لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ایک معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد پولیس حکام نے تھانے کا سارا عملہ معطل کر دیا۔
واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) تفتیش کے بہانے سے متاثرہ لڑکی کو تھانے لے آیا، جہاں اسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
تھانے میں زیادتی کا نشانہ بنانے پر ملزم اے ایس آئی سمیت تھانے کا پورا عملہ معطل کر دیا گیا، جس میں 78 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
زیادتی کے اس واقعے کی ایف آئی آر بھی اسی تھانہ غازی آباد میں درج کی گئی تھی، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 (زیادتی) اور پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 155-C (پولیس اہلکاروں کی بدعنوانی سے متعلق سزا) شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر میں متاثرہ خاتون کے والد کے بیان کے مطابق ان کی تقریباً 20 سالہ بیٹی، جو ذہنی طور پر کمزور ہے، اتوار کی دوپہر گھر سے نکلی مگر دیر تک واپس نہ آئی، جس پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
والد کے مطابق ایک شخص نے اطلاع دی کہ ایک پولیس اہلکار سادہ لباس میں ان کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رات تقریباً 9 بجے تھانے پہنچے، تاہم اسی دوران اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی گھر واپس آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھر پہنچنے پر دیکھا تو بیٹی رو رہی تھی، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار اسے موٹر سائیکل پر لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس حکام کے مطابق ایس ایچ او غازی آباد، دو سب انسپکٹرز، آٹھ اے ایس آئیز سمیت تمام 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔