Category: عالمی خبریں

  • ایران کے 3 شہروں میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور سوگ کی تیاریاں

    ایران کے 3 شہروں میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور سوگ کی تیاریاں

    تہران : ایران کے 3 شہروں میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور سوگ کی تیاریاں جاری ہے ، آخری رسومات کا سلسلہ عراق تک پھیلے گا۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر ملک بھر میں شدید سوگ کا سماں ہے اور تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں آخری رسومات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کی بیٹی، بہو، داماد اور نواسی کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی، اس تاریخی اور سوگوار اجتماع میں دنیا بھر سے اہم شخصیات اور لاکھوں زائرین کی شرکت متوقع ہے۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سوگ کی ان عالمی تقریبات میں شرکت کے لیے بین الاقوامی مہمانوں، سربراہانِ مملکت اور وفود کی آمد کا سلسلہ جمعہ سے شروع ہو جائے گا۔

    تہران کے مصلّٰی امام خمینی عیدگاہ کمپلیکس میں 4 اور 5 جولائی کو سوگ کی مرکزی تقریبات منعقد ہوں گی، تہران کے مشہور مقامات ‘انقلاب روڈ’، ‘لشکری روڈ’ اور ‘آزادی روڈ’ پر 6 جولائی کو نمازِ جنازہ کا تاریخی اجتماع ہوگا، جس میں ایرانی حکام کے دعوے کے مطابق ڈیڑھ سے دو کروڑ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔

    تاریخی رش اور مہمانوں کی آمد کے پیشِ نظر تہران اور مضافاتی علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے گئے ہیں، مہمانوں کی رہائش کے لیے 1500 اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی ہاسٹلز تیار کر لیے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ تہران کے مضافاتی علاقوں میں بھی مزید 800 سے زائد تعلیمی اداروں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ سوگ کی ان بڑی تقریبات کے دوران شہر میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل روٹس کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

    تہران کے بعد آخری رسومات کا سلسلہ ایران کے دیگر مقدس شہروں اور عراق تک پھیلے گا، ایران کے مقدس شہر قم میں سوگ کی تقریبات ہوں گی، جہاں زائرین کے لیے 500 تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز مختص کیے گئے ہیں۔

    شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف، کربلا، کاظمین اور دارالحکومت بغداد لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں عراقی شہریوں کی شرکت اور بڑے تعزیتی اجتماعات متوقع ہیں۔

    عراق سے واپسی پر 9 جولائی کو ایران کے شہر مشہد مقدس میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے اندر ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا جائے گا۔

  • قطر کا امریکا کے ساتھ بالواسطہ سفارتی عمل اور ایران کے اثاثوں کی منتقلی پر تبادلہ خیال

    قطر کا امریکا کے ساتھ بالواسطہ سفارتی عمل اور ایران کے اثاثوں کی منتقلی پر تبادلہ خیال

    دوحہ(30 جون 2026): قطر کی وزارتِ خارجہ نے امریکی حکام اور ایرانی وفد کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی ایلچی دوحہ میں موجود ہیں لیکن ان کی ایرانی حکام سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی مندوب جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف مستقبل کے امن عمل اور مذاکرات کے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے قطر کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ مذاکرات کی پیشرفت پر قطری ثالثوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے منجمد کیے گئے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ابھی تک تہران کو منتقل نہیں کیے گئے اور ان فنڈز کی منتقلی تہران واشنگٹن مذاکرات کی پیشرفت سے مشروط ہے۔

    قطری حکام اور امریکی ایلچی کے درمیان ان منجمداثاثوں کی منتقلی اور دیگر مالیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے کو روکنے اور کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے ایک خصوصی ہاٹ لائن کا استعمال کیا گیا، جس نے صورتحال پر قابو پانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    قطری حکام کا مزید کہنا تھا کہ قطر اس وقت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے عمان کی حکومت سے بھی مسلسل رابطے میں ہے۔

     قطری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی سب سے مقدم ہے اور خطے میں امن قائم کرنے اور بحری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • ’’نمک‘‘ تیل کی جگہ لے سکتا ہے، توانائی شعبے میں مستقبل کی چونکا دینے والی پیشگوئی

    ’’نمک‘‘ تیل کی جگہ لے سکتا ہے، توانائی شعبے میں مستقبل کی چونکا دینے والی پیشگوئی

    واشنگٹن (30 جون 2026): امریکی کثیر القومی بینک مورگن اسٹینلے نے توانائی شعبے میں مستقبل کی پیشگوئی کرتے ہوئے نمک کو تیل کا متبادل قرار دیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے کثیر القومی بینک مورگن اسٹینلے نے مستقبل میں عالمی توانائی کے شعبے سے متعلق غیر معمولی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ”نمک” (سوڈیم) تیل کی طرح ایک اہم اسٹریٹجک کموڈٹی بن سکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق بینک مورگن اسٹینلے کے مطابق آنے والے برسوں میں نمک کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ سوڈیم آئن بیٹریاں توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار جیک لو اور ان کی ٹیم کا اندازہ ہے کہ یہ بیٹریاں 2030 تک عالمی بیٹری مارکیٹ کا تقریباً 20 فیصد حصہ حاصل کر لیں گی، جبکہ 2035 تک یہ حصہ بڑھ کر 37 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

    لو نے اس ابھرتے ہوئے دور کو ”نئے تیل کا دور”’قرار دیا ہے، جو توانائی کے مستقبل میں سوڈیم کے مرکزی کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سوڈیم آئن بیٹریاں اپنی کم لاگت کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جو لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 40 فیصد سستی ہیں اور کم درجہ حرارت میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔

    یہ تبدیلی زیادہ تر کم قیمت اور زیادہ مؤثر سوڈیم آئن بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے متوقع ہے، جو مصنوعی ذہانت کے دور میں توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہیں۔

    ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ بیٹریوں کی مارکیٹ موجودہ تجرباتی مرحلے سے بڑھ کر 2030 تک سالانہ 830 گیگا واٹ آور تک پہنچ جائے گی، جبکہ 2035 تک یہ بڑھ کر 2.4 ٹیرا واٹ آور تک جا سکتی ہے۔

    تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیٹریوں کی مارکیٹ کی اس توسیع کے لیے 2035 تک تقریباً 800 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری درکار ہوگی، تاکہ سپلائی چین اور پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔

    اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑی کمپنیاں، اپنی عالمی موجودگی، مضبوط کسٹمر نیٹ ورک اور تحقیقاتی صلاحیتوں کی بدولت اس ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں برتری حاصل کر سکتی ہیں اور کم لاگت سے لے کر اعلیٰ ویلیو ایپلیکیشنز تک مصنوعات تیار کر سکتی ہیں۔

  • اپنی حد میں رہیں ! ایران کا بحرین کو سنگین انتباہ جاری

    اپنی حد میں رہیں ! ایران کا بحرین کو سنگین انتباہ جاری

    تہران : ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اعلیٰ بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اپنی حد میں رہے اور اپنی قسمت سے نہ کھیلے۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اعلیٰ بین الاقوامی امور کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو سنگین نتائج کی دھمکی دے دی۔

    تسنیم نیوز کی جانب سے کہا گیا کہ اپنے ایک بیان میں علی اکبر ولایتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین اپنی حد میں رہے۔ اپنی قسمت سےنہ کھیلے اورایران کو سخت فیصلے لینے پرمجبورنہ کرے۔

    علی اکبرولایتی نے بحرین کو خبردار کیا کہ اگر اشتعال انگیزی کی گئی تو تہران ملک پر زیادہ طاقت سے حملہ کرے گا۔

    ولایتی نے بحرین کو سب سے زیادہ واشنگٹن سے تعاون کرنے والی خیلجی ریاست قرار دیا اور ایران کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔

    ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے مطالبہ کیا کہ بحرین شیعہ شہریوں اورعلماء پر دباؤ ختم اور شیخ عیسیٰ قاسم کی بحرینی شہریت بحال کرے، تب ہی ایران اچھی ہمسائیگی کو برقرار رکھے گا۔

  • یورپی ملکوں میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشن کی فروخت کے نئے ریکارڈ قائم

    یورپی ملکوں میں پنکھوں اور ایئر کنڈیشن کی فروخت کے نئے ریکارڈ قائم

    فرانس : یورپی ممالک میں حالیہ شدید ہیٹ ویو اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے باعث پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

    تفصیلات کے مطابق یورپی ممالک اس وقت تاریخ کی بدترین اور جاں لیوا گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، جس نے پورے براعظم میں نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

    فرانس، اسپین، جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت تمام پرانے ریکارڈ توڑ چکا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی گرمی نے براعظم یورپ کے شہریوں کو پہلی بار بڑے پیمانے پر کولنگ ہوم اپلائنسز خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین سمیت مختلف یورپی ممالک میں پارہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کے بعد برقی آلات کی مارکیٹوں میں خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔ طلب میں اچانک سینکڑوں گنا اضافے کے باعث کئی بڑے شہروں کے سپر اسٹورز پر پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز نایاب ہو گئے ہیں اور دکانوں کے شیلف مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔

    فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدید حبس اور گرمی کے باعث پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی فروخت کے تمام پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

    مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے بیشتر ممالک کا موسم روایتی طور پر سرد یا معتدل رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز میں ایئر کنڈیشننگ یا پنکھوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔

    تاہم، حالیہ برسوں میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید تپش کے بعد اب وہاں ان برقی اشیاء کی مانگ بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جس کے باعث کمپنیوں کو سپلائی برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک میں شدید گرمی اور تپش کے باعث مشہور سیاحتی مقامات کو عام عوام اور سیاحوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

  • ٹرمپ کا تیل کی قیمتوں سے متعلق بڑا دعویٰ

    ٹرمپ کا تیل کی قیمتوں سے متعلق بڑا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 69 ڈالر تک گر گئی ہیں، ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت اب 69 ڈالر فی بیرل پر آچکی ہے مزیدکمی کا رجحان ہے۔

    ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتیں ایران کی جوہری تخفیف کاعمل شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی کم ہے۔

    امریکی صدر نے پیشرفت کو اپنی سفارتی حکمت عملی اور معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔

    ٹرمپ نے اپنی مقبولیت اور ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق بھی ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت میری مقبولیت کی شرح تاریخ کی بلندترین سطح پر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو گا، سفارتی اور فوجی حکمت عملی کے نتیجے میں ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ کروڈ فیوچر 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل ہو گیا جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

  • متحدہ عرب امارات کے بعد ایک اور ملک کا اوپیک سے علیحدگی کا اشارہ

    متحدہ عرب امارات کے بعد ایک اور ملک کا اوپیک سے علیحدگی کا اشارہ

    بغداد : عراق نے بھی اوپیک سے علیحدگی کا اشارہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پیداواری کوٹہ میں اضافہ کیا جائے۔

    تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد عراق نے بھی اوپیک سے علیحدگی کا اشارہ دے دیا، حکام نے اوپیک سے مطالبہ کیا کہ تیل کی پیداوار کے کوٹے میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے ورنہ عراق کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔

    عراق کا جولائی کیلئے اوپیک کا مقررکردہ پیداواری کوٹہ یومیہ تینتالیس لاکھ اٹہتر ہزاربیرل ہے اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر اسے ناکافی قرار دیا گیا۔

    عراقی وزارتِ تیل نے اوپیک سے علیحدگی کی خبروں کو حکومتی مؤقف قرار دینے کی تردید کی ہے۔

  • جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں آنے والے پے در پے زلزلوں میں کیا تعلق؟

    جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں آنے والے پے در پے زلزلوں میں کیا تعلق؟

    کیلیفورنیا : کیا جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں آنے والے زلزلے آپس میں جڑے ہوئے ہیں؟ اس حوالے سے ماہرینِ ارضیات نے اصل حقیقت بتادی۔

    تفصیلات کے مطاق جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں چند گھنٹوں کے دوران آنے والے طاقتور زلزلوں نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ زمین کے سب سے زیادہ فعال آتش فشانی زون ‘رنگ آف فائر’ کی طرف مبذول کروا دی۔

    اگرچہ یہ زلزلے ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دور آئے، لیکن ان میں سے دو زلزلے اسی خطرناک پٹی کا حصہ ہیں۔

    ‘رنگ آف فائر’ کیا ہے اور یہ کہاں ہے؟

    ماہرینِ ارضیات نے بتایا کہ رنگ آف فائر’ بحر الکاہل کے گرد پھیلا ہوا ایک گھوڑے کی نعلکی شکل کا ایک بہت بڑا زون ہے، یہ پٹی شمالی اور جنوبی امریکہ کے مغربی ساحلوں سے شروع ہو کر الاسکا، جاپان، فلپائن، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ تک پھیلی ہوئی ہے۔

    دنیا کے 75 فیصد فعال آتش فشاں اسی پٹی میں پائے جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ریکارڈ کیے جانے والے 90 فیصد زلزلے اسی زون میں آتے ہیں۔

    یہاں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟

    زمین کی بیرونی تہہ کئی بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں میں تقسیم ہے، جو انتہائی سست رفتاری سے حرکت کر رہی ہیں تاہم جب رنگ آف فائر کے آس پاس یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں ، ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں یا رگڑ کھاتی ہیں، تو زمین کے اندر شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

    جس کے باعث ایک دباؤ اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے زمین لرز اٹھتی ہے جسے ہم زلزلہ کہتے ہیں، اس زون کے کئی حصے ‘سبڈکشن زونز’ ہیں، جہاں ایک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے، جس سے بڑے زلزلے اور آتش فشاں پھٹتے ہیں۔

    جاپان اور کیلیفورنیا: رنگ آف فائر کے مرکز میں

    یہ جزیرہ نما ملک دنیا کی سب سے زیادہ فعال ٹیکٹونک حدود پر واقع ہے اور یہاں ‘پیسیفک پلیٹ’ کی مسلسل حرکت کی وجہ سے اکثر شدید زلزلے آتے ہیں، جیسا کہ 2011 کا ہولناک زلزلہ اور سونامی تھا۔

    کیلیفورنیا  کا زلزلہ بھی پیسیفک پلیٹ سے جڑا ہے، تاہم یہاں پلیٹیں نیچے دھنسنے کے بجائے افقی طور پر ایک دوسرے سے رگڑ کھاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ شمالی امریکہ کا سب سے زلزلہ زدہ علاقہ ہے۔

    وینزویلا کا زلزلہ مختلف کیوں ہے؟ 

    ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا ‘رنگ آف فائر’ کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ‘کیریبین ٹیکٹونک ریجن’ سے ہے جہاں کیریبین اور ساؤتھ امریکن پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔

    کیا یہ زلزلے آپس میں جڑے ہیں؟

    اچانک پے در پے زلزلوں کے بعد عوام میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ چند گھنٹوں میں اتنے بڑے زلزلے آنا کسی بڑے عالمی خطرے کی نشانی ہے۔

    تاہم ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ زلزلے آپس میں بالکل نہیں جڑے ہوئے، زمین پر روزانہ ہزاروں زلزلے آتے ہیں اور مختلف سسٹمز آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں، اس لیے یہ محض ایک اتفاق ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں پیش آئے۔

  • ایران کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟ الجزیرہ کی رپورٹ جاری

    ایران کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟ الجزیرہ کی رپورٹ جاری

    دوحہ : ‘الجزیرہ’ نے ایران کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ جاری کر دی۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اور خلیج میں جاری شدید کشیدگی سے سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟ عالمی میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ نے اس حوالے سے ایک چشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ عالمی دفاعی (ہتھیار ساز) اور توانائی کمپنیوں کو ہوا ہے، جنہوں نے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، خلیج میں شدید تناؤ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اس صورتحال سے توانائی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا۔

    سعودی آرامکو کمپنی کے منافع میں 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا، جس نے صرف پہلی سہ ماہی میں 32.5 ارب ڈالر کمائے، جبکہ عالمی مارکیٹ کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی گیس کمپنیوں نے بھی اربوں ڈالرز سمیٹے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی دنیا کی سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنیوں کے سربراہان کا وائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔

    اس کے بعد امریکی کمپنیوں بوئنگ ، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین کے شیئرز اور نئے ہتھیاروں کے آرڈرز میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے دفاعی فنڈنگ میں اربوں ڈالرز کا اضافہ کر دیا۔

    اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے انشورنس چارجز اور کرایوں میں 5 گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس سے عالمی تجارت مہنگی ہو رہی ہے۔