Category: خبریں

  • آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا،کنٹری رپورٹ جاری

    آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا،کنٹری رپورٹ جاری

    اسلام آباد(سب نیوز) آئی ایم ایف نے رواں مالی سال 2026۔27 کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شرح حکومتی مقررہ ہدف اور گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں زیادہ ظاہر کرنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کے بارے میں اپنی کنٹری رپورٹ جاری کر دی۔جاری رپورٹ میں آئی ایم ایف نے رواں مالی سال میں مہنگائی 8 اعشاریہ 4فیصد رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ آئندہ چار مالی سال کے دوران مہنگائی رواں مالی سال سے کم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔کنٹری رپورٹ میں آئی ایم ایف نے مزید پانچ سال پاکستان میں اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ دو مالی سال کے دوران پاکستان میں اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہی۔

  • پاکستان میں پرندوں کو شدید گرمی سے بچانے کیلئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

    پاکستان میں پرندوں کو شدید گرمی سے بچانے کیلئے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

    حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، یہاں 1960ء کے بعد 2025ء ملک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا۔

     رواں موسمِ گرما کے دوران بھی اسلام آباد میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔

    گرمی سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    اس حوالے سے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اور اسلام آباد کے مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر کے نگراں سخاوت علی کا کہنا ہے کہ ماضی میں پتنگ بازی کے باعث پرندوں کے پر دھاگوں سے زخمی ہو جاتے تھے، لیکن گزشتہ 1 یا 2 سال سے ہمیں زیادہ تر ایسے پرندوں کے کیسز موصول ہو رہے ہیں جو پانی کی کمی اور شدید گرمی کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

    اُنہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں کے باہر پانی کے برتن رکھیں تاکہ پرندے پانی پی سکیں، نہا سکیں اور گرمی سے بچ سکیں۔

    ان کے علاوہ اسلام آباد میں موجود وائلڈ لائف افسر ظہیر احمد نے بتایا کہ موسمِ گرما میں ریسکیو سینٹر کو روزانہ تقریباً 30 فون کالز  موصول ہوتی ہیں جن میں پرندوں اور دیگر جانوروں کے متاثر ہونے کی اطلاعات دی جاتی ہیں۔ 

    انہوں نے بتایا کہ ان کی اولین ترجیحات متاثرہ جانوروں کو طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کرنا ہیں۔

    ظہیر احمد نے بتایا کہ یہاں متاثرہ پرندوں کو صحتیاب ہو جانے تک قرنطینہ میں بھی رکھا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ بھی پرندوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے کیونکہ یہ اکثر ان کے افزائش نسل کے موسم کے دوران پھیلتی ہے۔

    واضح رہے کہ مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر ماضی میں بدنامِ زمانہ اسلام آباد چڑیا گھر کا حصہ تھا جسے 2020ء میں بند کر دیا گیا تھا۔

    وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر اسلام آباد میں پاکستان بھر سے زخمی اور متاثرہ جنگلی جانوروں کو بحالی کے لیے لایا جاتا ہے، جن میں نجی مالکان کے ہاتھوں بے رحمی کا شکار ہونے والے جانور بھی شامل ہیں۔

    سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہیٹ ویو جیسے شدید موسمی واقعات اب زیادہ شدت سے رونما ہو رہے ہیں۔

  • ایف بی آر کا چھوٹے دکانداروں کو ریلیف

    ایف بی آر کا چھوٹے دکانداروں کو ریلیف

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے دکانداروں کو ریلیف دیتے ہوئے گرین پلیٹ والی دکانوں پر چھاپوں پر پابندی لگا دی۔

    ایف بی آر کے مطابق گرین پلیٹ آویزاں دکانوں میں ان لینڈ ریونیو افسر داخل نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے ایف بی آر نے چھوٹے دکانداروں کیلئے خصوصی طریقہ کار کا مسودہ جاری کر دیا۔

    دکاندار آئی ریس پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے آسان ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکیں گے۔

    ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن فارم اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہو گا، خصوصی اسکیم کے تحت مجموعی کاروباری حجم پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہو گا، گرین پلیٹ پرکیو آر کوڈ، این ٹی این، دکاندار کا نام اور دکان کا پتہ درج ہو گا۔

    سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے دکاندار اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے ایک سے زائد دکانوں کے مالکان، ٹیئر ون ریٹیلرز اور جیولرز اسکیم میں شامل نہیں، ساتھ ہی ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا اور دیگر پیشہ ور افراد بھی خصوصی اسکیم سے مستثنیٰ ہیں۔

    خصوصی اسکیم میں شمولیت اختیاری، دکاندار روایتی ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

    ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کرانا ہو گا۔

  • عمران قید کے 3 سال، PTI اور اتحادیوں کا 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    عمران قید کے 3 سال، PTI اور اتحادیوں کا 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد (خبر نگار) پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں نے عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر 5اگست کو ملک گیر احتجاجی ریلیوں کا اعلان کر دیا۔بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہاحتجاج کی حتمی حکمت عملی کیلئے قائدین حزب اختلاف سینیٹ و قومی اسمبلی سے مشاورت کی جائے گی۔بدھ کو کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اجلاس کی صدارت کی۔

  • بلوچستان میں سیندک منصوبے کی سکیورٹی مزید سخت کی جائیگی، طلال چوہدری

    بلوچستان میں سیندک منصوبے کی سکیورٹی مزید سخت کی جائیگی، طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں سیندک سے تانبہ اور سونے کی کان کنی کرنیوالی چینی کمپنی کو منصوبے کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو جولائی کے اوائل میں سیندک میٹلز لمیٹڈ کی جانب سے تحفظات موصول ہوئے تھے، جس کے بعد صوبائی حکام اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کو کمپنی کی تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے راستوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں۔

    انہوں نے کہا، “ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمپنی کی تمام تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے لیے مزید سکیورٹی تعینات کریں۔”

    طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے زیرِ انتظام منصوبوں کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ سیندک منصوبے سے متعلق لاجسٹکس اور کارگو کی نقل و حرکت کو بھی اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    یہ یقین دہانی فنانشل ٹائمز کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ سیندک میٹلز لمیٹڈ کی انتظامیہ نے وفاقی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کے راستوں میں تعطل برقرار رہا تو منصوبے کے آپریشنز کو جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 3 خارجی دہشتگرد ہلاک ، مجموعی تعداد 88 ہو گئی

    جب رائٹرز نے اس حوالے سے چین کی وزارتِ خارجہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ انہیں اس مخصوص صورتحال سے متعلق معلومات نہیں، تاہم انہوں نے پاک۔چین دیرینی تعلقات کا اعادہ کیا۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ، “چین اور پاکستان گہرے دوست اور اچھے برے وقت کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

    یاد رہے کہ سیندک منصوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے اور یہ چین کی سرکاری کمپنی ‘میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا’ کے زیرِ انتظام ہے جس کے ساتھ لیز معاہدے کو 2022 میں مزید 15 سال کی توسیع کی گئی تھی۔

    سیندک کے علاوہ بھی بلوچستان میں معدنیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے کئی بڑے منصوبے جاری ہیں، جن میں چین کے تعاون سے جاری پراجیکٹس اور گوادر بندرگاہ بھی شامل ہیں۔ صوبہ طویل عرصے سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا بھی کر رہا ہے، جس کے باعث کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے اور سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

    سیندک منصوبے کی سکیورٹی اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے صوبے میں موجود کان کنی کے دیگر منصوبوں پر بھی ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں سیندک سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع 9 ارب ڈالر مالیت کا ریکوڈک منصوبہ بھی شامل ہے۔

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں سے دستبردار ہونے کا تاثر مسترد کردیا

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں سے دستبردار ہونے کا تاثر مسترد کردیا

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں سے دستبردار ہونے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کشیدگی وقتی طور پر غالب ہے، امید ہےکہ بالآخر امن اور مذاکرات کی سوچ کامیاب ہوگی، امن کاعمل کبھی ختم نہیں ہوتا تاہم وقتی تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل فریم ورک ہے، فریقین جب کشیدگی کاراستہ چھوڑیں گےتو امن کی واپسی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے ممکن ہوگی، مفاہمتی یادداشت نہ ختم ہوئی ہے، نہ غیر مؤثر ہوئی ہے، اس کی اہمیت برقرار ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 27 فروری کاپاکستانی مؤقف آج بھی برقرار ہے، پاکستان نے ہرملک پر مسلح حملوں کی مذمت کی اور ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر زور دیا، تنازع کے ہر مرحلے میں پاکستان کا بنیادی مؤقف مستقل رہا کہ امن اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، تمام فریقوں کو بالآخر مذاکرات کی میز پر آ کر اپنے تمام اختلافات حل کرنا ہوں گے۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے لیے بنیادی فریم ورک جبکہ 22 جون کے پاکستان، قطر مشترکہ اعلامیے میں عملدرآمد کا روڈ میپ موجود ہے،

    ترجمان نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کےفروغ کے لیے ایک مؤثر فریم ورک ہے، تمام فریقین پاکستان، قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

    آبنائےہرمز میں جلد معمول کی صورتحال کی بحالی ناگزیر ہے: ترجمان دفتر خارجہ
    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ موجودہ کشیدگی سےمتعدد ممالک توانائی، تجارت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے متاثر ہو رہے ہیں، آبنائےہرمز میں جلد معمول کی صورتحال کی بحالی، جہازرانی کی آزادی، سلامتی اور تحفظ یقینی بنانا ناگزیر ہے، پاکستان آبنائے ہرمز سے تجارت اور پیٹرولیم مصنوعات کی باآسانی فراہمی پریقین رکھتا ہے۔

    ترجمان نے کاکہ پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے بات چیت، سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان موجودہ علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھےہوئےہے۔

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعمل درآمد جاری رہنا چاہیے: ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسائل کےحل کے لیے مذاکرات پریقین رکھتا ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعمل درآمد جاری رہنا چاہیے، پاکستان فریقین پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے زور دیتا ہے، پاکستان نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں، امید ہے تمام فریق تنازعات کے پُر امن کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں گے، پاکستان تمام فریقوں کو جنگ سے گریز کی ترغیب دیتا رہے گا، پاکستان کے نزدیک امن و استحکام کے سوا کوئی متبادل نہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور پرامن حل کے لیے خطے کے اہم ممالک سے مسلسل سفارتی رابطے میں ہے، 10 جولائی کو وزیراعظم نے امیرِ قطر سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، وزیر اعظم نے قطر پر حالیہ حملوں کے بعد حکومت اور عوامِ قطر سے یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام فریقوں کے تحمل اختیار کرنے پر زور دیا۔

    ترجمان کے مطابق گفتگو کے دوران سفارتی رابطوں، مذاکرات اور تمام فریقوں کے وعدوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر اتفاق ہوا جبکہ امیر قطر نے خطے میں امن کےلیے پاکستان کے فعال کردار کو سراہا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 10 جولائی کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں وزیر اعظم نے ایرانی صدر سےخطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا اورایران سمیت تمام فریقین پر تحمل کامظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز پر زور دیا۔

    پاکستان امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں: ترجمان دفتر خارجہ
    پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات جاری ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات کا مقصد دوطرفہ تجارت بڑھانا اورپاکستانی برآمدات میں مزید تنوع لانا ہے، پاکستان اور امریکا نے متعدد اختلافی نکات پر پیش رفت کی اور مشترکہ مفادات پر اتفاق رائے بڑھایا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے، ہمارے چینلز آف کمیونیکشنز کھلے ہیں۔

  • ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ

    ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ

    کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سامنے آنے لگے۔

    صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ امیر خان کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی محدود کر دی تمام پیٹرول پمپس پر ایلوکیشن عائد ہونے کے باعث سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔

    وائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن طارق حسن کے مطابق ملک بھر میں پیٹرول پمپس کو سپلائی میں کمی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ ہے۔

    ذرائع آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو ماہانہ اوسط فروخت کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی دی جارہی ہے، کسی بھی ڈیلر کی اضافی طلب پوری نہیں کی جارہی عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتے ہی ڈیلرز شور مچانا شروع کردیتے ہیں جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہو، ڈیلرز مصنوعات کی خریداری کم کر دیتے ہیں۔

  • بجلی صارفین پر مزید 200 ارب کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    بجلی صارفین پر مزید 200 ارب کا بوجھ ڈالنے کی تیاری

    اسلام آباد/لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 جولائی2026ء) حکومت نے بجلی صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ، نیپرا نے نیشنل گرڈ کمپنی کو سسٹم سے متعلق اخراجات کی مد میں صارفین سے تقریباً 200 ارب روپے وصول کرنے کی منظوری دے دی۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نیشنل گرڈ کمپنی نے گزشتہ تین مالی سال کے دوران ہونے والے مختلف سسٹم اخراجات کی وصولی کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں درخواست جمع کرائی تھی۔

    نیپرا نے درخواست پر سماعت، متعلقہ ریکارڈ کے جائزے اور فریقین کے مقف کے بعد تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔فیصلے کے تحت منظور شدہ رقم کی وصولی یکم اگست 2026 سے شروع کیے جانے کا امکان ہے، یہ رقم ملک بھر میں بجلی فراہم کرنے والی تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جائے گی، ان کمپنیوں میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت دیگر تمام سرکاری ڈسکوز شامل ہوں گی۔

    ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ٹیرف کی مد میں اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی جس کے نتیجے میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق صارفین سے وصولی کے طریق کار، فی یونٹ اضافے اور مختلف کیٹیگریز پر پڑنے والے مالی اثرات کی حتمی تفصیلات بعد میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔نیپرا کے اس فیصلے کے بعد گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے بجلی بلوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے ہی بجلی کی بلند قیمتوں، ٹیکسز، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے صارفین کو بھاری بلوں کا سامنا ہے۔

  • آزاد کشمیر میں کشیدگی کا حل مذاکرات ہیں، فریقین پیچھے ہٹیں، خواجہ سعد رفیق

    آزاد کشمیر میں کشیدگی کا حل مذاکرات ہیں، فریقین پیچھے ہٹیں، خواجہ سعد رفیق

    رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کا واحد حل مذاکرات ہیں اور تمام فریقین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دونوں جانب جانی نقصان ہو چکا ہے، اس لیے اشتعال انگیزی کے بجائے افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بحران کی بنیادی وجہ برسوں سے جاری بدانتظامی ہے، تاہم پاکستان مخالف بیانیہ اور الحاقِ پاکستان کے خلاف کسی بھی مؤقف کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ 150 متحرک افراد شیڈول فورتھ میں شامل، فہرست اور نوٹیفکیشن جاری

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات جائز تھے، خصوصاً ترقیاتی کاموں کا مطالبہ، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے ٹائم فریم طے کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بعض مطالبات ایسے بھی تھے جنہیں کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

    ان کے مطابق آزاد کشمیر میں بجلی پہلے ہی انتہائی سستی فراہم کی جا رہی ہے اور وفاقی حکومت کی بڑی گرانٹ اسی مد میں خرچ ہو رہی ہے، جبکہ پورا وفاقی بجٹ صرف آزاد کشمیر پر نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔

    مزید پڑھیں: پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ معاملات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بعض مخصوص عناصر نے احتجاجی اسٹیج سے پاکستان مخالف گفتگو کی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرینِ کشمیر کی کشمیر کاز کے لیے قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ان کی مخصوص نشستوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں کشمیریوں کو نظر انداز کرنے کا بیانیہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکرات کاروں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ احتجاجی مطالبات میں الحاقِ پاکستان سے متعلق شق بھی شامل کی گئی، جو ناقابل قبول ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 80 برسوں میں کشمیر کاز کے لیے ہر طرح کی قربانی دی اور مضبوط دفاعی صلاحیت اسی مقصد کے پیش نظر قائم رکھی تاکہ ضرورت پڑنے پر بھارت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تلخی بہت بڑھ چکی ہے اور دونوں جانب جانی نقصان ہو چکا ہے، اس لیے مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھرنے کے شرکاء اسٹیج سے واضح اعلان کریں کہ الحاقِ پاکستان کی شق پر کوئی اختلاف نہیں، جبکہ جن عناصر نے احتجاجی اسٹیج کا غلط استعمال کیا انہیں الگ کیا جائے تاکہ مذاکرات کا ماحول بہتر ہو سکے۔

    مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کابینہ کا اجلاس، ’اسلام آباد ڈیکلریشن’ پر پاکستان کی قیادت کو خراج تحسین

    آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 27 جولائی کو انتخابات متوقع ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق انتخابی ماحول بن چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہیے، نئی اسمبلی کے قیام کے بعد تمام مسائل پر بات چیت ہوگی اور ان کا حل نکالا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے انہیں 11 نشستوں پر انتخابی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات محض سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان اور کشمیریوں کے تعلق کی بھی عکاسی کریں گے۔

    مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی کی تحریک کا عوامی حقوق سے تعلق نہیں رہا، آزاد کشمیر میں انتخابات بروقت ہونے چاہییں، سینیئر صحافی راجا کفیل احمد

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر بڑی تعداد میں ووٹ پڑے اور نظریۂ پاکستان کے حق میں عوامی تائید سامنے آئی تو پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ ختم ہو جائے گی۔

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔

    انہوں نے زور دیا کہ انتخابات جیسے بھی ہوں، سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل کا حصہ رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا، اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی نتائج کو قبول کیا جانا چاہیے۔

    ان کے بقول، مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا تھا، اور اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوتی ہے تو وہ توقع رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی انہیں حکومت بنانے کا موقع دے گی۔

  • چِلَم (عارضی تاریخ) کے باعث مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر

    چِلَم (عارضی تاریخ) کے باعث مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر

    چِلَم (عارضی تاریخ) کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی عارضی طور پر متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعلقہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور کسی بھی افواہ پر یقین نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔