امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار نگرانی کے مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ڈرونز کے انتظام سے وابستہ یونٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بعد ازاں تہران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام اقسام کے بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی ویب سائٹ ”ایکسِیوس” کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی کارروائیاں جلد شروع کی جائیں گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکی افواج ایران کے اہم اہداف پر بھاری حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر صورتحال کا تقاضا ہوا تو طاقت کے ذریعے مذاکرات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ”آج رات ایران پر سخت حملہ کرے گا”، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) آنے والے گھنٹوں میں کارروائیوں میں مصروف رہے گی۔ اسی دوران سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے متعدد اہداف پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں ایرانی ”مسلسل اور بلاجواز جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی جنگی طیارے اس وقت ایران کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی براہِ راست ایرانی حکام سے بات ہوئی ہے۔ٹرمپ کے مطابق: ”ایرانیوں نے مجھ سے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے… اور ایران پر حملے جلد روک دیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف مزید حملوں کا آپشن بدستور موجود ہے۔









