اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی المناک موت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری صحت کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے معاملے کی سنگینی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں پمز اسپتال کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے معطل ہونے والے سیکرٹری صحت کو اجلاس سے باہر نکال دیا اور وزارتِ صحت کے تمام اعلیٰ حکام کو جوابدہی کے لیے وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا۔
اس اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کریں گے۔ کمیٹی میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان بھی شامل ہیں۔ کمیٹی واقعے کے محرکات کا تعین کر کے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں لگی۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم اس وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک بچہ بچ سکا اور 15 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھائی۔ ابتدائی طور پر اس آگ کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکا قرار دی جا رہی ہے، جبکہ کچھ ذرائع نے اسے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تحقیقات سے اصل وجوہات واضح ہو جائیں گی۔
وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار ہوئے اس سانحے کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی میتیں ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی اس پورے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔