Skip to main content

Daily News Point

Loading...
تازہ ترین

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) میں درج کر دی گئی ہے۔

کبل پولیس سٹیشن کے باہر یہ دھماکہ اتوار کی شام اُس وقت ہوا جب سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف مقامی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔

کبل ریجن کی ڈپٹی کمشنر عائشہ ناصر کے مطابق دھماکہ شام تقریباً چھ بجے ہوا جب ایک خودکش بمبار نے مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اُن کے بقول جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے جسم سے بندھے دھماکہ خیز مواد کو اُڑا دیا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہو گئے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خودکش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کبل خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

By admin