کہ اس نے طالبان کے ان ارکان کی مدد کی تھی جو امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اور 2008 میں اس نے صحافی ڈیوڈ رھوڈ، جو اس وقت نیویارک ٹائمز کے رپورٹر تھے، کے علاوہ ایک افغان صحافی اور ان کے ڈرائیور کے اغوا میں بھی مدد کی تھی۔

    منگل کے روز مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت کی جج کیتھرین پولک فیلا نے سزا سناتے ہوئے کہا ’’مسٹر نجیب اللہ کے اقدامات میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت اور ان کو ممکن بنانا شامل تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ملزم نے یرغمال بنانے کی کارروائی ’’بے حسی پر مبنی سفاکیت‘‘ اور ’’نفسیاتی اذیت‘‘ کے ساتھ انجام دی۔

    استغاثہ نے جج فیلا سے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا اور عدالت کو لکھا تھا کہ ’’شہریوں کو یرغمال بنائے جانے سے زیادہ شیطانی اور اخلاقی طور پر غلط طرزِ عمل کا تصور کرنا مشکل ہے۔‘‘ استغاثہ نے مزید کہا کہ نجیب اللہ 2008 میں اپنے زیرِ کمان جنگجوؤں کے ایک حملے کا بھی ذمہ دار تھا جس میں 3 امریکی فوجی اہلکار اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوئے تھے۔ مقتولین میں سے بعض کی لاشوں کو مسخ یا نذرِ آتش بھی کیا گیا تھا۔

    استغاثہ نے لکھا کہ ملزم ایک ایسے پرتشدد باغی گروہ کی قیادت کر رہا تھا جو امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ جب کہ نجیب اللہ کے وکلا، جنھوں نے 18 سال قید کی سزا کی درخواست کی تھی، نے کہا کہ اگرچہ ان کا مؤکل اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ طالبان کی اس کی حمایت 2008 کی ہلاکتوں کا باعث بنی، لیکن اس کا مؤقف ہے کہ وہ اس حملے میں شریک نہیں تھا، نہ اس نے اس کی ہدایت دی تھی، اور نہ ہی وہ اغوا کی کارروائی کے ’’اہم نگرانوں‘‘ میں شامل تھا۔

    دفاعی وکلا نے مزید کہا کہ نجیب اللہ کی ندامت، طالبان میں اس کا نسبتاً نچلا عہدہ اور بطور کمانڈر اس کی محدود مدت اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ’’ایسا بے توبہ دہشت گرد نہیں جسے ایسی سزا دی جائے کہ وہ صرف تابوت میں ہی جیل سے باہر نکلے۔‘‘

    منگل کو سزا سنائے جانے سے قبل نجیب اللہ نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ رھوڈ سے معافی مانگی۔ اس نے کہا ’’ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ خوف ناک تھا اور اس میں اپنے کردار پر مجھے گہرا افسوس ہے۔‘‘ ڈیوڈ رھوڈ نے بھی عدالت میں گفتگو کی۔ انھوں نے 2008 کے حملے میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کے نام لیے، ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے درد، نقصان اور غم کا حوالہ دیا، اور یرغمال بنانے کو ایک ظالمانہ اور بزدلانہ جرم قرار دیا۔

    واضح رہے کہ ڈیوڈ رھوڈ 2008 میں افغانستان میں ایک کتاب کے لیے تحقیق کے دوران نجیب اللہ سے ملاقات کی کوشش کر رہے تھے جب انھیں افغان صحافی طاہر لودین اور ڈرائیور اسداللہ منگل سمیت اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں انھیں پاکستان کے اس علاقے میں منتقل کر دیا گیا جو طالبان کے کنٹرول میں تھا۔ وہ دو ساتھیوں سمیت 7 ماہ تک حاجی نجیب اللہ کی قید میں رہے۔

    سات ماہ قید میں رہنے کے بعد رھوڈ اور طاہر لودین ایک طالبان کمپاؤنڈ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے ایک رسی کے ٹکڑے کی مدد سے رات کے وقت دیوار پھلانگی اور پیدل چل کر پاکستانی فوج کے ایک اڈے تک پہنچ گئے۔ استغاثہ کے مطابق اسد اللہ منگل تقریباً پانچ ہفتے بعد ایک جھڑپ کے دوران فرار ہو گئے تھے۔

  • ایران جنگ کی آڑ میں امریکا نے اپنے خزانے کیسے بھر لیے؟

    ایران جنگ کی آڑ میں امریکا نے اپنے خزانے کیسے بھر لیے؟

    واشنگٹن (10 جون 2026): ایک طرف ایران جنگ سے ساری دنیا پریشان ہے دوسری طرف امریکا نے اس آڑ میں اپنے خزانے دولت سے بھر لیے ہیں۔

    امریکا نے ایران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران توانائی کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے بحران سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جنگ کے باعث خام تیل کی سپلائی چین متاثر ہوئی اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئیں، جس سے امریکا جیسے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    اپریل میں امریکا کی مجموعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جب کہ تجارتی خسارے میں بھی کمی دیکھی گئی۔ امریکی محکمہ کامرس کے مطابق اپریل میں برآمدات 2.6 فی صد اضافے کے بعد 327.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی دوران امریکی تجارتی خسارہ 1.2 فی صد کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر رہ گیا۔ مارچ کے تجارتی خسارے کا تخمینہ بھی نظرثانی کے بعد 60.3 ارب ڈالر سے کم کر کے 56.6 ارب ڈالر کر دیا گیا۔

    برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ اشیا کی فروخت میں بہتری رہی۔ صرف اشیا کی برآمدات 4.1 فی صد بڑھ کر 221.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ امریکی برآمدات میں سب سے نمایاں کردار پٹرولیم مصنوعات کا رہا۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ امریکا، جو تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا۔

    اپریل میں امریکا کی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر رہیں، جب کہ مارچ میں یہ 27.6 ارب ڈالر تھیں۔ اس اضافے کی وجہ صرف بلند قیمتیں نہیں بلکہ تیل کی برآمدی مقدار میں اضافہ بھی تھا۔

    تیل کی عالمی طلب میں اضافے سے دیگر صنعتی مصنوعات کی برآمدات کو بھی سہارا ملا۔ صنعتی سامان اور سپلائیز کی برآمدات بڑھ کر 89 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ اسی طرح امریکی پٹرولیم تجارتی سرپلس مارچ کے 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17.7 ارب ڈالر ہو گیا۔

    ماہرین کے مطابق اگر برآمدات کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی اقتصادی نمو کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

  • پینٹاگون نے چین کی بڑی کمپنیوں علی بابا اور بی وائی ڈی کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا

    پینٹاگون نے چین کی بڑی کمپنیوں علی بابا اور بی وائی ڈی کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا

    واشنگٹن: پینٹاگون نے چین کی بڑی کمپنیوں علی بابا، بی وائی ڈی کو بلیک لسٹ میں شامل کردیا اور چینی فوج کی معاون قراردیا۔

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے چین کی کئی بڑی کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے، جن میں علی بابا، بی وائی ڈی اور بائیڈو بھی شامل ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا کہ امریکی حکومت نے ان کمپنیوں کو چینی فوج کی معاون قرار دیتے ہوئے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

    پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں چین کی فوجی جدیدکاری اور تکنیکی ترقی میں معاونت کر رہی ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق اس اقدام کے بعد امریکی بلیک لسٹ میں شامل چینی کمپنیوں کی تعداد بڑھ کر 188 ہو گئی ہے، بلیک لسٹ میں شامل کمپنیوں کو رواں ماہ سے امریکی دفاعی معاہدوں میں شرکت کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔

    دوسری جانب چینی سفارت خانے نے امریکی اقدام کو امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

    الجزیرہ کی جانب سے کہا گیا کہ علی بابا نے بھی امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان چینی کمپنیوں کو امریکی اسٹاک ایکسچینجز سے بھی ہٹایا جائے۔

    یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور تزویراتی کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ بی وائی ڈی دنیا کی بڑی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے جبکہ بائیڈو چین کی معروف انٹرنیٹ سرچ کمپنی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیوں کے اثرات امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • سوشل میڈیا پر زیورات کی نمائش خاتون کو بہت مہنگی پڑ گئی!

    سوشل میڈیا پر زیورات کی نمائش خاتون کو بہت مہنگی پڑ گئی!

    (9 جون 2026): آج کل لوگوں میں اپنی ہر چیز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی عادت ہو گئی ہے لیکن ایک خاتون کو یہ عادت بہت مہنگی پڑ گئی۔

    کھانا ہو یا تفریح، کھیل ہو یا تقریب، شاپنگ ہو یا گھر کی سجاوٹ، اب لوگوں کی بڑی تعداد اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی سوشل میڈیا پر نمائش کرنے لگ گئے ہیں۔ تاہم ایک خاتون کو یہ عادت اتنی مہنگی پڑی کہ ساری زندگی یاد رہے گی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں چور ایک گھر سے طلائی زیورات لے اڑے، جن کی مالیت 10 لاکھ بھارتی روپے (پاکستانی 30 لاکھ روپے سے زائد) بتائی جاتی ہے۔

    چوری کی واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس جب جائے وقوعہ پر پہنچی اور تفتیش کی تو پتہ چلا کہ گھر میں نقب لگا کر داخل ہونے والے چور گھر کے ایک ایک کمرے اور زیورات کہاں رکھے ہیں، سب کی معلومات رکھتے تھے۔

    پولیس نے جب واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو ایک نقاب پوش شخص کو گھر کے باہر ان کیمروں کا زاویہ تبدیل کرتے دیکھا گیا، جس سے یہ شبہ ہوا کہ اس بڑی چوری میں کسی جاننے والے کا ہاتھ ہے، جو گھر کا فرد یا گھر میں اس کا معمول کا آنا جانا ہوتا ہے۔

    تاہم تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ گھر کی خاتون سوشل میڈیا کی مشہور وی لاگر ہے، اور اس نے اپنے گھر، طرز زندگی اور زیورات کی متعدد بار سوشل میڈیا پر نمائش کی۔

    پولیس کے مطابق چوروں نے ان ہی سوشل میڈیا ویڈیوز سے گھر کے اندرونی نقشے اور قیمتی اشیا کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور بعد ازاں واردات کو عملی جامہ پہنایا۔

  • اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے، امریکی محکمہ خارجہ

    اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے، امریکی محکمہ خارجہ

    واشنگٹن (04 جون 2026): امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے باہمی دشمنی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔

    ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔ اس سے قبل ایران نے کویت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جب کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔

    دونوں فریق گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں حزب اللہ کے خلاف لبنان میں کارروائی شروع کی تھی، جس نے ایران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔

    کویت اور آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فی صد اضافہ ہوا، جب کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے۔

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کویت کے ہوائی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا اور تباہی کا ذمہ دار امریکی دفاعی میزائلوں کو قرار دیا، جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج جنگ دوبارہ شروع کرنے اور کسی بھی وقت اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ہیں، اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو مسلح افواج فیصلہ کن جواب دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو ایران اور لبنان میں جنگ بند ہو جائے گی یا کسی بھی ملک میں نہیں رکے گی۔

    عراقچی نے کہا میں نے اپنی رابطہ فہرست میں موجود تمام لوگوں پر واضح کر دیا ہے، بیروت کے خلاف جارحیت کا نتیجہ جنگ کی طرف واپسی ہوگا، بیروت کے خلاف جارحیت کا مقابلہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے ساتھ رابطہ منقطع نہیں ہوا لیکن مذاکرات میں کوئی پیش رفت بھی نہیں ہوئی، مذاکرات کی واپسی ایرانی حقوق کے تحفظ، خطے میں جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوگی۔