Skip to main content

Daily News Point

Loading...
تازہ ترین

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی ہلاکت نے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ آگ پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں لگی اور آکسیجن کی فراہمی کے نظام کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ واقعے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔

تاہم آگ لگنے کی وجہ، ہسپتال انتظامیہ کے ردعمل، حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق اب بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ان کے بقول ’ان سوالات کے بھی جواب تلاش کیے جائیں گے کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹر موجود تھے اور کتنے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا۔‘

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پمز کی نرسری میں آگ کیسے بھڑکی، حفاظتی انتظامات کتنے مؤثر تھے اور اس سانحے سے مستقبل کے لیے کیا سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

By admin 1