اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائناکولوجی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں نرسری میں موجود دو جڑواں سمیت 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی سے جاں بحق چودہ نومولود کی میتیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں ہیں، اسپتال میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب کہ لواحقین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
پمز اسپتال اسلام آباد کے چلڈرن وارڈ میں آگ لگنےسے وارڈ میں موجود تمام سامان جل کر خاکستر ہوگیا،تمام مشینری اور آلات جل گئے۔
ریسکیو ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہے، تاہم اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پمز اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق مبینہ غفلت کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پمز انتظامیہ کو 2018 سے فائر سیفٹی کی خامیوں پر مسلسل نوٹس جاری کیے جاتے رہے، تاہم مطلوبہ اقدامات مکمل نہ کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق نوٹسز میں فائر پریوینشن، فائر پروٹیکشن اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ فائر سیفٹی نظام کی مؤثر دیکھ بھال کے لیے 24 گھنٹے ماہر عملہ تعینات کرنے، جب کہ ملازمین، طبی عملے اور اسپتال میں موجود افراد کو فائر سیفٹی اور عمارت خالی کرنے کی تربیت دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
2024 کے نوٹس میں بھی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام ضروری اقدامات تین ماہ میں مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔
ادھر پمز نرسری میں آتشزدگی کے بعد سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں بھی اسپتال میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کو صبح 6 بج کر 55 منٹ پر اطلاع ملی اور پہلی گاڑی چھ منٹ میں موقع پر پہنچ گئی، تاہم امدادی کارروائی کے دوران مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے سی ڈی اے رپورٹ کے برخلاف اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسری میں 24 آکسیجن سلنڈرز موجود ہونے کے باوجود ریسکیو ٹیموں کو کارروائی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
دوسری جانب اس دلخراش سانحے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین کے ناموں کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سمیع اللہ اور جویریہ کا بچہ، راشد اور عالیہ کا بچہ، عبداللہ اور انیس خالد کا بچہ، محمد تنویر اور شکیلہ کا بچہ، عمران اور سدرہ کا بچہ، عثمان اور سنبل کا بچہ، محمد سعد الرحمٰن اور کرن فاطمہ کا بچہ، خرم اور آمنہ کا بچہ، قیوم اور ماریہ کا بچہ، مدثر اور خضرہ کا بچہ، اشتیاق اور حفصہ کا بچہ، اور عدریس خان اور عروسہ سعید کا بچہ شامل ہیں۔
اس حادثے کی سب سے المناک بات یہ ہے کہ بہادر اور ان کی اہلیہ آسیہ بی بی کے جڑواں بچے (ٹوئن ون اور ٹوئن ٹو) دونوں ہی اس آگ کی نذر ہو گئے۔ دوسری جانب ریسکیو حکام کے مطابق وقاص اور ان کی اہلیہ آصفہ کے نومولود بچے کو معجزانہ طور پر کامیابی سے ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری اقدام کرتے ہوئے 19 افراد کو کامیابی سے باہر نکالا جن میں 10 خواتین، سات بچے اور دو مرد شامل ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
امدادی کارروائیوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
سانحے کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائم
اسلام آباد کی انتظامیہ نے سانحے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت قائم کی جانے والی اس آٹھ رکنی کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کریں گے۔
اس کمیٹی کو سانحے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق 8 رکنی کمیٹی بنیادی طور پر آتشزدگی کے اصلی عوامل اور وجوہات کا تعین کرے گی، نیز اسپتال میں موجود فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات اور حفاظتی تدابیر کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔
اس کے علاوہ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کے رسپانس ٹائم کو بھی جا نچا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ امدادی ٹیموں کی کارروائی میں کہاں تاخیر یا کمی پیش آئی۔
حقائق کی شفاف اور جامع تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے اس کمیٹی میں مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر آفس، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے نمائندے شامل ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تمام تر تحقیقات مکمل کر کے 24 گھنٹے کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
وزیراعظم اور سیاسی قیادت کا نوٹس، شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم
سانحہ پمز اسپتال پر ملک کی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت کی جانب سے شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس افسوسناک واقعے کا فوری طور پر اعلیٰ سطحی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل شدید رنجیدہ ہے اور معصوم بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال پیدا ہونا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ حادثے کے تمام محرکات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور کوتاہی کے ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس المناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پمز اسپتال میں انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے اور ہماری تمام تر ہمدردیاں اس دکھ کی گھڑی میں ان غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں جن کے جگر گوشے اس حادثے کی نذر ہوئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کا اس طرح جاں بحق ہونا ایک انتہائی دردناک واقعہ ہے اور ہماری تمام تر ہمدردیاں غمزدہ والدین کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے فوری اور ہنگامی اقدامات کی ہدایت جاری کر دیں۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ تمام اسپتالوں میں آگ بجھانے کے آلات کی موجودگی اور ان کا فعال ہونا ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی پمز حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اس اندوہ ناک واقعے پر دل شدید افسردہ ہے اور میں بچوں کے والدین کے دکھ اور غم میں برابر کا شریک ہوں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام متاثرہ خاندانوں کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ معصوم نومولود بچوں کی ہلاکت کی خبر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کے ساتھ ساتھ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی اور ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور سے اپنے ردِعمل میں کہا کہ معصوم نومولود بچوں کا اس طرح جاں بحق ہونا ایک انتہائی دلخراش اور ناقابلِ برداشت سانحہ ہے۔
انہوں نے غمزدہ والدین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز نرسری میں آتشزدگی کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی مکمل روک تھام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔