اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کی غیر قانونی منسوخی کی ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیساتھ ساتھ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور شناخت کو پامال کیا گیا۔
یہ بات انہوں نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر جاری پیغام میں کہی ۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر علاقائی اور عالمی پلیٹ فارم پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔کشمیری عوام نے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت، آزادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں پوری پاکستانی قوم قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے جائز حقوق اور حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کے عوام اور ریاست نے گزشتہ 78 برسوں کے دوران ملک کے اندر موجود تمام سیاسی اختلافات کے باوجود کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی قومی یکجہتی کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے ہمیشہ مضبوط حصار اور ان کے حوصلے کا سرچشمہ رہی ہے۔موجودہ نازک عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستانی قوم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنائے۔ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کرکے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو غیر قانونی طور پر ختم کیا، اس اقدام کا مقصد علاقے کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا، آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانا اور کشمیری عوام کی منفرد شناخت کو متاثر کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے یہ غیر قانونی اقدامات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا ءمیں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔