چلاس: شہر اور گردونواح میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 96 گھنٹوں تک جا پہنچا، جس سے شہری شدید ترین پریشانی اور اذیت کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈویژنل و ضلعی ہیڈکوارٹر چلاس اور اس کے گردونواح میں غیراعلانیہ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔
شہر میں گزشتہ 4 روز سے بجلی مکمل طور پر غائب ہے، جس کے باعث غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 96 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے اور شہری شدید ترین پریشانی اور اذیت کا شکار ہیں۔
چلاس شہر اور مضافات میں ان دنوں شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار ہے۔ بجلی کی طویل ترین معطلی کے باعث گھریلو خواتین، معصوم بچوں اور ضعیف بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بجلی نہ ہونے سے جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، وہاں کاروبارِ زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔
عوامی حلقوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ برقیات دیامر بجلی کے اس بدترین بحران پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ “ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے باوجود چلاس کے عوام بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ترین سہولیات سے بھی محروم ہو چکے ہیں اور انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔”
شہریوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چلاس میں بجلی کے اس سنگین بحران کا فوری نوٹس لیں اور فرائض میں غفلت برتنے والے محکمہ برقیات دیامر کے نااہل عملے کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹا کر ضلع بدر کیا جائے اور شہر میں بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔