Category: خبریں

  • بغیر ویزہ افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ، 10 جولائی سے گرفتاریوں کی ہدایت

    بغیر ویزہ افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ، 10 جولائی سے گرفتاریوں کی ہدایت

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    وزارت داخلہ کے مطابق 10 جولائی سے بغیر ویزہ رہنے والے افغان شہریوں کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی اور انہیں گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی، گرفتاری اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    وزارت داخلہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کارروائیوں کی روزانہ رپورٹ مرتب کرکے وزارت کو ارسال کی جائے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

  • ملک بھر میں آج سے بارشوں کا آغاز، کراچی میں بوندا باندی کا امکان

    ملک بھر میں آج سے بارشوں کا آغاز، کراچی میں بوندا باندی کا امکان

    محکمہ موسمیات نے آج سے 6 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مختلف علاقوں کے لیے الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ کراچی میں آج بوندا باندی کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 6 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

    بلوچستان میں 4 جولائی تک مختلف اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ سندھ کے مختلف علاقوں میں 3 اور 4 جولائی کو بارش متوقع ہے۔

    کراچی میں آج بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نشیبی اور شہری علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں میں احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت 3 افراد زیر حراست

    لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، مالک مکان سمیت 3 افراد زیر حراست

    لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں چھت کے ملبے تلے دب کر 14 بچے ملبے جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ حادثے کے بعد پولیس نے مالک مکان سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں نے سانحہ لاہور میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    منگل کے روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں شام 4 بج کر 45 منٹ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جو کچھ ہی دیرمیں سانحے میں بدل گیا، کاہنہ کی تنگ گلی میں واقع ایک گھرمیں ٹیوشن سینٹر قائم تھا، جس میں 30 سے زائد بچے حصولِ تعلیم کے لیے موجود تھے کہ اچانک کمرے کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 14 بچے ملبے تلے دب کر بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ایک ہی گھر سے 3 بہن بھائی جاں بحق اور ایک بھائی زخمی جب کہ ان کے تین کزنز بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے بچوں کی اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد مجموعی طور پر 19 بچے ٹی ایچ کیو اسپتال لائے گئے، ان میں سے زیر علاج 5 دیگر بچوں کی حالت بہتر ہے۔

    حادثے کے فورا بعد محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی اداروں کے ساتھ اہل محلہ بھی ملبے ہٹانے میں لگ گئے، جہاں سے خاتون ٹیچر سمیت بچوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    امدادی کارکنوں کے مطابق کئی بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں، جن کے منہ اور ناک سے مٹی نکال کر اسپتال روانہ کیا گیا جب کہ زیادہ تربچوں کی عمریں 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی تاہم زیادہ تربچوں کی حالت نازک ہے، 20 سے زائد افراد کو ملبے سے نکالنے کے بعد ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا۔ ریسکیو کے مطابق متعلقہ کمرے کی چھت ٹی آر گارڈر کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی، جو اچانک منہدم ہوگئی۔

    حادثے میں جاں بحق اور زخمی بچوں کی تفصیلات
    کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ٹی ایچ کیو کاہنہ نے جاں بحق اور زخمی ہونے والے بچوں کی تفصیلات جاری کردیں۔

    جاں بحق ہونے والے بچوں میں 8 سالہ عبداللہ ولد مصطفیٰ، 8 سالہ سلمان ولد وسیم، 9 سالہ عروج دختر مصطفیٰ، 8 سالہ مہنور ولد فاروق، 7 سالہ تشبیہ دختر شہزادہ، 8 سالہ فواد ولد محمد عابد، 11 سالہ ایمان فاطمہ دختر مصطفیٰ، 12 سالہ خدیجہ دختر وسیم، 6 سالہ عروج دختر مرتضیٰ، 4 سالہ ارتضیٰ، 6 سالہ رمشا، 6 سالہ علی ولد فرمان، 8 سالہ ارحم ولد حسن علی، 7 سالہ دعا دختر گلفام اور 7 سالہ عبداللہ ولد اصغر شامل ہیں۔

    ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 6 افراد کی حالت مستحکم ہے، زخمیوں میں 8 سالہ ابیہا، 10 سالہ فاریہ، 11 سالہ مرتضیٰ، 8 سالہ ایان، 7 سالہ رابعہ اور 30 سالہ حمیدہ ریحان شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع شام پونے پانچ بجے ملی تھی، علاقہ مکینوں کے مطابق عمارت میں صبح کے اوقات میں اسکول بھی چلتا تھا جب کہ بچے اکیڈمی میں ٹیوشن کے لیے موجود تھے۔

    حادثے کے بعد مالک مکان سمیت 2 افراد زیر حراست
    پولیس کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، گراؤنڈ فلور پر بچے موجود تھے، واقعے کے بعد گھر کے مالک سمیت 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں مالک مکان ریحان، اس کا بھائی محمد فیضان اور مستری عمیر شامل ہے۔

    پولیس کی جانب سے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ مکان کی چھت بوسیدہ تھی۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران بھی موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ حاصل کی۔

    حکام کے مطابق زخمی بچوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے اسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
    دوسری جانب لاہور کے علاقے کاہنہ میں چھت گرنے کے واقعے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔

    ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرنے والا گھر ڈی ایچ اے بلڈنگ کنٹرولڈ ایریا میں واقع تھا اور اس کی تعمیر غیر قانونی طور پر کی جا رہی تھی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2023 میں متعلقہ علاقے کی حدود میونسپل کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سے ڈی ایچ اے کے دائرہ اختیار میں شامل کی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ایم سی ایل نشتر زون میں بھی مذکورہ گھر کا نقشہ جمع نہیں کرایا گیا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے انتظامی ریکارڈ، تعمیراتی منظوریوں اور دیگر متعلقہ معاملات کی مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جب کہ ذمہ داریوں کے تعین کے لیے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم کا اظہار افسوس
    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور حادثے میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت بھی کیا ہے۔

    وزیراعظم نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

    صدر مملکت کا دکھ کا اظہار
    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے لاہور کاہنہ واقعے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع پوری قوم کے لیے انتہائی افسوسناک ہے، ایسے سانحات کے تدارک کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    مریم نواز نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ اس تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں، الفاظ اس درد کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں جب کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 20 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کی اموات ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    مریم نواز نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار کا جامع جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لئے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔

    صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر کا سانحہ کاہنہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں متعدد بچے متاثر ہوئے، واقعے کے بعد تقریباً 20 بچے ایمرجنسی میں منتقل کیے گئے، حادثے میں 14 بچے جاں بحق ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 9 لڑکے اور 5 لڑکیاں شامل ہیں۔

    خواجہ عمران نذیرنے بتایا کہ 6 بچے معمولی زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال میں طبی امداد جاری ہے، زخمی بچوں کو ایمرجنسی میں فوری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر استنبول پہنچ گئے

    وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر استنبول پہنچ گئے

    وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر استنبول پہنچ گئے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔

    ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے وزیر اعظم شہباز شریف کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا۔

    ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترک وزارت خارجہ کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    وزیراعظم ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول پہنچے ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنما پاک ترکیہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں پر تفصیلی بات چیت کریں گے، ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔ 

    دونوں رہنما علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ 

    وزیر اعظم شہباز شریف استنبول میں بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کیے جائیں گے۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری سمیت دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جائے گا، بزنس کانفرنس میں ترکیہ کے کاروباری رہنما، سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔

  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کر دی

    حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کر دی

    وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کر دیا۔

    حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر ایک روپیہ 97 پیسے کمی کی گئی ہے۔

    پیٹرول کی نئی قیمت 297روپے 53 پیسے فی لیٹر  جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 309روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے ۔

    نئی قیمتوں کااطلاق آج رات 12بجے سےآئندہ 7روزکیلئےہوگا۔

  • ژوب میں کوچ گہری کھائی میں گرنے سے خواتین و بچوں سمیت 40 مسافر جاں بحق، کئی زخمی

    ژوب میں کوچ گہری کھائی میں گرنے سے خواتین و بچوں سمیت 40 مسافر جاں بحق، کئی زخمی

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔

    کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر کوچ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع دانہ سر کے مقام پر گہری کھائی میں گرنے سے خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں اب تک 40 مسافر جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع شیرانی کی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں، جبکہ خیبر پختونخوا سے بھی ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کے مطابق زخمیوں کو ریسکیو کر کے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں نکالنے اور منتقل کرنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔

    حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

    دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو اہلکار مسلسل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

    جاں بحق افراد کی شناخت، 13 کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے

    ریسکیو 1122 کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے 7 ایمبولینسز، ایک ریسکیو وہیکل اور 30 سے زائد اہلکاروں نے امدادی آپریشن میں حصہ لیا، حادثے میں کم و بیش 40 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اب تک 32 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔

    شناخت شدہ 32 جاں بحق افراد میں سے 13 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، جاں بحق افراد میں 2 افراد کا تعلق ضلع خیبر، 2 کا تعلق پشاور سے ہے، جبکہ مزید 9 افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، حادثے میں خیبر پختونخوا کے 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کے کوائف اور رہائشی اضلاع کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم کا اظہار افسوس

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات کے لیے دعا کی ہے۔

    انہوں نے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور انہیں ہرممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی صوبائی حکومت نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ دونوں صوبوں کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکمے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ انتظامی افسران کو حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے۔

    سرفراز بگٹی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ژوب کے دانہ سر علاقے میں پیش آنے والے حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع باعثِ صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمدردیاں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یقین ہے کہ متعلقہ حکام حادثے کے زخمیوں کے بہتر علاج معالجہ کو یقینی بنائیں گے۔ میں بس حادثے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔

  • چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، عزاداری کے جلوس جاری

    چہلم کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، عزاداری کے جلوس جاری

    پاکستان بھر میں چہلم کے موقع پر عزاداری کی تقریبات عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ مختلف شہروں میں جلوس اور مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں ہزاروں عزادار حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

    صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ جلوسوں کے راستوں پر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس اور سرچ آپریشنز کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس نے مختلف شہروں میں متبادل ٹریفک پلان جاری کیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل ٹریفک ہدایات سے آگاہی حاصل کریں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔

    مذہبی علماء نے اپنے پیغامات میں حضرت امام حسینؑ کی قربانی کو حق، انصاف، صبر اور انسانیت کے لیے ایک عظیم مثال قرار دیتے ہوئے اتحاد، امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے پر زور دیا۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کا جہلم اور دینہ میں عاشورہ کےجلوسوں کا دورہ، لنگر بھی تقسیم کیا

    وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کا جہلم اور دینہ میں عاشورہ کےجلوسوں کا دورہ، لنگر بھی تقسیم کیا

    جہلم ( ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے عاشورہ کے موقع پر جہلم اور دینہ میں جلوسوں کا دورہ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے عاشورہ کے دن جلوسوں کا دورہ کیا اور مختلف مقامات پر لنگر بھی تقسیم کیا۔ انہوں نے جلوسوں کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی، صفائی ستھرائی اور طبی سہولیات سمیت تمام تر سہولیات بہترین انداز میں فراہم کی گئی تھیں۔

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ’’ایکس ‘‘ پر لکھا’’عاشورہ کے دن میں نے جہلم اور دینہ میں جلوسوں کا دورہ کیا اور لنگر بھی تقسیم کیا۔ تمام سہولیات بشمول سیکیورٹی، صفائی اور علاج معالجے کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے تھے۔ میں سیف سٹی کنٹرول روم بھی گیا۔‘‘

    انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز، افسران، سٹاف، جلوس منتظمین اور علماء کرام کا شکریہ ادا کیا جن کی تعاون کی بدولت تمام مراحل انتہائی وقار اور امن و سکون کے ساتھ مکمل ہوئے۔الحمد للہ امن و امان کی فضاء قائم رکھنے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین رہا۔عاشورہ کے موقع پر جہلم میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور شہریوں کی بڑی تعداد نے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ جلوسوں میں شرکت کی۔ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاریاں کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں پورا دن پرامن رہا۔ 

  • وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا  سوہاوہ شہر میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کا دورہ ، اہم شخصیات سے ملاقات

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا  سوہاوہ شہر میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کا دورہ ، اہم شخصیات سے ملاقات

    سوہاوہ ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے  سوہاوہ میں سابق ایم پی اے راجہ اویس خالد کے گھر پر معززینِ علاقہ اور سابق چیئرمینز سے ملاقات کی۔ سوہاوہ شہر میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کا دورہ کیا اور پیشرفت کا جائزہ لیا۔

    ’’ایکس ‘‘ پر اپنے میسیج میں وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے لکھا کہ ’’  یہ منصوبہ جولائی میں مکمل ہو جائے گا انشا اللہ۔‘‘

  • اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس 1 لاکھ 84 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند

    اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس 1 لاکھ 84 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو بھی خریداری کا بھرپور رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند ہوا۔

    مارکیٹ کا آغاز دباؤ کے ساتھ ہوا اور انڈیکس مختصر وقت کے لیے گزشتہ اختتامی سطح ایک لاکھ 80 ہزار 301.70 پوائنٹس سے نیچے آ گیا، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث مارکیٹ نے جلد ہی سنبھل کر تیزی اختیار کر لی۔

    دوپہر تک محدود اتار چڑھاؤ کے بعد آخری ایک گھنٹے میں خریداری میں نمایاں تیزی آئی، جس سے انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا اور کاروبار کے اختتام تک اپنی یومیہ بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔

    کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3 ہزار 748.40 پوائنٹس، یا 2.08 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 84 ہزار 50.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد حوصلہ افزا معاشی اشاریوں کی بدولت مضبوط رہا۔ جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح مئی کے 11.66 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 11.07 فیصد پر آ گئی، جس سے آئندہ مہینوں میں مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کی توقعات کو تقویت ملی۔

    ادارے کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھایا، جہاں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل تقریباً 68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے پاکستان کے درآمدی بل اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی توقعات پیدا ہوئیں۔ مارکیٹ میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری اور مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث بینچ مارک انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز پیش رفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار یو بی ایل، میزان بینک، ایچ بی ایل، ایم سی بی بینک اور بینک الفلاح کے حصص نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2 ہزار 429 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

    دوسری جانب، پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں سالانہ بنیاد پر ملک میں امہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر کے ایس ای 100 انڈیکس مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 44 فیصد بڑھ گیا، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور حصص بازار میں مسلسل تیزی رہی۔

    مالی سال کے آخری کاروباری روز انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار 301 پوائنٹس پر بند ہوا، جو مالی سال 2024-25 کے اختتام پر ایک لاکھ 25 ہزار 627 پوائنٹس کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ تھا۔

    بین الاقوامی سطح پر ایشیائی شیئر مارکیٹوں نے بدھ کو نئے سہ ماہی کا آغاز محتاط انداز میں کیا۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نئی رکاوٹوں کا پیدا ہونا ہے جبکہ دوسری جانب سرمایہ کار جاپانی ین کی 40 سالہ کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

    تہران نے منگل کو کہا کہ وہ خطے میں آنے والے امریکی ایلچیوں سے ملاقات نہیں کرے گا کیونکہ دونوں فریقین اس فریم ورک پر اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ہے۔

    امریکی ٹریژری یلڈز میں راتوں رات اضافے کے بعد بانڈ مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ جمعرات کو آنے والے اہم روزگار کے اعدادوشمار سے قبل فیوچرز مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    اس لیے سب کی نظریں فیڈ چیئر کیون وارش پر ہوں گی جو آج سیشن کے دوران یورپی سینٹرل بینک کی کانفرنس سے خطاب کریں گے تاکہ مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کے حوالے سے کوئی رہنمائی مل سکے۔

    تاجروں کے لیے بدقسمتی یہ ہے کہ وارش طویل عرصے سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل کی پالیسی کے بارے میں پیشگی رہنمائی فراہم کرنے کے مخالف رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کے ارادوں کو خفیہ ہی رکھیں۔

    فیوچرز مارکیٹ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والی فیڈ کی اگلی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کا امکان 33 فیصد ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کے امکانات کا تخمینہ تقریباً 70 فیصد لگایا گیا ہے۔

    دریں اثنا ایکویٹی سرمایہ کار اس امید پر ہیں کہ آنے والا کارپوریٹ آمدنی کا سیزن اتنا شاندار ہوگا کہ وہ شرح سود کے خطرے کو بے اثر کردے گا جس کے باعث وہ بدستور ٹیکنالوجی کے پسندیدہ اسٹاکس میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    جاپان کے نکی انڈیکس میں مزید 1.0 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ 37 فیصد تک بڑھ چکا تھا۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک اہم سروے کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی کے رجحان نے بڑے مینوفیکچررز کے اعتماد کو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

    ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ نئے آرڈرز میں اضافے کے باعث مینوفیکچرنگ کے شعبے نے 2014 کے بعد سے اپنی بہترین سہ ماہی ریکارڈ کی ہے۔

    جنوبی کوریا کے مرکزی انڈیکس میں 1.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جو کہ دوسری سہ ماہی میں سیمی کنڈکٹرز کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی مانگ کی بدولت 68 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس مستحکم رہا۔

    تمام حصص پر مشتمل انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 94 کروڑ 14 لاکھ 80 ہزار حصص تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 70 کروڑ 36 لاکھ 90 ہزار حصص تھا۔

    کاروباری مالیت بھی بڑھ کر 57.09 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 38.81 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

    کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 8 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہوا، جبکہ بینک آف پنجاب کے 7 کروڑ 71 لاکھ 10 ہزار اور پی ٹی سی ایل کے 2 کروڑ 87 لاکھ 50 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔

    بدھ کو مجموعی طور پر 490 کمپنیوں کے حصص میں لین دین ہوا، جن میں سے 297 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 171 میں کمی جبکہ 22 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔