Category: خبریں

  • پاکستان، افغانستان کشیدگی پر روس کا اہم بیان، دونوں ممالک سے فوری تحمل کی اپیل

    پاکستان، افغانستان کشیدگی پر روس کا اہم بیان، دونوں ممالک سے فوری تحمل کی اپیل

    ماسکو: روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح تصادم سے گریز کریں اور تمام اختلافات سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ روس نے دونوں ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ماسکو چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے اجتناب کریں اور باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز کو مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان حکومت نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد کی جانب چار ڈرونز بھیجے، تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت ان کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے اور ملکی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال کے تناظر میں روس کی جانب سے سفارتی حل پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کی خواہاں ہیں۔

  • پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے 4 ڈرون مار گرائے

    پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے داغے گئے 4 ڈرون مار گرائے

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرون بھیجے جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے مار گرایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدام اُن کی جانب سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور حمایت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور کامیابی سے چاروں ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے بروقت، مؤثر اور فوری ردِعمل کے باعث دشمن کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنادیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

    افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

  • سانحہ کاہنہ میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا

    سانحہ کاہنہ میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا

    کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے المناک واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ پولیس نے زیر حراست پانچ افراد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق کمزور اور بوسیدہ چھت کے نیچے ٹیوشن سینٹر قائم کیا گیا تھا جبکہ اسی دوران چھت کے اوپر مرمت کا کام بھی جاری تھا۔

    مرمتی سامان اور اضافی وزن کے باعث چھت اچانک زمین بوس ہو گئی جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ٹیوشن پڑھنے والے 14 معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے۔

    واقعے میں خاتون ٹیچر سمیت پانچ بچے بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد حراست میں لیے گئے پانچ افراد سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔

    حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ غفلت کے مرتکب عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔

  • بارشیں ہی بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    بارشیں ہی بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    محکمہ موسمیات نے آج سے 6 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    اسلام آباد میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے، ژوب شہر اور مضافاتی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی ، ریسکیو ذرائع کے مطابق یہاں مکانات گرنے کے 3 مختلف واقعات میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہو گئے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 6 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔بلوچستان میں 4 جولائی تک مختلف اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ سندھ کے مختلف علاقوں میں 3 اور 4 جولائی کو بارش متوقع ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ای او سی کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئر سے ملحقہ علاقوں میں مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، ملبے کے ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    الرٹ میں ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، خرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال اور سوات سمیت دیگر گلیشیائی وادیوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہسپر، ہوپر نالہ میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے اور مقامی سیلاب کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق یکم سے 4 جولائی 2026 کے دوران مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پہاڑی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں اچانک طغیانی کا امکان ہے، جبکہ متعدد اضلاع میں فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    الرٹ کے مطابق پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے، جبکہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور لورالائی میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو نکاسی آب کے مؤثر انتظامات، ہنگامی مشینری کی تیاری، دریاؤں اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ نشیبی علاقوں، دریا کے کناروں اور پہاڑی ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور موسمی صورتحال سے متعلق مستند معلومات کے لیے این ڈی ایم اے کی ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے رہنمائی حاصل کریں۔

  • ڈیجیٹل دہشت گردی سے نمٹنے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پختہ عزم

    ڈیجیٹل دہشت گردی سے نمٹنے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پختہ عزم

    ڈیجیٹل دہشت گردی میں مقاصد کے حصول کے لیے ڈرون اور سوشل میڈیا کا استعمال اور دہشت گردوں کو آن لائن طریقوں سے مالی وسائل کی فراہمی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

    نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکنے کے لیے ‘دِلی اعلامیہ’ نامی اس غیرپابند دستاویز کی منظوری رکن ممالک کے نمائندوں، اقوام متحدہ کے حکام، سول سوسائٹی کے اداروں، نجی شعبے اور محققین کے مابین گفت و شنید کے متعدد سلسلوں کے بعد ہفتے کو انڈیا کے دارالحکومت میں دی گئی۔

    اس اعلامیے کا مقصد ڈرون، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم اور اجتماعی چندے کے غلط استعمال سے متعلق اہم نوعیت کے خدشات کا احاطہ کرنا اور ایسے رہنما اصول ترتیب دینا ہے جن سے اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

    انسداد دہشت گردی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ شاریا کا کہنا ہے کہ ”دِلی اعلامیہ مستقبل کے لائحہ عمل کی بنیاد ہے۔ اس میں انسانی حقوق، سرکاری و نجی شراکت، سول سوسائٹی کی شمولیت اور مستقبل میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اکٹھے کام کرنے کے طریقوں پر بات کی گئی ہے۔ اس میں سی ٹی ای ڈی (کمیٹی کے سیکرٹریٹ) کو رہنما اصولوں کا ایک مجموعہ تیار کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جو تمام شراکت داروں کی گہری سوچ بچار کا نتیجہ ہو گا۔”

    اس دستاویز میں اور اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کرتے وقت انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانے پر خاص زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے واضح کیا ہے کہ ”ڈیجیٹل کُرے میں ہر انسانی حق کے تحفظ کا عہد کرتے ہوئے ان کمزوریوں کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جو مطلوبہ نتائج کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔”

    ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق موثر کثیرفریقی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایسے اقدامات کیے جانا چاہئیں جن کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے میں بیان کردہ اقدار اور ذمہ داریوں پر ہو۔

    اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی نمائندگی سکاٹ کیمبل نے کی جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں ںے سیکرٹری جنرل کی بات کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ”انسداد دہشت گردی کے اقدامات کرتے ہوئے حقوق کا احترام اپنے معاشرے کے تحفظ کے لیے پائیدار اور موثر کوششیں یقینی بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔”

    انہوں ںے کہا کہ ”اگر ایسے طریقہ ہائے کار سے کام لیا جائے جو ان اہم حدود سے تجاوز کرتے ہوں تو اس طرح نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ انسداد دہشت گردی کی کوششیں بھی اعتماد، نیٹ ورکس اور معاشروں کو ہونے والے نقصان سے کمزور پڑ جاتی ہیں جو کہ دہشت گردی کی کامیابی سے روک تھام اور اس کے خلاف اقدامات کے لیے لازمی اہمیت رکھتے ہیں۔”

    کیمبل کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق میں اس مسئلے کے بہت سے حل موجود ہیں اور رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی سلامتی کا تحفظ کریں اور یقینی بنائیں کہ ان کے طرز عمل سے کسی فرد کے حقوق پامال نہ ہوں۔

    انہوں نے اس بات پر زور بھی دیا کہ کمپنیوں اور ریاستوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر مواد کی تطہیر اور اس پر پابندی عائد کرتے وقت محتاط رہیں کیونکہ اس سے ”اقلیتیں اور صحافی غیرمتناسب انداز میں متاثر ہو سکتے ہیں۔”

    کیمبل نے تجویز پیش کی کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے عائد کی جانے والی پابندیوں کی بنیاد قطعی اور بالاحتیاط بنائے گئے قوانین پر ہونی چاہیے اور اس میں جائز اظہار کو سنسر کرنے کی ترغیب نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے شفاف طریقہ ہائے کار، حقیقتاً آزاد اور غیرجانبدار نگران ادارے ہونے چاہئیں اور سول سوسائٹی اور ماہرین کو ان ضوابط کی تیاری، انہیں بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

    اجلاس کے اختتامی حصے کے دوران کمیٹی کی چیئرپرسن اور اقوام متحدہ میں انڈیا کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ مںظور کی جانے والی دستاویز میں مسائل کے بیان کے علاوہ ”نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال اور اس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مفید، عملی اور تدبیراتی امکانات تجویز کیے گئے ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈیجیٹل دہشت گردی سے لاحق نئے مسائل کا سامنا کرنے والے ممالک کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے درکار تبدیلیاں ممکن بنانے کے لیے عالمی پالیسی ساز برادری کو مستعد، دوررس اور تعاون پر مبنی طرزعمل اختیار کرنا ہو گا۔

  • ’پہلے دھماکہ ہوا، پھر شدید فائرنگ:‘ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک، تین حملہ آور بھی مارے گئے

    ’پہلے دھماکہ ہوا، پھر شدید فائرنگ:‘ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک، تین حملہ آور بھی مارے گئے

    پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کی شب کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، جو ایک افغان شہری ہے۔

    واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رینجرز کے دفتر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

    یہ واقعہ گلستان جوہر کے بلاک فائیو میں واقع سچل رینجرز کی عمارت کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر ایک دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔

    رینجرز کا یہ کیمپ گلستان جوہر بلاک فائیو میں واقع ہے۔ اس کے بالکل سامنے محکمہ موسمیات کا دفتر اور تھوڑے فاصلے پر چمن اقبال کالونی نامی ایک آبادی واقع ہے، جبکہ اس کے قریب کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی واقع ہیں۔

    شدت پسند گروہ جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مذموم عزائم کو رینجرز کے دستوں کے چوکس اور پرعزم جواب سے ناکام بنا دیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جو اس کے مطابق ایک افغان شہری ہے۔

  • ’چھت گِرنے کی آواز سن کر مائیں ٹیوشن سینٹر کی طرف بھاگیں‘: وہ لمحہ جب لاہور میں 14 بچے مٹی تلے دب گئے

    ’چھت گِرنے کی آواز سن کر مائیں ٹیوشن سینٹر کی طرف بھاگیں‘: وہ لمحہ جب لاہور میں 14 بچے مٹی تلے دب گئے

    صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد اس علاقے کی ایک رہائشی نے بتایا کہ ’ہمارے محلے میں قدم قدم پر جنازے پڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ پہلے کہاں جائیں۔‘

    جب ہم لاہور کے اس علاقے کاہنہ پہنچے تو جگہ جگہ لوگ جمع تھے۔ کئی گھروں سے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

    میں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو ہر ہجوم کے درمیان ایک بچے کی میت پڑی تھی۔ ابھی میں پہلی میت کے پاس ہی رُکی تو سامنے سے ایک اور جنازہ آتا دکھائی دیا۔ 20 قدم کے فاصلے پر عورتیں دو بچوں کی میت کو ایک ہی پلنگ پر رکھے بیٹھی تھیں۔

    وہاں موجود خواتین سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ایک ہی گھر کے دو بچے ہیں۔ ایک کی عمر سات سال ہے اور دوسرے کی پانچ سال۔ ان کی ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی ’صدقے جاؤں۔۔۔ ہائے۔۔۔ ماں کے بچے۔۔۔ میں نے تو پڑھنے بھیجا تھا۔‘

    خیال رہے کہ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر کے عمارت کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع منگل کی شام پونے پانچ بجے موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی تھی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت میں 30 سے زیادہ بچے موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں 20 بچوں کو بحفاظت نکالا گیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک خاتون استاد اور پانچ بچے زخمی بھی ہوئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔

  • بلوچستان کی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا

    بلوچستان کی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا

    پاک فوج نے بلوچستان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بھیجے گئے چار ڈرون کامیابی سے تباہ کر دیے جبکہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا فوری، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 30 جون کو افغان طالبان نے بلوچستان کی سرحدی سمت چار ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجے جنہیں پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے بروقت شناخت کر لیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے چاروں ڈرون فضا ہی میں تباہ کر دیے جس کے باعث دشمن کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق یہ کارروائی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کے تسلسل کا حصہ تھی تاہم پاکستان کی دفاعی تیاری اور بروقت ردعمل نے کسی بھی ممکنہ نقصان کو ہونے سے روک دیا۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان کی یہ کارروائیاں اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہیں، جبکہ افغان عوام پہلے ہی طالبان حکومت کی پالیسیوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج: ’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

    لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج: ’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

    پاکستان کے شہر لاہور میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے عمارت کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    یہ واقعہ منگل کی شام صوبہ پنجاب کے دارالحکومت کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آیا، جہاں ٹیوشن پڑھنے کے لیے کمرے میں موجود بچوں پر چھت آ گری۔

    ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سات بچیاں بھی شامل ہیں۔

    بی بی سی کے فرقان الہی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے سات بچوں کی نماز جنازہ منگل کی رات جبکہ تین کی نماز جنازہ بدھ کی صبح ادا کر دی گئی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع منگل کی شام پونے پانچ بجے موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی تھی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت میں 30 سے زیادہ بچے موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں 20 بچوں کو بحفاظت نکالا گیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک خاتون استاد اور پانچ بچے زخمی بھی ہوئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔

    ایف آئی آر میں کسی شخص کو نقصان، تکلیف یا چوٹ پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

  • پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری

    پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری

    اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزارت خزانہ نے ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور مجموعی قیمتوں میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔ وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس رجحان کے مثبت اثرات ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوئیں اور معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں گزشتہ چار برسوں کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی اور ملکی معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں مالی سال 2026-27 کے دوران ملکی معاشی منظرنامے میں مزید بہتری کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔