Category: عالمی خبریں

  • برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    لندن (22 جون 2026): برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

    برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا برطانوی بادشاہ کو آج صبح اپنے استعفے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے، اقتدار کی منتقلی تک وزیر اعظم رہوں گا اور اپنے فرائض انجام دیتا رہوں گا۔

    کیئر اسٹارمر استعفے کا اعلان کرتے ہوئے آب دیدہ ہو گئے، انھوں نے کہا میں آنے والے وزیر اعظم کی مکمل حمایت اور ان کے ساتھ تعاون کروں گا۔ واضح رہے کہ برطانوی میڈیا نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں کابینہ اور مشیروں سے مشاورت بھی کی۔

    وزیر اعظم نے کہا ’’میں دو سال پہلے آیا تو انتہائی پرجوش تھا، مجھے بار بار بتایا گیا کہ ہماری پارٹی کمزور اور ختم ہو گئی ہے، میں نے دو سال میں معیشت کو مضبوط کیا اور ملک کے لیے کام کیا، ان دو سالوں میں انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا اور معیشت کے لیے کام کیا۔‘‘

    انھوں نے کہا ’’دو سال کے دوران دفاع میں خطیر رقم خرچ کی، بچوں کو سوشل میڈیا کے برے اثرات سے بچانے کی کوشش کی، اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا، اور برطانوی عوام کی فلاح و بہبود میری ترجیح رہی۔‘‘ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ بلدیاتی الیکشن میں لیبر پارٹی کی شکست کے بعد وزیر اعظم اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔

  • چاہتا ہوں شامی صدر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں، ٹرمپ

    چاہتا ہوں شامی صدر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں، ٹرمپ

    واشنگٹن (22 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ شامی صدر احمد الشرع لبنانی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں عمارتیں تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا، حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں نے مایوس کیا۔ صدر نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ شام کے صدر احمد الشرع جنوبی لبنان میں داخل ہو کر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے چیف فارن کورسپانڈنٹ ٹری ینگسٹ کے ساتھ 20 منٹ کی خصوصی ٹیلیفونک گفتگو میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو سخت انتباہ جاری کیا، ساتھ ہی حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر کھل کر تنقید بھی کی۔

    واضح رہے کہ اس انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کو آبنائے ہرمز کسی صورت بند نہ کرنے کی وارننگ دی تھی، اور کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے، ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، ایرانی مذاکرات کار اپنے ملک واپس نہیں جا سکیں گے۔

    جب وہ اس انٹرویو میں، حزب اللہ کے ہاتھوں 5 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر، ایران کو دھمکا رہے تھے، تب ان کے نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔

    چیف فارن کورسپانڈنٹ نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن کے لیے ایک متوازی سفارتی راستے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے محصولات کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب تک کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد نہ کیے جائیں۔

    دوسری طرف شامی صدر احمد الشرع نے اتوار کے روز لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد کر دیا۔

  • چین نے 10 امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    چین نے 10 امریکی فوجی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    بیجنگ(22 جون 2026): چین نے امریکی عائد پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے 10 امریکی فوجی کمپنیوں کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔

    چین نے چینی ٹیک کمپنیوں کو امریکی دفاعی معاہدوں سے روکنے کے واشنگٹن کے حالیہ اقدام کا کرارا جواب دیتے ہوئے پیر کے روز امریکا کی 10 فوجی اور دفاعی کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    چینی وزارتِ تجارت کے مطابق ان 10 امریکی کمپنیوں کو چین سے ‘دوہرے استعمال کی اشیاء برآمد کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔ ان اشیاء سے مراد وہ سامان ہے جو فوجی اور غیر فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

    جن کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں فوجی ڈرون بنانے والے اور نایاب معدنیات کی مائننگ میں ملوث امریکی ادارے شامل ہیں۔

    چینی وزارت نے واضح کیا کہ یہ اقدام چین کی قومی سلامتی کے تحفظ اور امریکی حکومت کی جانب سے چینی فوجی کمپنیوں کی خود ساختہ فہرست کی غلط توسیع کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چین کی وزارتِ مالیات نے بھی ایک علیحدہ بیان میں سرکاری اداروں کو 46 امریکی کمپنیوں سے مصنوعات خریدنے سے روک دیا ہے، جن میں لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور جنرل ڈائنامکس کی متعدد ذیلی کمپنیاں شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں امریکی محکمہ دفاع نے علی بابا اور بائیڈو جیسی معروف چینی ٹیک کمپنیوں کو مبینہ طور پر چینی فوج سے روابط کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا، جس کے بعد وہ امریکی فوجی معاہدے حاصل کرنے کے اہل نہیں رہی تھیں۔

    بائیڈو نے اس امریکی الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا۔ اس وقت چینی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ امریکی پابندیاں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مئی میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے اتفاقِ رائے کے منافی ہیں۔

    پیر کو جاری کردہ نئے اعلانات کے تحت بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی کمپنیوں یا افراد کو بھی چین سے دوہرے استعمال کی اشیاء ان پابندیوں کا شکار امریکی فرموں کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم، چینی کمپنیاں انتہائی ناگزیر اشیاء کے لیے خصوصی برآمدی منظوری کی درخواست دے سکیں گی۔

  • امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ، اسرائیل ایران امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے: رپورٹ

    امریکی انٹیلیجنس کا انتباہ، اسرائیل ایران امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے: رپورٹ

    واشنگٹن (20 جون 2026): امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکا ایران معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    امریکی اخبار نے موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے، حالاں کہ حال ہی میں طے پانے والی امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے۔

    امریکی عہدے دار نے کہا کہ اگرچہ صورت حال مزید کشیدہ نہ بھی ہو، تب بھی جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے انکار کے باعث یہ نازک معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔ عہدے دار نے کہا ’’لبنان کے کسی حصے پر مسلسل قبضہ برقرار رکھنا تباہی کا نسخہ ہے، اسرائیل کے مکمل انخلا کے بغیر اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے امکانات تقریباً یقینی ہیں۔‘‘

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ’’واحد طاقت ور اتحادی‘‘ کو خود سے دور نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت پوری دنیا میں صدر ٹرمپ ہی واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کے لیے ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘‘

    دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار نے انادولو ایجنسی کو تصدیق کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

  • کویت کا مذاق اڑانے پر 3 سال قید کی سزا

    کویت کا مذاق اڑانے پر 3 سال قید کی سزا

    کویت سٹی (20 جون 2026): کویت کا مذاق اڑانے پر دو کویتی شہریوں کو تین سال قید کی سزا ہو گئی ہے۔

    کویت کی اپیلز کورٹ نے نچلی عدالت کا ایک فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے دو کویتی شہریوں کو ملک کی موجودہ صورت حال کا مذاق اڑانے سے متعلق مقدمے میں تین، تین سال قیدِ با مشقت کی سزا سنا دی۔

    مقامی اخبار کے مطابق یہ مقدمہ وزارتِ داخلہ کے اس بیان کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، جس میں دو کویتی شہریوں اور ایک کولمبین باشندے کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان افراد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں انھیں توہین آمیز اور نامناسب جملے ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں موجود مواد متعدد جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جن میں جھوٹی خبریں پھیلانا، قومی مفادات کو نقصان پہنچانا اور ٹیلی فون کے غلط استعمال جیسے جرائم شامل ہیں۔

    وزارت نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انھیں متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا کہ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے یا قومی سلامتی کو متاثر کرنے والا مواد شائع یا پھیلانے والے کسی بھی شخص کے خلاف قانون کا سختی سے اطلاق کیا جائے گا۔

  • ایران جنگ کے باوجود امریکا وہیں کھڑا ہے، شاید پہلے سے بھی بدتر: اوباما

    ایران جنگ کے باوجود امریکا وہیں کھڑا ہے، شاید پہلے سے بھی بدتر: اوباما

    واشنگٹن (20 جون 2026): سابق امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے پہلے امریکا جس صورت حال میں تھا، ملک یا تو دوبارہ اُسی مقام پر آ گیا ہے یا شاید اب اس سے بھی بدتر حالت میں ہے۔

    اوباما نے این بی سی کے پروگرام ’’ٹوڈے‘‘ کے شریک میزبان کریگ میلون کو جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ’’ہم نے ایک جنگ لڑی، اربوں ڈالر خرچ کیے، اپنی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈالا، بہت سے لوگ جان سے گئے، اور اب محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہیں واپس آ گئے ہیں جہاں جنگ شروع کرنے سے پہلے تھے، بلکہ شاید کچھ زیادہ خراب حالت میں۔‘‘

    انھوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں ردعمل میں کہا ’’مجھے جنگ بندی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ برقرار رہے گی۔‘‘

    سابق صدر نے ایران کے خلاف جنگ کی وجوہ پر بھی سوال اٹھایا۔ اوباما نے یاد دلایا کہ ان کے دورِ حکومت میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے کے تحت ’’ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘‘

    انھوں نے کہا ’’اس انتظامیہ، یا اس انتظامیہ کی سابق شکل، نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کر لیا۔‘‘

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی تھی۔ اس معاہدے میں 25 سال سے زائد مدت کے دوران تہران کے لیے تفصیلی اقدامات طے کیے گئے تھے، تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکا جا سکے۔ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں۔

    اوباما نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس وقت انتشار اور سیاسی تقسیم کے دور سے گزر رہے ہیں، لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری جمہوریت، ہمارے شہری رویے اور اقدار، اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہماری مشترکہ سمجھ بوجھ کمزور پڑنا شروع ہو گئی ہے۔

    انھوں نے کہا ’’ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے منتخب نمائندوں کو جواب دہ بنائیں، اور میرے خیال میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ذمہ داری اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔‘‘

  • ’’اسپین میں رہائش‘‘ غیر قانونی تارکین وطن کیلیے نئی پالیسی منظور

    ’’اسپین میں رہائش‘‘ غیر قانونی تارکین وطن کیلیے نئی پالیسی منظور

    میڈرڈ (18 جون 2026): اسپین کی حکومت نے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

    اسپین کی حکومت نے ایک پالیسی منظور کی ہے جس کے تحت ملک میں موجود تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    اس منصوبے کے تحت اہل افراد کو ایک سال کا قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اپنی قانونی حیثیت درست کر سکیں گے اور مرحلہ وار اسپین کے باقاعدہ روزگار اور انتظامی نظام کا حصہ بن سکیں گے۔

    تاہم اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ یکم جنوری سے پہلے اسپین پہنچ چکے تھے اور درخواست دینے سے پہلے کم از کم پانچ ماہ سے وہاں مقیم ہیں۔

    اس کے علاوہ انہیں یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے۔

    درخواست کیسے جمع کرائیں؟

    درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔ تاہم ابتدائی طور پر درخواستیں آن لائن 16 اپریل سے جمع کرائی جا سکتی ہیں، جبکہ 20 اپریل سے درخواستیں ذاتی طور پر بھی جمع کروانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    جن افراد کو یہ عارضی قانونی حیثیت مل جائے گی، وہ ایک سال مکمل ہونے کے بعد اسپین کے موجودہ امیگریشن نظام کے تحت دیگر اقسام کے ورک پرمٹ یا رہائشی اجازت ناموں کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

    اگر کسی درخواست گزار کے ساتھ اس کے قریبی خاندان کے افراد، جیسے شریکِ حیات، رجسٹرڈ پارٹنر یا قریبی رشتہ دار ایک ہی گھر میں رہتے ہوں تو ان کی درخواستوں پر بھی بیک وقت کارروائی کی جائے گی تاکہ خاندان کو الگ نہ کیا جائے۔

    درخواست گزاروں کو ایک ماہ میں اپنے آبائی ملک سے مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر کے جمع کرانا ہوگا۔

    درخواست جمع کروانے میں سہولت کے لیے حکومت نے ملک بھر میں مختلف مراکز مقرر کیے ہیں جہاں ذاتی طور پر درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں، جن میں 60 سوشل سکیورٹی دفاتر، 371 ڈاک خانے اور پانچ امیگریشن دفاتر شامل ہیں۔

  • فن لینڈ کا جوہری ہتھیاروں پر پابندی ختم کرنے کا اعلان

    فن لینڈ کا جوہری ہتھیاروں پر پابندی ختم کرنے کا اعلان

    ہیلسنکی(18 جون 2026): فن لینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک میں جوہری ہتھیاروں پر عائد دیرینہ پابندی کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا “یورو نیوز” کے مطابق اس تاریخی فیصلے کے بعد فن لینڈ کی دفاعی پالیسی میں ایک بہت بڑی اور اہم تبدیلی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کی جانب سے یہ اقدام عالمی فوجی اتحاد نیٹو میں شمولیت کے بعد اپنی پالیسیوں کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے تحت کیا گیا ہے۔اس فیصلے کا بنیادی مقصد موجودہ دور کے بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی حالات کے مطابق ملک کے دفاع کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔

    اس قانون سازی کے بعد اب مخصوص اور ہنگامی حالات میں ملک کے اندر جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی اجازت ممکن ہو سکے گی۔ نئے فیصلے کے تحت فن لینڈ میں ایٹمی ہتھیاروں کی درآمد، منتقلی اور انہیں رکھنے کی اجازت دی جا سکے گی۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی اس تاریخی ووٹنگ کے ذریعے فن لینڈ کا سال 1980 کا پرانا ‘نیوکلیئر انرجی ایکٹ’ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ملک میں جوہری ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد تھی۔

  • افغانستان میں سرکاری ملازمین بڑی پابندی عائد

    افغانستان میں سرکاری ملازمین بڑی پابندی عائد

    کابل (18 جون 2026): افغانستان میں قابض طالبان حکومت نے ملک بھر میں سرکاری ملازمین پر بڑی پابندی عائد کر دی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس حکمنامے پر بدھ سے عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے اسمارٹ فونز پر پابندی کا خط گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شروع ہوا تھا اور اس خط پر افغان سپریم کورٹ کا مخصوص نشان بھی موجود تھا۔

    خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ’تمام شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اسٹاف کو آگاہ کریں کہ اسمارٹ فون کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور یہ 17 جون سے نافذ ہو گیا ہے۔‘

    خط میں فوجی اور سویلین محکموں کے تمام اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے میں چُھوٹ صرف سپریم لیڈر ہی دے سکتے ہیں۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمین سے رابطہ اب ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے کیا جا سکے گا۔

    اس حوالے سے سرکاری ملازمین نے بتایا کہ انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو بھی اسمارٹ فون استعمال کرے گا، اس کو ملازمت سے نکالنے کے ساتھ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

    دریں اثنا غزنی صوبہ جو دارالحکومت کابل اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ (قندھار) کے درمیان واقع ہے، میں سرکاری ملازمین نے منگل کی شام سے ہی اپنے موبائل فون بند کرنا شروع کر دیے تھے۔

  • ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ

    ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ

    کراچی (17 جون 2026) : امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی میں نمایاں بہتری جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی سامنے آئی ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ہونے والے معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں 15 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے سبب مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی عمل کی بحالی سے اقتصادی صورتحال بہتر ہوگی۔

    غیر ملکی زرِمبادلہ کی شرح پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ “پشیزی ڈاٹ کام” کے اعداد و شمار کے مطابق اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 18 لاکھ 10 ہزار ریال تھی جو بدھ کے روز کم ہوکر 15 لاکھ 20 ہزار ریال تک آگئی۔

    ایران کی سرکاری کرنسی ریال ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں شرح مبادلہ عموماً تومان میں بیان کی جاتی ہے، جہاں ایک تومان 10 ریال کے برابر ہوتا ہے اس حساب سے 15 لاکھ 20 ہزار ریال، ایک لاکھ 52 ہزار تومان کے مساوی ہیں۔

    اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ بہتری ایرانی کرنسی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جو جنگی اخراجات، بلند افراطِ زر اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد مارچ میں ڈالر کی قیمت تقریباً 19 لاکھ 30 ہزار ریال کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی دیکھی گئی تھی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت برقرار رہی تو ایرانی معیشت اور کرنسی کو مزید استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ڈھائی ماہ قبل امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ایرانی کرنسی کی خریداری میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا۔

    ان سرگرمیوں کی وجہ سے چند سو روپے میں فروخت ہونے والی ایک کروڑ ایرانی کرنسی کی قیمت یکدم 12ہزار کی سطح تک پہنچ گئی تھی۔