Category: خبریں

  • علاقائی سیاست میں پاکستان کی اہمیت

    علاقائی سیاست میں پاکستان کی اہمیت

    حالیہ امریکا ایران جنگ اور اس کے بعد عبوری امن معاہدہ کی بنیاد پر پاکستان نے جو سفارت کاری کے محاذ پر عالمی اور علاقائی سطح کی سیاست میں اپنے لیے جگہ پیدا کی ہے وہ ہماری سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کی بقا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ ایک عمومی رائے یہ ہوتی ہے کہ اگر آپ عالمی سیاست میں اپنے لیے جگہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو داخلی اور پھر علاقائی سیاست میں مستحکم کریں۔

    اسی نقط کو بنیاد بنا کر عالمی سیاست آپ کے لیے نئے امکانات کو پیدا کرتی ہے۔سفارت کاری کا محاذ کوئی آسان کھیل نہیں اور اس کے لیے ہر سطح پر ہمیں اپنے کارڈ یا سیاسی اور سفارتی حکمت عملیوں کو مختلف بنیادوں اور جہتوں کی صورت میں ترتیب دینا ہوتا ہے ۔پاکستان نے کیونکہ امریکا اور ایران جنگ کے خاتمہ میں ثالثی یا سہولت کار کا کردار ادا کیا تو اس نے جوابی ردعمل میں پاکستان کے سیاسی قد کاٹھ میں بھی اضافہ کو ممکن بنایا اور اب دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔یہاں ہماری سیاسی اور بالخصوص عسکری سطح کی قیادت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے غیر معمولی اقدامات نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا۔بہت سے سیاسی پنڈتوں کے بقول حالیہ امریکا ایران جنگ کے بعد پاکستان عالمی اور خطہ کی سیاست میں ایک نیا ابھرتا ہوا بروکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ 

    دنیا اور علاقائی ممالک پاکستان کے کردار کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کی پوزیشن میں نہیںہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے اس وقت پاکستان چین اور روس کے ساتھ مل کر خطہ کی سیاست میں ایک نیا سیکیورٹی پلان بھی ترتیب دے رہا ہے اور حالیہ پاکستان،سعودیہ ،مصر، ترکیہ وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا تاکہ علاقائی سیکیورٹی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے ۔ان معاملات میں سعودی عرب اور قطر بھی ہمارے ساتھ ہے ۔سعودی عرب اس عمل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس وقت اہم بات پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی ہیں جس میں بہت زیادہ اعتماد سازی اور گرم جوشی دیکھنے کو مل رہی ہے جو یقیناً ہماری داخلی سیاست کے لیے مثبت پہلو ہے ۔

    اسی طرح یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران تصادم کو روکنے میں علاقائی ممالک کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے اور اس عمل میں پاکستان کو خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ بھارت اور افغانستان کا باہمی گٹھ جوڑ بنیادی طور پر پاکستان دشمنی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔افغانستان سے بگڑتے ہوئے تعلقات نے ہمارے لیے بہت سی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس وقت علاقائی سیاست میں سب سے بڑا چیلنج ہی افغانستان کا ہے اور یہ ہماری داخلی سیاست کی ضرورت ہے کہ افغانستان سے تعلقات معمول پر آئیں۔اگر افغانستان کا رخ بھارت کی طرف ہے تو یہ اس کا حق ہے لیکن یہ تعلقات پاکستان دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے۔ 

    پاکستان اس وقت چین،روس،ترکیہ ،سعودی عرب،قطر اور امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات پر ہے ۔اس لیے اسے افغانستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے ان بڑے ممالک کی عملی حمایت درکار ہے ۔افغانستان اور پاکستان کے مذاکرات جو سعودی عرب یا قطر اور ترکی یا چین میں ہوئے ہیںاس کے تسلسل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان سے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے ہماری داخلی سیکیورٹی کا نظام متاثر ہورہا ہے اور ہمیں اپنے دو صوبوں میں سنگین سیکیورٹی اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے۔

    بھارت کا موجودہ طرز عمل پاکستان سے بہتر تعلقات کا نہیں ہے اور اسی بنیاد پر وہ افغانستان کو بھی پاکستان کی مخالفت کے کارڈ کے طور پر کھیلنا چاہتا ہے ۔ہمیں بھارت کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ ہمارے افغانستان سے تعلقات بہتر طور پر آگے بڑھ سکیں۔اگر پاکستان افغانستان سے تعلقات کی بہتری میں دیگر ممالک کی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور باقی ممالک کی مدد سے افغانستان پر دباو ڈالنے میں کامیاب ہوتا ہے تو ایک طرف افغانستان سے ہمارے تعلقات کی بہتری تو دوسری طرف ہم افغانستان کو بھارت کی مکمل حمایت سے دور رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

    پاکستان اگر اپنے داخلی مسائل کو حل کیے بغیر آگے بڑھنے یا ترقی کے نئے امکانات کو ممکن بنانے کی کوشش کرے گا تو ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔جو ریاست داخلی مسائل پر پردہ ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اس میں کامیابی کے امکانات محدود ہوتے ہیں۔ہمیں علاقائی تعلقات کی نئی جہتوں کو آگے بڑھانے کے لیے سفارت کاری کے محاذ پر لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی درکار ہے اور سفارت کاری کا یہ عمل مستقل بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔اس کے لیے ہمیں سفارت کاری کے محاذپر بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور بالخصوص دنیا میں موجود ہمارے سفارت خانوں اور سفارت کاروں کو بہت کچھ سکھانا ہوگا۔

    پاکستان موجودہ اچھے حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی حکمت عملیوں کو موثر بنیادوں پر ترتیب دے جو ہمیںعلاقائی سمیت داخلی سطح کی سیاست میں بطور ریاست مضبوط اور مستحکم بناسکے۔کیونکہ اگر پاکستان داخلی طورپر مضبوط نہیں ہوتا تو جو نئے امکانات ابھر رہے ہیں ان سے بہت زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ اس وقت عالمی اور علاقائی سیاست میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں یا نئے بلاکس بن رہے ہیں ان میں ہم خود کو کہاں کھڑا رکھ سکیں گے۔خود خلیجی ممالک کا امریکا پر بھروسہ کم ہورہا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اب امریکا پر ان کا حد سے بڑھتا ہوا انحصار ان کی داخلی سیاست کے لیے بھی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ 

    ایسے میں دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں امریکا اور چین شامل ہیںاس کے ساتھ ہم خود کو کس حد تک جوڑ سکیںگے ۔پاکستان کو اس وقت جو نئے مواقع ملے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیںملتی اور یہ غیر معمولی پزیرائی ہے جو پچھلے کچھ عرصہ میں ہمیں ملی ہے۔اس لیے اس سے فائدہ اٹھانے ہی میں ہماری سیاسی معاشی اور سیکیورٹی کی بقا ہے۔ جب ہم دہشت گردی کی ایک داخلی اور علاقائی جنگ سے بھی دوچار ہیں تو ایسے میںعلاقائی سیاست کا استحکام اور بالخصوص دوطرفہ تعاون اور دہشت گردی سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی کا میکنزم ہمیں داخلی سیاست کے معاملات میں مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

  • بلوچستان میں پانچ  پنجابی  مزدوروں کی ٹارگٹ کِلنگ

    بلوچستان میں پانچ  پنجابی  مزدوروں کی ٹارگٹ کِلنگ

    فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں دکان پر کام کرنے والے پانچ پنجابی مزدوروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر گذشتہ روز  بے دردی سے قتل کر دیا۔  اسی طرح بونیر میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے  محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ایک سب انسپکٹر شہید ہو گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردی کے ان افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ایسے مذموم واقعات دہشت گردی کے خاتمہ کے لیئے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

    یہ امر واقع ہے کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، قومی یکجہتی اور ریاستی رِٹ کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ نہتے مزدوروں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا انسانیت، مذہب اور تمام اخلاقی اقدار کے منافی  ہے جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور مختلف صوبوں کے عوام کے مابین نفرت پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ دہشت گردی کے یہ حملے اس ناسور کے خاتمے کے قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ یہ امر واقع ہے کہ  پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے اور اس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی تاہم  دہشت گرد گروہ اب بھی بھارت اور افغان طالبان رجیم کی سرپرستی، مالی معاونت اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

     دہشت گرد تنظیمیں درحقیقت  بھارتی پراکسیز کا کردار ادا کرتے ہوئے  پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں جنہیں افغان سرزمین میسر آنے کی وجہ سے اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔ اگر ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اس تناظر میں عبوری افغان حکومت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک بالخصوص  پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے۔

    بے شک  پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے ادارے بشمول انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شب و روز مصروفِ عمل ہیں اور بلوچستان میں جاری اپریشن شعبان اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ان اداروں کے افسروں اور جوانوں کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن بنایا جائے، سرحدی نگرانی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے جس کے لیئے قوم کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ 

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی سطح پر اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کو فروغ دیا جائے۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا قومیت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ پنجابی مزدور ہوں، بلوچ شہری ہوں، پشتون اہلکار ہوں یا کسی بھی علاقے کے باشندے۔ دہشت گردوں کی گولی ہر پاکستانی کے دل میں اترتی ہے۔

    اس تناظر میں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امن صرف بیانات سے نہیں بلکہ مسلسل، جامع اور بے لاگ اقدامات  سے قائم ہوتا ہے۔ ریاست کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ہر سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ پاکستان کی سلامتی، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور ریاست کی رِٹ ہر قیمت پر یقینی بنائی جا سکے۔ دہشت گردی کے مکمل قلع قمع سے ہی ملک میں پائیدار امن، استحکام اور قومی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

  • احسن اقبال کا 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ

    احسن اقبال کا 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا اعادہ

    وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے 2035 تک ملکی معیشت کو ایک کھرب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ  کرتے ہوئے  کہا کہ  معاشی بحالی، قومی استحکام اور حالیہ سفارتی کامیابیوں کے تین بڑے سنگِ میل عبور کرلیے، پاکستان اب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

    احسن اقبال نے ہیوسٹن کی رائس یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کیا۔۔ کہا آپریشن بنیان مرصوص بصیرت،قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ تھا۔۔ اس سے پاکستان پر بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا۔ وفاقی وزیر نے ایران امریکا تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشیدگی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔ معاشی پروگرام “اڑان پاکستان” قومی تعمیرِ نو کا جامع مشن ہے۔۔ دیرپا ترقی کیلئے مسلسل اصلاحات اور طویل مدتی قومی تبدیلی ناگزیر ہے۔ احسن اقبال نے ابنِ سینا فاؤنڈیشن کے چیئرمین نصر الدین روپانی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں زچہ و بچہ کی صحت اور بچوں میں غذائی قلت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  •   ڈی آئی جی ٹریفک کی سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ رہنے کی ہدایت

      ڈی آئی جی ٹریفک کی سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ رہنے کی ہدایت

    لاہور(کر ائم رپو رٹر)ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے پنجاب بھر کے تمام چیف ٹریفک آفیسرز  اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسرز  کو مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب میں شدید بارشوں کے دوران ٹریفک کے موثر انتظامات ہر صورت یقینی بنائے جائیں اور ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ نشیبی علاقوں، انڈر پاسز اور بارش سے متاثرہ مقامات پر ٹریفک ڈیوٹی کو الرٹ رکھا جائے، جبکہ ممکنہ فلڈ الرٹس، بند راستوں اور متبادل روٹس سے متعلق شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے۔ شہر کی اہم شاہراہوں سمیت داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔محمد وقاص نذیر نے مزید ہدایت کی کہ زیادہ پانی جمع ہونے والے مقامات پر بروقت بیریئرز، وارننگ سائنز اور ٹریفک ڈائیورشن کا انتظام کیا جائے۔

     جبکہ ٹریفک سٹاف پانی کھڑا ہونے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ محکموں کو اطلاع دے۔ لفٹرز اور بریک ڈاؤن سروسز کو بھی مکمل فعال رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے کہا کہ ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں ہر وقت تیار رہیں، امدادی ٹیموں اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے راستے ہر صورت کھلے رکھے جائیں، جبکہ تمام CTOs، DTOs اور فیلڈ افسران ٹریفک انتظامات کی خود نگرانی کریں۔انہوں نے فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ دورانِ بارش چھتری اور برساتی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں اور شہریوں کی بھرپور معاونت جاری رکھیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹریفک پولیس پنجاب شہریوں کے تحفظ، سہولت اور ٹریفک کی بلا تعطل روانی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • سیاسی ،معاشی اور سیکورٹی بحران سنگین ، سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، جاوید قصوری

    سیاسی ،معاشی اور سیکورٹی بحران سنگین ، سب کو ملکر کام کرنا ہوگا، جاوید قصوری

    لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سنگین سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں سے نکالنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔، بلوچستان، آزاد کشمیر، قومی سلامتی، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، لاقانونیت اور ریاستی اداروں میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے اہم قومی مسائل پر سنجیدہ اور ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ موجودہ حالات معمول کے اقدامات سے نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے، مؤثر پالیسی سازی اور سیاسی قیادت کے ذمہ دارانہ کردار سے ہی بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔وہ لاہور میں مختلف تقریبات سے خطاب کر رہے تھے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک اس وقت شدید اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم نہ کرنا قومی صلاحیتوں کے ضیاع کے مترادف ہے، جس کے باعث بے چینی اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی صورتحال قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام قومی اور سیکیورٹی معاملات پر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے تاکہ دیرپا اور مؤثر حل ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت یا وقتی اقدامات مسائل کا مستقل حل نہیں، بلکہ قومی وحدت، انصاف اور باہمی اعتماد ہی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ اداروں میں کرپشن، بدانتظامی اور احتساب کے کمزور نظام نے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔ شفاف طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور بلاامتیاز احتساب کے بغیر ریاستی اداروں کی ساکھ بحال نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح بنایا جائے اور ایسی پالیسیاں اختیار کی جائیں جو عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔ تمام قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی ڈائیلاگ، آئین کی بالادستی اور جمہوری روایات کے فروغ میں مضمر ہے۔محمد جاوید قصوری نے زور دیا کہ حکومت قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھائے ۔

  • ایشین انڈر 18 والی بال چیمپئن شپ: پاکستان نے تھائی لینڈ کو بھی شکست دے دی

    ایشین انڈر 18 والی بال چیمپئن شپ: پاکستان نے تھائی لینڈ کو بھی شکست دے دی

    پاکستان نے ایشین انڈر 18 والی بال چیمپئن شپ میں تھائی لینڈ کو بھی شکست دے دی اور گروپ مرحلے میں ناقابلِ شکست رہا۔

    پاکستان نے اے وی سی ایشین بوائز انڈر 18 والی بال چیمپئن شپ 2026ء میں شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے آخری گروپ میچ میں تھائی لینڈ کو 0 – 3 سے شکست دے کر ’گروپ سی‘ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

    چین کے شہر ہائیکو میں جاری ایونٹ میں پاکستان نے تھائی لینڈ کو 19-25،  19-25 اور 23-25 سے شکست دی۔

    قومی ٹیم نے ایونٹ میں مسلسل تیسری کامیابی حاصل کی اور پورے گروپ مرحلے میں ایک بھی سیٹ نہیں ہارا۔

    پاکستان اس سے قبل کرغیزستان اور قازقستان کو بھی 0-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن گیا۔

    پاکستان نے گروپ مرحلے میں کرغیزستان کو 10-25، 19-25 اور 17-25، قازقستان کو 14-25، 12-25 اور 9-25 جب کہ تھائی لینڈ کو 19-25، 19-25 اور 23-25 سے شکست دے کر تینوں میچز اپنے نام کیے۔

    پاکستان کی جانب سے فہد علی، محمد انس اور کپتان محمد عرفان نے نمایاں کھیل پیش کیا۔ 

    تیسرے سیٹ میں تھائی لینڈ کی مزاحمت کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے دباؤ کا بہترین انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے میچ اپنے نام کیا۔

    پاکستان اب 16 جولائی کو کوارٹر فائنل میں پول اے کی رنر اپ ٹیم سے مقابلہ کرے گا، رنر اپ ٹیم کونسی ہو گی، اس کا فیصلہ میزبان چین اور چائنیز تائپے کے درمیان میچ کے بعد ہو گا۔

  • سیندک کاپر اینڈ گولڈ مائن پروجیکٹ کے توسیعی منصوبے کا افتتاح کردیا گیا

    سیندک کاپر اینڈ گولڈ مائن پروجیکٹ کے توسیعی منصوبے کا افتتاح کردیا گیا

    سیندک کاپر اینڈ گولڈ مائن پروجیکٹ کے توسیعی منصوبے کا افتتاح ہوگیا،منصوبے سے میٹل پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ، مقامی روزگار اور بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق سیندک کاپر اینڈ گولڈ مائن پروجیکٹ کے توسیعی منصوبے کا افتتاح کردیا گیا ہے ، اس پروجیکٹ کا افتتاح ایم سی سی ریسورسز ڈیولپمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیئرمین ڑانگ ڑیجن نے کیا۔

    افتتاح کے موقع پرچین اور پاکستان کے درمیان جامع اقدامات، بہترین کارکردگی اور مشترکہ خوشحالی کا عہد کیا گیا۔

    اس منصوبے سے میٹل پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ، مقامی روزگار اور بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    مسٹر ڑانگ ڑیجن نے اس توسیع کو “چاغی کے لیے اچھی خبر” قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

  • کوہاٹ میں طوفانی بارش کے دوران مکان کی چھت گر گئی، خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    کوہاٹ میں طوفانی بارش کے دوران مکان کی چھت گر گئی، خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    تحصیل لاچی کے علاقے مالگین میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گرنے سے 15 افراد ملبے تلے دب گئے جس میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق امدادی ادارے 1122 نے تمام افراد کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، نکالے گئے 11 افراد دم توڑ چکے تھے جبکہ 11 زخمی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مختلف اسپتال بھیجا گیا۔ 

    ریسکیو1122 کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے، جاں بحق افراد میں 50 سالہ بسمینہ، 45 سالہ نواب جانہ، 45 سالہ فرمینہ اور 6 سالہ ارحم شامل ہیں۔

    زخمی افراد میں صفی اللہ عمر 30 سال، نبیلہ عمر 25 سال، شاردہ ناز عمر 30 سال، سیف اللہ عمر 3 سال، رویزہ عمر 4 سال، گل مرجانہ عمر 50 سال، سکینہ عمر 60 سال، جاویدہ عمر 30 سال، ادیبہ عمر 3 سال، شیرینہ عمر 20 سال اور رخسانہ بی بی عمر 56 سال شامل ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے وقت مکان میں تقریب جاری تھی۔ 

    دوسری جانب، اٹک میں بھی بارش سے دیوار گر گئی جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔

    ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں بارش کے بعد برساتی ندیوں میں طغیانی آگئی۔ بارش کے باعث ملتان، ڈی جی خان اور مظفرگڑھ کے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی۔

  • بلوچستان میں “آپریشن شعبان”: سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، مزید 3 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں “آپریشن شعبان”: سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، مزید 3 دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ: بلوچستان میں پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ “آپریشن شعبان” کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، فورسز نے ہوائی اور زمینی کاروائیوں کے ذریعے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 3 دہشتگرد مارے گئے ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، آپریشن شعبان کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے۔ مزید برآں، 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز  میں مجموعی طور پر اب تک 126 خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی مسلسل اور مؤثر کارروائیوں کے باعث دہشتگردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور ان کے نیٹ ورک کمزور پڑ چکے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور آخری دہشتگرد کے منطقی انجام تک “آپریشن شعبان” پورے عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔

  • آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں، 2 اہلکاروں سمیت 9 جاں بحق

    آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں، 2 اہلکاروں سمیت 9 جاں بحق

    مظفر آباد،کوٹلی، تراڑکھل (جنگ نیوز، ایجنسیاں) آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور فورسز میں جھڑپوں کے دوران 2اہلکاروں سمیت 9افراد جاں بحق ہوگئے، غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پونچھ کے ڈویژنل کمشنر وحید خان نے بتایا کہ مظاہرین نے ایک سکیورٹی قافلے کا راستہ روکا اور اہلکاروں پر حملہ کیا۔ جس پر پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔انہوں نے بتایا کہ تڑارکھل میں 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار مارا گیا جبکہ راولا کوٹ میں ہونے والی ایک الگ جھڑپ میں ایک مظاہرین میں ایک شخص جبکہ اور ایک سکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گیا،آزاد کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ راولا کوٹ میں ٹریفک بحالی آپریشن کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے جتھوں نے سیکورٹی فورسز نے شہریوں پر حملہ کردیا جسکے نتیجے میں سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے، حکام کا کہنا ہے کہ بلوچ بازار میں شاہراہ پر قائم رکاوٹیں ہٹانے کے دوران جھڑپ، پبلک ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر،سڑک ہر صورت بحال کی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق کوٹلی،تراڑکھل شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بحال کرنے کی غرض سے بلوچ بازار کے مقام پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق شاہراہ پر قائم رکاوٹوں کے باعث آمدورفت، پبلک ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل مکمل طور پر متاثر ہو گئی تھی۔ آپریشن کے دوران حکام کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک مسلح افراد کی جانب سے مزاحمت اور فائرنگ کی گئی۔