واشنگٹن(5 جولائی 2026): امریکا کے اہم ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ (THAAD) میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کا تقریباً 80 فیصد ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این باخبر دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج اپنے تھاڈ میزائلوں کے ذخیرے کا لگ بھگ 80 فیصد حصہ استعمال کر چکی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ’پیٹریاٹ‘ انٹرسیپٹرز کا بھی تقریباً نصف ذخیرہ خالی ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گولہ بارود کے کم ہوتے ان ذخائر اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں پر ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اس جنگ میں امریکا نے انتہائی درست نشانہ لگانے والے اپنے تمام میزائل بظاہر استعمال کر لیے ہیں۔
دوسری جانب، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے گولہ بارود اور اسلحے کے ذخیرے میں کمی کے ان تمام خدشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس وہ سب موجود ہے جو صدر کے منتخب کردہ وقت اور مقام پر بھرپور کارروائی کے لیے درکار ہے۔
اسی طرح وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے مؤقف اپنایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام اسٹریٹجک اہداف اور اس سے آگے کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے گولہ بارود اور دیگر عسکری ذخائر ضرورت سے کہیں زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔