Category: خبریں

  • پاکستان سندھ طاس معاہدہ کے تحت اپنے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، شازیہ مری

    پاکستان سندھ طاس معاہدہ کے تحت اپنے آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، شازیہ مری

    حیدرآباد۔ 11 جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کہا ہے کہ ’’پانی زندگی ہے، ہتھیار نہیں‘‘ اور پاکستان اپنے ہر قطرۂ آب اور ہر آبی حق کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانا علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اپنے بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ جس طرح عالمی برادری نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے کردار ادا کیا، اسی طرح سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے بھی موثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی سیاسی رعایت کا نام نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک لازمی اور قابلِ احترام معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی معیشت، زراعت اور کروڑوں شہریوں کی زندگی کی شہ رگ ہے، جبکہ آبی تحفظ قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورم سے رجوع کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں مشترکہ دریاؤں پر تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے اور عالمی برادری کو سرحدی دریاؤں کو سیاسی ہتھیار بنانے کے رجحان کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے تحفظ، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور جدید آبپاشی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ قومی آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا موقف بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع قانون، سفارت کاری اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کو بین الاقوامی قانون، معاہدوں کے احترام اور باہمی ذمہ داریوں سے مشروط سمجھتا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ آنے والی نسلوں کی امانت ہے، اسے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانے کے خلاف مضبوط بین الاقوامی قانونی نظام کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا نعرہ ’’مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں‘‘ پاکستان کے آبی حقوق، قومی وقار اور دریائے سندھ کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔

  • چہلم کے مرکزی جلوس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

    چہلم کے مرکزی جلوس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات، ہزاروں عزاداروں کی شرکت

    ملک کے مختلف شہروں میں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے، جبکہ ہزاروں عزاداروں نے شرکت کر کے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق جلوسوں کے راستوں پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، ریسکیو اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار تعینات رہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نظام بھی فعال رکھا گیا۔

    علمائے کرام نے اپنی تقاریر میں واقعۂ کربلا کی تعلیمات، صبر، قربانی، انصاف اور حق کے لیے جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عوام سے مذہبی ہم آہنگی، امن اور اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔

    ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا انتظام کیا، جبکہ جلوسوں کے اختتام کے بعد معمول کی ٹریفک بحال کر دی گئی۔

    انتظامیہ کے مطابق تمام تقریبات مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  • بلوچستان: دہانہ سر حادثے میں 32 مسافر ہلاک، ڈرائیور پر جان بوجھ کر بس کھائی میں گرانے کا الزام

    بلوچستان: دہانہ سر حادثے میں 32 مسافر ہلاک، ڈرائیور پر جان بوجھ کر بس کھائی میں گرانے کا الزام

    بلوچستان کے ضلع شیرانی میں ایک بس حادثے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
    حکام کے مطابق حادثہ جمعے کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دہانہ سر میں پیش آیا جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جا گری۔
    ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت علی کاکڑ نے اردونیوز سے بات کرتے ہوئے گفتگو تصدیق کی کہ حادثے میں 32 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ریسکیو کرلیا گیا اور انہیں ژوب منتقل کیا جارہا ہے۔
    جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو 1122 مانی خواہ شیرانی کے انچارج ثنا اللہ نے اردونیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بس 70فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری جس کے نتیجے میں اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ کئی مسافر اس تباہ شدہ بس کے ڈھانچے کے اندر بری طرح پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
    انہوں نے بتایا کہ ہم نے سب سے پہلے زخمیوں کو نکالا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے ژوب روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قریب ترین بڑا سرکاری ہسپتال ژوب میں واقع ہے جو جائے وقوعہ سے 70 سے 80 کلومیٹر دور ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ حادثے کی جگہ سے اب تک 32 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی تین لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
    بس کمپنی کے مطابق کوئٹہ سے روانگی کے وقت بس میں 49 مسافر سوار تھے۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ راستے میں ایک دوسری بس خراب ہونے پر ڈرائیور نے اس کے مسافروں کو بھی اسی بس میں منتقل کر دیا گیا جس کے باعث مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور زیادہ جانی نقصان ہوا۔
    حادثے جس علاقے میں پیش آیا وہ پہاڑی اور غیرآباد ہے ۔ حکام کے مطابق قریب سے گزرنے والی ایک پک اپ گاڑی کے ڈرائیور نے قریبی سکیورٹی چوکی پر آکر حادثے کی اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو کا کام شروع کیا گیا۔
    حادثے کی اطلاع ملتے ہی شیرانی، ژوب اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق ضلع کے سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ژوب سے 20 ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ روانہ کی گئیں۔
    ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے کنٹرول روم کے مطابق بلوچستان حکومت کی درخواست پر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے دو ریسکیو ٹیمیں چھ ایمبولینسوں کے ساتھ روانہ کی گئیں۔
    ایرانی ڈیزل پکڑے جانے پر ’ڈرائیور نے جان بوجھ کر بس کھائی میں گرائی‘
    علاقے میں تعینات ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر ایک سکیورٹی چوکی قائم ہے جہاں صوبے سے باہر جانے والی گاڑیوں اور بسوں کی چیکنگ کی جاتی ہے۔ 
    ان کے مطابق حادثے کا شکار بس کو بھی اسی چوکی پر کافی دیر تک روکا گیا ۔ بس میں اضافی ایرانی ڈیزل موجود تھا جسے سکیورٹی اہلکاروں نے اتار لیاتھا۔ان کے بقول ممکن ہے کہ اس تاخیر کے بعد ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی ہو۔
    حادثے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد مسافر حسین احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ بس ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی کھائی میں گرائی تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر  تصدیق نہیں ہوئی۔
    سول ہسپتال ژوب ٹراما سینٹر میں زیر علاج حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ راستے میں بس خراب ہونے پر وہ ایک اور مسافر کے ساتھ پشاور جانے والی اس بس میں سوار ہوئے تھے۔ 
    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
    حسین احمد کے مطابق ڈرائیور مسافروں سے کہہ رہا تھا کہ ’تمہاری وجہ سے میرا ڈیزل (پکڑا گیا) ضائع ہوا۔‘
     انہوں نے الزام لگایا کہ بحث کے دوران ڈرائیور نے غصے میں آ کر سٹیئرنگ موڑا جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔ زخمی کے بقول ان کا خیال ہے کہ ڈرائیور بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچا۔
    تاہم سرکاری طور پر حکام نے اب تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور بتایا کہ حادثے کی تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
    حکام کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ مسافروں کے ساتھ مبینہ بحث و تکرار کے دوران ڈرائیور کی توجہ سڑک سے ہٹ گئی ہو جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔
     سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ نے ڈرائیور کے مبینہ کردار اور بس میں ایرانی ڈیزل کی موجودگی سے متعلق الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
    محمد حیات کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ تحقیقات میں ڈرائیور کے مبینہ کردار، ایرانی ڈیزل کی موجودگی اور دیگر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو بس کمپنی، مالکان اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    پولیس کے مطابق حادثے میں ڈرائیور بھی جان کی بازی ہار گیا جس کی شناخت لورالائی کے رہائشی مراد عرف بابو استاد کے نام سے ہوئی ہے۔
    خطرناک موڑ، دشوار گزار پہاڑی راستہ اور بد قسمتی
    حادثہ بلوچستان کے ضلع شیرانی اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد کے قریب جس مقام پر پیش آیا ہے وہاں سڑک کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے کے درمیان ایک ندی کے کنارے سے گزرتی ہے۔ تیز رفتاری اور معمولی غلطی اس پہاڑی راستے پر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    خطرناک موڑوں کے باعث ماضی میں بھی یہاں متعدد جان لیوا حادثات پیش آچکے ہیں۔
    ستمبر 2025 میں اس علاقے ایک ٹرک کھائی میں گرنے سے 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 
    چار سال قبل 2022 میں آج کے ہی دن اسی  مقام کے قریب ایک مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    بلوچستان میں ٹریفک حادثات اور ان میں ہونے والی اموات کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین اس کی بنیادی وجوہات میں خستہ حال اور سنگل شاہراہیں، دشوار گزار راستے، تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونا قرار دیتے ہیں۔
    بلوچستان میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹر (مرک 1122) کے مطابق صرف 2025 کے دوران صوبے کی نو بڑی شاہراہوں پر 25 ہزار 400 سے زائد ٹریفک حادثات پیش آئے جن میں 430 افراد ہلاک جبکہ 33 ہزار 972 زخمی ہوئے۔

  • خانیوال کے قریب شالیمار ایکسپریس کی بوگی پٹڑی سے اتر گئی

    خانیوال کے قریب شالیمار ایکسپریس کی بوگی پٹڑی سے اتر گئی

    لاہور سے کراچی جانے والی 28 ڈاؤن شالیمار ایکسپریس کی ایک بوگی خانیوال ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی

    ریلوے حکام کے مطابق بوگی پٹڑی سے اترنے کے باعث شالیمار ایکسپریس کو تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔

    حادثے کے بعد ٹرین کی بحالی کے لیے ملتان سے ریلیف ٹرین روانہ کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ بوگی کو ہٹا کر ٹرین کی جلد روانگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    ترجمان ریلوے ملتان ڈویژن کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ٹریک کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

  • پاکستان اور چین سی پیک 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    پاکستان اور چین سی پیک 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہےپاکستان اور چین چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)فیز 2.0 کے تحت اقتصادی تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، اس اہم منصوبے کے اگلے مرحلے میں صنعت کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی ،معدنیات اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،چین کے ساتھ ہر موسم کی آزمودہ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ بدھ کے روز چینی سفارت خانے کی جانب سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے قیام کی 105ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئےنائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اور ارکان کو مبارکباد دی اور سی پی سی کی قیادت میں چین کی غیر معمولی ترقی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ چین کی بے مثال معاشی کامیابی اور کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنے کا کارنامہ نہ صرف چینی عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ فائدہ بنا ہے، جبکہ مشترکہ خوشحالی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور نے عالمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بنیادی قومی مفادات کی بھرپور حمایت کی ہے، جس سے ان کی ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔

    اسحاق ڈار نے سی پیک کو دوطرفہ تعلقات کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2015 میں اس کے آغاز نے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے نئے دروازے کھولے۔ ان کے مطابق اس منصوبے نے پاکستان میں توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے، شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور بالخصوص کم ترقی یافتہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز 2.0 اعلیٰ معیار کی ترقی پر مرکوز ہوگا، جس میں صنعت کاری، زراعت، کان کنی و معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرحلہ پاکستان کے 5E ترقیاتی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے، جس میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و انفراسٹرکچر کو ترجیح دی گئی ہے۔

    انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان ہم آہنگی دونوں ممالک کے لیے مزید خوشحالی، جدت اور مشترکہ ترقی کا باعث بنے گی، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی حامل پاک چین برادری کے قیام کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان جماعتی سطح پر روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان روابط سے باہمی اعتماد، حکمرانی کے تجربات کے تبادلے اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی جماعت نے چین کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے۔ نائب وزیراعظم نے علاقائی امن اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ نہ صرف اپنے عوام بلکہ عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے وسیع تر مقصد کے لیے بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

    انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعتی سطح پر مسلسل روابط نے باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 24 مئی کو اپنے حالیہ دورۂ بیجنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں، جو سی پی سی کے بین الاقوامی شعبے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

  • آزاد کشمیر میں کئی ہفتوں کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد دکانیں کھل گئیں

    آزاد کشمیر میں کئی ہفتوں کے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد دکانیں کھل گئیں

    حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے ہفتوں کے خلل کے بعد منگل کے روز آزاد کشمیر میں چند دکانیں دوبارہ کھل گئیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سروسز جزوی طور پر بحال ہوئیں تاہم رہائشیوں اور تاجروں نے کہا ہے کہ ایندھن کی قلت اور انٹرنیٹ کی بندش معمولاتِ زندگی کی بحالی میں رکاوٹ ہیں۔

    معاشی اور حکومتی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی حکومت مخالف تحریک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں نے مظاہروں کو آگے بڑھایا حالانکہ گروپ پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت اس ماہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام اور رہائشیوں کے مطابق احتجاج، دھرنوں اور کاروباری ہڑتالوں نے علاقے کے بیشتر حصوں میں روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔

    مظفرآباد میں دکانیں دوبارہ کھلنے کے باوجود اے ایف پی نے شہر کے مرکزی بس ٹرمینل پر محدود سرگرمی دیکھی جہاں سے گاڑیاں اسلام آباد جاتی ہیں جبکہ کئی کاروبار بند رہے۔

    پھل فروش محمد سلیمان نے اے ایف پی کو بتایا، “آج کئی دنوں کے بعد میں بالآخر اپنا خوانچہ دوبارہ لگانے میں کامیاب ہوا ہوں۔”

    نیز کہا، “گذشتہ آٹھ دنوں سے میرے گھر میں آٹا، چینی اور دیگر بنیادی گھریلو اشیاء ختم ہو چکی تھیں۔ آج میں تھوک مارکیٹ سے قرض پر پھل لایا تاکہ میں دوبارہ روزی کمانا شروع کر سکوں۔”

    آٹو رکشہ ڈرائیور رانا محمد الیاس نے کہا کہ احتجاج میں نرمی کے باوجود ایندھن کی کمی نے ٹرانسپورٹ سروسز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    انہوں نے کہا، “اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ایندھن کی کمی ہے۔ پٹرول دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شاید ہی کوئی مسافر ہوں اور کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔”

    مقامی تاجر محمد فتح یاب نے کہا کہ طویل بندش نے تاجروں کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔

    انہوں نے کہا، “ہمارے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک بار کاروبار میں خلل آنے کے بعد بحالی میں مہینوں یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔”

    سنٹرل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین گوہر کشمیری نے کہا ہے کہ مظفرآباد کے مرکزی تجارتی علاقوں میں 200 سے 400 کے درمیان دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں لیکن انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایندھن کی رسد اور انٹرنیٹ سروسز بحال کریں تاکہ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر دوبارہ شروع ہو سکیں۔

  • 7 سے 10 جولائی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان

    7 سے 10 جولائی کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان

    7 سے 10جولائی کے دوران ملک کےمختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے،کشمیر،بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں بادل برسیں گے۔

    این ڈی ایم اے کےمطابق بارشیں برسانےوالا سسٹم کل پاکستان کےشمالی علاقوں میں داخل ہوگا،7 جولائی سے 10 جولائی کےدوران کشمیر،بالائی خیبرپختونخوا،اسلام آباد،پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    دریائے سندھ،جہلم،چناب،راوی اور ستلج سے ملحقہ علاقوں میں بھی بارش ہوسکتی ہے۔ بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کا امکان ہے,تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے کےمطابق بارشوں کی موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانےپردریاؤں میں سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں،البتہ پہاڑی ندی نالوں اورچھوٹے برساتی نالوں میں پانی کےبہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، شہروں کےنشیبی علاقےزیرآب آنے کےساتھ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اورآزاد کشمیرمیں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔

  • ملک بھر میں چہلمِ امام حسینؑ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    ملک بھر میں چہلمِ امام حسینؑ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

    اسلام آباد: ملک بھر میں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر عقیدت و احترام کے ساتھ مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف شہروں میں عزاداروں کی بڑی تعداد نے جلوسوں میں شرکت کی اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا۔ حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے جبکہ جلوسوں کے راستوں پر نگرانی کے لیے جدید سیکیورٹی اقدامات بھی کیے گئے۔

    متعلقہ انتظامیہ نے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں۔

    ریسکیو، محکمہ صحت اور بلدیاتی اداروں کی ٹیمیں بھی مختلف مقامات پر موجود رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ مجموعی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں چہلم کے اجتماعات پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔

  • پن بجلی کی پیداوار بڑھ گئی، شارٹ فال کم ہو کر 3 ہزار میگاواٹ رہ گیا

    پن بجلی کی پیداوار بڑھ گئی، شارٹ فال کم ہو کر 3 ہزار میگاواٹ رہ گیا

    ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کے باعث پن بجلی کی پیداوار بڑھ گئی۔ شارٹ فال کم ہو کر 3 ہزار میگاواٹ رہ گیا۔ پیک آورز میں لوڈشیڈنگ 6 سے 8 گھنٹے کے بجائے 3 سے 4 گھنٹے رہ گئی۔ پاور ڈویژن نے ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر شیڈول اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔

    پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق موسم میں بہتری اور ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافے کے باعث بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں شارٹ فال کم ہو کر تین ہزار میگاواٹ رہ گیا ہے۔ بجلی کی  مجموعی پیداوار 16 ہزار 10 میگاواٹ جبکہ طلب 19 ہزار میگاواٹ ہے۔

    موسم میں بہتری اور مارکیٹس جلد بند ہونے سے طلب میں تقریباً ایک ہزار میگاواٹ کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پن بجلی کی پیداوار بڑھ کر 3 ہزار 150 میگاواٹ ہو گئی ہے جبکہ تھرمل پاور پلانٹس 8 ہزار، نیوکلیئر دو ہزار 880، ونڈ 1300، سولر 350 اور بگاس پاور پلانٹس 80 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

     ادھر ارسا نے ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافہ کرتے ہوئے تربیلا ڈیم سے پانی کا اخراج 8 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار کیوسک جبکہ منگلا ڈیم سے 15 ہزار کیوسک کر دیا ہے۔

     پاور ڈویژن نے ڈسکوز کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر شیڈول اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں پانی کے اخراج میں مزید اضافے سے بجلی کی پیداوار مزید بہتر ہو گی۔

  • پہلے دھماکہ ہوا اور پھر شدید فائرنگ، کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار شہید، تین حملہ آور بھی مارے گئے

    پہلے دھماکہ ہوا اور پھر شدید فائرنگ، کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار شہید، تین حملہ آور بھی مارے گئے

    کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)  پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ  ہفتے کی شب کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہناہے کہ کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک افغان شہری ہے۔

    فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مذموم عزائم کو رینجرز کے دستوں کے چوکس اور پرعزم جواب سے ناکام بنا دیا گیا۔‘

     پاکستانی فوج کے مطابق اس حملے کے دوران چار سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

     اس سے پہلے ریسکیو 1122 سندھ کے ترجمان نے بتایا کہ گلستان جوہر بلاک 5 کے قریب دھماکے کی اطلاع ہے اور سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوتے ہی ٹیم جائے وقوع پر روانہ کردی گئی اور ٹیم جائے وقوع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے۔ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر بھی اضافی نفری کے ساتھ گلستان جوہر پہنچ گئے ہیں، ڈی آئ جی ایسٹ اور ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ بھی نفری کے ہمراہ مذکورہ مقام پر پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موسمیات چورنگی کے قریب دھماکے کی آواز سننے اور فائرنگ کے مبینہ واقعے کا نوٹس لیا، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کرکے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعہ کس طرح کا ہے، فوری طور پر پولیس جائے وقوع پر پہنچے اور ضروری اقدامات کرے۔