بہاولپور پرنس بہاول عباس عباسی نے صدر مملکت، وزیر اعظم اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے نام خط لکھ دیا ۔
میں یہ خط صرف نواب صلاح الدین عباسی کے بیٹے کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا، بلکہ بہاولپور کے ایک بیٹے اور بہاولپور ڈویژن کے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کی آواز بن کر لکھ رہا ہوں، جو 70 سال سے زیادہ عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں۔
یہ خط آپ کے ضمیر سے اپیل ہے، پاکستان کے وفاق سے آپ کی وابستگی سے اپیل ہے اور ان وعدوں کی یاد دہانی ہے جو ہمارے قائد اعظم نے میرے لوگوں سے خود کیے تھے۔ میں یہ خط بیک وقت آپ چاروں کو پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں، کیونکہ بہاولپور کا مقدمہ کبھی کسی ایک جماعت کی ملکی نہیں رہا اور نہ ہی بننا چاہیے۔ یہ پورے وفاق کا معاملہ ہے اور اس کا حل ہر اس جماعت کی نیک نیتی چاہتا ہے جو اس کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے۔
قیام پاکستان کے وقت کیا گیا وعدہ
میرے پردادا نواب صادق محمد خان نے 1942ء میں ہی قائد اعظم کو لکھ دیا تھا کہ اگر پاکستان بنتے وقت کوئی مشکل پیش آئے تو پاکستان کا پرچم سب سے پہلے ریاست بہاولپور کی زمین پر لہرایا جائے۔ 1947ء میں جب پاکستان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو بہاولپور کا خزانہ، سونا اور پوری ریاستی مشینری پاکستان کے قدموں میں رکھ دی گئی۔ یہ ایک مقدس امانت تھی۔ ریاست بہاولپور ان چند ابتدائی ریاستوں میں شامل تھی جنہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور اس کی دستاویز الحاق آزادی کے چند ہفتوں بعد ہی، 5 اکتوبر 1947ء کو دستخط ہوگئی تھی، جبکہ اس وقت نئے ملک کا مستقبل غیر یقینی تھا۔ یہ کوئی مجبوری کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ نواب صادق اور بہاولپور کے عوام کا قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن پر، اور ایک ایسی وفاق کے وعدے پر ایمان تھا جو اپنی اکائیوں کی شناخت، وسائل اور خود مختاری کا احترام کرے گی۔ بعد کے برسوں میں ریاست بہاولپور اور حکومت پاکستان کے درمیان باقاعدہ معاہدے ہوئے، جن میں یہ طے پایا کہ صوبائی نوعیت کے معاملات بہاولپور کے اپنے اداروں کے ماتحت رہیں گے، جبکہ صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات مرکز کے سپرد ہوں گے۔ 1952ء میں بہاولپور کی اپنی قانون ساز اسمبلی، جو انچاس ارکان پر مشتمل تھی، کام شروع کرچکی تھی، اور اس علاقے کے لوگوں کو اپنے معاملات میں حقیقی آواز حاصل تھی جبکہ پاکستان کے پہلے عام انتخابات 1970 ء کی دہائی تک نہیں ہوئے تھے۔
یہ وعدہ 1955ء میں توڑ دیا گیا، جب بہاولپور کو ون یونٹ سکیم میں شامل کرلیا گیا اور اس کی الگ صوبائی حیثیت انتظامی حکم سے ختم کردی گئی، بغیر اس کے کہ بہاولپور کے لوگوں سے باقاعدہ رضا مندی لی جاتی۔ 1970ء میں جب ون یونٹ ختم ہوا اور مغربی پاکستان کے صوبے بحال کیے گئے، تو بہاولپور کو اس بحالی سے باہر رکھا گیا اور آج تک وہ پنجاب کا حصہ ہے۔ یہی وہ ناانصافی ہے جسے دور کرنے میں مدد کے لیے میں آپ سب سے، پاکستان کی بڑی سیاسی قوتوں کے امین ہونے کے ناطے، درخواست کرتا ہوں۔
خود کفالت اور ترقی کی ایک تاریخ
یہ عرض داشت محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ ایک ثبوت ہے۔ الحاق سے پہلے کے برسوں میں ریاست بہاولپور برصغیر کے سب سے ترقی یافتہ اور مالی طور پر خود کفیل علاقوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کی اپنی کرنسی اور ڈاک کا نظام تھا، اپنی عدلیہ اور سول انتظامیہ تھی، اپنی مسلح افواج تھیں اور تعلیم کا ایک نظام تھا جس کا مرکز صادق ایجرٹن کالج جیسے ادارے تھے، جہاں سے نکلنے والے علماء، سرکاری افسران اور پیشہ ور افراد نے بعد میں پاکستان کی اعلیٰ سطح پر خدمات انجام دیں۔ ہماری ریاست نے 1932-33ء میں ستلج ویلی کینال سسٹم تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے تحت تین مختلف مقامات پر ہیڈ ورکس بنائے گئے اور پندرہ لاکھ ایکڑ زمین کی سیرابی کے لیے نہریں کھودی گئیں۔ یہ نوآبادیاتی دور کے ہندوستان کے سب سے بڑے آبپاشی منصوبوں میں سے ایک تھا۔
سلیمانکی، اسلام اور پنجند میں ہیڈ ورکس اور فورڈ واہ، ایسٹرن صادقیہ اور بہاول جیسی نہروں نے ایک وسیع نہری نظام قائم کیا۔ ستلج ویلی منصوبے کے بعد ریاست کی آمدنی دگنی سے زیادہ ہوگئی اور زرعی رقبہ چار گنا بڑھ گیا۔
ہم پہلے تھے جنہوں نے اے لیول تک مفت تعلیم دی۔ ریاست میں پرائمری اور ہائی سکولوں، کالجوں اور جامعہ عباسیہ (اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) کا وسیع نیٹ ورک قائم تھا۔ 1951ء میں اس وقت کے حکمران نے صادق پبلک سکول کی تعمیر کے لیے پانچ سو ایکڑ زمین عطیہ کو، جو تین سو ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ایک ادارہ ہے، اور اسی طرح بہاول وکٹوریہ ہسپتال، صادق ایجرٹن کالج اور بے شمار دیگر سکول اور کالج بھی تعمیر کروائے۔
بہاولپور خود کفیل، فاضل، تعلیم یافتہ اور منصف علاقہ تھا۔ اگر چہ 1920ء اور 1930ء کی دہائی میں صحرامیں ایک ریاست کے طور پر یہ سب کچھ کرسکتے تھے، تو ذرا سوچیں کہ 2026ء میں پاکستان کے ایک آیئنی صوبے کے طور پر ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ ستلج ویلی نہری نظام نے صحرا کے وسیع علاقوں کو ذرخیز زمین میں بدل دیا، جس سے بہاولپور پاکستان کے اناج کے ذخیرے پر بوجھ بننے کے بجائے اس میں اضافہ کرنے والا علاقہ بن گیا۔ پاکستان کے ابتدائی اور نازک ترین برسوں میں بہاولپور کے حکمران نے نوزائیدہ وفاقی حکومت کو بھرپور مالی امداد دی، جسے آج بھی اس خطے کے لوگ فخر سے یاد کرتے ہیں، بطور اس بات کے ثبوت کہ ان کی وفاداری کبھی ریاست کے قیام سے مشروط نہیں تھی۔ مگر اس کے ساتھ یہ توقع ضرور تھی کہ انہیں وفاق میں برار کا شراکت دار سمجھا جائے گا، نہ کہ ایک بڑے صوبے کا بھلا دیا گیا حصہ۔
یہ تاریخ اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سوال کا جواب پہلے سے دیتی ہے جو صوبائی بحالی کی تحریکوں کے خلاف اکثر اٹھایا جاتا ہے: کیا ایک چھوٹی اکائی خود کو چلا اور سنبھال سکتی ہے؟ بہاولپور یہ پہلے ہی ثابت کرچکا ہے۔
9 مئی 2012ء کو تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے ایک نادر لمحے میں پنجاب اسمبلی نے بہاولپور کو بطور صوبہ بحال کرنے کی حمایت میں باضابطہ قرار داد منظور کی، ساتھ ہی جنوبی پنجاب کے لیے بھی الگ قرار داد پاس ہوئی۔ یہ قرارداد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے پیش ہوئی اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت ایوان کی دیگر جماعتوں نے بلا اختلاف اس کی توثیق کی۔ بعد کے برسوں میں قومی اسمبلی میں اسی مقصد کے لیے آئینی ترمیمی بل زیر بحث آتے رہے، اور پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے وقتاً فوقتاً اس اصول کی حمایت کی کہ بہاولپور کی الگ انتظامی شناخت بحال کی جانی چاہیے۔ جس چیز کی کمی رہی وہ اس مطالبے کی اصولی حمایت نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اس متفقہ قرارداد کو عملی شکل دینے کا مسلسل اور اجتماعی عزم تھا۔ میں آپ سب سے احتراماً درخواست کرتا ہوں کہ اس قرار داد پر دوبارہ نظر ڈالیں، اسے تاریخ کا ایک بھولا ہوا حاشیہ نہ سمجھیں بلکہ پنجاب اسمبلی کا وہ مستقل عہد جانیں جو آپ کی جماعتوں نے مل کر بنایا تھا، اور بغیر مزید تاخیر کے بہاولپور صوبے کی بحالی کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے قانون سازی کے ایجنڈے پر لائیں۔
یہ اپیل کسی علیٰحدگی پسندی کے جذبے سے نہیں کی جارہی، اور نہ ہی اس کا مقصد پنجاب یا وفاق کو کمزور کرنا ہے۔ یہ اس یقین کی بنیاد پر کی جارہی ہے کہ اچھی حکمرانی، جو عوام کے قریب ہوکر دی جائے، وہی کسی وفاق کو مضبوط رکھتی ہے۔ جب بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان جیسے اضلاع پر مشتمل اتنا بڑا اور تاریخی طور پر الگ خطہ کسی دور دراز صوبے کے ماتحت ایک ڈویژن کے طور پر چلایا جاتا ہے، جس کا مرکز کہیں اور ہو، تو یہاں کے لوگ فطری طور پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سڑکوں، ہستپتالوں، سکولوں اور پانی کے فیصلے ان کے بغیر کیے جارہے ہیں، ان کی مرضی سے نہیں۔ یہ فاصلہ ایک خاموش بیگانگی پیداکرتاہے جسے وفاقی نعرے پوری طرح دور نہیں کرسکتے۔ ایک بحال شدہ صوبہ اپنی اسمبلی، اپنے بجٹ اور اپنے ووٹرز کے سامنے براہ راست جوابدہی کے ساتھ پاکستان کو کمزور نہیں کرے گا، بلکہ یہ بہاولپور کے لوگوں کو اس کی کامیابی میں حقیقی حصہ داربنا کر اور ایک ایسی حکومت دے کر جسے وہ دیکھ سکیں، سوال کرسکیں اور جوابدہ ٹھہرا سکیں، وفاق کو مضبوط کرے گا۔ میں آپ کی جماعتوں سے درخواست کروں گا کہ اس مطالبے پر غور کرتے وقت اسے شفاف حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نئے صوبے کے لیے انتظامی صلاحیت کی تعمیر کے پختہ عزم کے ساتھ جوڑیں، تاکہ بحالی محض علامتی نہ رہے بلکہ عوام کی روز مرہ زندگی میں حقیقی بہتری لائے۔ تب ہی بہاولپور کے لوگ ایک بار پھر، مکمل طور پر اور فخر سے، پاکستان کے وفاق سے جڑا محسوس کریں گے، جیسا کہ ان کے بزرگوں نے 1947ء میں محسوس کیا تھا۔
آپ کے ضمیر اور آپ کی میراث سے اپیل
آپ کی ہر جماعت نے، ہماری تاریخ کے مختلف مراحل میں، بہاولپور ے عوام کے سامنے کھڑے ہوکر 1955ء میں چھینی گئی چیز کی بحالی کی بات کی ہے۔ اب میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ان الفاظ کو مل کر عمل میں بدلیں، تاکہ یہ مقصد بالآخر جماعتی سیاست سے بلند ہوسکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو میں 2012ء میں آپ کی قیادت کی طرف سے اس مقصد کو دی گئی آواز یاد دلاتا ہوں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو میں یاد دلاتا ہوں کہ وہی قرارداد آپ کی جماعت نے پیش کی تھی جو آج بھی تکمیل کی منتظر ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سے میری درخواست ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی جو زبان آپ کی سیاست کی پہچان ہے، وہ عملاً بہاولپور تک بھی بڑھائی جائے۔ اور جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی سے، جن کی قیادت پاکستان کے نظر انداز شدہ علاقوں کے مسائل کو ہمیشہ سے سمجھتی رہی ہے، میری درخواست ہے کہ پارلیمنٹ میں آپ کی آواز بھی بلا کسی ہچکچاہٹ اس مقصد کے ساتھ شامل ہو۔
بہاولپور کے لوگ خیرات نہیں مانگ ر ہے۔ وہ صرف اس حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں جو ان کے بزرگوں نے نیک نیتی سے، اس یقین کے ساتھ چھوڑی تھی کہ پاکستان اپنا وعدہ نبھائے گا۔ میں آپ سب سے، اس ملک کی تقدیر کے امین رہنماؤں کی حیثیت سے، درخواست کرتا ہوں کہ وقتی سیاسی مفادات سے بلند ہوکر اس دیرینہ اور متفقہ طور پر تسلیم شدہ مطالبے پر عمل کریں۔ آنے والی نسلیں یہ کہیں کہ قیادت کی اس نسل نے بالآخر بہاولپور سے قیام پاکستان کے وقت کیا گیا وعدہ پورا کیا اور اس سرزمین کو نہ صرف اس کی پرانی حدود بلکہ اس کی پرانی عزت بھی واپس لوٹائی۔
مجھے خوشی ہوگی اگر آپ سے، انفرادی طور پر یا مشترکہ طور پر، ملاقات کا موقع ملے تاکہ اس معاملے پر مزید تفصیل سے بات ہوسکے اور بہاولپور صوبے کی بحالی کا تاریخی، قانونی اور انتظامی نقطۂ نظر آپ کے سامنے رکھا جاسکے۔