واشنگٹن(6 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ سے اہم ہتھیاروں کی کمی پر سخت جواب طلب کر لیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پیٹ ہیگسیتھ سے وضاحت مانگی ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز سمیت اہم ہتھیاروں کی قلت اب تک دور کیوں نہیں کی جا سکی، جبکہ وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے۔
اخبار کے مطابق اسلحہ کی اسی قلت کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو مجبوباً ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا فیصلہ مؤخر کرنا پڑا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نئے دفاعی معاہدوں کے باوجود پیٹریٹ میزائل کی تیاری میں دو سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے اسلحے کی کمی کا ذمہ دار نائب وزیرِ دفاع اسٹیفن فائنبرگ کو ذمے دار ٹھہرایا تھا۔
ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ اسٹیفن فائنبرگ اسلحے کے ذخائر کی حقیقی اور درست صورتحال سے صدر ٹرمپ کو مکمل طور پر آگاہ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔