Category: عالمی خبریں

  • صدر ٹرمپ بال بال بچ گئے، وائٹ ہاؤس پر جدید ہتھیاروں سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے گرفتار

    صدر ٹرمپ بال بال بچ گئے، وائٹ ہاؤس پر جدید ہتھیاروں سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے گرفتار

    واشنگٹن (17 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچ گئے ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے وائٹ ہاؤس پر ڈرونز اور اسنائپرز کے ذریعہ مبینہ دہشتگرد حملے کی سازش کو پکڑ کر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس ودیگر اعلیٰ شخصیات کے قتل کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اس مبینہ دہشتگرد منصوبے پر عمل 14 جون کو وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں UFC فریڈم 250 ایونٹ میں کیا جانا تھا، جو امریکا کی 250 ویں سالگرہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ تھی۔

    مذکورہ تقریب میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی، جس میں سیکڑوں اہم شخصیات بھی شامل تھیں، جن کا تعلقات سیاست، کاروبار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔

    تاہم ایف بی آئی نے اس سے قبل 10 جون کو یہ منصوبہ اس وقت ناکام بنا دیا جب ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کی اطلاع ملنے پر متعدد ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کر لیا جب کہ تحقیقات میں مجموعی طور پر 23 افراد کو اس سازش کا حصہ قرار دیا۔

    حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکومت میں ہونے والے سب سے بڑے دہشت گرد حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔

    سازش کا پتہ کیسے چلا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے اس بھیانک سازش تک اس وقت پہنچے جب 19 سالہ ٹائسن پراپر کے والدین نے متعلقہ حکام کو اپنے بیٹے کی پراسرار سرگرمیوں کی رپورٹ دے کر اس کی گرفتاری میں امریکی حکام کی مدد کی۔

    اس کے بعد تفتیش کاروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مشتبہ افراد کے موبائل فونز اور خفیہ پیغام رسانی کی ایپ “سگنل” پر ہونے والی گفتگو تک رسائی حاصل کی جہاں حملے کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے۔

    تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مشتبہ افراد 12 اور 13 جون کو ریاست ورجینیا کے شہر فریڈرکسبرگ میں جمع ہونے والے تھے تاکہ حملے کی حتمی تیاریوں کو مکمل کیا جا سکے۔

    اداروں کو منصوبہ سازوں کے پاس سے کیا کیا ملا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 سالہ نوجوان پر امریکا کے خلاف جرم کرنے کی سازش اور امریکا کے کسی افسر یا ملازم کے قتل کی کوشش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بعد میں پراپر کے گھر کی تلاشی لی اور DC کی تفصیلی تصویروں کے ساتھ ایک چیٹ ملا، جس میں اسنائپر کے مقامات اور “ڈرون لانچ کرنے کے ممکنہ مقامات، اور دیگر تفصیلی حکمت عملی کی منصوبہ بندی” کی وضاحت کی گئی تھی۔

    مبینہ حملہ آوروں کا منصوبہ کیا تھا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایف بی آئی نے گرفتار ملزمان سے تحقیقات کے بعد بتایا کہ سازش کرنے والوں کا منصوبہ یہ تھا کہ دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے تقریب کے قریب عمارتوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر بھگدڑ مچ جائے۔

    ساش کرنے والے گرفتار ملزمان کے مطابق بھگدڑ مچنے کے بعد وہاں سے بھاگنے والے ہجوم کو پہلے سے تعینات اسنائپر ٹیم اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی جس سے اور زیادہ جانی نقصان ہوتا۔

    ایف بی آئی حکام کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حملہ آور وائٹ ہاؤس کے داخلی دروازوں پر دھاوا بولنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔

    ہدف کون کون تھا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امریکی میڈیا کے مطابق مشتبہ افراد مبینہ طور پر سیاست دانوں، ارب پتی شخصیات اور ان افراد کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جنہیں وہ امریکی اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی یا امریکی اشرافیہ سے وابستہ سمجھتے تھے۔

    بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان انتہا پسند اور حکومت مخالف نظریات رکھتے تھے تاہم اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دستاویزات کے مطابق، مبینہ سازش میں ملوث ایک اور فرد، ابراہم الواریز، نے مبینہ طور پر صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ارب پتی ایلون مسک کو نشانہ بنانے پر بات کی۔

    ایف بی آئی نے گرفتار ملزمان کی مکمل شناخت اور قومیتیں تاحال ظاہر نہیں کی ہیں تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ایک مشتبہ شخص کی شناخت 19 سالہ ٹائسن پراپر کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تفصیلات عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • ایرانی آرمی چیف نے دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان کر دیا

    ایرانی آرمی چیف نے دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان کر دیا

    تہران (17 جون 2026): ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

    ایرانی فوج کے چیف کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی نے منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن مستقبل میں کسی غلط اندازے یا غلط حساب کتاب کا مرتکب ہوا تو اسے ایران کے جمع شدہ غضب کا سامنا کرنا پڑے گا، جو اس کے لیے حالات کو غیر معمولی طور پر دشوار بنا دے گا۔

    انھوں نے قوم کو یقین دلایا کہ مسلح افواج اپنی دفاعی صلاحیت اور جنگی قوت میں مسلسل اضافہ کر کے اس فتح کو مستحکم بنائیں گی، تاکہ کوئی بھی ملک پر بری نظر ڈالنے کی جرأت نہ کر سکے۔

    امیر حاتمی نے کہا ایران عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرا ہے، کوئی بھی ایران کے خلاف جارحیت کا سوچنے کی جرات نہ کرے، ہماری سرحدیں بھی پہلے سے زیادہ محفوظ اور طاقت ور ہیں، دشمن نے دوبارہ غلطی کی تو فیصلہ کن اور سخت جواب دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے تزویراتی مقاصد میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا، اسلامی جمہوریہ کے نظام کو ختم کرنا اور تکبر کے ساتھ ملک کے نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینا شامل تھا، لیکن ایران نے ظالمانہ جارحیت کا سامنا کرنے کے بعد اپنی سرزمین کا بھرپور دفاع کیا۔

    جنرل حاتمی نے کہا کہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج عالمی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں اور مضبوط حیثیت رکھتا ہے، اس کی سرحدیں پہلے سے زیادہ مستحکم ہیں، اور ایرانی قوم نے نہ صرف ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا بلکہ دشمن پر اپنی مرضی بھی مسلط کی، جس کا حالیہ مظاہرہ لبنان میں بھی دیکھنے کو ملا۔ انھوں نے مزید کہا لبنان پر اسرائیلی حملہ یا لبنانی علاقوں پر قبضہ امریکا کے ساتھ طے کیے گے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • ایران نے ٹرمپ کو وائلن کی طرح بجایا ہے، سابق امریکی مشیر

    ایران نے ٹرمپ کو وائلن کی طرح بجایا ہے، سابق امریکی مشیر

    واشنگٹن (17 جون 2026): امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے ٹرمپ کو کسی وائلن کی طرح بجایا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی امور جان بولٹن نے ایران تنازع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ تہران نے مذاکرات اور سفارتی چالوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی مرضی کے مطابق کھیلنے پر مجبور کیا۔

    جان بولٹن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے بعض مواقع پر ایران کے ارادوں اور حکمتِ عملی کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران نے ٹرمپ کو کسی وائلن کی طرح بجایا ہے۔

    سابق امریکی مشیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران برسوں سے پیچیدہ سفارتی حربے استعمال کرتا آیا ہے اور بین الاقوامی مذاکرات میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صبر اور مستقل مزاجی سے کام لیتا ہے۔

    جان بولٹن جو ایران کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے وقت حاصل کرنے اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکراتی عمل کو موثر انداز میں استعمال کیا۔

  • بھارتی ایئرفورس کا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    بھارتی ایئرفورس کا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    آسام (13 جون 2026): ریاست آسام میں بھارتی ایئر فورس کا ایک کارگو طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے شہر جورہاٹ میں واقع ایئرفورس اسٹیشن پر ہفتہ کے روز بھارتی فضائیہ کا اے این-32 کارگو اور ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔

    طیارے کے گرتے ہی اس میں آگ لگ گئی، اور اس کا پائلٹ ہلاک ہو گیا، فضائیہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں، جب کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت طیارہ معمول کے مطابق لینڈنگ کی کارروائی انجام دے رہا تھا، کہ ایئربیس کے احاطے میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی، جائے وقوعہ سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حادثے کے بعد طیارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، تاہم اس بارے میں سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

    حادثے کے فوراً بعد ایئرفورس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ایمرجنسی کارروائیوں کے تحت آگ پر قابو پانے اور ممکنہ متاثرین تک رسائی کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم طیارے میں سوار اہلکاروں کی تعداد، ان کی شناخت اور ان کی حالت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔

    اے این-32 ایک دو انجنوں والا ٹربو پروپ فوجی نقل و حمل کا طیارہ ہے جسے سابق سوویت یونین کے دور میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ طیارہ کئی دہائیوں سے ہندوستانی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ بیڑے کا اہم حصہ رہا ہے۔ اسے فوجیوں کی نقل و حرکت، رسد اور امدادی سامان کی ترسیل، فضائی سپلائی اور پیرا ٹروپرز کو اتارنے جیسے مختلف فوجی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  • دبئی ائیر پورٹ پر لاوارث سوٹ کیس سے زندہ چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد

    دبئی ائیر پورٹ پر لاوارث سوٹ کیس سے زندہ چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد

    دبئی: دبئی ائیر پورٹ پر لاوارث سوٹ کیس سے زندہ چھپکلیاں، بچھو، سانپ اور مینڈک برآمد ہوئے، بیگ کے مالک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سکیورٹی حکام نے لاوارث سوٹ کیس کی تلاشی کے دوران اس کے اندر سے بڑی تعداد میں زندہ اور خطرناک جانور برآمد کرلیے۔

    ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ لاوارث بیگ مشکوک معلوم ہونے پر جب اسے کھولا گیا تو اس میں غیر قانونی طور پر اسمگل کیے جانے والے درجنوں رینگنے والے جانور اور حشرات موجود تھے۔

    بیگ کی گنتی کے دوران 129 زندہ چھپکلیاں ، 36 زہریلے بچھو ، 8 زندہ سانپ اور 50 زندہ مینڈک برآمد ہویے

    ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوٹ کیس سے برآمد ہونے والے تمام جانوروں کی مناسب دیکھ بھال، تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر جنگلی حیات اور متعلقہ متعلقہ اداروں سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

    سکیورٹی حکام نے بیگ کے مالک کا سراغ لگانے اور یہ غیر قانونی کھیپ دبئی لانے یا یہاں سے آگے اسمگل کرنے کی کوشش کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  • ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی

    ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی

    تہران (13 جون 2026): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی، اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔

    ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔

    عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔

    انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔

    وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔

    انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔

    عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔

  • برطانوی وزیر دفاع کے بعد وزیر برائے مسلح افواج ایل کارنز بھی مستعفی

    برطانوی وزیر دفاع کے بعد وزیر برائے مسلح افواج ایل کارنز بھی مستعفی

    لندن: برطانوی وزیردفاع جان ہیلی کے بعد وزیر برائے مسلح افواج ایل کارنز بھی مستعفی ہوگئے۔

    غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے وزیر برائے مسلح افواج ایل کارنز کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے کی وجہ بہت سادہ ہے، دفاعی بجٹ کے فیصلے سے متفق نہیں تھا۔

    ایل کارنز کا کہنا برطانیہ کا نیا دفاعی پلان اگلی جنگ کے بجائے پچھلی جنگ لڑنے کی تیاری جیسا ہے، نئے دفاعی منصوبے میں جدت پسندی اور یوکرین جنگ سے سیکھے اسباق کی کمی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر اچھے انسان ہیں لیکن بجٹ میں دفاع کو ترجیح دینا ان کا کام تھا، برطانوی عوام کو ملک کو درپیش عالمی خطرات کے بارے میں سچ بتانے کا وقت آگیا ہے۔

    ایل کارنر نے کہا کہ دنیا تیزی سے غیر مستحکم ہو رہی ہے، برطانیہ کو دفاع کیلئے مزید فنڈز تلاش کرنا ہوں گے۔

  • کویت ایئرویز نے تمام پروازیں معطل کردیں، فضائی حدود بند

    کویت ایئرویز نے تمام پروازیں معطل کردیں، فضائی حدود بند

    کویت: کویت کی قومی ایئرلائن ’کویت ایئرویز‘ نے ملکی فضائی حدود کی بندش کے بعد تمام آمد و رفت کی پروازوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، مذکورہ فیصلہ متعلقہ حکام کی جانب سے جمعرات 11 جون 2026 کو جاری کردہ ہدایات کے بعد کیا گیا۔

    غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’کویت ایئرویز‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوا بازی کی حفاظت اور فلائٹ سیفٹی کی ہدایات کے تحت احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام آپریشنز بند کردیئے گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی یہ معطلی قومی فضائی حدود کے دوبارہ کھلنے تک برقرار رہے گی۔

    کویت ایئرویز کے مطابق فضائی حدود کھلتے ہی تمام متاثرہ پروازوں کو نیا شیڈول جاری کیا جائے گا اور مسافروں کو فوری طور پر آگاہ کردیا جائے گا۔

    ایئرلائن نے تصدیق کی ہے کہ جو مسافر آج کے لیے اپنے سفری منصوبے منسوخ یا تبدیل کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس مخصوص مدت کے دوران کسی بھی قسم کی ترمیمی یا منسوخی فیس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔

  • ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

    ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

    تہران: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ایران کی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا۔

    غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ امریکا کیساتھ ابھی تک کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، معاہدے پر دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق خبریں قیاس آرائیاں ہیں۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ مکمل طور پر تیار ہے، امریکا مذاکرات کے دوران بار بار اپنی پوزیشن بدلتا رہا ہے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ تکمیل معاہدے کو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے منظوری مل چکی ہے۔

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کا افتتاحی میچ نہیں دیکھیں گے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کا افتتاحی میچ نہیں دیکھیں گے

    امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیراگوئے کے خلاف فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکی قومی ٹیم کا افتتاحی میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    امریکی میڈیا بشمول نیوز ویب سائٹ “پولیٹیکو” اور اسپورٹس میگزین “دی اٹھیلیٹک” نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر کل بروز جمعہ لاس اینجلس میں شیڈول اس میچ میں شرکت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس یا وزارت خارجہ نے ابھی تک ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ یا ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اس میچ میں شرکت کریں گے جو موجودہ عالمی کپ کا امریکی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا باضابطہ مقابلہ ہے۔

    مارکو روبیو اس میچ کے موقع پر ایک وفد کی قیادت کریں گے جس میں وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر مارکوائن مولن بھی شامل ہیں۔

    اس میچ کے دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو پیراگوئے کے صدر سانتیاگو پینیا سے ایک اہم ملاقات بھی کریں گے جس میں علاقائی سکیورٹی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ مل کر فٹ بال کی تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی کر رہا ہے۔ فٹ بال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور فائنل میچ تک مجموعی طور پر 104 مقابلے کھیلے جائیں گے۔

    امریکی قومی ٹیم گروپ مرحلے کے اپنے تین میچوں میں سے دو میچ لاس اینجلس کے جنوب میں واقع شہر انگلووڈ میں لاس اینجلس ریمز اور لاس اینجلس چارجرز کے مشترکہ اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ امریکی ٹیم پیراگوئے کے علاوہ آسٹریلیا اور ترکیہ کی ٹیموں کا مقابلہ کرے گی۔

    فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز آج جمعرات کی شام مکسیکو سٹی کے مشہور ازٹیکا اسٹیڈیم میں میزبان ملک میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے افتتاحی میچ سے ہو رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب غاصب صہیونی دشمن اور امریکہ کی سرپرستی میں دنیا کے کئی حصوں میں مظلوموں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کا نصب العین دنیا کی توجہ کا طالب ہے، یہ کھیل عالمی برادری کو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔