Skip to main content

Daily News Point

Loading...
تازہ ترین

 پاکستان کی تزویراتی تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’اڑان پاکستان‘‘ کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے حصول کا قومی روڈ میپ قرار ،معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ پاکستان تین اہم قومی سنگ میل عبور کرنے کے بعد ترقی اور مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ معاشی بحالی، قومی استحکام اور سفارتی کامیابیاں ملک کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد بن چکی ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی تزویراتی بصیرت، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھرپور مظاہرہ کیا، جس سے ملک کے استحکام پر قومی اور بین الاقوامی اعتماد مزید مضبوط ہوا اور سرمایہ کاری و پائیدار معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اس کارروائی نے عالمی برادری کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن، ذمہ داری اور تحمل پر مبنی اپنے موقف کو موثر انداز میں اجاگر کیا۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں ابھی جگہ لائق تحسین ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، بااعتماد اور موثر ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جو تصادم کے بجائے مذاکرات اور کشیدگی کے بجائے تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اور تعمیری علاقائی سفارت کاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف اپنا عالمی وقار مستحکم کیا بلکہ معاشی شراکت داری کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ یہ کامیابیاں پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی تزویراتی موقع فراہم کرتی ہیں، تاہم دیرپا ترقی کے لیے مسلسل اصلاحات اور طویل المدتی قومی تبدیلی ناگزیر ہے۔پائیدار معاشی ترقی سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، جدت، مضبوط اداروں، میرٹ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ اڑان پاکستان محض ایک معاشی پروگرام نہیں بلکہ قومی تعمیرِ نو کا ایک جامع مشن ہے، جس کا مقصد پاکستان کو صرف کھپت پر مبنی معیشت سے پیداوار اور جدت پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا، کم قدر 
برآمدات سے زیادہ قدر والی صنعتوں کی جانب لے جانا، بیرونی امداد پر انحصار سے سرمایہ کاری پر مبنی مسابقتی معیشت کی طرف منتقل کرنا، اور قلیل مدتی انتظامی طرزِ فکر کے بجائے طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ہے۔حکومت کا یہ عزم ہے کہ 2035 تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت بنایا جائے گا۔ پاکستان کی آئندہ ترقی برآمدات، ٹیکنالوجی، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور اعلیٰ مہارت رکھنے والی افرادی قوت کی بنیاد پر استوار ہوگی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، جامعات، محققین اور نوجوان پیشہ ور افراد وہ پاکستان کی پائیدار اور جامع ترقی کے سفر میں فعال شراکت دار بنیں۔ حکومتِ پاکستان نے 2026 کو سال قائد اعظم  قرار دیا ہے تاکہ بانیانِ پاکستان کی ڈیڑھ سو ویں سالگرہ قومی سطح پر شایانِ شان انداز میں منائی جا سکے۔ یہ موقع نہ صرف ان کی غیر معمولی قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ہے بلکہ ان کے افکار، نظریات اور قومی اقدار کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ دیانت، اتحاد، نظم و ضبط، خود انحصاری، آئین کی بالادستی اور قومی تعمیر کے اصول آج بھی پاکستان کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ جناح لائبریری قائداعظم محمد علی جناح کے افکار اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک مثالی ادارہ ہے،جو پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے انجام دے رہی ہے۔ علامہ محمد اقبال کا تصورِ خودی آج بھی پاکستانی قوم کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، بلند مقاصد اختیار کرنے اور بہترین کارکردگی کے حصول کی تحریک دیتا ہے، جبکہ قائداعظم محمد علی 
جناح نے ایمان، اتحاد، نظم و ضبط، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ حکومت اڑان پاکستان کے ذریعے بانیانِ پاکستان کے وژن کو عملی شکل دے رہی ہے۔ یہ قومی اقدام معیاری تعلیم، جدت، جدید ٹیکنالوجی، خلائی علوم اور علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے تاکہ پاکستان کی نوجوان آبادی قومی ترقی اور عالمی مسابقت کی مضبوط قوت بن سکے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال، جدید اور مستقبل شناس ریاست بنایا جائے، جیسا خواب انہوں نے دیکھا تھا۔ادھر پاکستان کوموسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع مشاورت،بروقت تیاری اور پائیدار ماحولیاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ملک میں مون سون کا آغاز ہو چکا ہے،حکومت بارشوں اور ممکنہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے تاکہ مون سون کے عروج سے قبل ضروری اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے شمالی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ ہے ،تاہم ملک کے آبی ذخائر اور ڈیم اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی مناسب صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے بارشوں کے دوران پانی کے بہتر انتظام میں مدد ملے گی۔ ملک کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا خطرہ بھی موجود ہے جبکہ شہری علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ اور موسلادھار بارشیں اربن فلڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔سیلاب اور خشک سالی دونوں زراعت، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور قومی معیشت کے لیے سنگین خطرات ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

By admin